Sheikhrasheed

ہوٹل پارکنگ میں خودکش دھماکے کیلئے 60 سے 80 کلو دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا :شیخ رشید

EjazNews

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شیخ رشید احمد نے کہا کہ ہوٹل پارکنگ میں خودکش دھماکے کے لیے 60 سے 80 کلو دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا جبکہ خودکش حملہ آور گاڑی میں بیٹھا رہا جس کی تاحال شناخت نہیں ہوسکی ہے جبکہ گاڑی کو فرانزک کے لیے بھیجا جاچکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کل کے حملے میں 5 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ 6 زخمی ہسپتال میں ہیں جن میں سے ایک کی حالت نازک ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اندر سے غیر مستحکم کرنے کی غیر ملکی کوشش جاری ہیں اور ان غیر ملکی کوششوں کو پاکستان پھلتا پھولتا دکھائی نہیں دے رہا، دھماکے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، چیف سیکریٹری سے فوری تحقیقات کا کہا ہے اور حتمی رپورٹ تحقیقات کے بعد سامنے آئے گی۔

شیخ رشید نے کہا کہ گوادر اور بلوچستان ملک کی ترقی کا نام ہے، گوادر پاکستان کا مستقبل ہے، چین ہمارا آزمودہ دوست ہے اور ہماری چین سے دوستی کوہ ہمالیہ سے بھی بلند ہے، ایسی صورتحال میں دھماکے کا اصل مقصد پاکستان کے امن کو تہہ و بالا کرنا ہے اور اسے نقصان پہنچانا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  باکسر محمد وسیم کا شکوہ ، کرکٹر وسیم اکرم اگلی جیت پر خود ائیر پورٹ پر استقبال کیلئے پہنچیں گے

انہوں نے کہا کہ عمران خان کی قیادت میں پاکستان جس طرح ترقی کر رہا ہے اور اس کی معیشت بہتر ہورہی ہے وہاں ہمارے بڑے شہروں میں ملک دشمن عناصر دہشت گردی کی سوچ رکھتے ہیں، اس لیے آج وزارت داخلہ نے اپنے ماتحت تمام فورسز کو سیکیورٹی ہائی الرٹ کرنے کی ہدایت کی ہے، ملک کی عظیم فوج اور ایجنسیاں اس کی طاقت ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ افواج نے ہزاروں جانوں کی قربانیاں دے کر ملک میں دہشت گردی کو شکست دی، اب بھی کالعدم تحریک تالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) منظم ہورہی ہے یا پڑوسی ملک میں سازشیں کی جارہی ہیں پاک فوج، ایجنسیاں اور پاکستانی عوام مل کر اس کو شکست دیں گے۔

ایک سوال کے جواب میں وزیر داخلہ نے کہا کہ چین کے سفیر کئی روز سے کوئٹہ میں ہیں اور محفوظ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں کوئی افراتفری نہیں ہوگی، ایک منتخب وزیر اعظم موجود ہے، عظیم افواج، ایجنسیاں اور عوام اس ملک کے وارث ہیں، ہم پاکستان کے لیے جینا اور مرنا جانتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  سج گیا کراچی،شروع ہونے جارہا ہے شہر قائد میں پی ایس ایل

ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے سے قبل دیگر شہروں کے حوالے سے انٹیلی جنس رپورٹس تھیں لیکن چونکہ کوئٹہ اب ایک پرامن شہر تھا اور ہم فرنٹیئر کور (ایف سی) کو یہاں سے نکالنے کا سوچ رہے تھے، لیکن اب ایسا ممکن نہیں ہے۔

شیخ رشید نے سوشل میڈیا کے حوالے سے کہا کہ مختلف وزارتیں اور ادارے مل کر اس کا حل تلاش کر رہے ہیں اور امن و امان کے متعلق اہم قانون پارلیمنٹ میں لانا چاہتے ہیں تاکہ ہر روز ہمیں دھمکیوں اور بدامنی سے نہ گزرنا پڑے۔