Sahahbaz_sharif

شہباز شریف کی ضمانت کا معاملہ کیوں لٹکا؟

EjazNews

لاہور ہائیکورٹ کے دو رکنی بنچ نے شہباز شریف کی ضمانت کی درخواست نمٹا دی ،شہباز شریف رہائی کا معاملہ فی الحال لٹک گیا ہے، جسٹس سردار سرفراز ڈوگر نے ضمانت منظور کرلی ،جبکہ جسٹس اسجد جاوید گھرال نے ضمانت کی درخواست مسترد کردی، اب معاملہ ریفری جج کے پاس جائے گا۔

جسٹس اسجد جاوید گھرال نے فیصلہ میں لکھاکہ فاضل جسٹس سردار سرفراز ڈوگر نے شہباز شریف کی ضمانت منظور کی ،میں انکے مشاہدات، وجوہات اور نتائج سے متفق نہیں ہوں ،مختصر حکم میں ضمانت منظوری کا متفقہ فیصلہ لکھا دیکھ کر مجھے صدمہ پہنچا ،ضمانت منظوری کا متفقہ فیصلہ حقیقت کے برعکس ہے ،سماعت مکمل ہونے کے بعد جب جسٹس سردار سرفراز ڈوگر نے رضامندی طلب کی تو میں نے صاف انکار کردیا،جسٹس سرفراز ڈوگر نے اکیلے ہی متفقہ فیصلہ سنادیا،اس صورتحال بارے میں نے فوراً چیف جسٹس کو آگاہ کیا،جسٹس سرفراز ڈوگر نے مختصر فیصلے پر دستخط کرنے کیلئے بھجوایا جس پر میرے دستخط کرنے کا سوال ہی نہیں اٹھتا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  جو خیالات ہمارے مشاہدے میں آئے ان کو سن کر دکھ ہوا:چیف الیکشن کمیشن

جسٹس سردار سرفراز ڈوگر نے 10 صفحات پر مشتمل فیصلہ میں لکھا کہ شہباز شریف کےکیس کی سماعت کے بعد ضمانت منظور کرنے کا مشترکہ مختصر فیصلہ سنایا گیا تھا،جب مختصر حکم دستخط کرنے کیلئےجسٹس اسجد گھرال کے سامنے رکھا گیا تو انھوں اختلافی نوٹ لکھنے کا ارادہ ظاہر کیا،اختلاف ہونے کی وجہ سے ہم نے علیحدہ علیحدہ فیصلہ لکھا، ریفری جج کی تقرری کیلئے معاملہ چیف جسٹس کے سامنے رکھا جائیگا۔

نیب شہباز شریف پر منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثہ جات کا الزام ثابت نہیں کرسکا ،شہباز شریف علاج کروانے بیرون ملک گئے لیکن واپس آگئے اس سے انکی نیک نیتی ثابت ہوتی ہے کہ وہ مقدمات کا سامنا کریں گے،نیب شہباز شریف کے خلاف منی لانڈرنگ کا الزام ثابت نہیں کرسکا ہے،کوئی ٹی ٹی ان کے اکائونٹ میں نہیں آئی اور نہ ہی انھوں نے بلاواسطہ وصول کی،نیب پراسیکیوٹر نے بھی اس کو تسلیم کیا کہ ٹی ٹیز صرف ان کے ہمراہی ملزمان نے وصول کیں۔

یہ بھی پڑھیں:  داسو واقعہ:لوگوں کی تفتیش سے تمام سہولت کاروں کو گرفتار کر لیا گیا ہے

قانون کے تحت براہ راست ثبوت کی عدم موجوگی میں کسی ملزم کو مجرم نہیں ٹھہرایا جاسکتا ہے،نیب ٹرائل کے دوران ثبوت دے،نیب نے شہباز شریف کے اثاثوں میں27 کروڑ کی بے ضابطگیوں کا ذکر کیا، میں نے ایف بی آر میں جمع کروائے گئے ٹیکس ریٹرن دیکھے ہیں، آڈٹ رپورٹ کے مطابق انکا ذریعہ آمدنی اور اثاثے جائز ہیں۔ضمانت کی منظوری کیلئے یہ ایک وجہ ہے، بے نامی اداروں کا فیصلہ کرنا ٹرائل کورٹ کاکام ہے،نیب پراسیکیوٹر نے تسلیم کیا کہ شہباز شریف ٹرائل کورٹ میں بریت کی درخواست دے سکتے ہیں ،شہباز شریف کرپشن، کمیشن یا کک بیک وصول کرنے یا اختیار کا غلط استعمال ثابت نہ ہوا ہے۔

نیب نے جن کو بے نامی دار قرار دیا وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ اثاثے ان کے ہیں،چونکہ ان پر تمام الزامات ثابت ہوناباقی ہیں تو انھیں قید رکھنا انصاف کے تقاضوں کے برخلاف ہوگا،70 سالہ شہبازشر یف کینسر کے مر ض میں مبتلا ہیں جنھیں مرحلہ وار طبی معانہ کی ضرورت پڑتی رہتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  چاند 13 مئی کو نظر آئے گا، عید 14 مئی کو ہوگی، فواد چوہدری