parlimen1

فرانسیسی سفیر کو نکالنے کیلئے قومی اسمبلی کے اجلاس میں حکومتی ارکان کا کیا کہنا تھا

EjazNews

قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر اسمبلی اسد قیصر کی سربراہی میں ہوا، جس میں قرار داد کا متن پڑھ کر سناتے ہوئے امجد علی خان کا کہنا تھا کہ فرانسیسی صدر نے آزادی اظہار رائے کا سہارا لے کر ایسے افراد کی حوصلہ کی، جو انتہائی افسوسناک عمل ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایوان مطالبہ کرتا ہے کہ فرانسیسی سفیر کو ملک سے نکالنے پر بحث کی جائے، تمام یورپی ممالک کو اس معاملے کی سنگینی سے آگاہ کیا جائے، تمام مسلمان ممالک کو شامل کرتے ہوئے اس مسئلے کو بین الاقوامی فورمز پر اٹھایا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایوان مطالبہ کرتا ہے کہ بین الاقوامی معاملات کے حوالے سے فیصلہ ریاست کو کرنا چاہیے کوئی گروہ اس حوالے سے دباؤ نہیں ڈال سکتا۔

انہوں نے اس معاملے پر ایک اسپیشل کمیٹی کا بھی مطالبہ کیا اور کہا کہ یہ انتہائی حساس معاملہ ہے اور اس کے لیے میری خصوصی درخواست ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  مسلم لیگ ن کی حکومت 3 مرتبہ آئی ایم ایف کے پاس گئی:وفاقی وزیر عمر ایوب

وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نور الحق قادری نے کہا کہ اپوزیشن جو کر رہی ہے، ہم جو کر رہے ہیں اور ٹی ایل پی جو چاہتی ہے، ہمیں ایک ایسے رستے پر چلنا چاہیے کہ تنازعات کو سڑکوں کے بجائے ایوانوں میں حل کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ ناموس رسالت کے مقاصد کی تکمیل کے لیے جو رستے ہیں، اس پر ایوان میں بیٹھے لوگوں اور سڑکوں پر بیٹھے لوگوں کا اختلاف ہوسکتا ہے مگر اس کے مقصد پر اختلاف نہیں ہوسکتا۔

انہوں نے کہا کہ اس ملک میں کوئی ناموس رسالت کی بات کرے تو اس کا محافظ آئین دستور اور قانون ہے، کسی اور طرف جانے کی ضرورت نہیں۔

نور الحق قادری کا کہنا تھا کہ مجوزہ قرار داد میں مثبت طریقہ کار اور لائحہ عمل اپنایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان نے ناموس رسالت کے لیے بھرپور سفارتکاری کی ہے، عمران خان کا عشق رسول سے جو تعلق ہے وہ نہ کسی پیر کا ہے اور نہ کسی مولوی کا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  اسرائیل اور بھارت کے ناپاک عزائم ہیں، دونوں میں بے پناہ مماثلت ہے:میاں شہباز شریف

ان کا کہنا تھا کہ اس تعلق کو کئی چیلنج نہیں کرسکتا، انہوں نے شفقت محمود سے کہہ کر 7ویں جماعت کے بچوں کے نصاب میں سیرت نبویﷺ شامل کیا ہے۔

انہوں نے اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے آپ کے ختم نبوت کے جذبے کو دیکھا ہے، یہاں انتخابی قوانین میں ختم نبوت کو ختم کیا جارہا تھا، جب ممتاز قادری کو پھانسی دی جارہی تھی، جب 22 نہتے لوگوں کو فیض آباد میں شہید کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ حالات کی ستم ظریفی ہے کہ آپ اب یہ نعرے لگانے پر مجبور ہوگئے ہیں، آپ نعرے لگائیں یا نہ لگائیں ہم اس سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

وفاقی وزیر برائے ترقی و منصوبندی اسد عمر کا کہنا تھا کہ مجھے یقین ہے کہ ختم نبوت اور ناموس رسالت جتنا میرے ایمان کا حصہ ہے اتنا ہی احسن اقبال کے ایمان کا حصہ بھی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  پی آئی سی میں وکلاء کا دھاوا:متعدد مریض جاں بحق صوبائی وزیر تشدد کا نشانہ بنے

ان کا کہنا تھا کہ سب ہی کے ایمان کا اہم ترین جز اپنے نبی کریم ﷺ کے حرمت کی حفاظت کرنا ہے، بحث صرف یہی ہے کہ ہم ایسا کیا کریں کے کسی میں گستاخی رسول کی کبھی جرات ہی نہ رہے۔

انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کا حل کسی کی گاڑی جلا کر، ایک دوسرے پر حملے کرکے ہوسکتا ہے تو ہم یہی کرلیتے ہیں۔

اسد عمر کا کہنا تھا کہ مجھے یقین ہے کہ اس مسئلے کا عالمی سطح پر حل نکالنے میں پاکستان ہی سب سے آگے ہوگا، حکومت کو کوئی اعتراض نہیں کہ اگر اپوزیشن اس مسئلے میں شامل ہونا چاہتی ہے۔

بعد ازاں اسپیکر اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن ایک ساتھ مشغول ہوں اور متفقہ دستاویزات لے کر آئیں۔

انہوں نے ایوان کی کارروائی جمعے کی صبح 11 بجے تک کے لیے ملتوی کردی۔