Islamic_artical

رومیوں کیخلاف جنگ کیلئے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی نصیحتیں

EjazNews

مزید افواج اسلام جمع کرنے کے لئے حضرت ابوبکر صدیقؓ کااہل مکہ کے نام مکتوب

بسم اللہ الرحمان الرحیم ۔یہ خط ابوبکر عبد اللہ عتیق بن قحافہ کی طرف سے تمام اہل مکہ مکرمہ اور اس کے مضافات والوں کے نام ہے۔
السلام عليکم۔ حمد و صلوۃ کے بعد! میں نے مسلمانوں کی طرف سے ان کے دشمنوں پر جہاد کرنے اور ملک شام فتح کرنے کا تہیہ کر لیا ہے اس لئے آپ کو اطلاع دیتا ہوں کہ باری تعالیٰ جل مجدہ کے فرمان واجب الاذعان کے پورا کرنے کی طرف فوری توجہ کیجئے۔ باری تعالیٰ فرماتے ہیں ’’تم (جہاد میں) جایا کرو (خواہ) تھوڑے سامان سے (ہو) خواہ زیادہ سامان سے (ہو) اور اپنے مال اور جانوں کے ساتھ خداوند تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرو۔ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم واقف ہو‘‘۔یہ آیت تمہارے یہاں (مکہ) ہی نازل ہوئی تھی اس لئے تم ہی پر زیادہ حق ہے، جو شخص اس کو سچ کر دکھائے اور اس کے حکم کو نافذ کر دے وہی سب سے زیادہ بہترہے۔ پس جو شخص اللہ تعالیٰ کے دین کی مدد کرے گا اللہ تبارک و تعالیٰ اس کی مدد فرمائیں گے اور جو شخص اس کام سے اپنے آپ کو علیحدہ رکھے گا الله تبارک و تعالیٰ کو اس کی کوئی پرواہ نہیں، تم جنت عالیہ کی طرف جس کے خوشہ انگور عنقریب ملنے والے ہیں اور جس کو خداوند تعالیٰ نے مجاہدین و مہاجرین اور انصار وغیرہ کے لئے تیار کی ہے دو ڑو- حسبنا الله ونعم الوکيل

مزید افواج کی آمد:

آپ نے اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مہرلگائی اور عبدالله بن حذافہ ؓنے کو دے کر روانہ کیا۔ انہوں نے مکہ مکرمہ پہنچ کر ایک کرخت آواز سے پکارا۔ لوگ ان کے پاس آئے اور انہوں نے وہ خط نکال کر سب کے سامنے پڑھا۔ اس کو سن کر سہیل بن عمروؓ حارث بن ہشامؓ اور عکرمہ بن ابی جہلؓ کھڑے ہوئے اوریک زبان ہو کر کہنے لگے ہم نے اللہ تبارک و تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بلانے والے کی دعوت کو قبول کر لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کو سچ مان لیا۔ حارث بن ہشامؓ اور عکرمہ بن ابو جہلؓ نے کہا ’’قسم ہے خداوند تعالیٰ کی ہم دین خدا کی مدد و اعانت سے کبھی پیچھے نہیں رہ سکتے۔ آخر کب تک ہم ان لوگوں سے جو ہم سے پہلے سبقت کر چکے پیچھے پڑے رہیں۔ یہ سچ ہے کہ جو اشخاص ہم سے قبل پہل کر چکے وہ اپنی منزل مقصود کو پہنچ گئے اور ہم ان سے اس نعمت عظمی میں موثر رہے مگر کم از کم ہمارا نام ان سے ملنے والوں کی فہرست میں تو لکھا جانا چاہیے۔

آخر عکرمہ بن ابی جہل اپنی قوم یعنی بنی مخزوم سے چودہ آدمی لے کر نکلے اور سہیل بن عمر بنی عامر کے چالیس جوانوں کے ساتھ جن میں حارث بن ہشام بھی شامل تھے تیار ہو کر آئے۔ ان کے علاوہ مکہ مکرمہ کے بہت سے آدمی ان کے ہمراہ ہوئے اور یہ پانچ سونفر کی ایک جماعت تیار ہو کر مدینہ طیبہ کی طرف چل دی۔

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک خط قوم ہوازن اورثقیف کے نام بھی تحریر فرمایا تھا اس قوم کے بھی چار سو آدمی مدینہ شریف کی طرف چلے۔ راستے میں اہل مکہ بھی مل گئے اور کل نو سو سوار جن میں سے ہر ایک شخص کا قول یہی تھا کہ میں تن تنہا نو سو سواران رومی کا مقابلہ کر سکتا ہوں مدینہ طیبہ کی طرف چلے جس وقت مدینہ طیبہ میں پہنچے بقیع میں پڑاؤ کیا۔ حضرت صدیق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اطلاع پہنچی۔ آپ نے حکم بھیجا کہ جس جگہ آپ لوگوں نے پڑاؤ کیا ہے وہاں سے جس جگہ تمہارے دوسرے بھائی یعنی شرحبيل بن حسنہ اور یزید بن ابی سفيان اور ربیعہ بن عامر ٹھہرے ہوئے ہیں چلے جاؤ۔ اس وقت یہ تمام حضرات جرف میں قیام پذیر تھے ہم نے وہاں پہنچ کر بیس روز قیام کیا ،دوسرے وفود ہم سے آ آکر ملتے جاتے تھے۔

ابو عامر کہتے ہیں چار سو آدمی حضر موت سے بھی آئے تھے۔

حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک خط اسید بن سلمہ کلابی اور بنی كلاب کے نام بھی ارسال فرمایا تھا جس میں جہاد روم کے لئے دعوت دی گئی تھی۔ یہ لوگ جمع ہوئے اور ضحاک بن سفيان بن عوف نے کھڑے ہو کر ایک تقریر کی اور قوم کلاب کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔

یہ بھی پڑھیں:  سلطنت مغلیہ اکبر کے بعد

اے حضرات بن کلاب آپ تقوی کو اپنا شعار بنانے اور خلیفہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نصرت کے لئے تیار ہو جائے۔

یہ سن کر ایک بوڑھا شخص جو چند مرتبہ ملک شام کی سیر کر آیا تھا کھڑا ہوا اور کہا ضحاک! تو ہمیں ایک ایسی قوم سے لڑنے کی ترغیب دیتا ہے جن کے پاس عزت اور سامان جنگ اور بے شمار گھوڑے موجود ہیں۔ اہل عرب میں اتنی طاقت کہاں ہے کہ وہ باوجود قلت تعداد اور گرسنگی اور ضعف کے ان کا مقابلہ کر سکیں۔

آپ نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فتوحات فوج کی زیادتی اور سامان، حرب کی کثرت پر نہ تھی بلکہ اعلاء کلمتہ اللہ کے لئے تھی جس کے لئے آپ مبعوث کرائے گئے تھے ،غالبا آپ حضرت کو یاد ہو گا کہ جنگ بدر (کبری) میں آپؐ کے ساتھ کل تین سو تیرہ آدمی تھے جنہوں نے ان قریش کے ساتھ کہ جن کے پاس بہت سا لشکر سامان حرب گھوڑے اور بہت زیادہ اسلحہ تھے مقابلہ کیا اور اس پر کیا منحصر ہے جب تک آپ دنیا میں تشریف فرما رہے فتح برابر آپ کے پیر چومتی رہی اور نفرت ہمیشہ پا برکاب رہی صلی الله علیہ وسلم۔
نیز آپؐ کے خلیفہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھتے۔ جس وقت آپ خلیفہ مقرر ہوئے تو آپ نے خود اپنی آنکھ سے دیکھ لیا کہ مریدین کو کسی طرح تلوار سے مغلوب کر دیا۔ آپ یاد رکھیے جب تک قبیلہ حمیر اور قبیلہ طے کی طرح مسلمانوں کی امداد نہیں کرو گے اس وقت تک خلیفہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام مسلمانوں کی آنکھ میں عزیز نہیں ہو سکتے۔ میں تمہیں خداوند تعالی ٰکی قسم دیتا ہوں کہ تم عرب میں اپنی قوم کو ذلیل مت کراو تمہارے پاس بہ نسبت دوسرے عربوں کے زیادہ گھوڑے اور اونٹ موجود ہیں نیز تعداد لشکر اور اسلحہ میں بھی تم ان سے بڑھے ہوئے ہو تم خداوند تعالیٰ جل مجدہ سے ڈرو اور خلیفہ رسول اللہ علیہ وسلم کے حکم کے سامنے فوراً سرتسلیم خم کر لو۔

واقدی فرماتے ہیں کہ جس وقت بن کلاب نے حضرت ضحاک کی یہ گفتگو سنی تو آنکھیں کھل گئیں۔ چلنے میں عجلت کی، اونٹوں پر علاوہ بار برداری کے خود بھی سوار ہوئے۔ عربی گھوڑے ساتھ لئے اور مدینہ طیبہ کے قریب پہنچ کر اسلحہ زیب تن کر کے اور گھوڑوں پر سوار ہو کر مدینہ طیبہ میں داخل ہوئے۔ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسی وقت لشکر اسلام ملک شام کی طرف روانہ کرنے کے لئے باہر نکلے تھے آپ سے ملاقات ہوئی جس وقت آپ نے بنوکلاب کو دیکھا آپ ان کی آمد سے بہت خوش ہوئے اور ان کو حکم دیا کہ یہ بھی مسلمانوں کے لشکر میں شامل ہو جائیں۔ آپ نے ایک فوجی نشان ان کے لئے تیار کرا کر ضحاک بن ابی سفیان کے سپرد فرمایا۔ حضرت ضحاک کچھ گھوڑے اور اونٹ لائے تھے۔ آپ نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حضور میں اس غرض سے پیش کئے کہ غزوہ روم میں کام آسکیں۔ حضرت صدیق اعظم نے جب ان گھوڑوں کو دیکھا تو چونکہ تمام گھوڑے گرے تھے۔ آپ بہت زیادہ خوش ہوئے اور فرمایا کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ فرماتے تھے ’’خيل اليمن مجملتہ طلقۃ یعنی یمن کے گھوڑے پچکلیانتیز ہوتے ہیں۔

تمام افواج اسلام کے امیر حضرت ابو عبيدہؓ:

کہتے ہیں کہ لشکر کے جمع ہونے سے ایک ہنگامہ اور شور برپا ہو گیا اور اولاد مہاجرین و انصار آکر شامل ہو گئے تھے اور جرف میں ایک بڑا بھاری لشکر جمع ہو گیا۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارادہ فرمایا کہ اس تمام لشکر پر حضرت امین الامت ابو عبیدہ بن جراح کو کمانڈر انچیف (تمام فوج کا افسر) بنادوں۔

عمرو بن عاص کی فوج کی روانگی:

اس کے بعد آپ نے عمرو بن عاص بن وائل السمیؓ کو بلا کر علم ان کے سپرد فرمایا اور کہا مکہ مکرمہ، ثقیف طائف ہوازن ،بنی کلاب اور حضر موت کی فوجوں پر تمہیں امیر مقرر کرتا ہوں۔ تم فلسطین پہنچ کر ابوعبیدہ کو لکھو کہ اگر تمہیں کمک کی ضرورت ہو تو میں موجود ہوں تم کوئی کام ابو عبیدہ کے مشورہ کے بغیر مت کرنا۔ اب تم رخصت ہو جاؤ خداوند تعالیٰ جل مجدہ تمہارے اور ان کے ارادوں میں برکت عطا فرماویں۔

یہ بھی پڑھیں:  سلاطین شمسی اور فتنہ مغول

حضرت عمرو بن عاص نے فوج کو کوچ کا حکم دیا، فوج آپ کے زیر کمان تھی مکہ مکرمہ کے باشندوں کا رستہ آگے آگے تھا اور اس کے پیچھے بنو كکلاب، اصناحی، ہوازن اورثقیف کے علی التریب رسالے تھے۔ مہاجرین و انصار کا لشکر اس لئے مر گیا تھا کہ وہ ابو عبیدہ بن جراح کی سرکردگی میں جانے والا تھا عمرو بن عاص نے اپنے لشکر ہر اول کا سردار سعید بن خالد کو مقرر کیا تھا۔

عمرو بن عاص کے لئے جنگی احکام

(۱) خداوند تعالیٰ سے ظاہر و باطن میں ڈرتے رہنا۔ (۲) خلوت میں اللہ سے شرم کرنا کیونکہ وہ تیرے اعمال ہمیشہ دیکھتے رہتے ہیں۔ (۳) تم یہ خود جانتے ہو کہ میں نے تمہیں تم سے بہتر اور بزرگ و با عزت لوگوں پر حاکم مقرر کیا ہے۔ آخرت کے لئے کام کرو، اپنے اعمال سے اپنے مولا یعنی باری تعالیٰ کو خوش رکھو۔ (۴)اپنے ساتھیوں پر باپ جیسی شفقت کرو ۔(۵) چلنے میں جلدی اور بھاگ دوڑ مت کرو۔ (۲) ساتھیوں کے خبر گیر رہو ان میں ہر طرح کے لوگ موجود ہیں ضعیف و ناتواں بھی ہیں اور تم کو دور کا سفر درپیش ہے۔ اللہ صاحب تبارک و تعالیٰ اپنے دین کے ناصر ہیں اس کو تمام ادیان پر قوت دیں گے اگرچہ مشرکین کو یہ ناگوار معلوم ہو۔ (۷) جس وقت تم اپنے اس لشکر کو لے چلو تو جس راستہ سے یزید بن ابی سفیان ربیعہ ابن عامر اور شرحبيل بن حسنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم گئے ہیں اس راستے کو مت جاؤ بلکہ ایلہ کے راستے سے جائو انشاء اللہ تعالیٰ فلسطین پہنچ جاؤ گے۔ (۸) وہاں پچ کر مخبر اور جاسوس مقرر کر کے ابو عبیدہ کے تمام حالات معلوم کرتے رہنا۔ (۹) اگر وہ اپنے دشمنوں پر ظفریاب اور مند ہوں تو تم فلسطین میں ہی دشمنوں سے لڑنا۔ (۱۰) اور اگر انہیں تمہاری امداد اور کمک کی ضرورت ہو تو ان کی کمک کے واسطے یکے بعد دیگرے سہیل بن عمر، عکرمہ بن ابی جہل، حارث بن ہشام اور سعید بن خالد کے زیر کمان لشکر روانہ کرتے رہنا – (۱۱) اور جس کام پر میں تمہیں مقرر کرتا ہوں اس میں کسی طرح کی سستی اور تغافل نہ کرنا، کاہلی سے جس قدر ممکن ہو بچنا۔ (۱۲) دشمن کی زیادہ فوج دیکھ کر یہ نہ کہنا کہ ہمیں ابوبکر بن قحافہ نے دشمن کے ایسے نرغے میں پھانس دیا اور اتنی بڑی فوج کے مقابلہ میں بھیج دیا کہ جس سے لڑنا ہماری قوت سے باہر ہے۔ کیونکہ عمرو! تم بہت جگہ دیکھ چکے ہو کہ بسا اوقات ہم باوجود کم تعداد کے مشرکین کی بے شمار فوجوں سے لڑ پڑے ہیں۔ واقعہ جنگ خیبر بھی تمہیں یاد ہو گا اور مسلمانوں کی بھی آنکھوں کے سامنے پھرتی ہو گی۔ (۱۳) اے عمرو! مہاجرین و انصار اہل بدر تمہارے ساتھ ہیں ان کی تنظیم و تکریم کرنا ان کے حقوق کو پہچاننا، ان پر اپنی حکومت کے گھمنڈ سے کسی طرح کی تعدی نہ کرنا۔ (۱۴) نہ اپنے دل میں کسی طرح کا تکبر کرنا کہ مجھے ابو بکرنے چونکہ ان پر حاکم مقرر کر دیا ہے لہٰذا میں ان سے بہتر ہوں- (۱۴) نفس کے فریبوں سے بچنا۔ (۱۶) اپنے آپ کو مثل ان کے ایک سپاہی سمجھنا۔ (۱۷) جس وقت کوئی کام در پیش ہو ان سے مشورہ کیا کرنا- (۱۸) نماز سب سے بڑی چیز ہے اس کا خاص نظام رکھنا۔ (۱۹) جس وقت نماز کا وقت ہو فوراً اذان کہلانا – (۲۰) کوئی نماز بغیر اذ ان کے نہ پڑھنا۔ (۲۱) جس وقت تمام لشکر اذان کو سن چکے تب آکر نماز پڑھنا۔ (۲۲) لشکر میں سے جو حضرات تمہارے ساتھ باجماعت نماز ادا کریں گے تو بہت افضل ہو گا اور جو شخص اپنی قیام گاہ پر خیمے میں ہی پڑھ لے گا اس کو بھی نماز کا پورا ثواب ہو گا- (۲۳) ۱ یلچیوں کی بات خود سننا دوسرے پر نہ ٹالنا ۔ (۲۴) دشمن سے ہمیشہ ڈرتے رہنا۔ (۲۵) اپنے ساتھیوں کو قرآن شریف کی تلاوت کی تاکید کرتے رہنا۔ (۲۷) محافظ اور نگہبان باری باری سے مقرر کرنا۔(۲۷) پھر تم ہمیشہ ان پر محافظ رہنا۔ (۲۸) رات کو اپنے ہمراہیوں کے ساتھ زیادہ بیٹھنا- (۲۹) جب کسی کو کوئی سزا دو تو زیادہ سختی نہ کرنا۔ (۳۰) اتنی ملت اور ڈھیل بھی نہ دینا کہ خود تجھ پر ہی دلیر اور شیر ہو جاویں۔ (۳۱) جب تک ممکن ہو کسی کے درے نہ لگانا کیونکہ خوف ہے کہ وہ بھاگ کر دشمن سے جا ملے اور تمہارے مقابلے پر اس کو کمک پہنچا دے۔ (۳۴) کسی شخص کے راز کی پردہ داری نہ کرنا اور محض ظاہری باتوں پر اکتفا کرنا۔ (۳۳) اپنے کام میں کوشش کرنا۔ (۳۴) دشمن سے مقابلے کے وقت خداوند تعالیٰ کی تصدیق کرنا۔ (۳۵) بات میں ہمیشہ وصیت کو مقدم رکھنا۔ (۳۹) ساتھیوں کو اس بات کی امید رکھنا کہ وہ کسی کام میں غلو اور زیادتی نہ کریں۔ (۳۷) اور اگر کریں تو انہیں اس کی سزا دینا- (۳۸) جس وقت اپنے ساتھیوں کو نصیحت کرو تو مختصر نصیحت کرنا۔ (۳۹) اپنے نفس کی اصلاح کرنا تاکہ تمہاری رعایا کی اصلاح رہے۔ رعیت کی بہ نسبت بادشاہ اپنے علم و عمل میں باری تعالیٰ سے زیادہ مقرب ہوتا ہے- (۴۰) میں نے تمہیں تمہارے اہل عرب ساتھیوں پر حاکم مقرر کیا ہے، لہٰذا ہر ایک قبیلہ اور ہر ایک گروہ کی قدر و منزلت پہچاننا، مہربان باپ کی طرح ان سے سلوک کرنا۔ (۴۱) کوچ کے وقت تمام لشکر کی خبر رکھنا۔ (۴۲) کچھ شکر ہر اول کے طور پر مقرر کر کے آگے آگے رکھنا۔ (۴۳) اور جن پر زیادہ اعتماد ہو ان کو اپنے پیچھے حفاظت کے لئے رکھنا۔ (۴۴) جس وقت دشمن سے مقابلہ ہو جائے تو صبر کرنا۔ (۴۵) استقلال رکھنا پیچھے نہ ہٹنا تاکہ تمہاری بزدلی اور ضعف و عاجزی نہ ظاہر ہو۔ (۴۶) قرآن شریف کے پڑھنے کی ساتھیوں کو تاکید رکھنا کہ بالالتزام پڑھیں۔ (۴۷) زمانہ جاہلیت وغیرہ کے ذکر و اذکار سے ساتھیوں کو روکنا کیونکہ اس سے آپس میں دشمنی پیدا ہوتی ہے۔(۴۸) دنیا کی زیب و زینت سے اعراض کرنا حتیٰ کہ تم ان لوگوں سے جو تم سے پہلے حالت غربت میں انتقال کر چکے ہیں جاملو جن کی مدح و تعریف قرآن شریف میں موجود ہے ۔ایسے لوگوں میں اپنے آپ کو شریک کرنا۔ باری تعالیٰ فرماتے ہیں- وجعلناھم أئمۃ یھدون بامرنا وو حینا الیھم فعل الخيرات و اقام الصلوۃ و ايتاء الزکاۃ وکانوالنا عابدین۔ (اور ہم نے ان کو پیشوا بنایا کہ وہ ہمارے علم کی ہدایت کرتے ہیں اور ہم نے ان کے دلوں میں نیک کام اور نماز پڑھنے اور زکوۃ دینے کے احکام ڈال دیئے ہیں اور وہ ہمارے لئے عاجزی کرنے والے ہیں)۔

یہ بھی پڑھیں:  1883-84میں لاہور کی پیداوار اور تقسیم

ابوالدرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جس وقت عمرو بن عاص کو یہ نصائح کر رہے تھے اس وقت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی وہیں موجود تھے۔ ان نصائح کے بعد آپ نے فرمایا ۔

بس اب خداوند تعالیٰ کی برکت اور مدد کے ساتھ رخصت ہو جاو ،میں تمہیں خداوند تعالیٰ سے ڈرتے رہنے کی نصیحت کرتا ہوں۔ اللہ کے راستے میں جہاد کرو، کافروں سے لڑو جو شخص خداوند تعالیٰ سے مدد طلب کرتا ہے اس کی باری تعالیٰ ضرور مدد فرماتے ہیں۔

نو زار کا لشکر

حضرت عمرو بن عاص کی سرکردگی میں جیسا کہ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں یہ نو ہزار لشکر فلسطین کی طرف چل دیا۔

تمام افواج اسلام کا سپہ سالار:

اگلے روز حضرت صدیق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لئے فوری نشانات تیار کرائے اور ان کو تمام افواج اسلامیہ کا سپہ سالار مقرر کر کے حکم دیا کہ اپنے لشکر کو لے کر جابیہ کی طرف روانہ ہو جائیں اور فرمایا اے امین الامت جو نصائح میں نے عمرو بن عاص کو کئے ہیں انہیں تم سن چکے ہو میں اب تمہیں رخصت کر تا ہوں۔ ابو عبیدہ یہ سن کر رخصت ہوئے۔