Sahahbaz_sharif

آخر میاں شہبازشریف کی ضمانت منظور ہو ہی گئی

EjazNews

جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں 3 رکنی ریفری بینچ نے شہباز شریف کے ضمانت کے کیس کی سماعت کی۔

چنانچہ یہ معاملہ ریفری جج کی نامزدگی کے لیے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو بھجوایا گیا تھا۔

جس پر آج سماعت کرتے ہوئے ریفری بینچ نے شہباز شریف کی ضمانت منظور کرتے ہوئے رہائی کا حکم دیا اور 50، 50 لاکھ روپے کے 2 مچلکے جمع کروانے کی ہدایت کی۔
تاہم شہباز شریف کی رہائی کل متوقع ہے، ان کے وکیل اعظم تارڑ کا کہنا تھا کہ شہاز شریف کے ضمانتی مچلکے کل جمع کرائیں گے کیوں کہ آج عدالتی وقت ختم ہو چکا ہے اس لیے شہباز شریف کی جیل سے رہائی کل ہو گی۔

سماعت کے دوران نیب پراسیکیوٹر فیصل بخاری اور عثمان جی راشد چیمہ نے دلائل دیے، ان کا کہنا تھا کہ اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ 27 سال میں ایسا نہیں ہوا کہ فیصلہ اعلان ہونے کے بعد تبدیل ہوا، جس پر وکیل شہباز شریف بولے کہ میں اب بھی اپنے الفاظ پر قائم ہوں۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ اعظم نذیر تارڑ کی یہ بات توہین عدالت کے زمرے میں آتی ہے، جس پر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ نیب پراسیکیوٹر نے انتہائی سخت بات کی جو انہیں واپس لینی چاہیے۔

اس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ میں ثابت کر سکتا ہوں کہ جملہ توہین آمیز ہے تو آپ کو اس واپس لینا چاہیے، تاہم عدالت نے انہیں اس معاملے پر مزید بحث سے روک دیا، جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ آپ صرف کیس پر بات کریں۔

نیب وکیل نے کہا کہ 6 کنال کا گھر جوڈیشل کالونی میں بنایا گیا جس کی مالیت 13 کروڑ 60 لاکھ روپے کے لگ بھگ ہے، شہباز شریف کی دوسری اہلیہ تہمینہ درانی کا گھر ڈیفنس میں ہے جس کی مالیت 3 کروڑ 80 لاکھ روپے ہے، وہ کہتی ہیں ڈیفنس والا گھر شہباز شریف نے انہیں تحفے میں دیا۔

نیب کے وکیل کا کہنا تھا کہ دو ولاز اور 391 کنال زرعی اراضی حمزہ شہباز اور سلمان شہباز کے نام پر ہے، 13 انڈسٹریل یونٹس 2 ارب 70 کروڑ کی لاگت سے بنائے گئے، جو کمپنیز بنائی گئیں وہ بے نامی کمپنیز ہیں جس میں 2 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی گئی۔
جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ کیا کمپنیز کے شیئرز ہولڈرز میں شہباز شریف بھی شامل ہیں؟ جس پر وکیل نیب نے بتایا کہ شہباز شریف نہیں ان کے خاندان کے افراد شئیر ہولڈر ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  لاپتہ محمد علی سدپارہ کے بیٹے کی میڈیا سے گفتگو

جسٹس علی باقر نجفی نے استفسار کیا کہ کیا یہ ساری کمپنیاں 2005 میں بنی ہیں جس پر نیب وکیل نے کہا کہ 2005 اور اس کے بعد یہ کمپنیز بنائی گئی ہیں۔

اس پر شہباز شریف کے وکیل نے کہا کہ عدالت کے سامنے تو شہباز شریف کی ضمانت کا کیس ہے نیب شریک ملزمان کے اثاثے بتا رہا ہے۔
دلائل کو جاری رکھتے ہوئے نیب وکیل نے کہا کہ سب سے زیادہ 155 ٹی ٹیز سلمان شہباز کے اکاؤنٹ میں آئیں، سلمان شہباز کو بار بار نوٹس کر کے سورس پوچھا گیا لیکن انہوں نے کچھ نہیں بتایا۔

بینچ نے دریافت کیا کہ جب 2005 میں سلمان شہباز کے اکاؤنٹ میں ٹی ٹیز آئیں اس وقت ان کی عمر کیا تھی؟ جس پر نیب وکیل نے بتایا کہ اس وقت سلمان شہباز 23 سال کے تھے۔

نیب وکیل نے کہا کہ شہباز شریف کے خاندان کے افراد بھی منی لانڈرنگ ریفرنس میں نامزد ہیں، ان کے بیٹے سلمان شہباز، بیٹی اور بیوی احتساب عدالت سے اشتہاری ہو چکے ہیں، شہباز شریف خاندان کے افراد کو طلبی کے کئی نوٹس بھجوائے گئے لیکن انہوں نے تفتیش جوائن نہیں کی، حمزہ شہباز کے علاوہ کوئی ملزم نیب تفتیش میں شامل نہیں ہوا۔

نیب وکیل نے کہا کہ شہباز شریف 1990 میں پبلک آفس ہولڈر بنے اس وقت ان کے خاندان کے اثاثے 21 لاکھ تھے، 1998 میں شہباز شریف خاندان کے اثاثے 48 لاکھ تک پہنچے اور 2018 میں شہباز شریف خاندان کے اثاثے 7 ارب 32 کروڑ سے تجاوز کر گئے۔

نیب وکیل نے کہا کہ 96-ایچ ماڈل ٹاؤن کی 10 کنال کی رہائش گاہ نصرت شہباز کے نام پر ہے جس کی مالیت 18 کروڑ 80 لاکھ روپے سے زائد ہے، 96-ایچ ماڈل ٹاؤن کو 2010 سے 2018 تک شہباز شریف نے کیمپ آفس ڈیکلئیر کیا۔

یہ بھی پڑھیں:  اگر کابل پر کوئی حکومت مسلط کرنے کی کوشش کی گئی تو چاروں ممالک اس کی مخالفت کریں :وزیراعظم

انہوں نے کہا کہ 2005 سے شہباز شریف خاندان کو ٹی ٹیز آنا شروع ہو گئیں، شہباز شریف اور ان کے خاندان نے 2005 کے بعد پراپرٹیز بنانا شروع کیں، نشاط لاجز ڈونگا گلی میں کروڑوں روپے کے ناجائز اثاثے بنائے گئے۔

وکیل نیب عثمان جی راشد چیمہ نے کہا کہ شہباز شریف کے ارد گرد لوگ شہباز شریف کو پیسے بھیجتے تھے وہ پیسے ٹی ٹیز کے پیسے تھے، جس پر وکیل شہباز امجد پرویز نے کہا کہ کسی ارد گرد کے لوگوں نے شہباز شریف کو دس روپے بھی بھیجے ہوں تو میں عدالت سے باہر چلا جاؤں گا۔

نیب کے وکیل عثمان جی راشد نے کہا کہ شہباز شریف نے بیرون ملک سے آئی گاڑی کی ڈیوٹی، ٹی ٹیز سے ادا کی ہے۔

نیب وکیل نے کہا کہ شہباز شریف کے خاندان کے افراد بھی منی لانڈرنگ ریفرنس میں نامزد ہیں، ان کے بیٹے سلمان شہباز، بیٹی اور بیوی احتساب عدالت سے اشتہاری ہو چکے ہیں، شہباز شریف خاندان کے افراد کو طلبی کے کئی نوٹس بھجوائے گئے لیکن انہوں نے تفتیش جوائن نہیں کی، حمزہ شہباز کے علاوہ کوئی ملزم نیب تفتیش میں شامل نہیں ہوا۔

نیب وکیل نے کہا کہ شہباز شریف 1990 میں پبلک آفس ہولڈر بنے اس وقت ان کے خاندان کے اثاثے 21 لاکھ تھے، 1998 میں شہباز شریف خاندان کے اثاثے 48 لاکھ تک پہنچے اور 2018 میں شہباز شریف خاندان کے اثاثے 7 ارب 32 کروڑ سے تجاوز کر گئے۔

نیب وکیل نے کہا کہ 96-ایچ ماڈل ٹاؤن کی 10 کنال کی رہائش گاہ نصرت شہباز کے نام پر ہے جس کی مالیت 18 کروڑ 80 لاکھ روپے سے زائد ہے، 96-ایچ ماڈل ٹاؤن کو 2010 سے 2018 تک شہباز شریف نے کیمپ آفس ڈیکلئیر کیا۔

انہوں نے کہا کہ 2005 سے شہباز شریف خاندان کو ٹی ٹیز آنا شروع ہو گئیں، شہباز شریف اور ان کے خاندان نے 2005 کے بعد پراپرٹیز بنانا شروع کیں، نشاط لاجز ڈونگا گلی میں کروڑوں روپے کے ناجائز اثاثے بنائے گئے۔

یہ بھی پڑھیں:  بلوچستان میں طوفانی بارشیں

وکیل نیب عثمان جی راشد چیمہ نے کہا کہ شہباز شریف کے ارد گرد لوگ شہباز شریف کو پیسے بھیجتے تھے وہ پیسے ٹی ٹیز کے پیسے تھے، جس پر وکیل شہباز امجد پرویز نے کہا کہ کسی ارد گرد کے لوگوں نے شہباز شریف کو دس روپے بھی بھیجے ہوں تو میں عدالت سے باہر چلا جاؤں گا۔

نیب کے وکیل عثمان جی راشد نے کہا کہ شہباز شریف نے بیرون ملک سے آئی گاڑی کی ڈیوٹی، ٹی ٹیز سے ادا کی ہے۔

نیب کے وکیل نے کہا کہ شہباز شریف کے اثاثے ان کی آمدن سے 26 کروڑ روپے زائد ہیں، شہباز شریف کیا کاروبار کرتے تھے ان کے وکیل صرف یہی بتا دیں، شہباز شریف نے 2014 سے 2018 تک 12 کروڑ روپے منافع کمایا لیکن آج تک نہیں بتایا کہ تین کروڑ روپے سالانہ کس کاروبار سے کمایا۔

نیب کے وکیل فیصل بخاری نے کہا کہ ابھی منی لانڈرنگ کیس کو شروع ہوئے 7 ماہ ہوئے ہیں کوئی لمبا عرصہ نہیں گزرا۔

جسٹس علی باقر نجفی نے دریافت کیا کہ کیا ٹرائل کورٹ میں شہباز شریف کے وکلا نے کیس ملتوی کرنے کی کبھی استدعا کی، جس پر نیب کے وکیل نے جواب دیا کہ شہباز شریف کے وکلا نے بہت دفعہ کیس ملتوی کرنے کی استدعا کی ہے۔

وکیل شہباز شریف نے کہا کہ شہباز شریف کی والدہ کی میت گھر میں رکھی ہوئی تھی ہم نے پھر بھی کیس میں شہادت ریکارڈ کروائی۔

بعدازاں لاہور ہائی کورٹ نے آمدن سے زائد اثاثوں اور منی لانڈرنگ کیس میں شہباز شریف کی ضمانت منظور کر کے رہائی کا حکم دے دیا اور 50، 50 لاکھ روپے کے 2 مچلکے بھی جمع کروانے کی ہدایت کی۔

یاد رہے کہ اس سے قبل 14 اپریل کو ہائی کورٹ کے 2 رکنی بینچ میں جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر نے صدر مسلم لیگ (ن) کی ضمانت منظور کی تھی جبکہ جسٹس اسجد جاوید گورال نے مسترد کردی تھی۔