pakistani_marriage

النکاح من السنتی(زندگی تو شروع ہی اس سنت کے بعد ہوتی ہے)

EjazNews

منگنی کی رسم، شادی کا ارادہ، پسند کا اظہار، محبت کا اقرار، جان پہچان، دوستی، سنگت یہ سب نکاح نہیں ہے۔ نامحرم مَرد و زن کے درمیان اگر کوئی مہذب اور پاکیزہ تعلق قائم ہو سکتا ہے، تو وہ صرف اور صرف نکاح کا رشتہ ہے۔ نکاح ہی ہے ،جو شریعت مطہرہ کی برکت سے حرام کو حلال بناتا ہے۔ انسانی خواہشات کی تکمیل اور فطری جذبات کی تسکین کو جائز، مہذب اور باوقار شکل دیتا ہے۔ جو عورت کی قدر و منزلت بڑھاتا ہے، اُسے عزت و شرف بخشتا ہے۔ ’’مجھے تم پسند ہو، ’’مجھے تم سے محبّت ہے‘‘، ’’تمہارے بن میرا جینا مشکل ہے‘‘،’’ہم جلد شادی کرلیں گے۔‘‘ اور اس جیسی کئی باتیں دھوکے اور فریب کے علاوہ کچھ نہیں۔ دودھ کی نہریں نکالنے اور آسمان سے تارے توڑنے کے دعووں کی حقیقت ذلّت اور رسوائی کے سوا کچھ نہیں۔ ان کے نتیجے میں بننے والے تعلقات صرف ندامت اور شرم ساری ہی کو جنم دیتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے نکاح کے ذریعے جو مقام خاوند کو عطا کیا ہے، وہ کسی ایسے مَرد کا ہو ہی نہیں سکتا، جو بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئےکسی لڑکی کوخوش رنگ باتوں کے فریب میں رکھتا ہے۔ اگر واقعی کوئی آپ کے ساتھ مخلص ہے، آپ کے دُکھ سکھ بانٹنا چاہتا ہے، آپ کے ساتھ جیون بتانا چاہتا ہے، تو اس کی سچائی کا واحد ثبوت صرف نکاح ہو سکتا ہے۔ نکاح سے احتراز کرتے ہوئے اگر آپ سے کوئی کسی بھی نوعیت کا تعلق قائم رکھنا چاہتا ہے، تو یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اُسے آپ کے ساتھ کی ضرورت محض وقت گزاری کے لیے ہے۔ یاد رکھیے، زبانی دعوے یا وعدے کسی کو کسی کا محرم نہیں بنا سکتے۔

دین اسلام نے نکاح کا رستہ خود لڑکی کی بہتری کے لیے متعین کیا ہے، تاکہ کوئی لڑکی کا غلط استعمال نہ کر سکے، کسی کے انتظار اور جھوٹی آس میں مبتلا ہو کر لڑکی کی عُمر برباد نہ ہو۔ اسی نقصان سے بچانے کے لیے نبی پاکﷺ نے نکاح کو اپنی سنّت قرار دیا۔اگر کوئی زندگی میں آیا اور آکر چلا گیا، تو یہ اللہ کی مرضی تھی کہ ایسے ہوتا، کیونکہ اُس کی اجازت کے بغیر ایک پتّا بھی نہیں ہل سکتا۔

کیا ہم یہ گمان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کچھ نہیں جانتا؟ نہیں ،وہ سب کچھ جانتا ہے اور اگر آپ اُس سے مدد مانگتے ہیں، تو وہ آپ کے ساتھ کبھی بُرا ہونے نہیں دیتا اور ہر اُس جگہ اور رشتے سے آزاد کردیتا ہے، جو آپ کی طبیعت اور مزاج سے مختلف یا اختلاف رکھتا ہو،تودُنیا کے دھوکے کو جتنی جلدی سمجھ لیں، بہتر ہے۔جو نہیں ملا، وہ نصیب میں لکھا ہی نہیں تھا اور جس سے نوازا گیا ہے، وہی نصیب ہے۔ اور یہ اُس رب کی مرضی ہے، جس نے آپ کو خلق کیا ہے۔اپنی مرضی کے رستے پر چلنے سے کہیں زیادہ بہتر خدائے رحمان کے بتائے رستے پر چلنا ہے، جو70ماؤں سے زیادہ ہم سے پیار کرنے والا ہے۔

دین اسلام نے عورت کو جس اعلیٰ و ارفع مقام پر فائز کیا ہے، تو ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ ہمارا مذہب خصوصاً خواتین کے حق میں انقلابی ثابت ہوا۔ یہ اسلام ہی ہے، جس نے عورت کو بطور ماں، بہن، بیوی اور بیٹی تقدس، تعظیم، عزت، عظمت اور وقار سے سرفراز کیا، لیکن اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ شیطان جب بھی کسی سماج اور معاشرے کو تباہ کرنا چاہتا ہے، تو وہ اس معاشرے کی خواتین کا کردار تباہ کرتا ہے۔ اس وقت دُنیا کی آبادی کا نصف سے زائد حصّہ خواتین پر مشتمل ہے۔ یوں کسی بھی معاشرے کو سنوارنے یا بگاڑنے میں عورت کا کردار بہت اہم ہے اور پھر معاشرے کی سب سے مضبوط اور بنیادی اِکائی خاندان میں بھی بنیادی اور کلیدی کردار عورت ہی کا ہے۔ اکثر خواتین ہی خاندان کے لیے فیصلے؍لائحۂ عمل اور طریقے متعین کررہی ہوتی ہیں۔ خالق کائنات نے اپنی ’’تخلیق کی صفت ‘‘کا کچھ حصّہ عورت کو ودیعت کیا۔ حالانکہ یہ کام وہ مَرد کے سپرد بھی کر سکتا تھا، لیکن اس کا ذمہ دار عورت کو بنانا، یعنی نسل انسانی کو چلانے کے لیے انسان کی پیدائش کا کام اس کو ودیعت کیا اور اللہ تعالیٰ نے اپنی اس صفت میں شامل ہونے پر اس کو اتنے بڑے اعزاز سے نوازا کہ اس کے قدموں تلے جنّت رکھ دی۔ مَرد و عورت کی تخلیق کے بعد اولاد کی کفالت کی ذمہ داری مَرد، جبکہ تعلیم و تربیت کی ذمہ داری عورت کے سپرد کی گئی۔ نسلوں کی صحیح خطوط پرتربیت اور تعمیرکردار کے ذریعے معاشرے کو مفید شہری فراہم کرنا، اپنے گھر، خاندان کی حفاظت اور انہیں منظوم اور مربوط رکھنا ہی دراصل وہ اہم ترین ذِمّے داری ہے، جس پر کسی مُلک و ملت کی ترقّی کا دار و مدار ہوتا ہے، مگر عصرحاضر کے خاندانی نظام کا جائزہ لیا جائے، تو معاشرے میں خاندانوں کی ترجیحات ہی بدل گئی ہیں۔ مادی ترقی نے لوگوں کو آسائشیں تو فراہم کی ہیں، لیکن مفید خاندانی اقدار و روایات بالکل بدل چُکی ہیں۔ خاندانی نظام بکھر رہا ہے، جب کہ بچّوں کی تربیت کا یہ حال ہے کہ ان کا اپنے بیش تر ددھیالی اور ننھیالی رشتے داروں سے وہ تعلق ہی نہیں بن پاتا، جو ایک مضبوط خاندان کے لیے ضروری ہے۔ آج کل کے بچّے اپنے موبائل فون اور ٹیبلیٹ ہی کو اپنا رشتے دار سمجھتے ہیں۔ اُن کے پاس اپنے خاندان کے افراد کے لیے وقت ہی نہیں ہے۔ سوشل میڈیا پر وہ روزانہ نئے نئے دوست اور رشتے بناتے ہیں، مگر اپنے سگے رشتوں سے بالکل کٹے رہتے ہیں۔ آج ایک اہم مسئلہ خاندان کا ختم ہوتا تصور اور ماؤں کا بچّوں کی صحیح خطوط پر تربیت نہ کرنا بھی ہے۔ اور یہ نام نہاد آزادی مارچ یا آزادیٔ نسواں کے نام پر بھی عورتوں کے جن’’مسائل‘‘ کو اُجاگر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، درحقیقت ان کی آڑ میں ہماری دینی و سماجی اقدار و روایات اور تہذیب و ثقافت کا جنازہ نکالا جارہا ہے۔ خواتین کے وقار کو نقصان پہنچانے کی ایک منظّم کوشش کی جارہی ہے۔ نظام میں دراڑیں ڈالی جارہی ہیں۔ مفید مشرقی اقدار و روایات پر مُضر مغربی ثقافت کی یلغار کی جارہی ہے، خواتین سے ہم دردی کی آڑ میں دین اسلام کی مفید تعلیمات، مشرقی خاندانی نظام ان کے نشانے پر ہیں۔ آج مسلم معاشرے میں اصلاحی عملی اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔ محض شاخیں کاٹنے سے کام نہیں چلے گا، مغرب کی اندھی تقلید، گمراہی کی جڑوں پر تیشہ چلانا وقت کا تقاضا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  غیر رسمی شعبہ اورہوم بیسڈ ورکر خواتین کی حالت زار

کیا خواتین اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا کر رہی ہیں؟ کیا بچّوں کی تربیت مفید اسلامی تعلیمات کے مطابق ہورہی ہے؟ ۔ کیا خواتین مغربی تہذیب سے متاثر و مرعوب ہوکر، اس کی اندھی تقلید کرکے گمراہی، تباہی کی سمت تو نہیں جا رہیں؟ وہ مغرب، جو اخلاقی لحاظ سے ابتری کی حالت کو پہنچ چکا، جہاں اپنا خاندانی نظام تو یک سر بکھر چکا، مگر انھیں اُمّتِ مسلّمہ میں پھر بھی سمٹا نظر آرہا ہے،تو وہ اس اُمّت سے بھی یہ نظام ختم کردینا چاہتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ جب تک اُمّتِ مسلمہ میں ’’ماں‘‘ کا کردار موجود ہے، مجاہدین پیدا ہوتے رہیں گے، اسلام سربُلند رہے گا، لہٰذا اس ماں کے کردار ہی کو ختم کردو اور وہ اپنی اس کوشش میں کامیاب بھی ہورہے ہیں، مگر ماؤں کو احساس ہی نہیں۔ فرائض سے چشم پوشی اختیار کرکے محض حصول حقوق ہی پرسارا زور ہے۔ وہ دانستہ یا نادانستہ طور پر بچّوں کو مغربی ثقافت کا عادی بنا رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  تمام راستوں پر بغیر تھکے چلیں (کسی پریشانی کے عمل کی صحیح پلاننگ)

مَردوں کے شانہ بشانہ کام کرنے والی ملازمت پیشہ خواتین کو درپیش مشکلات کا احساس بہت کم لوگ ہی کر پاتے ہیں۔ درحقیقت یہ خواتین دہری پریشانیوں کا شکار ہوتی ہیں۔ ایک طرف انہیں حصولِ رزقِ حلال کے سلسلے میں گھر کی محفوظ چاردیواری سے باہر نکل کر زمانے کے سرد و گرم سے ’’مَردانہ وار‘‘ نبرد آزما ہونا پڑتا ہے، تو دوسری طرف گھریلو ذمہ داریوں کی بجا آوری بھی یقینی بنانا ہوتی ہے۔ اگر ان حالات پر نظر ڈالی جائے، جو ملازمت پیشہ خواتین کو درپیش ہیں، تو لامحالہ ان کے صبر و ضبط اور عزم و ہمت کے لیےدِل میں تحسین و تکریم کے جذبات پیدا ہوجاتے ہیں۔ گھر سے باہر پیش آنے والی مشکلات کا ذکر کیا جائے، تو سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا آمد و رفت کے دوران کرنا پڑتا ہے، کیونکہ ایسے اداروں کی تعداد کم ہی ہے، جو خواتین کو سفری سہولتیںفراہم کرتے ہیں۔ سو، جائے ملازمت تک جانا اور واپس گھر پہنچنا ایک صبر آزما مرحلہ بن جاتا ہے۔ اور ایسے میں اگر ان کے ساتھ کوئی معمولی سا بھی ناخوش گوار واقعہ پیش آجائے، تو وہ شدید ڈر وخوف کا شکار ہوجاتی ہیں۔ پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے ساتھ اضافی امور کا بوجھ، کولیگز کا غیر اخلاقی رویّہ، عوام کا نامناسب برتاؤ، مَردوں کی نسبت کم اجرت اور ان جیسے دیگر مسائل کا سامنا ہر ملازمت پیشہ خاتون کو کبھی نہ کبھی، کسی نہ کسی حد تک بہرحال کرنا ہی پڑتا ہے۔ ایک اور اہم مسئلہ وقت کی تقسیم کا ہے۔ کوئی خاتون چاہے گھر اور خاندان کے اخراجات کا بوجھ بانٹنے کی غرض سے ملازمت اختیار کرے یا اپنے شوق کی تکمیل کی خاطر، بلا تخصیص اس کی گھریلو ذمہ داریاں جوں کی توں رہتی ہیں۔ حضرات دفتر سے گھر لوٹیں، توان کی خواہش ہوتی ہے کہ دروازے پر ان کا استقبال کیا جائے، تبدیل کرنے کے لیے لباس پہلے سے موجود ہو، آتے ہی چائے کی پیالی خدمت میں پیش کردی جائے اور پھر کچھ دیر ’’نو ڈسٹرب‘‘ کا اعلان فرما کر سستا بھی لیا جائے، لیکن خواتین کام سے لوٹنے پر اس قسم کی کسی ’’عیاشی‘‘ کا تصوّر تک نہیں کر سکتیں، کیون کہ بکھرا ہوا گھر سمٹنے اور کچن میں برتنوں کا انبار دھلنے کے لیے جو موجود ہوتا ہے۔ سو، گھر داخل ہوتے ہی روایتی کردار نبھانے کے لیے جُت جانا از بس ضروری ہوجاتا ہے۔ اس کے باوجود کسی بھی ممکنہ تاخیر کی صورت میں بلارعایت ڈانٹ پڑنے کے قوی امکانات بہرکیف موجود ہوتے ہیں۔اِسی طرح کا معاملہ چھٹی والے دِن کا بھی ہے۔ عموماً مَرد دیر تک سو کر، دوستوں کے ساتھ میل ملاپ، گپ شپ، تفریح اور دیگر مشاغل میں وقت گزار کر چھٹی منانا اپنا حق سمجھتے ہیں، جب کہ زیادہ تر خواتین کو چھٹی والے دِن معمول سے بھی جلد اُٹھنا پڑتا ہے۔ ہفتے بھر کے کپڑے دھونے، گھر کی تفصیلی صفائی ستھرائی، بچّوں اور شوہر کی فرمایشی پکوان تیار کرنے جیسے کئی امور انجام دینے ہوتے ہیں۔ یوں چھٹی کا دِن آرام وسُکون کی بجائے معمول کے مقابلے میں کہیں زیادہ تھکا دینے والا ہوتا ہے۔ اس ’’مشینی کارکردگی‘‘ کے باوجود ملازمت پیشہ خواتین سے اہلِ خانہ نالاں ہی رہتے ہیں کہ اُنہیں وقت ہی نہیں ملتا۔ شوہر کو شکایت رہتی ہے کہ گھر کی صفائی ستھرائی پر توجّہ نہیں دی جارہی، آنے جانے والوں کا گلہ ہوتا ہے کہ ہم آتے ہیں، تو تم اپنے کاموں میں لگی رہتی ہو، بالکل لفٹ نہیں کرواتی۔ عریز، رشتے دار اس بات پر شاکی رہتے ہیں کہ فون پر بات نہیں کرتی۔ یہ اُن حالات کا ایک دھندلا سا خاکہ ہے، جن کا سامنا ملازمت کرنے والی بیش تر خواتین کو کرنا پڑتا ہے۔ ان حالات سے اگر مَردوں کو دوچار ہونا پڑجائے، تو ان کی پیشہ ورانہ کارکرگی صفر ہو کر رہ جائے۔ جبکہ خواتین ان حالات میں بھی اپنی دفتری ذمہ داریوں کو بطریقِ احسن پورا کرتی ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں:  شوہر کو بہترین دوست کس طرح بنایا جاسکتا ہے؟چند مشورے

خواتین کارکنان ذہنی اور جذباتی طور پر بھی الگ الگ قسم کی صورتِ حال کا مقابلہ کرتی ہیں۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ بیوی کا عہدہ یا تنخواہ زیادہ ہونے پر شوہر کی مردانہ انا کو ٹھیس پہنچ جاتی ہے، جس کی تسکین کے لیے وہ بیوی کو دیگر معاملات میں نیچا دکھانے کی کوشش کرتا ہے۔ میاں اگر شکی مزاج ہو، تو بیوی کو ہر روز کٹہرے میں کھڑے ہو کر طرح طرح کے معاملات میں صفائیاں پیش کرنی پڑتی ہیں۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ زیادہ تر شوہر ملازمت پیشہ بیوی کی ذاتی ضروریات و اخراجات سے بری الذمّہ ہوجاتے ہیں۔ اُلٹا اخراجات کی اضافی ذمہ داریاں انہیں سونپ دی جاتی ہیں۔ ایک عجیب صورتِ حال تب سامنے آتی ہے، جب گھر یا دفتر میں سے کسی ایک جگہ پر کسی خاتون کو کارکردگی پر پذیرائی ملتی ہے، تو دوسری جانب سے حوصلہ شکنی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دفتر سے سند ملتی ہے کہ ’’اعلیٰ کارکردگی کی بنیاد پر آپ کو قبل از وقت ترقّی دی جارہی ہے۔ آپ جیسی محنتی، مخلص اور قابل کارکن کسی بھی ادارے کے لیےسرمایۂ افتخار ہیں‘‘ تو گھروالوں سے سننے کو ملتا ہے،’’تم بہت زیادہ لاپروا اور غیر ذمہ دار ہو، کوئی کام ڈھنگ سے نہیں کرتی، کچھ سلیقہ سیکھ لو۔‘‘اس دہری صورتحال میں کس طرح کا ذہنی دباؤ پیدا ہوسکتا ہے، بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اپنا آرام و سُکون، خواہشات، مشاغل اور تفریح کا ہر سامان قربان کرکے اپنے گھر اور گھروالوں کے حالات کی بہتری کے لیے دِن رات محنت و مشقّت کی چکّی میں خود کو پیسنے والی خواتین بجا طور پر عزّت و تکریم کی حق دار ہیں، لیکن افسوس کہ زیادہ ترافرادان کے ایثار کی قدر و قیمت سے آگاہ نہیں ہوتے۔