TLP+Police

لاہور میں مکمل ہڑتال،مذاکرات شروع ہو گئے ہیں:وفاقی وزیر شیخ ر شید

EjazNews

لاہور میں پیش آنے والی صورتحال پر مفتی منیب الرحمٰن کی سربراہی میں تنظیمات اہلسنت کا ایک خصوصی اجلاس ہوا جس کے بعد ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے آج ملک گیر پہیہ جام ہڑتال کی کال دی گئی تھی جس کی حمایت جمعیت علمائے اسلام (ف) اور جماعت اسلامی نے بھی کی۔

مفتی منیب الرحمٰن نے کہا تھا کہ مین اسٹریم میڈیا پر پابندیاں ہیں، اس لیے درست معلومات دستیاب نہیں ہیں تاہم سوشل میڈیا سے جو معلومات لوگوں تک پہنچ رہی ہیں وہ انتہائی ہولناک اور اذیت ناک ہیں کہ ہم سب کے دل دکھی اور آنکھیں اشکبار ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ2017 میں ان لوگوں (کالعدم ٹی ایل پی) کا یہی عمل آپ کی داد و تحسین کا مستحق تھا کیونکہ تب اقتدار پر کوئی اور فائز تھا اور جب آپ خود اقتدار کی کرسی پر بیٹھے ہیں تو وہی عمل آپ کی نظر میں دہشت گردی قرار پایا، اس سے بڑی منافقت اور کیا ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس تھانوں اور جیلوں میں قید کارکنان پر مظالم ڈھائے جارہے ہیں، انہیں اذیت سے دوچار کیا جارہا ہے، ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ تھانوں اور جیلوں میں قید کارکنان کو ذاتی مچلکوں پر فوری طور پر رہا کیا جائے اور تمام جعلی ایف آئی آرز واپس لی جائیں، اس کے بغیر مسئلے کے پُرامن حل کی توقع رکھنا خوش فہمی ہوگا۔

دوسری جانب ممتاز عالم دین مفتی تقی عثمانی نے بھی ایک پیغام میں لاہور میں حکومت کی جانب سے خونریزی کی مذمت کی۔

پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ چند افراد نے پولیس پر جوحملے کیے وہ بھی یقیناً غلط تھے لیکن ان سے آج کی گئی سفاکی اور درندگی کا کوئی جواز پیدا نہیں ہوتا حکومت ہوش میں آئے اور دانشمندی سے کام لے۔

ٹوئٹر پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں شیخ رشید نے بتایا کہ مذاکرات کا پہلا دور کافی بہتری سے مکمل ہوا ہے اور مثبت رہا جبکہ دوسرا دور سحری کے بعد صبح ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:  فریال تالپورگرفتار، زرداری ہاؤس سب جیل قرار

انہوں نے کہا کہ ٹی ایل پی نے اغوا کیے گئے پولیس اہلکاروں کو چھوڑ دیا گیا ہے، اور خود مسجد رحمتہ اللعالمین میں چلے گئے ہیں جبکہ پولیس بھی پیچھے ہٹ چکی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات حکومت پنجاب نے کیے ہیں جس کے دوسرے دور میں باقی معاملات بھی طے کرلیے جائیں گے اور 192 ناکوں میں سے ایک ناکہ رہ گیا تھا اس میں بہتری آگئی ہے۔

علاوہ ازیں ٹی ایل پی کارکنان کے خلاف تھانہ نواں کوٹ پر حملےکا مقدمہ بھی انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج کرلیا گیا ہے۔
مزید برآں مذہبی رہنماؤں کی جانب سے لاہور واقعے پر احتجاجاً ہڑتال کا اعلان کرنے کے بعد بڑے شہروں میں سکیورٹی ہائی الرٹ ہے۔
دوسری جانب لاہور پولیس کے ترجمان نے کہا کہ سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر نے اہلکاروں کو بازیاب کروانے کے آپریشن میں حصہ لیا۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ پولیس کی نفری کے علاوہ رینجرز کو بھی شہر بھر کے حساس مقامات پر تعینات کردیا ہے جبکہ نواں کوٹ پر ہونے والا احتجاج منتشر ہوگیا ہے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے جائے وقوع پر موجود ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  مودی نے تاریخی اسٹریٹیجک غلطی کردی جس کا خمیازہ اسے بھگتنا پڑے گا:وزیراعظم عمران خان

کالعدم تنظیم اور پولیس کے درمیان کیا ہوا تھا؟

پولیس کے مطابق تقریباً صبح 9 دس بجے کالعدم ٹی ایل پی کے کارکنوں نے نواں کوٹ تھانہ پر حملہ کر دیا جہاں سے انہوںنے ڈی ایس پی نواں کوٹ عمر فاروق بلوچ اور پانچ اہلکاروں کو اغوا کرکے اپنے مرکز میں پہنچا دیا ،جہاں ان پرتشددکیاگیا۔

بعدازاں پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری نے مظاہرین کے خلاف آپریشن شروع کیا پولیس نے آنسو گیس اور ہوائی فائرنگ بھی کی جس سے مبینہ طور پرکالعدم ٹی ایل پی کے 4ارکان ہلاک اور15 سے زیادہ زخمی ہو گئے جبکہ کارکنوں نے پولیس پر پتھرائوکیا اور لاٹھیاں برسائیں جس سے 15سے زائد پولیس اہلکار بھی زخمی ہو گئے۔ پولیس کے مطابق حملہ آوروں نےتھانہ میںموجود اہلکاروں پر بھی تشدد کیا ڈنڈے برسائے۔ تھانہ پر پتھرائو بھی کیا جس کے جواب میں پولیس اور رینجرز نے آنسو گیس پھینکی اور ہوائی فائرنگ شروع کر دی، پولیس کی فائرنگ اور آنسو گیس پھینکنے کا سلسلہ تقریباً دو گھنٹوں تک جاری رہا۔ پولیس اور مظاہرین میں چھڑپوں کا سلسلہ تقریباً ایک بجے تک جاری رہا بعد ازاں کارکن تھانہ سے دور چلے گئے زخمیوں کو مختلف ہسپتالوں میں داخل کرا دیا گیا۔پنجاب پولیس نے کہا کہ پولیس نے مسجد یا مدرسے کے خلاف کوئی کارروائی کا منصوبہ نہیں بنایا اور نہ ہی آپریشن کیا۔انہوں نے کہا کہ اگر کوئی کارروائی کی گئی ہے تو اپنے دفاع اور عوامی املاک کے تحفظ کے لیے تھی۔

Police
بازیاب ہونے والے پولیس اہلکار

مغوی ڈی ایس پی عمر فاروق بلوچ کا ایک ویڈیو پیغام بھی سامنے آیا جس کے مطابق وہ نواں کوٹ تھانے کے سامنے آپریشن کر رہے تھے مشتعل ہجوم کے قابو آ گئے جہاں پر قاری فاروق نے مظاہرین کو تشدد سے روکا ان سے نجات دلائی سادہ سی بات یہ ہے کہ جب ایک معاہدہ ہوا ہے اس کی پاسداری ہونی چاہیے،انہوں نے کہاتین افراد شہید ہو چکے ہیں جن کو گولیا ںلگی ہیں تقریباً دس پندرہ افراد زخمی ہیں استدعا ہے کہ افہام و تفہیم کا راستہ اختیار کیاجائے۔

یہ بھی پڑھیں:  خیبر پختونخوا کا بجٹ پیش

ادھر کالعدم جماعت کی مرکزی شوریٰ کے رہنما علامہ شفیق کی جانب سے ا یک بیان میں کہا گیا ہے کہ پولیس کی کارروائی میں ان کے دو کارکن ہلاک اور15 زخمی ہو گئے ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ہلاک کارکنوں کی تدفین اس وقت تک نہیں کرینگے جب تک فرانس کے سفیر کو ملک سے نکالا نہیں جاتا۔ موڑ سمن آباد، بابو صابو، سکیم موڑ سے یتیم خانہ کی طرف آنے جانے والا ٹریفک مکمل طور پر بند ہے۔ پولیس کی بھاری نفری سمن آباد موڑ کے قریب ریزرو کھڑی ہے جبکہ یتیم خانہ کی طرف جانے والی دونوں سڑکوں کو مظاہرین نے پتھر لگا کر بلاک کیا ہواہے۔ ملتان روڈ، تھانہ نواں کوٹ سامنے کنٹینرز اور ٹرک کھڑے کرکے روڈ بلاک کی گئی ہے اور سڑک پر پتھر ہی پتھر بکھرے پڑے ہیں پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری تھانہ نوں کوٹ کے کچھ فاصلہ پر الرٹ کھڑی ہے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ حکومت مذاکرات پر یقین رکھتی ہے لیکن بلیک میل نہیں ہوں گے، لاہور میں پولیس اور رینجرز کو اغوا کیا گیا جس پر آپریشن ہوا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ریاست کالعدم ٹی ٹی پی مسلح گروہ کے سامنے بلیک میل نہیں ہوئی، عمران خان عاشق رسول ﷺہیں ہر فورم پر انہوں نے بات کی۔