joebiden

20برس بعد امریکی فوج کا انخلا ہو رہا ہے

EjazNews

امریکی صدر جوبائیڈن نے افغانستان سے فوج کے انخلا کا اعلان کردیا ،اسی کے ساتھ بائیڈن نےبھی افغانستان پر پاکستان سے مطالبہ کیا ہے، ان کاکہنا تھا کہ اسامہ بن لادن مر چکا ہے،

بائیڈن نے کہا کہ وہ افغان امن مذاکرا ت کی حمایت کرتے ہیں،افغان امن عمل میں پاکستان ،چین اور روس کا کردار اہم ہے،پاکستان افغانستان کی مدد کیلئے مزید اقدامات بھی کرے۔11 ستمبر سے افغانستان سے امریکی فوجیوں کا انخلا ہوگا، ادھر افغان صدر اشرف غنی نے افغانستان سے امریکی فوجی انخلا کیلئے گرین سگنل دیدیا۔

بائیڈن نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکا نے افغانستان میں اہداف مکمل کرلیے ہیں،اب وقت آگیا ہے کہ امریکا کی سب سے طویل جنگ کا خاتمہ کیا جائے ،افغان جنگ کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئےانہوں نے کہا کہ اگر طالبان نے انخلا کے دوران ہم پر حملہ کیا تو پوری قوت کے ساتھ جواب دینگے، طالبان سے معاہدہ کیا ہے اس کی پاسداری کرتے ہوئے بقیہ 2500 امریکی فوجیوں کا انخلا شروع کردیا جائے گا، ’’اب وقت آ گیا ہے کہ امریکی افواج کو ملک کی سب سے طویل لڑی جانے والی جنگ سے واپس بلایا جائے‘‘ اور یہ کہ امریکہ مسلسل غیر نتیجہ خیز جنگ میں اپنے وسائل نہیں جھونک سکتا، کجا یہ کہ اس کے مختلف نتائج کی توقع بھی کی جائے۔

یہ بھی پڑھیں:  برطانوی وزیراعظم نے انڈیا کا تین روزہ دورہ منسوخ کر دیا

امریکہ افغانستان سے انخلا کے لیے مثالی حالات پیدا کرنے کی امید میں اپنی فوجی موجودگی کو مزید بڑھا نہیں سکتا۔ میں افغانستان میں امریکی افواج کی موجودگی کی نگرانی کرنے والا چوتھا امریکی صدر ہوں، اس سے پہلے دو ری پبلکن اور دو ڈیموکریٹک صدر افغانستان کی جنگ کے خاتمے کی کوششیں کر چکے ہیں۔

اشرف غنی نے بدھ کو امریکی ہم منصب سے فون پر گفتگو میں کہا کہ افغانستان کے حالات سے نمنٹنے کیلئے پوری صلاحیت رکھتے ہیں،اشرف غنی نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ رات گئے ان کی امریکی صدر سے گفتگو ہوئی جس میں انہوں نے امریکی فوجی انخلا کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔علاوہ ازیں امریکی سینیٹر اور بائیڈن کے قریبی سینیٹر کرس کون(ڈی)نے امریکی انخلا سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم افغانستان میں القاعدہ کی کارروائیوں کو روکنے کیلئے گئے تھے اور ایک دہائی سے زائد رہنے والی لڑائی سے کامیابی، آزادی اور سلامتی یقینی بنی ہے۔کونز نے مزید کہا کہ اس تمام صورتحال کو دیکھتے ہوئے میرے خیال میں ہمیں افغانستان میں مزید ایک یا دو سال رکنا چاہیے۔ پاکستان ،روس ،چین ،ترکی اور بھارت کو کہے گاکہ افغانستان کی معاونت کریں ، کسی بھی گڑ بڑ کا ذمہ دار طالبان ہونگے ۔

یہ بھی پڑھیں:  سمندر میں تنکوں کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی

اس نئے منصوبے کے تحت 2 ہزار 500 امریکی اور 7 ہزار نیٹو اتحاد کے فوجی بتدریج افغانستان سے نکلیں گے۔

یہ منصوبہ یکم مئی سے شروع ہوگا اور 11 ستمبر کو اختتام پذیر ہوگا جو اکتوبر 2001 میں امریکی حملے کی 20ویں برسی کا روز ہوگا جس کی وجہ سے افغانستان میں امریکا نے جنگ کا آغاز کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ہم خطے کے دیگر ممالک بالخصوص پاکستان، روس، چین، بھارت اور ترکی سے افغانستان کی زیادہ سے زیادہ مدد کرنے کو کہیں گے کیونکہ افغانستان کے مستحکم مستقبل میں ان سب کا مفاد ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم 20 سال قبل ہونے والے ایک خوفناک حملے کی وجہ سے افغانستان گئے تھے تاہم یہ اس بات کی وضاحت نہیں کہ 2021 میں بھی وہاں کیوں رہنا چاہیے، ہم افغانستان میں اپنے افواج کی موجودگی میں توسیع کو جاری نہیں رکھ سکتے ہیں، انخلا کے لئے مثالی حالات پیدا ہونے کی امید ہے اور مختلف نتیجے کی توقع ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  آپ سب کو ہماری جانب سے جشن آزادی مبارک

ان کا کہنا تھا کہ اب میں چوتھا امریکی صدر ہوں جو افغانستان میں امریکی فوجیوں کی موجودگی کی صدارت کروں گا، دو ریپنلکنز، دو ڈیموکریٹس، اب میں اس ذمہ داری کو پانچویں صدر کی جانب نہیں بھیجوں گا۔

جو بائیڈن نے یاد دلایا کہ جب صدر براک اوباما اور وہ 2009 میں حلف اٹھانے والے تھے تو صدر کی ہدایت پر وہ افغانستان گئے تھے۔ میں افغانستان کی وادی کنڑ گیا، جو پاکستان کی سرحد پر ایک ناہموار، پہاڑی علاقہ ہے، اس سفر میں جو کچھ دیکھا اس سے میرے اس عزم کو تقویت ملی کہ صرف افغانوں کا ہی حق ہے کہ وہ اپنے ملک کی رہنمائی کریں اور زیادہ سے زیادہ اور نہ ختم ہونے والی امریکی فوجی قوت پائیدار افغان حکومت کو تشکیل یا اسے برقرار نہیں رکھ سکتی ہے۔جو بائیڈن نے کہا کہ وہ اس یقین کے ساتھ واپس آئے تھے کہ افغانستان میں امریکی موجودگی کو یہ یقینی بنانے پر توجہ دی جانی چاہیے کہ نائن الیون کے حملے کی طرح کے واقعہ کے لیے افغانستان سرزمین کا استعمال نہیں کیا جاسکے۔