Hazrat_suleman

حضرت سلیمان علیہ السلام(۱)

EjazNews

نسب:
حضرت سلیمان علیہ السلام حضرت دائود علیہ السلام کےصاحبزادے ہیں اس لیے ان کا نسب بھی یہودا کے واسطہ سے حضرت یعقوب (اسرائیل) علیہ السلام تک پہنچتا ہے۔

ان کی والدہ ماجدہ کانام معلوم نہیں ہو سکا، تو رات نے بنت سبع نام بتایا ہے لیکن اس طرح کہ وہ اول اور یاہ کی بیوی تھی اور پھر دائود علیہ السلام کی بیوی بنی اور حضرت سلیمان علیہ السلام اس سے پیدا ہوئے۔ مگر اس قصہ کی لغویت ہم پہلے بیان کر چکے ہیں۔اس لیے یہ نام بھی تاریخی حیثیت سے صحیح نہیں ہے۔

ابن ماجہ کی ایک حدیث میں صر ف اس قدر منقول ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ سلیمان ابن دائود کی والدہ نے ایک دفعہ سلیمان علیہ السلام کو یہ نصیحت فرمائی ۔ بیٹا رات بھر نہ سوتے رہا کرو۔ اس لیے کہ رات کے اکثر حصہ کونیند میں گزارنا انسان کو قیامت کے دن اعمال خیر سے محتاج بنا دیتا ہے۔

قرآن عزیز نے بھی صرف اسی قدر بتایا ہے کہ وہ حضرت یعقوب کے واسطہ سے حضرت ابراہیم ؑ کی نسل سے ہیں۔

ترجمہ: اور ہم نے اس ابراہیم کو بخشے اسحق و یعقوب، ہم نے ہر ایک کو ہدایت دی اور نوح کو ہدایت دی اس سے پہلے اور اس ابراہیم کی اولاد میں سے دائود اور سلیمان کو ہدایت دی۔(سورۃ الانعام)۔ اور ہم نے دائود کو سلیمان دیا۔(سورۃ ص)

قرآن عزیز اور ذکر سلیمان:

قرآن عزیز میں حضرت سلیمان ؑ کا ذکر سولہ جگہ آیا ہے ان میں سے چند جگہ کچھ تفصیل کے ساتھ ذکر ہے اور اکثر جگہ مختصر طور پر ان انعامات اور فضل وکرم کا تذکرہ ہے جو خدا کی جانب سے ان پر اور ان کے والد حضرت دائود علیہ السلام پر نازل ہوتے رہے۔۔
ذیل کا نقشہ اس سلسلہ کے مطالعہ کے لیے مفید ہے۔
سورۃ بقرہ آیت نمبر 102شمار1
سورۃ النمل آیت 18-17-16-15شمار2
سورۃ النساء آیت85، شمار1
سورۃ سباء آیت 44-36-60، شمار1
سورۃ انعام85، آیت 1
سورۃ انبیاء 81-79-78،شمار3

بچپن:

اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان علیہ السلام میں ذکاوت اور فصل مقدمات میں اصابت رائے کا کمال فطرت ہی سے ودیعت کر دیا تھا چنانچہ ان کے بچپن کا وہ واقعہ اس کے لیے روشن برہان ہے جو حضرت دائود ؑ کے واقعات کے ضمن میں قرآن عزیز سے نقل کیا جا چکا ہے۔
حضرت دائود نے ان کے اس جوہر کو پہچان لیا تھا اس لیے بچپن ہی سے ان کو امور مملکت میں شرکت کار رکھتے تھے۔ خصوصاً فصل مقدمات میں ان س ضرور مشورہ فرما لیا کرتے تھے ۔

وراثت دائود:

مورخین کہتے ہیں کہ حضرت سلیمان سن رشد کو پہنچ چکے تھے کہ حضر ت دائود کا انتقال ہوگیا۔اور اللہ تعالیٰ نے ان کو نبوت اور حکومت دونوں میں دائود علیہ السلام کا جانشین بنا دیا اور اس طرح فیضان نبوت کے ساتھ ساتھ اسرائیلی حکومت بھی ان کے قبضہ میں آگئی۔ قرآن عزیز نے اسی جانشینی کو وراثت دائود سے تعبیر کیا ہے۔

ترجمہ : اور سلیمان دائود کا وارث ہوا۔ (نمل)

ابن کثیر کہتے ہیں کہ یہاں وراثت سے نبوت و سلطنت کی وراثت مراد ہے مالی وراثت مراد نہیں ہے ورنہ حضرت دائود کی اور بھی بہت سی اولاد تھی وہ کیوں محروم رہتی نیز ’’صحا ح ستہ‘‘ میں متعدد جلیل القدر صحابہ سے یہ روایت منقول ہے۔

ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہم جماعت انبیاء کی وراثت مالی کا سلسلہ نہیں چلتا اورہم جو کچھ چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہو جاتا ہے۔(الحدیث)

یہ روایت صراحت کرتی ہے کہ انبیاء علیہم السلام کی وفات کے بعد ان کے مال کا کوئی وارث نہیں ہوتا بلکہ وہ مساکین اور فقرا ء کا حق اور خدا کے نام پر صدقہ ہے۔

دراصل نبی کی فطرت یہ گوارا نہیں کرتی کہ مال جیسی حقیر شے پر ان کی وراثت کا انتساب ہو اس لیے کہ جن ہستیوں کا مقصد حیات تبلیغ و ارشاد اور راہ خدا کی دعوت ہو وہ کب یہ گوارا کر سکتی ہیں کہ علوم و فیوض نبوت کے علوم ایک دنی شے ان کی وراثت قرار پائے بلکہ بر بنا بشریت بقائے حیات کے لیے وہ جو کچھ مال کی صورت میں رکھتے تھے پس مرد ن صرف خدا کی ملکیت ہو جانا چاہئے جو فقراء اور مساکین ہی کا حصہ ہو سکتا ہے نہ کہ اور ہستی کے نسل و خاندان کا۔

نبوت:

جن انبیاء و رسل کی صحیح تاریخ منضبط ہے اس سے اور قرآن عزیز کی بعض آیات کی صراحت سے یہ معلوم ہو چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ جس ہستی کو شرف نبوت سے سرفراز کرتا ہے اس کو یہ منصب جلیل سن رشد کے بعد عطا فرماتا ہے کہ تاکہ وہ دنیوی اسباب کے لحاظ سے بھی عمر طبعی کا وہ حصہ طے کر لے جس میں عقل و تجربہ پختگی اختیار کر لیتے ہیں اور اس حد پر پہنچ کر استعداد کے مطابق انسانوں کے قوائے فکری و عملی میں استواری اور استقامت پیدا ہو جاتی ہے چنانچہ یہ سنت اللہ حضرت سلیمان ؑ کے حق میں بھی کارفرما رہی اور سن رشد کے بعد ان کو حکومت و خلافت کے ساتھ ساتھ منصب نبوت بھی منجانب اللہ عطا ہوا۔

ترجمہ:بیشک ہم نے (اے محمد ﷺ) تیری طرف وحی بھیجی جس طرح ہم نے نوح کی جانب وحی بھیجی اور اس کے بعد دوسرے پیغمبروں کی طرف وحی بھیجی اور ابراہیم کی جانب اسمٰعیل کی اسحٰق کی یعقوب کی اور اس کی اولاد کی جانب اور عیسیٰ کی اور ایوب کی اور یونس کی اور ہارون کی اور سلیمان کی جانب وحی بھیج۔ (سورۃ النساء)

ترجمہ: اور ہر ایک کو ہم نے حکومت دی اور علم دیا۔ (الانبیاء)

ترجمہ: اور بیشک ہم نے دائود ،سلیمان کو علم دیا۔ (ص ٓ)

خصائص سلیمان علیہ السلام:

پھر حضرت داؤد کی طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان کو بھی بعض خصوصیات اور امتیازات سے نوازا اور اپنی نعمتوں میں سے بعض ایسی نعمتیں عطا فرمائیں جو ان کی زندگی مبارک کا طغرائے امتیاز نہیں۔

منطق الطير :

اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤدؑ اور حضرت سلیمان ؑدونوں کو یہ خصوصیت عطا فرمائی تھی کہ وہ چرند وپرند کی بولیاں سمجھ لیتے تھے اور دونوں بزرگوں کے لیے ان کی آوازیں ایک ناطق انسان کی گفتگو کی طرح تھیں۔

قرآن عزیز نے سلمان علیہ السلام کے اس شہرت کا اس طرح ذکر کیا ہے۔

ترجمہ:اور بیشک ہم نے داؤد اور سلیمان کو’’علم ‘‘ دیا، اور ان دونوں نے کہا۔ حمد اللہ کے لیے ہی زیباہے جس نے اپنے بہت سے مومن بندوں پرہم کو فضیلت عطا فرمائی اورسلیمان دائود کا وارث ہوا اور اس نے کہا اے لوگو! ہم کو پرندوں کی بولیوں کا علم دیا گیا ہے اورہم کو ہر چیز بخشی گئی ہے بیشک یہ (خدا کا) کھلا ہوافضل ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  طالوت و جالوت کی جنگ اور بنی اسرائیل کاامتحان

اس مقام پر’’ منطق الیطر‘‘، کا جس کی اہمیت کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے اس کو پیش نظر رکھ کر یہ بات توصاف ہوجاتی ہے کہ اس سے یہ مراد نہیں ہے ’’کہ وہ اپنے قیاس و تحمین کے ذریعہ ان کی مختلف قسم کی آوازوں سے صرف ان کے مقصداور مراد کو سمجھ لیتے تھے ، اور اس سے زیادہ کچھ نہ تھا۔ اس لیے کہ قیاس و تخمین کا یہ درجہ تو بکثرت لوگوں کو حاصل ہے۔ اور وہ پالتو جانوروں کی بھوک پیاس کے وقت کی آواز، خوشی اور مسرت کی آواز مالک کو قریب دیکھ کر اظہار وفاداری کی آواز اور دشمن کو دیکھ کر خاص طرح سے پکارنے کی آواز کے درمیان بخوبی فرق سمجھتے اور ان کے ان مقاصد کو با آسانی ادراک کر لیتے ہیں نیز منطق الطیر سے وہ علم بھی مراد نہیں ہوسکتا جو جدید علمی دور میں ظن و تخمین کی راہ سے بعض جانوروں کی گفتگو کے سلسلہ میں ایجاد ہوا ہے اور جو زد لوجی (Zoology) کا ایک شعبہ شمار کیا جاتا ہے اس لیے کہ یہ مضح اٹکل کا تیر ہے جو مسطورہ بالا تجربہ کے بعد کمان علم سے نکلا ہے اس اٹکل کا تیر ہے جو مسطورہ بالا تجربہ کے بعد کمان علم سے نکلا ہے۔ اور اس کو علم بمرتبہ ’’یقین‘‘ کہناخود واضعین علم الحیوانات کے نزدیک بھی صحیح نہیں ہے علاوہ ازیں وہ ایک اکتسابی فن ہے جو ہر شخص کوتھوڑی سی محنت کے ساتھ حاصل ہو جاتا اور ظاہر ہے کہ حضرت دائود سلیمان کے اس علم کے لیے قرآن عزیز کو اس قدر اہم پیرایہ بیان کی ضرورت نہیں تھی۔

قرآن عزیز نے جس انداز میں اس کا ذکر کیا اور حضرت سلیمان کا شکریہ کے انداز کا بیان کو نقل کیا ے اس سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ حضرت دائود اور سلیمان علیہماالسلام کے لیے یہ ایسی عظیم الشان نعمت تھی جس کو نشان (معجزہ) کہا جاتا ہے اور وہ بے شبہ پرندوں کی بولیاں انسان ناطق کی گفتگوکی طرح سمجھتے تھے اور یقیناً ان کا یہ علم اسباب دنیوی سے بالاتر کے فیضان کا نتیجہ تھا۔

لہٰذا عقل اس بارہ میں صرف یہیں تک جاسکتی ہے کہ اس کے نزدیک یہ محال بات نہیں ہے کیونکہ لغت اور عقل دونوں کے لحاظ سے نطق کے لیے صرف صوت کا ہونا کافی ہے اور اس کے لیے انسانوں کی طرح کی گویائی ضروری نہیں ہے اور چرند و پرند کی بولیوں میں موت اورصوت کا نشیب و فراز دونوں موجود ہیں۔پس منطق الطیر ایسی بخشش اور موہیت تھی جس کو خدا کا نشان کہناچاہیے اور ان ہی جیسی پاک ہستیوں کے لیے مخصوص ہے۔ بیضاوی کے اور ہمارے درمیان منطق الطیر کی تفسیر سےمتعلق اس پر تو اتفاق ہے کہ حضرت سلیمان اور حضرت دائود حیوانات کی بولیاں جس طریقے سے یقینی طور پر سمجھ لیاکرتے تھے وہ عام علمی تدوین سے جدا اللہ تعالیٰ کی جانب سے ان کوبطورنشان کے عطا ہوا تھا البتہ اس کی تفصیل میں یہ فرق ہے کہ قاضی بیضاوی کے نزدیک یہ حیوانات کی بولیاں ملن مختلف کیفیات کی صورت میں تخیل کی مدد سے سمجھی جاتی ر ہیں اور اس کایقینی درجہ کسب کے ذریعہ سے نہیں بلکہ موہبت الہٰی سے حاصل ہوتا ہے ۔ جو حضرت داؤدوو سلیمان کو حاصل تھا اور ہمارے نزدیک دونوں اولوالعزم پیغمبران کی بولیاں اس طرح سنتے تھے جس طرح انسان کی گفتگوخواہ اس لیے کہ صرف معجزہ تھا جو ان کے افق پر دکھلایا گیا اور عام طور پر ان کی بولیاں محض مختلف کیفیات صورت سے پہچانی جاتی ہیں اور خواہ یہ ہو کرحقیقۃً ان کی صوت بھی نطق کا ایسا درجہ رکھتی ہے جس سے وہ صاف صاف ایک دوسرے کو اپنا مطلب سمجھاتے ہیں لیکن وہ انسانی نطق سے بہت کمزور درجہ کا ہے ۔حضرت سلیمان اور ہُدہُدکے مکالمہ کو جس انداز میں قرآن نے بیان کیا ہے وہ میری توجیہ کی تائید کرتا ہے۔

تسخیر ریاح :

حضرت سلیمانؑ کی نبوت حقہ کے خصوصی امتیازات میں سے ایک امتیاز یہ بھی تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ہوا کو ان کے حق میں مسخر کردیا تھا اور وہ ان کے زیر فرمان کردی گئی تھی ،چنانچہ حضرت سلیمان ؑجب چاہتے صبح کو ایک مہینے کی مسافت اور شام کو ایک مہینہ کی مسافت کی مقدار سفر کر لیتے تھے۔

قرآن عزیز نے حضرت سلیمان کے اس شرف کے متعلق تین باتیں بیان کی ہیں ایک یہ کہ ’’ہوا‘‘کوسلیمان کے حق میں مسخر کر دیا گیا۔

دوسری یہ کہ ہوا ان کے حکم کے اس طرح تابع تھی کہ شدید اور تیز و تند ہونے کے باوجود اُن کے حکم سے نرم اور آہستہ روی کے باعث راحت ہو جا تی تھی۔ تیسری بات یہ کہ نرم رفتاری کے با وجود اس کی تیزروی کا یہ عالم تھاکہ حضرت سلیمان کا صبح وشام کاجداجدا سفر ایک شہسوار کی مسلسل ایک ماہ کی رفتار مسافت کے مساوی ہوتا تھا، گویا تخت سلیمان علیہ السلام، انجن اورمشین جیسے اسباب و ظاہر سے بالاترین خدائے تعالیٰ کے حکم سے ایک بہت تیز رفتار ہوائی جہاز سے بھی زیادہ تیز مگر سبک روی کے ساتھ ہوا کے کاندھے پر اڑا چلا جاتا تھا۔

ایک فطرت پرست انسان کی نگاہ میں یہ بات بہت کھٹکتی ہے۔ مگر ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ جبکہ عقل و فکر کے نزدیک یہ مسلمات میں سے ہے کہ انسان کے قوائے فکری وعملی کے درمیان اس درجہ تفادت ہے کہ ایک شخص جس شے کو اپنی عقل سے کرتا اور اس کا کرنا آسان سمجھتا ہے دوسرا شخص اسی شے کو ناممکن اور محال یقین کرتا ہے تو اسی اصول پر ان کو یہ تسلیم کرنے میں کیوں انکار ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس طرح عام قوانین قدرت کے پیش نظر کائنات کی اشیاء کو اسباب کے ساتھ وابستہ کر دیا ہے۔ اسی طرح اس کے کچھ خاص قوانین قدرت اور نوامیس فطرت بھی ہیں جو ایسے امور کے لیے مخصوص ہیں جیساکہ امزیر بحث ہے۔ اور نفوس قدسہ اورانبیاء علیہم السلام کو ان کا اسی طرح یقینی علم حاصل ہوتا ہے جس طرح اسباب کےذریعہ مسببات کے دور کا علم عام عقلا کو حاصل ہے۔ اور موجودہ دنیوی علوم کی دسترس اس علم تک نہیں ہے لہٰذا جب ایسے امور کے وقوع کی اطلاع عل الیقین (وحی الٰہی) کے ذریعہ حاصل ہوتی ہے تو محض ظن وتخمین اور عقل کے استبعاد کی وجہ سے ایک حقیقت ثابتہ کا یکسے انکار کیا جاسکتا ہے اور اگر ہم کو ایک شے کا علم نہیں ہے تو یہ کیسے لازم آجاتا ہے کہ وہ شے حقیقۃً بھی موجود نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  حضرت موسیٰ علیہ السلام اور قارون

لہٰذا جاوہ مستقیم یہی ہے کہ واقعہ تسخیر ریاح اور مسافت رفتار کو بغیر کسی تاویل کے تصیح تسلیم کیا جائے اس مقام پر تخت سلیمان اور حضرت سلیمان کے صبح و شام سفر کےمتعلق جو تفصیلات سیرت کی کتابوں اور تفسیروں میں منقول ہیں وہ سب اسرائیلیات کا ذخیرہ ہیں اور لاطائل تفصیلات ہیں اور تعجب ہے کہ ابن کثیر جیسے محقق سے کہ اس جگہ وہ بھی ان روایات کو اس طرح نقل فرما رہے ہیں گویا ان کے نزدیک وہ مسلمات میں سے ہیں حالانکہ تاریخی اعتبار سے ان پر بہت سے صحیح اشکالات وارد ہوتے ہیں۔ قرآن عزیز نے تو اس کے متعلق صرف اس قدر بیان کیا ہے۔
ترجمہ: اور مسخر کر دیا سلیمان کے لیے تیز وتند ہوا کو کہ اس کے حکم سے اس زمین پر چلتی تھی جس کو ہم نے برکت دی تھی اور ہم ہر شے کے جاننے والے ہیں۔ (انبیاء)

اور سلیمان کے لیے مسخر کر دیا ہوا کہ صبح کو ایک مہینہ کی مسافت (سے کراتی)  اور شام کو ایک مہینہ کی مسافت اور مسخر کر دیا ہم نے اس (سلیمان) کے لیے ہوا کو کہ چلتی ہے وہ اس کے حکم سے نرمی کے ساتھ جہاں وہ پہنچنا چا ہے۔ (صٓ)

تسخیر جن و حیوانات:

حضرت سلیمان علیہ السلام کی حکومت کا ایک بڑا امتیاز جو کائنات میں کسی کو نصیب نہیں ہوا یہ تھا کہ ان کے زیر نگیں صرف انسان ہی نہیں تھے بلکہ جن اور حیوانات بھی تابع فرمان تھے اور یہ سب حضرت سلیمان کے حاکمانہ اقتدار کے تابع اور زیر حکم تھے۔

بعض ملاحدہ نے انہ اور انکار جن کے شوق میں ان جیسے دیگر مقامات کی طرح یہاں بھی عجیب مضحکہ خیز باتیں کہیں ہیں کہتے یں کہ جن سے مراد ایک ایسی قوم ہے جو اس زمانہ میں بہت قوی ہیکل اور دیو پیکر تھی اور سلیمان کے علاوہ کسی کے قابو میں نہ آتی تھی اور تسخیر حیوانات کے متعلق کہتے ہیں کہ قرآن میں اس سلسلہ کا ذکر صرف ہد ہد سے متعلق ہے اور یہاں ہد ہد پرند مراد نہیں بلکہ ایک شخص کا نام ہد ہد تھا جو پانی کی تفتیش پر مقرر تھا اور زمانہ طویل سے لوگوں میں رسم چلی آتی ہے کہ وہ اپنی اولاد کے نام ان حیوانات کے نام پر رکھتے تھے جن کی وہ پرستش کرتے تھے چنانچہ آج اس کو ایک مستقل علم کی حیثیت دے دی گئی ہے جو ٹوٹیزم (Tootism) کے نام سے موسوم ہے۔

اس قسم کی رکیک تاویل کرنے والے یا تو جذبہ الحاد میں قصدا تحریف کے لیے جرأت بیجا کے مرتکب ہوتے ہیں اور یا قرآن عزیز کی تعلیم سے آشنا ہونے کے باوجود دعویٰ بے دلیل پر اصرار کرتے ہیں۔

قرآن عزیز نے جن کے متعلق جگہ جگہ بصراحت یہ اعلان کیا ہے کہ وہ بھی انسانوں سے جدا جدا کی ایک مخلوق ہے ، چنانچہ ہم تفصیل کے ساتھ پہلے اس کا ذکر کر چکے ہیں ۔ اور یہاں صرف ایک آیت پر اکتفا کرتے ہیں جو اس بارہ میں قول فیصل کا حکم رکھتی ہے۔

ترجمہ: اور ہم نے جن اور انسان کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ خدا کے عبادت گزار ثابت ہوں۔

اس آیت میں جن کو انسان سے جدا مخلوق ظاہر کر کے دونوں کی تخلیق کی حکمت بیان کی گئی ہے، لہٰذا اس آیت کو پیش نظر رکھنے کے بعد یہ کہنا کہ جن انسانوں ہی میں سے ایک قوی ہیکل قوم کانام ہے۔ جہالت ہے علم نہیں ہے۔

اسی طرح جبکہ ہد ہد کے واقعہ میں قرآن عزیز نے صاف صاف اس کو پرند کہا ہے تو کسی کو کیا حق ہے کہ اس کے خلاف لچر تاویل کی پناہ لے قرآن میں ہے۔

ترجمہ: اور سلیمان نے پردوں کا جائزہ لیا تو کہا: یہ کیا بات ہے کہ میں ہد ہد کو نہیں دیکھتا کیا وہ غائب ہے۔ (سورۃ النمل)

غرض سلیمان کو اللہ تعالیٰ نے یہ بے مثل شرف عطا فرمایا کہ ان کی حکومت انسانوں کے علاوہ جن حیوانات اور ہوا پر بھی تھی اور یہ سب بحکم خدا ان کے تابع اور مطیع تھے اور یہ سب کچھ اس لیے ہوا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے ایک مرتبہ درگاہ الٰہی میں یہ دعا کی۔

ترجمہ: اے پروردگار مجھ کو بخش دے اور میرے لیے ایسی حکومت عطا کر جو میرے بعد کسی کے لی بھی میسر نہ ہو،بے شک تو بہت دینے والا ہے۔ (سورۃ صٓ)

چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا کو قبول فرمایا اور ایک ایسی عجب و غریب حکومت عطا فرمائی کہ ان سے پہلے کسی کو نصیب ہوئی اور نہ ان کے بعد کسی کو میسر آئے گی۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن ارشاد فرمایا ۔ گزشتہ شب ایک سرکش جن نے اچانک یہ کوشش کی کہ میری نماز میں خلل ڈالے خدائے تعالیٰ نے مجھ کو اس پر قابو دے دیا اور میں نے اس کو پکڑ لیا۔ اس کے بعد میں نے ارادہ کیا کہ اس کو مسجد کے ستون سے باندھ دوں تاکہ تم سب دن میں اس کو دیکھ سکو مگر اس وقت مجھے اپنے بھائی سلیمان علیہ السلام کی یہ دعا یاد آگئی کہ انہوں نے خدائے تعالیٰ کے حضور میں عرض کیا ’’رب ھب لی ملکالا ینبغی لا حد من بعدی‘‘ یہ یاد آتے ہی میں نے اس کو ذلیل کر کے چھوڑ دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد ’’فذکرت دعوۃ اخی سلیمن‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ خدائے تعالیٰ نے مجھ میں کل انبیاء و رسل کے خصائص و امتیازات جمع کر دئیے ہیں اور اس لیے تسخیر قوم جن پر بھی مجھ کو قدرت حاصل ہے لیکن جبکہ حضرت سلیمان نے اس اختصاص کو اپنا طغرائے امتیاز قرار دیا ہے تو میں نے اس سلسلہ کا مظاہرہ مناسب نہیں سمجھا۔

بیت المقدس کی تعمیر:

حق تعالیٰ سے جن کو ایسی مخلوق بنایا ہے۔ جو مشکل سے مشکل اور سخت سے سخت کام انجام دے سکتی ہے اس لیے حضرت سلیمان علیہ السلام نے یہ ارادہ فرمایا کہ مسجد (ہیکل) کے چہار جانب ایک عظیم الشان شہر آباد کیا جائے اور مسجد کی تعمیر بھی از سر نو کی جائے، ا ن کی خواہش یہ تھی کہ مسجد اور شر کو بیش قیمت پتھروں سے بنوائیں اور اس کے لیے بعید سے بعید اطراف سے حسین اور بڑے بڑے پتھر منگوائیں۔ظاہر ہے کہ اس زمانہ کے رسل و رسائل کے محدود اور مختصر وسائل سلیمان علیہ السلام کی خواہش کی تکمیل کیلئے کافی نہیں تھے اور یہ کام صرف جن ہی انجام دے سکتے تھے۔ لہٰذا انہوں نے جن ہی سے یہ خدمت لی، چنانچہ وہ دور دور سے خوبصورت اور بڑے بڑے پتھر جمع کر کے لاتے اور بیت المقدس کی تعمیر کا کام انجام دیتے تھے۔

عام طور سے یہ مشہور ہے کہ مسجد اقصیٰ اوربیت المقدس کی تعمیر حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانہ میں ہوئی ہے لیکن یہ صحیح نہیں ہے۔ اس لیے کہ بخاری اور مسلم کی صحیح مرفوع حدیث میں ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابو ذر غفاری نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: یارسول اللہ دنیا میں سب سے پہلی مسجد کون سی ہے ؟آ پ نے فرمایا مسجد حرام، ابوذرؓ نے پھر دریافت کیا۔ اس کے بعد کون سی مسجد عالم وجود میں آئی آپ نے فرمایا مسجد اقصیٰ۔ ابوذر ؓ نے تیسری مرتبہ سوال کیا کہ ان دونوں کے درمیان مدت کس قدر ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کے درمیان چالیس سال کی مدت ہے حالانکہ حضرت سلیمان ؑ اور ابراہیم ؑ بانی مسجد حرام کے درمیان ایک ہزار سال سے بھی زیادہ مدت کا فاصلہ ہے اس لیے حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح حضرت ابراہیم نے مسجد حرام کی بنیاد رکھی اور وہ مکہ کی آبادی کا باعث بنی اسی طرح حضرت یعقوب اسرائیل علیہ السلام نے مسجد بیت المقدس کی بنیاد ڈالی اور اس کی وجہ سے بیت المقدس کی آبادی وجود میں آئی پھر عرصہ دراز کے بعد حضرت سلیمان علیہ السلام کے حکم سے مسجد اور شہر کی تعمیر کی تجدید کی گئی اور جنوں کی تسخیر کی وجہ سے بے نظیر اور شاندار تعمیر عالم وجود میں آئی جو آج تک لوگوں کے لیے باعث حیرت ہے کہ ایسے دیو پیکر پتھر کہاں سے لائے گئے کس طرح لائے گئے اور جر ثقل کے وہ کون سے آلات تھے جن کے ذریعہ ان کو ایسی بلندیوں پر پہنچاکر باہم اتصاف پیدا کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:  حضرت اسمٰعیل علیہ السلام (حصہ دوئم و آخر)

قوم جن نے حضرت سلیمان کے لیے بیت المقدس کے علاوہ اور بھی تعمیرات کیں اور بعض ایسی چیزیں بنائیں جو اس زمانہ کے لحاظ سے عجیب و غریب سمجھی جاتی تھیں ۔ چنانچہ قرآن عزیز میں ہے۔

ترجمہ: اور شیطانوں (سرکش جنوں) میں سے ہم نے مسخر کر دئیے وہ جو اس (سلیمان) کے لیے سمندروں میں غوطے مارتے (یعنی بیش قیمت بحری اشیاء نکالتے اور اس کے علاوہ بہت سے کام انجام دیتے اور ہم ان کے لیے نگران اور نگہبان تھے اور جنوں میں سے وہ تھے جو اس کے سامنے خدمت انجام دیتے تھے اس کے پروردگار کے حکم سے اور جو کوئی ان میں سے ہمارے حکم کے خلاف کجروی کرے ہم اس کو دوزخ کا عذاب چکھائیں گے وہ اس کے لیے بناتے تھے جو کچھ وہ چاہتاتھا قلعوں کی تعمیر ہتھیار اور تصاویر اور بڑے بڑے لگن جو حوضوں کی مانند تھے اور بڑ ی بڑی دیگیں جو اپنی بڑائی کی وجہ سے ایک جگہ جمی رہیں اے آل دائود ! شکر گزاری کے کام کرو اور میرے بندوں میں سے بہت کم شکر گزار ہیں۔ (سورۃ سبا)

ترجمہ: اور اکٹھے کئے گئے سلیمان کے لیے اس کے لشکر جنوں میں سے انسانوں میں سے، جانوروں میں سے اور وہ درجہ بدرجہ کھڑے کیے جاتے ہیں۔ (سور ۃ النمل)

ترجمہ: اور مسخر کر دئیے سلیمان کے لیے شیطان (سرکش جن) ہرق سم کے کام کرنے والے، عمارت بنانے والے ، دریا میں غوطہ لگانے والے اور وہ (سرکش سے سرکش) جوجکڑے ہوئے ہیں زنجیروں میں ۔ یہ ہماری بخشش و عطا ہے چاہے اس کو بخش دو یا روکے رکھو تم سے اس کا کوئی مواخذہ نہیں۔ (صٓ)

حضرت شاہ عبد القادر (نور اللہ مرقدہ) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان علیہ السلام پر ایسے عظیم الشان احسانات کیے اورپھر یہاں تک فرمایا کہ اس بے انتہا دولت و ثروت کے صرف و خرچ، داد و دہش اور روک کر رکھنے میں تم سے کوئی باز پرس بھی نہیں ہے مگر ان تمام باتوں کے باوجود اس دولت و حکومت کو مخلوق کی خدمت کے لیے امانت الٰہی سمجھ کر ایک حبہ اپنی ذات پر صرف نہیں فرماتے بلکہ اپنی روزی ٹوکریاں بنا کر حاصل کرتے تھے۔

بیضاوی نے اس مقام پر یہ اسرائیلی روایت نقل کی ہے کہ قوم جن نے تخت سلیمان علیہ السلام کو اس کاریگری سے بنایا تھا کہ تخت کے نیچے دو زبر دست اور خونخوار شیر کھڑے تھے اور دو گدھ (نسر) معلق تھے اور حضرت سلیمان تخت حکومت پر جلوہ افروز ہونے کے لیے تخت کے قریب تشریف لے جاتے تو دونوں شیر اپنے بازو پھیلا کر بیٹھ جاتے اور تخت نیچا ہو جاتا اور وہ بیٹھ جاتے تو شیر پھر کھڑے ہو جاتے اور فوراً ہیبتناک گدھ اپنے پروں کو پھیلا کر سر مبارک پر سایہ فگن ہو جاتے تھے۔ اسی طرح انہوں نے پتھر سے بڑی اور بھاری دیگیں بنائی تھیں جو چولہوں پر قائم تھیں اور اپنی ضخامت کی وجہ سے حرکت میں نہیں آتی تھیں۔ اور بڑے بڑے حوض پتھر تراش کر بنائے تھے اور شہر بیت المقد س اور ہیکل (مسجد اقصیٰ) اور ان سب اشیاء کی تعمیر اور کاریگری میں صرف سات سال لگے تھے۔
تورات میں متعددجگہ ان تعمیری خدمات کا تفصیل کے ساتھ ذکر ہے۔

’’اور یہی باعث ہے جس سے سلیمان بادشاہ نے لوگوں کی بیگار لی کہ خداوند کا گھر (مسجد اور شہر یروشلم) اور اپیمان اور شہر ، ملو اور یروشلم کی شہر پناہ اور شہر (حصور اور مجدد اور جاذر بھی بنائے۔ سو سلیمان نے جاذر اور بیت خران اسفل کو پھر تعمیر کیا اور بعلات اور دشت تد مر کو مملکت کے درمیان ۔۔اور خزانے کے سارے شہر جو سلیمان کے تھے اور اس کی گاڑی کے شہر اور اس کے سرداروں کے شہربنائے اور جو کچھ سلیمان کی تمنا تھی سو یروشلم میں اور لبنان میں اور اپنی مملکت کی ساری زمین میں بنائے۔

اسی طرح توراۃ میں پتھر کے عظیم الشان حوض، بڑ ی اور بھاری دیگیں اور تصویروں اور ان کے بنانے کے لیے بیش قیمت پتھرو ں کے متعلق طویل فہرست دی گئی ہے۔