scolar ship prog

ہمارے نبیﷺ جیسا انسان دنیا میں نہ کبھی پیدا ہوا نہ ہوگا :وزیراعظم

EjazNews

اسلام آباد میں رحمۃ اللعالمین سکالر شپس پروگرام کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ سکالر شپس پروگرام کا رحمۃ اللعالمین اس لیے ہے کیوں کہ نبیﷺ صرف مسلمانوں نہیں بلکہ تمام انسانوں کے لیے رحمت بن کر آئے تھے اور یہ پروگرام بھی تمام پاکستانیوں کے لیے ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے نبیﷺ جیسا انسان دنیا میں نہ کبھی پیدا ہوا نہ ہوگا کیوں کہ کسی بھی انسان کی وہ کامیابیاں نہیں ہیں جو ان کی ہیں اور دنیا کی عظیم ترین ہستیوں میں انہیں سب سے عظیم انسان کہا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میں نے اپنے ملک میں یہ کوشش ہوتے کبھی نہیں دیکھی کہ دنیا کی تاریخ کے عظیم انسان کو مسجد سے نکال کر اپنی روزمرہ کی زندگی میں شامل کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ قرآن پاک میں اللہ حکم دیتا ہے کہ ان کی زندگی سے سیکھو، ان کے سنت پر چلو کیوں کہ قرآن ہمارے لیے ہدایت کی کتاب ہے اس سے ہماری زندگی بہتر ہوگی اس سے ہمیں فائدہ ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:  سانحہ بلدیہ ٹاﺅن 8سال تک کیا ہوا؟

وزیراعظم نے کہا کہ ہم پانچوں وقت نماز پڑھتے ہیں اور اللہ سے وہ راستہ مانگتے ہیں جو ہمیں نعمتیں بخشے گا خوشیاں دے گا سکون دے گا لیکن جو سب سے عظیم انسان اس راستے پر تھے، میں نے دیکھا کہ ان کی زندگی کا ہماری زندگی سے تعلق ہی نہیں ہے۔ مسجد سے باہر اپنی زندگیاں ری ماڈل کرنا ہماری سب سے بڑی کامیابی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ علامہ اقبال نے کہا کہ جب بھی اسلامی معاشرہ اسلام کے ان اصولوں پر واپس گیا ہے جو ریاست مدینہ میں بنائے گئے تھے تو وہ معاشرہ اوپر آیا ہے یعنی وہ نبی ﷺ کی سنت پر چل کر اوپر گئے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت کا مقصد ہے کہ نبی ﷺ کی زندگی کو عام لوگوں کی زندگیوں میں لے کر آئیں اور ان کی سنت پر چلنے کی کوشش کریں جو انہوں نے مدینہ کی ریاست میں قانون کی حکمرانی اور فلاحی ریاست قائم کی لیکن اس کے ساتھ تعلیمی ایمرجنسی نافذ کی۔

یہ بھی پڑھیں:  الیکشن کمیشن نے بلوچستان اور خیبر پختونخوا کو بلدیاتی انتخابات کروانے کیلئے الٹی میٹم دے دیا

ان کا کہنا تھا کہ غریب لوگ تھے اور جنگ بدر کے دوران سب کے پاس ہتھیار بھی نہیں تھے لیکن جب کفار کے قیدی پکڑے گئے تو ان سے رہائی کے بدلے پیسے لینے کے بجائے تعلیم کو ترجیح دی اور کہا کہ جو شخص 10 مسلمانوں کو پڑھا لکھا دے گا وہ آزاد ہوگا۔ تعلیم کے حصول کو عبادت کا حصہ بنادیا گیا تو کئی صدیوں تک مسلمان سائنسدان ایسے ہی نہیں تھے اور خلیفہ مامون رشید نے دارالحکمت قائم کیا جہاں دنیا کی کتابیں ترجمہ کی گئیں، مسلمان رہنما تھے جس کی بنیاد مدینہ میں رکھی گئی۔ اس کے بعد پھر یہ بھی دیکھا کہ ہم نیچے کیسے گئے اور یورپ آگے کیسے گیا، انہوں نے تعلیم اور تحقیق پر زور دیا۔جس معاشرے میں قانون کی حکمرانی نہیں ہوتی وہ تباہ ہوجاتے ہیں، کوئی قوم اس وقت تک عظیم نہیں بن سکتی جو طاقتور کو قانون کے نیچے نہ لے کر آئے۔ غریب آدمی جتنی بھی چوری کرلے وہ لندن میں فلیٹ نہیں خرید سکتا ہے، یو این کی ایک رپورٹ ہے کہ ہر سال غریب ممالک سے ایک ہزار ارب روپے باہر جاتے ہیں اور یہ وہ لوگ نہیں لے کر جاتے جو جیلوں میں ہیں یہ طاقتور لوگ ہوتے ہیں۔ دوسری چیز فلاحی ریاست ہے جب ملک عام آدمی کی بنیادی ضرورت پوری کرے گا اور اسے فائدہ پہنچائے گا تو وہ کہے گا کہ یہ میرا بھی ملک ہے۔تیسری چیز تعلیم ہے کیوں کہ علم کے بغیر کبھی بھی کوئی قوم اوپر نہیں جاسکتی، آج ہم دیکھتے ہیں دنیا میں تھوڑے سے یہودی ہیں لیکن تعلیم، فنانس، میڈیا پر ان کا غلبہ ہے کیوں کہ انہوں نے شروع سے اس بات کا احساس کیا کہ ہم تعداد میں کم ہیں اس لیے علم سیکھنا چاہیے اور وہ اپنی صلاحیت سے پڑھ لکھ کر ہر جگہ موجود ہیں۔ان کی تعداد کم ہونے کے بجائے انہیں دیکھیں کہ کہاں ہیں اور ہم مسلمانوں کی تعداد دیکھیں اور ہمارا اثر رسوخ دیکھیں اس لیے پاکستان کی بنیاد ہمیں ان اصولوں پر رکھنی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  جیت گئے دل کی دھڑکنیں تیز کروا کر

وزیراعظم کا کہناتھا 5 سال کے عرصے میں حکومت اس پروگرام پر 28 ارب روپے خرچ کرے گی اور ساڑھے 3 لاکھ سکالر شپس دے گی جبکہ پنجاب اور خیبرپختونخوا سالانہ تقریباً 15 ہزار سکالر شپس دینے کے لیے ایک ارب روپے کی رقم خرچ کرے گی جسے 75 اور 72 ہزار تک بڑھایا جائے گا۔