fawad_ch

ڈھائی لاکھ ٹوئٹس اور سوشل میڈیا شیئرز ہوئے ہیں، ان میں سے 70 فیصد شیئرنگ ایک سوفٹ ویئر کے ذریعے ہوئی :وزیر اطلاعات

EjazNews

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ حکومت نے پارلیمان میں قرارداد پیش کر کے کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے ساتھ کیا معاہدہ پورا کر دیا ہے اور تناؤ کا ماحول ختم ہو گیا ہے۔

منگل کو پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد بریفنگ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کالعدم تحریک لبیک کے ساتھ بات چیت کے حوالے سے وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد اور وزیر مذہبی امور پیر نورالحق قادری نے بریفنگ دی۔

فواد چوہدری نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں شاہد خاقان عباسی اور سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے درمیان ہونے والی تلخ کلامی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شاہد خاقان عباسی خود وزیراعظم رہ چکے ہیں لیکن ان کو ایوان میں بات کرنے کی تمیز نہیں ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات کے بقول فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے کے حوالے سے قرارداد پر مسلم لیگ ن نے اتفاق نہیں کیا، وہ اس میں کچھ تبدیلی چاہتی ہے۔ ہم انہیں ڈکٹیت نہیں کر سکتے۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن سمیت دوسری جماعتوں کو بھی حق حاصل ہے کہ وہ اس قرارداد پر بحث کریں۔

یہ بھی پڑھیں:  جامعہ کراچی کی خاتون استاد کو ہراساں کرنے کی کتنی سزا ملی ہے ؟ملزم کو

کالعدم تحریک لبیک پاکستان پر پابندی ہٹانے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ اس تنظیم پر سے پابندی ہٹانا ہمارا اختیار نہیں، ان کے پاس اپیل کا حق ہے۔ وہ قانونی راستہ اختیار کر سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم اوورسیز پاکستانیوں کو آن لائن ووٹ کا حق دینا چاہتے ہیں، اس میں سکیورٹی کے مسائل ہیں اور تقریباً 90 لاکھ پاکستانی بیرون ملک موجود ہیں جنہیں ہم اپنے نظام سے الگ بھی نہیں رکھ سکتے۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان سے قبل کسی اور حکومت نے ان لوگوں کا نہیں سوچا، 28 کروڑ روپے کی لاگت سے ایک کنسلٹنٹ کو یہ بات دیکھنے کی ہدایت کی گئی ہے کہ ہم اوورسیز پاکستانیوں کے لیے کیسے محفوظ انٹرنیٹ ووٹنگ کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کالعدم تحریک لبیک سے ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے بریفنگ دی گئی اور شیخ رشید اور نور الحق قادری نے ٹی ایل پی سے مذاکرات کیے جس کے بارے میں آپ کو علم بھی ہے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ پورے ملک کا ڈیٹا بیس بنایا جائے گا تاکہ ملک میں موجود خوراک اور اشیا ءکی تفصیل اور معلومات ہمارے پاس موجود ہو۔

یہ بھی پڑھیں:  سری لنکن قومی ٹیم کے کھلاڑی کار حادثے کے بعد گرفتار

ان کا کہنا تھا کہ شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال ہوں یا مولانا فضل الرحمٰن، ان کی اسلام کی نہیں بلکہ اسلام آباد کی لڑائی ہے اور یہ اسلام آباد کی لڑائی ہم ان سب کے چہروں سے عیاں دیکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان لوگوں نے ہر طریقے سے حکومت گرانے کی کوشش کر لی، پاکستان ڈیمو کریٹک(پی ڈی ایم) ٹائپ مصالحہ بھی بیچنے کی کوشش کر لی، جب کوئی چورن نہیں بکا تو آپ اسمبلی میں بالکل غنڈوں والا رویہ اختیار کر کے یہ سمجھیں کہ کوئی آپ کے دباؤ میں آجائے گا تو یہ نہیں ہونا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کا مینڈیٹ آئین اور قانون کے تابع ہے، ہم کوئی بادشاہت نہیں چلا رہے، ہمارے ہاں 1973 کا آئین ہے جس پر پورے پاکستان کا اتفاق اور اجماع ہے، ہم اس سے باہر نہیں جا سکتے اور اس کے اندر رہ کر ہی تمام اقدامات کرنے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کو مینٹینس آف پبلک آرڈر کے تحت گرفتار کیا گیا ہے ان کو تو ہم چھوڑ سکتے ہیں کیونکہ وہ حکومت کا اختیار ہے لیکن جن پر قتل کی ایف آئی آر ہے، ان کو نہیں چھوڑا جا سکتا۔

یہ بھی پڑھیں:  یہ ضمانت مسترد ہونے کی خبروں سے مجھے ڈرا لیں گے تو ایسا کبھی نہیں ہوگا-مریم نواز

ان کا کہنا تھا کہ 5 پولیس اہلکاروں کی شہادت اور 800 زخمی اہلکاروں کو نہیں بھولا جا سکتا اور جنہوں نے ان پر حملہ ان کو نہیں بھولا جا سکتا، جنہوں نے پولیس والوں پر گولیاں چلائی ہیں ان کو اپنی بے گناہی عدالت میں ثابت کرنی ہو گی اور حکومت کا اس سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ اتوار کے دن ہونے والے احتجاج پر پاکستان میں ڈھائی لاکھ ٹوئٹس اور سوشل میڈیا شیئرز ہوئے ہیں، ان میں سے 70 فیصد شیئرنگ ایک سوفٹ ویئر کے ذریعے ہوئی جو ٹوئٹس کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے اور وہ ہندوستان کی حدود سے کی جا رہی تھی، یہ پوری مہم بیرونی طاقتوں کی ایما پر چلا گئی جس پر ہمیں تحفظات ہیں۔

فواد چوہدری نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں کو مل کر اس گرداب سے نکلنا ہے، تمام اپوزیشن کا رویہ مصالحانہ ہونا چاہیے اور آج جس طرح کی گفتگو شاہد خاقان عباسی نے کی ہے، میں چاہتا ہوں کہ مسلم لیگ(ن ) کے لوگ خود اس کی مذمت کریں تاکہ ہم ایسا ماحول بنا سکیں جس میں پارلیمنٹ مسائل کے حل کا فورم بنے۔