jahngeer

عمران خان سے رشتہ کمزور نہیں ہے :جہانگیر ترین

EjazNews

لاہور کی سیشن کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو میں جہانگیر ترین نے کہا کہ ‘میرے گھر افطاری تھی جس سے ایک دن قبل اسلام آباد سے کچھ لوگوں نے رابطہ کیا اور یقین دہانی کروائی کہ آپ کے گروپ کی چند دنوں میں وزیر اعظم سے ملاقات ہوگی’۔

انہوں نے کہا کہ ‘اسلام آباد سے ٹھنڈی ہوا چلی تو مطمئن ہوئے، عمران خان سے رشتہ کمزور نہیں ہے جبکہ ہمارے پورے گروپ کی عنقریب وزیر اعظم سے ملاقات ہو جائے گی’۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ بناوٹی ایف آئی آرز ہیں جن میں کوئی چیز ایف آئی اے کی نہیں، یہ ایس ای سی پی اور ایف بی آر کے کیسز ہیں، کوئی مدعی شیئر ہولڈرز میں نہیں سب مجھ سے خوش ہیں جبکہ میرا مقدمہ فوجداری نہیں’۔

جہانگیر ترین نے کہا کہ ‘جب عمران خان کے ساتھ کھڑا ہوا تو (ن) لیگ نے میرے کاروبار کی چھان بین کرکے نوٹسز بھیجے، اس بار سول کیس کو فوجداری کیس میں منتقل کیا گیا، یہ تو (ن) لیگ نے بھی نہیں کیا تھا’۔

یہ بھی پڑھیں:  پیمرا کی طرف سے کاشف عباسی اور آف دی ریکارڈ پر 60دن کی پابندی عائد

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ‘کمیٹی کی خبر ٹی وی پر سنی ہم سے کسی سے رابطہ نہیں کیا’۔

ان کا کہنا تھا کہ ’40 اراکین اسمبلی میرے ساتھ ہیں، جب دوستوں کو بلایا جاتا ہے تو گروپ سے مشورہ کرکے جاتے ہیں’۔

عدالت سے انصاف ملنے کے سوال پر پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ ‘مجھے عدالت سے انصاف ضرور ملے گا’۔

اس موقع پر رکن پنجاب اسمبلی نعمان لنگڑیال نے کہا کہ ‘وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے ملاقات میں جہانگیر ترین کا ذکر کیا اور ان کی تعریف کی، وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جہانگیر ترین کی پی ٹی آئی کے لیے بہت خدمات ہیں’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘میں نے معاملے میں وزیر اعلیٰ سے کردار ادا کرنے کی درخواست کی جس پر انہوں نے یقین دہانی کروائی ہے کہ معاملہ حل ہوگا’۔

قبل ازیں سیشن کورٹ میں جہانگیر ترین اور علی ترین کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں:  یہ ناانصافی ہے ایک طرف انگریزی، اردو میڈیم اور تیسری طرف مدارس ہیں :وزیراعظم

وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ جہانگیر ترین اور علی ترین پر 3 ایف آئی آرز ہیں، ساڑھے چار ماہ کے وقفے کے بعد ایف آئی اے نے دو مقدمات درج کیے۔

انہوں نے کہا کہ ایف آئی اے کے مطابق بینکنگ کورٹ میں کیس بھی اس عدالت میں منتقل ہونا چاہیے، جہانگیر ترین پر فراڈ اور منی لانڈرنگ کے الزامات ہیں اور ایف آئی اے کی تفتیش میں وہ اور علی ترین پیش ہو رہے ہیں۔

جہانگیر ترین کے وکیل نے کہا کہ ایف آئی اے عدالت میں یہ بات کلیئر کرے کہ وہ جہانگیر ترین کے خلاف منی لانڈرنگ کی دفعات ختم کر رہے ہیں یا نہیں۔

انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ یہ کیس رمضان کے بعد تک ملتوی کر دے کیونکہ کورونا کے حالات بھی کافی خراب ہیں۔

ایف آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر نے عدالت کو بتایا کہ ابھی کچھ ریکارڈ آنا باقی ہے، کچھ ملزمان تحقیقات میں شامل نہیں ہوئے، جیسے ہی ریکارڈ موصول ہو گا تفتیش مکمل کر لیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:  جو وعدہ میں نے 2018کے انتخابات میں کیا تھا وہی آج 2020 میں بھی ہے:بلاول بھٹو زرداری

ایف آئی اے نے جہانگیر ترین اور علی ترین کے مقدمات کا ریکارڈ عدالت میں پیش کر دیا۔

جج نے ایف آئی اے کے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ کیا انکوائری رپورٹ بھی ریکارڈ میں موجود ہے۔

ایف آئی اے افسر نے جواب دیا کہ انکوائری رپورٹ خفیہ ہے اس لیے پیش نہیں کی۔

عدالت نے خفیہ انکوائری رپورٹ بھی عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

سیشن کورٹ نے جہانگیر ترین اور علی ترین کی عبوری ضمانت میں 3 مئی تک توسیع کر دی اور ایف آئی اے کو جلد تفتیش مکمل کر کے رپورٹ عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کی۔