singapore

زندگی میں ایک بار سنگا پور ضرور جائیں

EjazNews

سنگاپور، اپنے محلِ و قوع، پُرفضا موسم اور گونا گوں دلچسپیوں کے باعث سیاحوں کے لیے خاصا پُرکشش مقام ہے، اس لیے دنیا بھر سے ہر سال لاکھوں افراد وہاں سیرو تفریح کے لیےجاتے ہیں، جن میں ایک بڑی تعداد پاکستان اور بھارت سے جانے والوں کی بھی ہوتی ہے۔ وہاں انگریزی سب سے زیادہ سمجھی اور بولی جانے والی زبان ہے، اس کے علاوہ مالے، چینی اور تامل زبانیں بھی عام بولی جاتی ہیں۔ عمومی طور پر مقامی باشندے کم از کم دو زبانیں ضرور جانتے ہیں۔ جنوب مشرقی ایشیا میں واقع اس چھوٹےسے ملک کا رقبہ 683 مربع کلومیٹر اور آبادی لگ بھگ ساٹھ لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔ اس کے شمال میں ملیسا واقع ہے، جو اس کا واحد پڑوسی ہے۔ یہاں کی 36فی صد آبادی تارکینِ وطن پر مشتمل ہے اور چینی، مالے اور تامل انڈین، مقامی باشندے تصوّر کیے جاتے ہیں۔ سنگاپور ایک ترقی یافتہ ملک ہے، جہاں فلک بوس عمارتیں، خوب صورت جزیرے اور دل کش سیاحتی مقامات کے علاوہ بچّوں، بڑوں سبھی کے لیے دل چسپی کاخاصا سامان موجود ہے، یہی وجہ ہے کہ یہاں پورا سال دنیا بھر سے سیّاحوں کی آمد و رفت جاری رہتی ہے۔

singapore1

ماضی کی ایک بھارتی فلم ’’سنگاپور‘‘ میں لتامنگیشکر کا گانا ’’جیون میں ایک بار آنا سنگارپور‘‘ سن کر ہمارے دل میں بھی سنگاپور دیکھنے کی خواہش مچلتی تھی، اور پھر جب ہمیں اپنی اس دیرینہ خواہش کی تکمیل کا موقع ملا، تو ہم نے فوراًہی سفر کا قصد کرکے ویزے کے لیے پاسپورٹ جمع کروادیا۔ چند ہی ہفتے بعد ویزے کی مہرکے ساتھ پاسپورٹ موصول ہوگیا، تو ضروری تیاری کے بعد عازمِ سفر ہوگئے۔ ہمیں بذریعہ بینکاک سنگاپور جانا تھا۔ بینکاک سے تقریباً دو گھنٹے کی پرواز کے بعد جب جہاز نے سنگاپور کے چانگی ائرپورٹ کے رن وے کو چھوا، تو کھڑکی سے باہر کا نظارہ انتہائی دل فریب لگا، ائرپورٹ کی پرشکوہ عمارت چمک دار دھوپ میں اپنی شان و شو کت دکھلارہی تھی۔سنگاپور، دورِ حاضر میں اقتصادی اور تجارتی لحاظ سے دنیا بھر میں مرکزی حیثیت اختیار کرچکا ہے۔ جغرافیائی محل وقوع کے باعث یہاں کے ’’چانگی ائرپورٹ‘‘ کا شمار دنیا کے مصروف ترین ائرپورٹس میں ہوتا ہے۔ جہاں سے ہر ہفتے، دنیا کے ایک سو ممالک کے چار سو شہروں تک تقریباً سات ہزار پروازوں کی آمد و روانگی ہوتی ہے۔ یعنی ہر اسّی سیکنڈ کے بعد ایک پرواز۔ سنگاپور اپنی اس جغرافیائی پوزیشن کے باعث ایک طرف آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کو ساری دنیا سے ملاتا ہے، تو دوسری طرف انڈونیشیا، فلپائن اور جاپان کے لیے بھی راستہ مہیّا کرتا ہے۔ سنگاپور کی بندرگاہ کا شمار دنیا کی مصروف ترین کنٹینر پورٹس میں ہوتا ہے۔ اس کا اندازہ بحری جہازوں میں ہوائی جہازوں کی لینڈنگ اور ٹیک آف کے وقت سمندر میں کنٹینرز سے لدے بحری جہازوں کو بندرگاہ کی طرف رواں دواں دیکھ کر ہوجاتا ہے۔ سنگاپور کا شمار بھی ویٹی کن اور مناکو جیسی چھوٹی ریاستوں میں ہوتا ہے، جو کہ ایک ہی شہر پر مشتمل ہیں۔ حال ہی میں کیے گئے ایک سروے میں سنگاپور کو دنیا بھر میں رہایش کے لیے محفوظ ترین ملک قرار دیا گیا ہے۔شہر کے مشرقی کونے میں واقع چانگی ایئرپورٹ سے مرکزی حصّے تک پہنچنے میں قریباً آدھا گھنٹہ لگتا ہے۔ امیگریشن میں ہمارا خاصا وقت صرف ہوچکا تھا، دوپہر بھی ڈھل رہی تھی، ایسے میں بھوک چمک اٹھی، تو راستے میں واقع ایک ہندوستانی ریسٹورنٹ میں کھانے کے لیے بس روکی، تو پردیس میں اپنے ہی ملک کی طرح پکے دیسی کھانے سب ہی نے خوب سیر ہوکر کھائے، جب کہ کھانے کے بعد میٹھی لسّی نے توکھانے کا مزہ دو آتشہ کردیا۔

singapore2

شہر کے بیچوںبیچ ایک ہوٹل کی سولہویں منزل پرہماری عارضی رہایش تھی۔ کمرے کی کھڑکی سے باہرکا نظارہ کرنے پر تقریباً آدھے شہر کا پینورامک منظر سامنے آجاتا تھا۔ دراصل شہر کا کُل رقبہ ہی صرف720 مربع کلومیٹر ہے، جب کہ لمبائی 50 کلو میٹر اور چوڑائی صرف27 کلو میٹر اور اس رقبے کا خشکی کا یہ چوتھائی حصّہ بھی سمندر کو پیچھے دھکیل کر حاصل کیا گیا ہے۔ اس کام کے لیے پڑوسی ملک ملائیشیا سے لاکھوں ٹن مٹی بحری جہازوں میں بھر بھر کر یہاں لاکے ڈالی گئی۔ ایک زمانے میں سمندر کے کنارے متعدد ریسٹورنٹس بھی تھے، جہاں سمندر سے پکڑی جانے والی تازہ مچھلی فروخت ہوتی تھی۔ سنگاپورکی 60 لاکھ نفوس پر مشتمل آبادی میں چینی نسل کے باشندوں کی اکثریت ہے، جب کہ مقامی باشندے جنہیں مالے کہا جاتا ہے 13 فی صد اور 9فی صد ہندوستانی بھی رہائش پزیر ہیں۔ اگرچہ مذہبی طور پر بدھسٹوں اور عیسائیوں کی اکثریت ہے، تاہم مسلمانوں کی بھی خاصی بڑی تعداد یہاں بستی ہے، جن کی اکثریت ملائیشیا اور برصغیر سے آئے افراد پر مشتمل ہے۔ سنگاپور میں خوب صورت مساجد بھی خاصی تعداد میں ہیں۔ جا بہ جا مشرقی اور مغربی پکوانوں کے ہوٹلز موجود ہیں، جن میں بھارتی نژاد باشندوں کے ہوٹلز میں ہمہ وقت رش رہتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  سویڈن کی ترقی کا راز

singapore3

پہلے روز چوں کہ سفر کی تھکان تھی اور شہر کی چکاچوند اور رنگا رنگی دیکھتے ہوئے پیدل ہی خاصے دور نکل آئے تھے، لہٰذا یہ سوچ کر عارضی قیام گاہ کی طرف روانہ ہوگئے کہ دوسرے روز سے باقاعدہ سیّاحتی مہم کا آغاز کریں گے۔ اگلے روز پُرتکلف ناشتے کے بعد سٹی ٹور کے لیے بس ٹھیک نو بجے ہوٹل سے روانہ ہوئی۔ چوں کہ شہر زیادہ وسیع و عریض نہیں ، اس لیے سڑکیں بھی نسبتاً تنگ ہیں۔ تاہم، سڑکوں کے اطراف سبزے کی بہار ہرجگہ ہی دکھائی دیتی ہے۔ سنگاپور کو سڑکوں کے کنارے لگے درختوں اور پھولوں کی بہتات کے باعث ’’گارڈن سٹی‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ چوں کہ ٹریفک بہت ہی نظم و ضبط سے چلتا ہے، لہٰذا ٹریفک جام کاعذاب جھیلنا نہیں پڑتا۔ سڑک پر گاڑیوں کی پارکنگ کا بھی کوئی تصوّر نہیں۔ یہاں کا جدید الیکٹرانک پارکنگ سسٹم انتہائی اعلیٰ نوعیت کا ہے۔ پارکنگ کے داخلی دروازے پر نصب مخصوص انٹینا، خودکار نظام کے تحت گاڑی کا نمبر اور داخلے کا وقت محفوظ کرلیتا ہے اور گاڑی اندر داخل ہو جاتی ہے۔ اسی طرح باہر نکلتے وقت گاڑی کے قیام کا حساب لگا کرڈسپلے بورڈ پرپارکنگ چارجز نمایاں کردیتا ہے اور فوری طور پرمطلوبہ رقم ڈرائیورکے کریڈٹ کارڈ سے منہا ہوجانے کے بعد بیریئر گاڑی کو باہر جانے کا راستہ دے دیتا ہے۔ اگرچہ پارکنگ چارجز خاصے زیادہ ہیں، تاہم اگر سہولت کو مدنظر رکھا جائے، تو اس لحاظ سے یہ کچھ زیادہ نہیں۔ خیر، پارکنگ کے مراحل طے کرکےباہر آئے اور سب سے پہلے سمندر کے کنارے بنے ’’میرلائن پارک‘‘ جاپہنچے، جہاں سنگاپور کی پہچان شیر کے سر اور مچھلی کے دھڑ والا دیوہیکل سفید مجسّمہ نصب ہے۔ جس میں شیر کے منہ سے پانی کی ایک موٹی دھار سمندر میں گررہی ہے۔ سنگاپور دراصل ہندی زبان کا لفظ ہے، جس کا مطلب شیروں کی سر زمین ہے، مگر وہاں شیر صرف چڑیا گھرہی میں پائے جاتے ہیں،اس کے علاوہ کہیں نہیں۔ یہاں سیّاحوں کا ہر دم ہجوم رہتا ہے۔ سنگاپور خطِ استوا کے عین اوپر واقع ہے، جس کے باعث سارا سال موسم معتدل رہتا ہے، یعنی بہت زیادہ سردی نہ بہت زیادہ گرمی، البتہ بارشیں بہت زیادہ ہوتی ہیں، جس کے باعث نمی بھی خاصی زیادہ ہوتی ہے۔ تاہم،اُس روزدھوپ خاصی تیز تھی، اس کے باوجود لوگ تصاویر بنانے اور سیلفیز لینے میں مگن تھے۔ میرلائن پارک کے بعد ہماری اگلی منزل، ’’سنگاپور فلائیر‘‘ تھی۔ لندن کے مشہور ’’لندن آئی‘‘ کی طرح اس بلند و بالا جھولے میں بیٹھ کر پورے شہر کا نظارہ کرنا انتہائی دل کش تجربہ ہے، مگراس کی اونچائی’’ لندن آئی‘‘ سے بھی زیادہ ہے۔ اس کی اونچائی 165 میٹرہے۔ شیشے کے کُل اٹھائیس ائرکنڈیشنڈ کیبنز سیّاحوں سے بھرے رہتے ہیں اورہر کیبن میں اٹھائیس ہی افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔ جب کہ غیرمعمولی ازدحام کے باعث اس میں سوار ہونے کے لیے قطار میں لگنا پڑتا ہے۔ تقریباً آدھے گھنٹے بعد ہمارا نمبر بھی آہی گیا۔ یہ کیبن بہت ہی غیر محسوس انداز میں 30 منٹ میں اپنا ایک چکّر مکمل کرتا ہے۔ اس دوران لوگ چاروں طرف گھوم گھوم کر تصاویر بناتے ہیں۔ اس میں سوار ہونے کے بعد وقت گزرنے کا بالکل احساس نہیں ہوتا۔ فلائر سے لطف اندوز ہوکر نیچے اترے، تو بھوک خوب چمک گئی تھی۔ قریب ہی دیسی کھانوں کا ایک اچھا ریسٹورنٹ نظر آیا، تو آئو دیکھا نہ تائو ، فوری اندر داخل ہوگئے، جو حسبِ معمول سیّاحوں سے بھرا پڑا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  میکسیکو: یہ دنیا کا بے حد دلچسپ ثقافتی سیاحتی مرکز ہے

singapore4

سنگاپور آنا ہو اور’’ سینٹوسا آئی لینڈ‘‘ نہ جائیں، ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔ یہ سنگاپور کا دوسرا بڑا جزیرہ ہے، جہاں سیر وتفریح کے بے شمارہ ذرائع موجود ہیں۔ بس نے ایک طویل پل عبور کر کے ہمیں مخصوص ٹرمینل پر اتار دیا، یہاں سے ایک مونو ریل پر بیٹھے، جو ساحلِ سمندر کی طرف جاتی ہے، اس کے آخری اسٹیشن پر اترے، تو اگلی منزل کیبل کار کی سیر تھی، جس کے دوران ساحل سمندر کے ساتھ ساتھ خاصی بلندی سے باہر کا نظارہ کیا۔ انتہائی پُرسکون ایئر کنڈیشنڈ کیبن میں6 افراد بیٹھ کر سکون سے چاروں طرف کا نظارہ کرنے کے ساتھ سہولت سے فوٹو گرافی بھی کرسکتے ہیں۔ کیبل کار سے ساحل انتہائی صاف ستھرا، ریت چمک دار اور پانی بھی صاف و شفّاف نظر آرہا تھا اور لوگ بے فکری سے دھوپ سے محظوظ ہو رہے تھے۔ سینٹوسا آئی لینڈ کا خاص آئٹم ’’لائٹ اور سائونڈ شو‘‘ ہے، جو غروب آفتاب کے بعد سمندر کنارے منعقد کیا جاتا ہے۔ اسٹیڈیم طرز کے زینوں پر تقریباً تین ہزار افراد بیٹھ کر یہ شو دیکھتے ہیں۔ روزانہ آدھے گھنٹے کے دو شوز ہوتے ہیں، البتہ پروگرام وہی رہتا ہے۔ ہمارے گائیڈ کے مطابق، نئے پروگرام کا سافٹ ویئر خاصا مہنگا بنتا ہے، اس لیےگزشتہ تین سال سے ایک ہی شو دہرایا جارہاہے۔ تیزموسیقی کی دُھن پر رقص کرتی رنگ برنگی لیزر لائٹس کا یہ محیّرالعقول شو، خاصے کی چیز ہے، جسے لوگ دَم سادھے دیکھتے ہیں اور وقت گزرنے کا پتا بھی نہیں چلتا، لہٰذا ہمیں بھی وقت گزرنے کا احساس نہیں ہوا، سیرو تفریح کے دوران کافی وقت بِیت چکا تھا، تھکاوٹ بھی ہورہی تھی،لہٰذا ساحل ہی پر موجود ایک قدیم طرز کے ریسٹورنٹ میں کھانا کھایا اورفوری طور پر پارکنگ ایریا کی طرف روانہ ہوگئے، تاکہ جلد از جلد ہوٹل پہنچ کر ایک بھرپور نیند کے بعد اگلے روز کے سفر کے لیے تازہ دَم ہوسکیں۔

ہمیں اگلے روز بھی ’’سینٹوسا‘‘ آنا تھا، کیوں کہ وہاں کے خاص مقام، ’’یونیورسل اسٹوڈیوز تھیم پارک‘‘ کی سیر ابھی باقی تھی۔ چوں کہ پارک صبح دس بجے کھل جاتا ہے، اور داخلے کے لیے صبح سے لوگوں کی قطاریں لگ جاتی ہیں،اس لیے ہم ہوٹل سے ٹھیک آٹھ بجے ہی روانہ ہوگئے۔ پارکنگ سے باہر نکلے، تو سامنے ہی ہالی وڈ کے مشہور یونیورسل اسٹوڈیوز کی پہچان، گلوب کابہت بڑا ماڈل اِستادہ تھا۔ حسبِ توقع یہاں بہت زیادہ رش تھا اور لوگ اس ماڈل کے سامنے مختلف زاویوں سے تصاویر بنانے میں مصروف تھے۔ اندر داخل ہوئے، تو یوں لگا، جیسے حقیقتاً ہالی وڈ میں داخل ہوگئے ہیں۔ پچاس ایکڑ رقبے پر قائم کیے گئے اس تھیم پارک کو سات زونز میں تقسیم کیا گیا ہے، جن کے نام یونیورسل پکچرز کی مشہور فلموں اور ٹی وی شوز پر رکھے گئے ہیں۔ ہر زون میں بچّوں سمیت مختلف عمر سے تعلق رکھنے والے افراد کے ذوق کے مطابق دل چسپی کے سامان موجود ہیں۔ ہم نے اپنے لیے مشہور فلم ’’جراسک پارک‘‘ کا انتخاب کیا اور اندر بنے فلم کے سیٹ میں داخل ہوگئے، اس کی مشہور کشتی میں بیٹھے، جس نے پانی کے تیز بہائو میں لگنے والے شدید ہچکولوں کے دوران اپنی طرف لپکتے بہت سے ڈائناسارز کے حملوں سے بچایا، اس ایڈونچرکے بعد جب واپس اپنی منزل پر پہنچے، تو مکمل طور پر بھیگ چکے تھے۔ یہاں سے ہماری اگلی منزل قدیم مصر کے زون میں فلم’’ ممی‘‘ کا سیٹ تھا، وہاں ایک جیپ نما گاڑی میں بیٹھ کر اہرامِ مصر کی کھدائی کے دوران ملنے والے قدیم آثاردیکھے۔ یہاں مذکورہ فلم میں دکھائے گئےکچھ جانوروں کے ماڈلز بھی موجود تھے۔ آگے بڑھے، تو اینی میٹڈ فلم ’’مڈگاسکر‘‘ کے مختلف کردار، سڑک پر گانوں کے ساتھ رقص کررہے تھے اور لوگ قطار بناکر اور پیسے دے کر ان کے ساتھ تصاویر بنارہے تھے۔ بچّوں کے مشہور کردار، سیسم اسٹریٹ کے کرداروں کے ماڈلز دیکھ کر ہمیں اپنا بچپن یاد آگیا، جب یہ پروگرام پی ٹی وی پر بڑے شوق سے دیکھا کرتے تھے۔ آج کل کے بچّوں کو موبائل فون سے فرصت ہو، تو ان کے بارے میں کچھ جانیں۔ تھیم پارک کا سب سے خاص آئٹم وہ شو تھا، جہاں فلم ’’دی واٹر ورلڈ‘‘ کے کرداروں کو بالکل فلمی انداز میں شوٹنگ کرتے دکھایا جاتا ہے۔ اس دوران پرانی بندوقوں کے زور دار دھماکوں کے باعث، خوف زدہ شائقین کی چیخوں سے ماحول مزید دہشت زدہ ہوگیا، کچھ فائر تو لڑائی کے دوران ہیرو اور ولن نے حاضرین کی طرف بھی کیے، جو یقیناً پٹاخے ہی تھے۔لیکن اس کی وجہ سے لوگ کافی خوف زدہ ہوئے۔یہی وجہ تھی کہ شو ختم ہو نے کے بعد بھی تما شائی خا صی دیر تک مبہوت زدہ سے اپنی نشستوں ہی پر جمے رہے۔ فلم’’ ممی‘‘ کے سَیٹ ہی پر موجود ایک مصری ریسٹورنٹ سے کھانا کھا کر جان میں جان، تو آئی، مگر ساتھ ہی سستی بھی طاری ہونے لگی۔شام کے سائے گہرے ہونے لگے تھے، مگر دل تھا کہ بھرتا ہی نہیں تھا۔یہاں مختلف دکانوںمیں فلموںسے متعلقہ اشیاء موجود تھیں، مگر قیمتیں خاصی زیادہ تھیں۔ دن بھر کے پیدل گشت نے تھکاوٹ کے اثرات مرتّب کرنا شروع کر دیے تھے۔مگر آج کے پروگرام میں ’’سی ایکیوریم‘‘ کی سیر ابھی باقی تھ، جو قریب ہی تھا۔ سو، فوراً ہی ٹکٹ کٹوایا اور ایکوریم میں داخل ہو گئے۔ اس ایکوریم کا شمار دنیا کے بڑے مچھلی گھروں میں ہوتا ہے، جہاں سال بھر سیّاحوں کا تانتا بندھا رہتا ہے۔یہاں تقریباًایک لاکھ سے زیادہ سمندری مخلوقات کو دنیا کے مختلف سمندروں سے لاکر جمع کیا گیا ہے۔اورانہیں سمند رکے مطابق قدرتی ماحول بھی فراہم کیا گیا ہے۔چوں کہ وقت بہت کم تھا، اس لیے ہم اسے پورا نہیں دیکھ سکے۔ ہمیں بتایا گیا کہ اسے باقاعدہ طور پر دیکھنے کے لیے کم از کم تین گھنٹے درکار ہیں۔ شیشے سے بنی مختلف سُرنگوں سے گزرتے ہوئے بڑی بڑی شارک مچھلیاں اور ایسی ہی بے شمار رنگا رنگ مچھلیاں دائیں بائیں اور اوپر پانی میں تیرتی نظر آتی ہیں۔ اسی طرح کہیں دریائی گھوڑے اور کہیں اسٹار فشز بھی نظر آجاتی ہیں۔ بچّوں کی دل چسپی کے باعث وہاں بڑ ی بڑی ڈولفن مچھلیوں کے شوز بھی دکھائے جاتے ہیں۔ صرف ’’شارک زون‘‘ میں دوسو سے زائد اقسام کی شارک مچھلیاں موجود ہیں، جن میں سے بعض معدوم ہوتی ہوئی نسل کی شارکس بھی موجود ہیں۔مذکورہ ایکیوریم میں ایک ریسٹورنٹ بھی بنایا گیا ہے، جہاں دورانِ طعام مختلف رنگ و نسل کی مچھلیوں کو بڑے بڑے شیشوں کے پیچھے چہیلیں کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔ اس ریسٹورنٹ کی خاص بات یہ ہے یہاں تیار ہونے والی زیادہ تر ڈشز بھی یہیں کہ مچھلیوں پر مشتمل ہوتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  کوئٹہ کے خوبصورت مقامات میں شامل ہنہ جھیل

singapore5

سنگاپور بوٹینیکل گارڈن کی سیر بھی ایک بہت ہی منفرد تجربہ تھا۔ شہر کی اونچی اونچی عمارتوں کے بالکل بیچ میں تعمیر شدہ، برطانوی طرز کا گارڈن جاگنگ اور ورزش کے علاوہ فیملی کے ساتھ پکنک منانے کی بہترین جگہ ہے۔ یہاں ساٹھ ہزار اقسام کے درخت اور پودوں کے درمیان، سیّاح خود کو ایک دوسری ہی دنیا میں پاتے ہیں۔ دل چسپ بات یہ معلوم ہوئی کہ یہاں تقریباً ڈیڑھ سو سال پہلے ربڑ کے پودے کے بیج، لندن سے لاکر تجرباتی طور پر کاشت کیے گئے تھے، جو مناسب ماحول کے باعث پھل پھول گئے اور یوں یہ علاقہ ربڑ کی پیداوار کا اس قدر بڑا مرکز بن گیا کہ اب یہاں سے ربڑ کے بیج دوسرے ممالک کو بھی بھیجے جاتے ہیں۔ آٹوانڈسٹری، جہاز سازی اور ٹیکسٹائل کی جدید صنعتوں کے فروغ میں ربڑ کا یقیناً بہت بڑا حصّہ ہے، جس نے اس علاقے کو اقتصادی طور پر بھی بہت ترقی دی۔ گارڈن کے درمیان واقع جھیل کے کنارے ایک انتہائی خوب صورت اسٹیج بنایا گیا ہے، جہاں سنگاپور سمفنی آرکسٹرا کے کنسرٹس ہوتے ہیں اور ہر خاص و عام ان سے محظوظ ہو سکتا ہے۔سنگا پور کی فلک بوس عمارتیں، پُرکششں برا نڈ ڈ اشیاء سے بھرے عا لی شان شا پنگ مالز،جگہ جگہ نفا ست سے لگے درخت، پھول پودے،صاف ستھری سڑکیں اوربہترین موسم….. سب مل کرسیّاح پرا ک سحرسا طاری کردیتے ہیں، ایسا سحر کہ جس میں کھوکے، نکلنا کچھ ایسا بھی آسان نہیں، لیکن بہرکیف، واپسی کا سفر تو طے کرنا ہی پڑتا ہے۔