imran_khan_kartel

ان سب نے مل کر کارٹیل بنایا ہوا ہے، یہ قیمتیں اوپر بڑھا دیتے ہیں اور لوگوں کا خون چوستے ہیں:وزیراعظم

EjazNews

وزیراعظم سے جب جہانگیر ترین اور ان کے ہم خیال گروپ سے بات کرنے کے حوالے سے سوال کیا گیا تو اس پر انہوں نے کہا کہ میں سب کی بات سننے کے لیے تیار ہوں لیکن یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ سب اس لیے ہوا کیونکہ چینی کی قیمت ایک سال میں 26 روپے بڑھ گئی۔ 26 روپے چینی کی قیمت بڑھنے کا مطلب یہ ہے کہ کم ازکم 120 سے 130 ارب روپے مہنگی چینی کی شکل میں ہمارے عوام سے نکل کر شوگر ملز کے پاس چلے گئے۔ حکومت کا کام عوام کی حفاظت کرنا ہے اور جب عوام کو مہنگائی کا سامنا کرنا پڑا تو حکومت نے ایف آئی سے انکوائری کرائی جس میں بہت خوفناک چیزیں سامنے آئیں کہ ان سب نے مل کر کارٹیل بنایا ہوا ہے جس سے یہ قیمتیں اوپر بڑھا دیتے ہیں اور لوگوں کا خون چوستے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ یہ پیسے یہ بناتے ہیں اور ٹیکس بھی نہیں دیتے جبکہ چینی کم دکھاتے ہیں تو اس حوالے سے ایف آئی اے کی پوری رپورٹ آ گئی۔

Imran_khan_new_pakistan
وزیراعظم گھروں کی تعمیر کی تختی آویزاں کر رہے ہیں

انہوں نے کہا کہ اگر کسی کو تحفظات ہیں تو ہم دیکھ سکتے ہیں لیکن یہ یاد رکھیں کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ اس ملک میں قانون کی بالادستی قائم نہ ہو اور قانون کی بالادستی کا مطلب ہے کہ طاقتور اور کمزور کے لیے ایک قانون ہو۔

یہ بھی پڑھیں:  مشینوں سے انتخابات :کن ممالک کو اعتبار نہیں ہے مشینوں پر؟

ان کا کہنا تھا کہ اس ملک کی تباہی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ طاقتور کے لیے ایک قانون ہے اور کمزور کے لیے دوسرا، غریب آدمی جیلوں میں بھرے ہوئے ہیں اور طاقتور خصوصی رعایت کی بدولت قانون کی پکڑ میں نہیں آتا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ اصل ملک میں نقصان طاقتور اور کرپٹ لوگوں سے ہوتا ہے، تمام جیلوں میں موجود لوگوں کی چوریوں کو اکٹھا کر لیں تو وہ دو تین ارب ہو گی اور یہ 26 روپے چینی بڑھنے سے 60-70 شوگر ملز کے پاس 120 سے 130 ارب روپے چلے گئے۔

شہباز شریف سمیت اپوزیشن رہنماؤں کے کیسز ختم ہونے کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے اربوں روپے کی کرپشن کی، سارے ثبوت موجود ہیں لیکن ہمارا معاشرہ ان پر فرد جرم عائد نہیں کر سکتا تو ہمارا کوئی مستقبل نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی محض ایک علامت ہے کہ یہاں قانون کی بالادستی نہیں ہے اور جس معاشرے میں انصاف نہیں ہوتا وہاں غربت ہوتی ہے۔

اس سے قبل سرگودھا میں کم قیمت ہاؤسنگ منصوبے کا سنگ بنیاد رکھنے کے بعد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ 10 برس کے دوران 10 ہزار روپے ماہانہ کی قسط پر نیم متوسط طبقہ اپنا گھر حاصل کرسکے گا اور اس منصوبے کے آغاز پر ہر اس شخص کو خراج تحسین پیش کرنا چاہتا ہوں جس نے منصوبے کے لیے کوششیں کیں۔

یہ بھی پڑھیں:  سندھ میں کورونا دباﺅ کم، 50فیصد حاضری کے ساتھ چھٹی سے آٹھویں تک سکول کھولنے کی اجازت

انہوں نے بتایا کہ ہاؤسنگ اسکیم کے لیے 31 سائٹس کا انتخاب کیا گیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ملک میں ہاؤسنگ اسکیم کے منصوبے نہ ہونے سے کچی آبادیوں نے جنم لیا۔

اس موقع پر عمران خان نے کراچی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ مجھے بریفنگ دی گئی کہ پاکستان کے سب سے بڑے صنعتی شہر میں 40 فیصد لوگ کچی آبادی میں رہنے پر مجبور ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ لوگ اس لیے کچی آبادی میں رہنے پر مجبور ہیں کہ کبھی ان کے لیے کوئی ہاؤسنگ اسکیم بنی ہی نہیں تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ کچی آبادی میں نظام زندگی تباہ حال ہے کیونکہ ایسے طبقے کی کبھی کسی نے پرواہ نہیں کی۔

عمران خان نے کہا کہ کچی آبادی میں مالکانہ حقوق اور نہ ہی سہولتیں میسر ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ پنجاب کے چھوٹے شہروں اور تمام تحصیلوں میں رواں سال کے آخر تک ہاؤسنگ اسکیم کے منصوبے شروع ہوجائیں گے۔

علاوہ ازیں انہوں نے واضح کیا کہ لوگوں کی طلب زیادہ ہے اور ہمارے پاس اتنے گھر نہیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بینکوں میں نیم متوسط طبقے کو ہاؤسنگ اسکیم سے متعلق معلومات کے حصول یا دیگر امور کی انجام دہی کے لیے کئی مشکلات کا سامنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  سرکاری محکموں میں اصلاحات، کتنی آسامیاں ختم کرنے کی تجویز ہے

انہوں نے کہا کہ مجھے متعدد شکایات موصول ہورہی ہیں۔

تقریب سے خطاب کے دوران وزیر اعظم عمران خان نے بینک آف پنجاب کے صدر کو مخاطب کرکے کہا کہ وہ اپنے عملے کی اضافی ٹریننگ کرائیں تاکہ اس صورتحال سے نمٹا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ اگر بینکوں نے کم آمدن سے وابستہ ہاؤسنگ اسکیم کی کامیابی کے لیے اپنا کردار ادا کردیا تو پاکستان میں معاشی انقلاب آجائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ شعبہ تعمیرات کے ساتھ 30 دیگر صنعتیں منسلک ہیں اور جیسے ہی تعمیرات کا عمل شروع ہوتا ہے بڑے پیمانے پر روزگار ملنا شروع ہوجاتا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے ہاؤسنگ اسکیم کے لیے این ایل سی اور ایف ڈبلیو او کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ بہت وقت بچ گیا کیونکہ اشتہارات کے بعد ٹینڈر ہوتے ہیں، اس میں انتخاب کرنا اور پھر لوگوں کو قومی احتساب بیورو (نیب) سے ڈر ہوتا ہے اس لیے سیدھا سیدھا دونوں اداروں کو کہا کہ وہ اس منصوبے میں شرکت کریں۔

انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کی جانب سے ادائیگیوں میں تاخیر ہو تو دونوں ادارے اپنا کام نہیں روکتے کیونکہ ان کے پاس اپنے بہت وسائل ہیں۔

قبل ازیں وزیر اعظم عمران خان کو سرگودھا میں 64 کنال اراضی پر 320 گھر بنانے کے منصوبہ سے متعلق بریفنگ دی گئی۔