sheikh rasheed

فرانسیسی سفیر کو ملک سے نکالنے کا فیصلہ قومی اسمبلی کرے گی: شیخ رشید

EjazNews

ایک ویڈیو پیغام میں وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنے کا فیصلہ قومی اسمبلی میں رکھا جائے گا ۔یہ فیصلہ حکومت پاکستان اور کالعدم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے مابین ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد کیا گیا۔

شیخ رشید کا کہنا تھا کہ تحریک لبیک ملک بھر سے بالخصوص مسجد رحمتہ اللعالمین سے دھرنے ختم کرنے پر رضامند ہوگئی ہے اور بات چیت کا سلسلہ مزید آگے بڑھا جائے گا۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ٹی ایل پی کارکنان کے خلاف درج کیے گئے تمام مقدمات بشمول فورتھ شیڈول کے واپس لیے جائیں گے اور اس حوالے سے مزید تفصیلات پریس کانفرنس کر کے جاری کی جائیں گی۔

یہ اعلان وزیر مذہبی امور اور وزیر داخلہ شیخ رشید پر مشتمل حکومتی ٹیم کے ٹی ایل پی رہنماوں کے ساتھ مذاکرات کے تیسرے دور بعد کی گئیں۔

یہ بھی پڑھیں:  جب ایٹمی ملک جنگ لڑتا ہے پھر اس کے اثرات سرحدوں تک محدود نہیں رہتے،اقوام متحدہ پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر حل کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کر:وزیراعظم

قبل ازیں مذاکرات کے دوسرے دور میں گورنر پنجاب چوہدری سرور اور صوبائی وزیر قانون راجا بشارت نے حکومت کی نمائندگی کی تھی۔

اس سے قبل کوٹ لکھپت جیل میں ٹی ایل پی کے سربراہ سعد رضوی اور حکومتی ٹیم کے مابین 7 گھنٹے طویل مذاکرات کے تینوں ادوار بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوگئے تھے۔ان مذاکرات میں پنجاب قرآن بورڈ کے چیئرمین حامد رضا، سنی تحریک کے ثروت اعجاز قادری، جے یو آئی پاکستان کے سابق رکن اسمبلی عبدالخیر محمد زبیر اور مسلم لیگ (ن) کے رکن صوبائی اسمبلی میاں جلیل شرق پوری نے حکومت کی نمائندگی کی تھی۔

حکومتی وفد کے ہمراہ سعد رضوی کے چھوٹے بھائی انس رضوی بھی جیل گئے جہاں انہوں نے ٹی ایل پی سربراہ کے ساتھ افطاری کی اور تراویح پڑھی۔

تحریک لبیک نے حکومت کے سامنے چار شرائط رکھی تھیں جس میں کہا گیا کہ فرانسیسی صدر ایمینوئل میکرون کی جانب سے گستاخانہ خاکوں کی حمایت کے بعد فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں:  شریف فیملی کی خواتین کو بھیجے گئے نوٹسز منسوخ کر دئیے گئے

انہوں نے مزید مطالبات کیے کہ پارٹی کے امیر سعد رضوی کو رہا کیا جائے، پارٹی پر پابندی ختم کی جائے اور گرفتار کارکنوں کو رہا کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے خلاف درج ایف آئی آر بھی ختم کی جائیں۔

گزشتہ برس اکتوبر کے دوران فرانس میں شائع ہونے والے گستاخانہ خاکوں پر ٹی ایل پی نے فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنے اور فرانسیسی اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کرنے کے مطالبے کے ساتھ احتجاج کیا تھا۔

جس پر حکومت نے 16 نومبر کو ٹی ایل پی کے ساتھ ایک سمجھوتہ کیا تھا کہ اس معاملے کا فیصلہ کرنے کے لیے پارلیمان کو شامل کیا جائے گا اور جب 16 فروری کی ڈیڈ لائن آئی تو حکومت نے سمجھوتے پر عملدرآمد کے لیے مزید وقت مانگا۔

چنانچہ ٹی ایل پی نے مزید ڈھائی ماہ یعنی 20 اپریل تک اپنے احتجاج کو موخر کرنے پر رضامندی کا اظہار کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  ارتھ آور 2019ء