imran khan

تحریک لبیک کا جو مقصد ہے، میں یقین دلاتا ہوں کہ وہی میرا اور میری حکومت کا مقصد ہے:وزیراعظم

EjazNews

وزیراعظم نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ جو پچھلے ہفتے حالات ہوئے اس کی وجہ سے میں نے فیصلہ کیا کہ میں آپ کے سامنے آؤں اور خطاب کروں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارا ملک دنیا کا واحد ملک ہے جو اسلام کے نام پر بنا اور اس کا نعرہ تھا ‘پاکستان کا مطلب کیا، لاالہ الااللہ، ہمارے لوگ دین پر عمل کریں یا نہ کریں لیکن نبی اکرم ﷺ ہمارے لوگوں کے دلوں میں بستے ہیں، اس لیے ان کی شان میں دنیا میں کہیں بھی گستاخی ہوتی ہے، تو ہمیں تکلیف پہنچتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں دنیا گھوما ہوں اور اس عمل سے صرف ہمیں ہی تکلیف نہیں پہنچتی بلکہ دنیا بھی جہاں کہیں بھی مسلمان بستا ہے تو اسے تکلیف ہوتی ہے۔

عمران خان نے کہا کہ پچھلے ہفتے جو افسوناک حالات ہوئے، ایک جماعت نے ایسے پیش کیا کہ جیسے انہیں اپنے نبی ﷺ سے دیگر پاکستانیوں سے زیادہ پیار ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تحریک لبیک پاکستان کے لوگ جس مقصد کے تحت لوگوں کو گھروں سے نکال رہے ہیں، میں یقین دلاتا ہوں کہ وہی میرا اور میری حکومت کا مقصد ہے، ہم بھی ان کی طرح یہی چاہتے ہیں کہ دنیا میں کہیں بھی ہمارے نبی ﷺ کی شان میں گستاخی نہ ہو، صرف ہمارا طریقہ کار مختلف ہے۔

انہوں نے کہا کہ تحریک لبیک پاکستان یہ کہہ رہی ہے کہ فرانس میں جو ہوا تو اس پر فرانس کے سفیر کو واپس بھیجا جائے، ان سے تمام رابطے ختم کر دئیے جائیں، ہماری حکومت کا طریقہ کار مختلف ہے لیکن مقصد ایک ہی ہے، وہ بھی یہ چاہتے ہیں کہ کسی ملک میں کسی کی جرات نہ ہو کہ ان کی بے حرمتی کرے، ہمارا بھی وہی مقصد ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ سن 1990 کے قریب سلمان رشدی نے ایک کتاب لکھی، اس کتاب میں اس نے ہمارے نبی اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی کی، پاکستان میں عوام سڑکوں پر نکلی، یہاں امریکی سفارتخانے پر حملہ کیا اور لوگوں کی شہادتیں بھی ہوئیں، اس کے بعد آپ دیکھیں مغرب کے کسی نہ کسی ملک میں ان کی شان میں گستاخی کرتا ہے تو مسلمانوں کو تکلیف ہوتی ہے جس پر کبھی کبھار باہر ممالک میں ردعمل بھی آتا ہے، یہاں ہمارے ملک میں بھی مظاہرے ہوتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کیا اس طرز عمل سے کوئی فرق پڑا، یہی سوچ ٹی ایل پی کررہی ہے، وہ کہہ رہے ہیں کہ اگر ہم ایکشن نہ لیں تو وہ سڑکوں پر آ جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:  ملتان سلطانز نے 6 وکٹوں سے پشاور زلمی کو شکست دے دی

انہوں نے کہا کہ میرا سوال یہ ہے کہ کیا فرانس کے سفیر کو واپس بھیجنا اور ان سے تمام تعلقات ختم کردینے سے یہ سب رک جائے گا، کیا کوئی گارنٹی ہے کہ اس کے بعد کوئی گستاخی نہیں کرے گا۔

عمران خان نے کہا کہ میں مغرب کو جانتا ہوں اور میں آپ کو گارنٹی دیتا ہوں کہ اگر پاکستان یہ کرے گا تو اس کے بعد کسی اور یورپی ملک میں آزادی اظہار رائے کے نام پر یہی ہو گا۔

ان کا کہنا تھا کہ جب دیگر ممالک کو پتا چلے گا کہ ہم نے ایسا کیا ہے تو بھی آزادی اظہار کے نام پر یہی کریں گے تو کیا ہم پھر اس کے سفیر کو بھی واپس بھیجیں گے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ 50 مسلمان ملک ہیں، کہیں بھی اس طرح مظاہرے نہیں ہوئے، کوئی بھی اس طرح نہیں کہہ رہا اور وہ بھی یہ نہیں کہہ رہے کہ سفیر کو واپس بھیجو۔

انہوں نے کہا کہ سفیر واپس بھیجنے سے فرانس کو کوئی فرق نہیں پڑے گا لیکن پاکستان کو اس سے بہت فرق پڑے گا کیونکہ ہماری معیشت بہت مشکل سے اٹھ رہی ہے، بہت عرصے کے بعد پاکستان میں انڈسٹری اوپر جا رہی ہے، لوگوں کو نوکریاں مل رہی ہیں اور ملک کی دولت میں اضافہ ہو رہا ہے، ہمارا روپیہ مضبوط ہوتا جا رہا ہے لیکن اگر ہم فرانس کے سفیر کو واپس بھیج کر تعلقات توڑیں گے تو اس کا مطلب ہے کہ ہم یورپی یونین سے تعلقات توڑیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری آدھی ٹیسٹائل کی ایکسپورٹس یورپی یونین میں جاتی ہیں تو تعلقات ختم کرتے ہیں تو آدھی ٹیسٹائل ایکسپورٹ ختم ہو جائیں گی، اس کا مطلب بے روزگاری ہو گی اور فیکٹریاں بند ہو جائیں گی اور ہمارے روپے پر بھی دباؤ پڑے گا، روپیہ گرے گا، مہنگائی بڑھے، غربت بڑھے گی، تو نقصان ہمیں ہو گا، فرانس کو کوئی نقصان نہیں ہو گا۔

عمران خان نے کہا کہ ہمارے حکومت کے دو ڈھائی مہیئنے سے تحریک لبیک سے مذاکرات جاری تھے، ہم ان کو یہی چیزیں سمجھا رہے تھے کہ اس سے نقصان ہمیں اور ہمارے عوام کو ہو گا، مذاکرات جاری تھے اور انہوں نے کہا کہ اسمبلی میں معاملہ لائیں اور اسمبلی جو فیصلہ کرتی ہے وہ کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں:  پاکستان کو فخر ہے کہ وہ ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کا حصہ ہے: وزیراعظم عمران خان

انہوں نے کہا کہ ہم نے ان کی بات ماننے کے ساتھ ساتھ یہ بھی دیکھا کہ یہ نچلی سطح پر متحرک تھے اور یہ اسلام آباد آنے کے لیے تیاریاں کررہے تھے اور انہوں نے مذاکرات کے دورنا ہی فیصلہ کر لیا کہ اگر آپ نے فرانس کے سفیر کو نہ نکالا تو ہم سارے اسلام آباد میں دھرنا دیں گے، اس کے بعد یہ گرفتار ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ اب تک 40 پولیس کی گاڑیوں کو جلایا جا چکا ہے، لوگوں کی نجی املاک کو لاکھوں کروڑوں روپے کا نقصان ہوا ہے، چار پولیس اہلکار شہید ہوئے ہیں، 800 سے زائد زخمی ہوئے ہیں، پہلے دن 100 سڑکیں بند کردیں جس عوام اور ہسپتالوں میں موجود مریضوں کو نقصان پہنچا۔

وزیراعظم نے انکشاف کیا کہ باہر سے پاکستان کے دشمن بھی اس معاملے یں کود پڑے اور اب تک ہم نے جن چار لاکھ ٹوئٹس کو دیکھا ہے ان میں سے 70فیصد جعلی اکاؤنٹ سے تھیں، یہ اس طرح کا پراپیگنڈا ہے جس کا یورپی یونین کی ڈس انفارمیشن لیب نے انکشاف کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں پتہ چلا کہ بھارت کے 380 واٹس ایپ گروپ تھے جو جعلی خبریں چلا رہے تھے کہ پاکستان میں خانہ جنگی ہو گئی ہے۔

وزیراعظم نے سیاسی جماعتوں کے رویے پر بھی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن کی جمعیت علمائے اسلام بھی اس میں شامل ہو گئی کہ کسی طرح حکومت کو عدم استحکام شکار کریں اور مسلم لیگ(ن) بھی اس کا حصہ بن گئی۔

وزیر اعظم نے گستاخانہ خاکوں کے حوالے سے حکومت کی جانب سے کی گئی کوششوں اور لائحہ عمل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جون 2019 میں اسلامی تعاون تنظیم کے 14ویں سمٹ میں میں نے پہلی مرتبہ جا کر اسلاموفوبیا کی بھی بات کی اور یہ بات کی کہ مغرب میں ہمارے نبیﷺ کی جو بے حرمتی کی جاتی ہے تو ہم سب مسلمان ملکوں کو مل کر اکٹھا اس کے حوالے سے حکمت عملی بنانی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ستمبر 2019 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھی یہ مسئلہ اٹھایا اور اگلے سال 2020 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پھر اسلاموفوبیا کی بات کرتے ہوئے کہا کہ سوا ارب لوگوں کو تکلیف پہنچائی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  فرانسیسی سفیر کو نکالنے کی قرار داد پر اپوزیشن نے پارلیمنٹ اجلاس میں کیا کہا؟

وزیر اعظم نے کہا کہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی باڈیز اور کمیشن میں میرے حکومت نے مسلسل اسلاموفوبیا کی بات کی جبکہ فیس بُک کے مالک مارک زکربرگ کو خط لکھا کہ فیس بک کو اسلاموفوبیا کے خلاف استعمال نہیں کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جب فرانس کا معاملہ ہوا تو میں نے تمام اسلامی ممالک کے سربراہان کو خط لکھ کر کہا کہ ہمیں مشترکہ طور پر کارروائی کرنی چاہیے اور ہماری حکمت یہ ہے کہ ہم تمام مسلمان ملک کے سربراہان مل کر مغرب کے فورمز پر ان کو یہ بتائیں کہ جب یہ آزادی اظہار رائے کے نام پر نبی اکرمﷺ کی شان میں گستاخی کرتے ہیں تو ہمیں تکلیف ہوتی ہے کیونکہ ان کو اس چیز کی سمجھ نہیں ہوئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں یہودیوں کی تعداد بہت کم ہے لیکن انہوں نے مل کر دنیا اور مغرب کو بتایا کہ ہولوکاسٹ پر کہیں بھی کوئی منفی بات نہ کی جائے اور آج ہولوکاسٹ کے خلاف مغربی میڈیا میں کوئی بات نہیں کر سکتا اور چار یورپی ملک میں ایسے ہیں جہاں ہولو کاسٹ کے خلاف منفی بات کرنے پر جیل میں ڈال دیتے ہیں تو کیا ہم ان کو یہ باور نہیں کرا سکتے کہ ہمیں کتنی تکلیف پہنچتی ہے۔

عمران خان نے کہا کہ جب 50 مسلمان ملک مل کر یہ کہیں گے کہ اگر کسی ملک میں سے اس طرح کیا گیا تو ہم مل کر تجارتی بائیکاٹ کریں گے اور ان کی چیزیں نہیں خریدیں گے تو اس کا اثر ہو گا اور اس طرح ہم اپنے مقصد پر پہنچ سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر ہم ٹی ایل پی کی طرح طرز عمل اپنائیں گے تو صرف اپنے ملک کو نقصان پہنچائیں گے اور فرانس کو کوئی فرق نہیں پڑے گا لیکن میں جو مہم چلا رہا ہوں کہ اس طریقے کی بدولت ایک دن ان کو سمجھ آ جائے گی اور وہ دن دور نہیں ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ میں ذمے داری لیتا ہوں کہ میں اس مہم کی قیادت کروں گا اور اپنی اور مسلمانوں کو مایوس نہیں کروں گا۔

انہوں نے علما سے تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ حکومت کی تائید اور مدد کریں کیونکہ ان چیزوں سے ملک کو نقصان پہنچ رہا ہے اور پاکستان دشمنوں کا فائدہ ہوا ہے۔