first war

رومیوں سے مسلمانوں کی پہلی جنگ

EjazNews

رومیوں کا آٹھ ہزار کا لشکر

واقدی کہتے ہیں کہ ہرقل نے جب ان کے چہروں کو بشاش اور ان کی تدابیر کو احتیاط و حزم کے ساتھ ملاحظہ کیا اور مستعد پایا تو آٹھ ہزار سوار جو نہات جانباز اور بہادر تھے منتخ بکر کے ان پر چار سردار بہت بڑے ماہرین فن میں سے سمجھے ج اتے تھے مقر کئے۔ (۱)باطلیق۔(۲) اس کا بھائی جرجیس۔(۳) والی شرطہ لوقا بن شمعان۔ (۴) حاکم عزہ و عسقلان ملیا۔

رومی لشکر کی روانگی

یہ چاروں بہادر شجاعت و درایت میں ضرب المثل تھے، انہوں نے زرہیں پہنیں سامان درست کیا زینت دکھلائی۔ لاٹ پادری نے ان کے حق میں فتح و نصرت کی دعائیں مانگیں کہ اے اللہ ! جو ہم میں سے حق پر ہو اس کی مدد کرنا۔ گر جاوں میں جو خوش بودار چیزیں جلائی جاتی ہیں اس کی انہیں دہونی دی گئی۔ معمودیہ کاپانی تبرکا ان پر چھڑکا گیا۔ اس کے بعد بادشاہ نے خود انہیں رخصت کیا۔ راستہ بتلانے کی غرض سے نصرانی عرب آگے آ گے ہوئے۔

سردار لشکر اسلام کی جنگی تدابیر

واقدی فرماتے ہیں کہ یاسر بن حصین کا بیان ہے کہ حضرت یزید بن ابی سفیان رومی لشکر سے تین روز قبل مع اپنی فوج کے مقام تک پہنچ چکے تھے۔ چوتھے روز اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ تھا کہ آگے بڑھیں کہ دور سے انہیں گرد اڑتی دکھائی دی۔ یہ دیکھ کر مسلمان ہوشیار ہو گئے۔ حضرت زید بن ابی سفیان نے ایک ہزار لشکر ربیعہ بن عامر کی سرکردگی میں دے کر ایک کمین گاہ میں چھپا دیا اور ایک ہزار کو لے کر سامنے ہو گئے۔ لڑائی کے لئے صفیں مرتب کیں ،چند نصائح بیان کیے۔ خداوند تعالیٰ کی نعمتوں کا ذکر کیا اور فرمایا یاد رکھو خداوند تعالیٰ جل جلالہ نے تم سے مدد کا وعدہ کیا ہے اکثر جگہ فرشتوں کی فوج بھیج کر تمہاری مدد کی۔ قرآن شریف میں فرمایا- کم من فئة قلیلة غلبت فئة کثیرة باذن اللہ واللہ مع الصابرین (اکثر مرتبہ بہت چھوٹی جماعت بہت بڑی جماعت پر خدا کے حکم سے غالب آجاتی ہے اور اللہ تعالیٰ صابروں کے ساتھ ہے)۔
ہمارے آقا و مولا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرما گئے ہیں الجنتہ تحت ظلال السیوف کہ جنت تلواروں کے سایہ تلے ہے۔ بہادر ان اسلام میں سب سے پہلا لشکر جو شام میں جہاد کے لئے بنی اصفر کے مقابلہ پر آیا ہے وہ تمہارا ہی ہے۔ اب جو مسلمانوں کے لشکر تم سے آکر ملیں گے اس کے اصل تم ہی شمار ہوگے۔ دوسرے لشکر محض ملنے والے یا مدو معاون ہوں گے۔ تمہیں بھی چاہیے کہ تم وہی کر کے دکھلاو جو تمہاری طرف سے مسلمانوں کا گمان ہے۔ دشمن تمہارے مقابلہ پر ہے اس لئے احتیاط رکھو کہ وہ تمہارے قتل کی امید کریں۔ تم خداوند تعالیٰ کی مدد کرو۔ باری تعالیٰ تمہاری مدد فرمائیں گے۔

دونوں لشکروں کا آمنا سامنا

حضرت زید بن ابی سفیان ابھی یہ نصا ئح کر ہی رہے تھے کہ سامنے سے رومیوں کی فوج کے پیش رو اور اس کے پیچھے خود فوج پہنچ گئی۔ عربوں کو کم دیکھ کر سمجھے کہ بس اتنی ہی فوج ہے۔ اپنی زبان میں نہایت کرخت آواز کے ساتھ آپس میں کہنے لگے جو تمہارے ملک پر قبضہ کرے، حمت کی پردہ دری اور تمہارے بادشاہوں کے قتل کا ارادہ سے آئے ہیں گھیر لو، صلیب سے مدد چاہو تاکہ وہ تمہیں مدد دے اور ایک دم حملہ کر دیا۔
اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بڑی ہمت و جرات کے ساتھ حملے کا جواب دیا، لڑائی شروع ہو گئی دیر تک لڑائی رہی،رومی اپنی کثرت کی وجہ سے غالب آگئے اور انہوں نے سمجھ لیا کہ ہم نے مسلمانوں پر قبضہ کر لیا، اچانک ربیہ بن عامرؒ مع اپنی فوج کے تکبیر کے نعرے لگاتے اور اپنے آقا و مولا سیدالبشر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم پر زور زور سے درود پڑھتے عربی گھوڑوں پر سوار بادل کی طرح گرجتے ہوئے نمودار ہوئے۔ آپ نے اس زور سے حملہ کیا کہ توحید کا علم لہرانے لگا۔

رومی کافر بھاگ گئے

رومیوں نے جس وقت اس کمین گاہ سے آنے والے لشکر کو دیکھا تو ان کی ہمتیں ٹوٹ گئیں اور ان کے دلوں میں خداوند تعالیٰ نے ایسا رعب ڈال دیا کہ ان کے پر اکھڑ گئے اور بھاگ پڑے۔

رومیوں کا سالار لشکر مارا گیا

ربیعہ بن عامر ؒکی نظر با طلیق پر پڑی جو اپنے لشکر کو لڑائی کی ترغیب و تحریص دلا کر انہیں جنگ پر آمادہ کر رہا تھا۔ آپ نے قیافہ سے معلوم کیا کہ سالار لشکر معلوم ہوتا ہے یہ سوچ کر آپ نے نہایت بہادری اور دلیری کے ساتھ ایک ایسا نیزہ مارا کہ اس کے تمام پہلو کو چیرتا ہوا دوسری طرف نکل گیا۔ باطلیق بے ہوش ہو کر گرا۔ رومیوں نے جب اس کی یہ حالت دیکھی بے تحاشا بھاگے اور میدان غلامان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ رہا۔

یہ بھی پڑھیں:  لاہورآخری مغل تاجداروں اور سکھوں کے دور میں

اس جنگ میں دو ہزار دو سودشمن قتل ہوئے

اس رات میں مسلمانوں کے ہاتھ سے خداوند تعالیٰ نے دو ہزار دو سو رومیوں کو تہ تیغ کرایا اور ایک سو بیس مسلمان جو اکثریت قبیلہ سکا سک کے تھے شہید ہوئے۔

رومی سردار کا واویلا اورلشکر کفار کی واپسی

شکست خوردہ رومیوں سے مخاطب ہو کر جرجیس بولا کہ میں کس منہ سے بادشاہ ہرقل کے پاس حاضر ہوں گا؟ سخت افسوس کی بات ہے کہ مسلمانوں کی تھوڑی سی فوج نے کس دلیری اور بہادری کے ساتھ ہمارے بڑے بڑے سورماوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ ہمارے خون سے زمین رنگ دی۔ لاشوں کے تودے لگا دئیے، میں اس وقت تک نہیں لوٹ سکتا جب تک کہ بھائی کا بدلہ نہ لے لوں یا میں بھی اسی سے جاملوں۔ رومی یہ سن کر ایک دوسرے کو سرزنش اور ملامت کرنے لگے۔ شرمندگی کو دور کرنے کے لئے پھر لوٹے۔ ایک جگہ خیمے نصب کر کے سامان درست کیا۔ لڑائی کا نہایت زور کے ساتھ اہتمام کیا۔

رومی عیسائیوں کا قاصد

جب رومیوں کا سب سامان درست ہو گیا اور پڑاو کو نہایت محکم و مضبوط کر چکے تو ایک نصرانی عرب کو جس کا نام قدح بن واثلہ تھا بلا کر کہا کہ تو مسلمانوں کے لشکر میں ان سے جا کر کہہ کہ وہ اپنے لشکر میں سے ایک نیک عقلمند اور تجربہ کار کو ہمارے پاس بھیج دیں تاکہ ہم اس سے دریافت کریں کہ وہ یہاں آنے سے کیا مقصد رکھتے ہیں۔

قدح بن واثلہ ایک تیز سبک رو گھوڑے پر سوار ہو کر مسلمانوں کے لشکر میں آیا۔ قبیلہ اوس کے چند شخصوں نے اپنے لشکر کی طرف ایک اجنبی کو آتے دیکھ کر دریافت کیا کہ یہاں آنے سے کیا غرض ہے۔ قدح نے جواب دیا کہ ملکی معاملات اور آپ کے یہاں آنے کا مقصد دریافت کرنے سے غرض ہمارے سردار کر آپ کے ایک عقلمند اور تجربہ کار شخص کو بلا تا ہے۔

حضرت ربیعہ کی روانگی

حضرت ربیہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ میں جاوں گا۔ حضرت زید بن ابی سفیان نے فرمایا کہ یہ تمہارا جانا مناسب نہیں ہے۔ کیونکہ تم نے کل کی لڑائی میں ان کے ایک بڑے عہدیدار کو قتل کیا تھا۔ آپ نے کیا باری تعالی قرآن شریف میں فرماتے ہیں- قل لن یصیبنا الا ماکتب اللہ لناھو مولانا یعنی اے رسول! آپ کہہ دیجئے کہ ہمیں کوئی مصیبت نہیں پہنچتی مگروہی جو خداوند تعالیٰ نے ہمارے لئے لکھ دی ہے اور وہ خداوند تعالیٰ ہمارے ساتھ ہیں۔ نیز میں آپ اور تمام مسلمانوں کو اس کی نصیحت کرتا ہوں کہ آپ حضرات کی تمام توجہ میری طرف رہے۔ اگر رومی میرے ساتھ کوئی بے وفائی کا فریب کاری کریں اور اس وجہ سے میں ان پر حملہ آور ہو جاوں تو تم بھی ان پر حملہ کر دو۔

یہ کہہ کر آپ گھوڑے پر سوار ہوئے اور تمام مسلمانوں کو سلام کر کے دشمن کی طرف چل دیئے۔ جس وقت آپ حریف کے خیموں کے قریب پہنچے تو قدح بن وا ثلہ نے کہا کہ بادشاہ کے لشکر کی تعظیم کئے اور گھوڑے سے اتر لیجئے۔ آپ نے فرمایا کہ میں ایسا شخص نہیں ہوں کہ عزت چھوڑ کر ذلت اختیار کروں۔ یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ میں اپنا گھوڑا دوسرے کے سپرد کردوں۔ میں سوائے خیمہ کے دروازہ کے اور کسی جگہ نہیں اتروں گا۔ اگر آپ کو یہ منظور نہیں ہے تو میں لڑنے جاتا ہوں کیونکہ آپ لوگوں نے ہی ہمیں بلایا ہے ہم نے آپ کے پاس کسی طرح پیغام نہیں بھیجا۔

قدح بن واثلہ نے یہ تمام قصہ رومیوں سے جا کر بیان کیا۔ انہوں نے آپس میں مشاورت کی اور کہا کہ یہ عربی لوگ قول کے بہت پکے اور بات کے سچے ہوتے ہیں، جس طرح وہ آنا چاہے آنے دو۔ چنانچہ آپ اسی طرح گھوڑے پر سوار خیمہ تک تشریف لے گئے اور خیمہ کے قریب پہنچ کر گھوڑے سے اترے اور گھوڑے کی باگ ہاتھ میں تھاے ہوئے زمین پر دو زانو بیٹھ گئے۔

جرجیسں نے کہا برادر عرب! تم ہمارے نزدیک بہت ہی کمزور تھے ،ہمارے دل میں کبھی ان کا شبہ بھی نہیں گزرتا تھا کہ تم ہم سے کسی وقت لڑو گے اور ہم پر کبھی چڑھ کے بھی آو گے۔ اب تم ہم سے کیا چاہتے ہو؟ آپ نے فرمایا ہماری یہ خواہش ہے کہ تم ہمارا دین قبول کر لو اور جو کلمہ ہم پڑھتے ہیں تم بھی وہی پڑھو اور اگر یہ منظور نہیں ہے تو ہمیں جزیہ دیا کرو۔ اور اگر اس میں بھی کسی طرح کا پس و پیش ہے تو یاد رکھو تلوار سب سے اچھا فیصلہ کرتی ہے ۔ جر جیس نے کہا کہ اس میں کیا حرج ہے اور اس میں کونسا امر مانع ہے کہ تم ملک فارس پر چڑھائی کرو اور ہم سے صلح اور دوستی رکھو۔ آپ نے فرمایا ملک فارس کی نسبت چونکہ تمہارا ملک ہم سے قریب ہے اور خداوند تعالیٰ احکم الحا کمین نے ہمیں حکم دیا ہے کہ قاتلوا الذین یلونکم من الکفار ولیجدوا فیکم غلظة (یعنی جو کفار تم سے قریب ہیں ان سے لڑو اور چاہئے کہ وہ تمہیں زیادہ قوی پائیں)
جرجیس نے کہا کہ کیا تم پر کوئی کتاب بھی نازل ہوئی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ ہاں جیسے تمہارے نبی پر انجیل مقدس نازل ہوئی تھی۔ اس طرح سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن پاک نازل ہوا ہے)۔ کافروں کا لالچ دینا
اس نے کہا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ تم ہم سے اس شرط پر صلح کر لو کہ ہم تمہارے ہر ایک آدمی کو ایک دینار اور ایک اونٹ غلہ اور تمہارے سردار کو سو دینار اور دس اونٹ غلیہ اور تمہارے خلیفہ کو ایک ہزار دینار اور سو اونٹ غلہ دے دیں اور ہمارے آپ کے درمیان ایک صلح نامہ اس مضمون کا مرتب ہو جائے کہ نہ تم ہم سے کبھی لڑو اور نہ ہم تم سے کبھی جنگ جو ہوں۔

یہ بھی پڑھیں:  اکبر کے مذہبی خیالات اور نئے تاثرات

آپ کا جواب

آپ نے فرمایا ایسا کبھی نہیں ہو سکتا میں پہلے کہہ چکا ہوں کہ اول تو اسلام ،دوسرے جزیہ اور تیسرے تلوار ہے اور بس اس نے کہا کہ ہم سے یہ تو کبھی نہیں ہو سکتا کہ مذہب تبدیل کرکے مسلمان ہو جائیں۔ کیونکہ ہم اپنے دین سے بہتر کسی مذہب کو نہیں دیکھتے اور جزیہ سے بہتر مر رہناہے۔ بس بہتر یہی ہے کہ ہم مر رہیں تم ہم سے زیادہ جنگ جو نہیں ہو کیونکہ ہماری فوج میں اولاد بطارقہ اور عمالقہ مرد میدان تلوار اور نیزہ کے ماہرین موجود ہیں۔ اس کے بعد جرجیس نے دربان کو حکم دیا کہ صقیلہ نامی پادری کو بلا کر لائے تاکہ اس بدوی (حضرت عامر بن ربیعہؓ) کے ساتھ مناظرہ کیا جائے۔

حضرت ربیعہ بن عامرؓ سے ایک پادری کا مناظرہ

واقدی کہتے ہیں کہ ہرقل بادشاہ روم نے اس فوج کے ساتھ ایک پادری روانہ کیا تھا جو اپنے دین کا عالم ہونے کے ساتھ ساتھ مناظرہ میں بھی بہت ماہر تھا۔ چنانچہ وہ آیا اور جرجیس نے اس سے کہا کہ اے ہولی فادر (بزرگ باپ) آپ اس شخص سے ان کے دین کے متعلق کچھ دریافت کر کے ہمیں بتائے۔ صقیلہ نے حضرت ربیعہ بن عامر سے دریافت کیا کہ اے عربی بھائی!ہماری کتابوں میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک نبی عربی ہاشمی قریش پیدا کرے گا جس کی علامت اور شناخت یہ ہو گی کہ اس کو اللہ تعالیٰ آسمانوں پر بلاوے گا کیا تمہارے نبی کے ساتھ ایسا ہوا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ ہاں ہمارے حضور سرور کائنات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو باری تعالیٰ جل شانہ نے آسمانوں پر بلایا اور خود اپنی کتاب قرآن مجید میں اس کے متعلق فرمایا کہ- سبحان الذی اسری بعبدہ لیلا من المسجد الحرام الی المسجد الاقصی الذی بارکنا حولہ (پاک ہے وہ ذات جس نے سیر کرائی اپنے بندے کو رات رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک جس میں ہم نے خوبیاں رکھی ہیں تاکہ ہم ان کو اپنی نشانیوں میں سے دکھلاویں۔

پادری نے کہا ہماری کتابوں میں یہ بھی موجود ہے کہ اس نبی اور اس کی امت پر ایک ماہ کے روزے فرض ہوں گے اور اس مہینے کا نام رمضان ہو گا۔ آپ نے فرمایا یہ بھی ٹھیک ہے ہم پر ایک مہینے کے روزے بھی فرض کئے گئے ہیں اور اس کو قرآن شریف میں اس طرح بیان کیا ہے شھر رمضان الذی انزل فیہ القرآن یعنی رمضان کا وہ مہینہ ہے جس میں قرآن شریف نازل کیا گیا۔ دوسری جگہ ارشاد ہے کتب علیکم الصیام کھا کتب علی الذین من قبلکم یعنی تمہارے اوپر روزے فرض کئے گئے ہیں جیسے کہ تمہارے سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے۔

اس کے بعد پادری نے پوچھا کہ ہم نے اپنی کتاب میں یہ بھی پڑھا ہے کہ اگر ان کی امت میں سے کوئی شخص ایک نیکی کرے گا تو اس کے نامہ اعمال میں دس نیکیوں کا ثواب لکھا جائے گا اور اگر ایک بدی کرے گا تو اس کے نامہ اعمال میں ایک ہی بدی لکھی جائے گی۔ آپ نے فرمایا ہماری کتاب میں اس کو اس طرح بیان کیا گیا ہے۔ من جاءبالحسنة فلہ عشر امثالھا ومن جائبالسیة فلایجزی الامثلھا- جس کا ترجمہ بعینہ وہی ہے جس کا پادری نے ذکر کیا ہے)۔

یہ بھی پڑھیں:  برٹش انڈیا کے دور میں حکومت اور انتظام

پادری نے پھر سوال کیا کہ ہمارے یہاں لکھا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ان کی امت کو ان کے نبی پر درود بھیجنے کا حکم دے گا۔ آپ نے فرمایا اس کے متعلق خداوند تعالیٰ نے اس طرح فرمایا ہے۔ ان اللہ وملئکتہ یصلون علی النبی یا ا یھالذین آمنوا صلواعلیہ و سلموا تسلیما (اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں اے لوگوں! جو ایمان لائے ہو تم بھی درود و سلام بھیجو)
پادری جس وقت یہ جوابات سن چکا تو بہت تعجب ہوا اور سردار لشکرسے کہنے لگا کہ حق اس قوم کے ساتھ ہے۔

دوسرا سردار بھی ٹھکانے لگا دیا

اس گفتگو کے بعد ایک دربان نے جرجیس سے کہا کہ یہ وہی بدوی ہے جس نے کل تیرے بھائی کو قتل کیا تھا۔ جرجیس یہ سن کر آگ بگولہ ہو گیا اور مارے غصہ کے آنکھیں سرخ ہو گئیں۔ چاہا کہ آپ پر حملہ کرے مگر آپ فوراً سمجھ گئے جلدی سے بجلی کی طرح اٹھے قبضہ شمشیر قبضہ میں لے کر جرجیس کے اس زور سے ایک ہاتھ مارا کہ وہ زمین پر گرا۔ رومی آپ پر حملہ آور ہوئے۔ آپ گھوڑے پر سوار ہو کر ہل من مبارز کا نعرہ لگائے ہوئے مقابل بن گئے ۔

جنگ شروع ہو گئی

حضرت یزید بن ابی سفیانؓ نے جب اس طرح رن پڑ تا ہوا دیکھا تو آپ نے پکار کر کہا مسلمانو! تمہارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی کے ساتھ اعداءدین نے غداری کی تم بھی فوراً حملہ کر دو۔ یہ سنتے ہی مسلمانوں نے حملہ کر دیا۔ ایک فوج دو سری فوجکے ساتھ بالکل مل گئی تھی۔

کافروں کی تمام فوج ماری گئی

رومی بڑے استقلال کے ساتھ لڑ رہے تھے کہ اچانک مسلمانوں کی ایک دو سری فوج جو بہ سرکردگی حضرت شرحبیل بن حسنہ کاتب رسول اللہ صلی علیہ وسلم آرہی تھی دکھائی دی۔ مسلمانوں نے جس وقت عین لڑائی میں اپنے بھائیوں کو آتے دیکھا تو حوصلہ بڑھ گیا اور اس زور سے حملہ کیا کہ رومیوں میں گھس کر تمام کے سروں کو تلوار کی بھینٹ چڑھا دیا۔ اس لڑائی میں آٹھ ہزار رومیوں میں سے ایک شخص بھی زندہ نہیں بچا تھا۔ تبوک چونکہ شام سے زیادہ فاصلے پر تھا اس لئے عربوں نے تعاقب کر کے سب کو قتل کر دیا تھا۔ اس کے بعد مسلمانوں نے ان کا مال، تاتاری گھوڑے ،خیمے، ڈرے اور تمام خزانہ قبضہ میں کیا اور حضرت شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مع ان کے ہمراہیوں کے ملاقات کی، سلام و نیاز کے بعد ایک جگہ پڑاو کیا۔

حضرت شرحبیل نے غنیمت کے مال کے متعلق حضرت زید اور حضرت ربیعہ سے مشورہ کیا۔ دونوں حضرات نے متفق اللفظ ہو کر فرمایا کہ غنیمت کا تمامال جو ہم نے رومیوں سے حاصل کیا ہے حضرت صدیق اعظم خلیفہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں روانہ کر دیا جائے تاکہ اس مال کو دیکھ کر مسلمانوں کے دل میں جہاد کا شوق پیدا ہو اور مسلمان جوق در جوق اس طرف آئیں۔ چنانچہ یہی رائے بہتر سمجھی گئی اور سوائے اسلحے اور سامان جنگ کے شداد بن اوس کو پانچ سو سواروں کے ساتھ تمام مال و اسباب دے کر خلیفہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور میں بھیج دیا گیا تاکہ اس سے مسلمانوں کو تقویت حاصل ہو اور باقی لشکر ارض تبوک میں ٹھہر گیا تاکہ مسلمانوں کا آنے والا لشکر ان سے یہاں آکر مل جائے۔

فتح کی خوشخبری

شداد بن اوس یہ اسباب لے کر مدینہ طیبہ پہنچے۔پھر سردار دو جہاںمحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی قبر شریف پر سلام پڑھا۔ اس کے بعد حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سلام کے بعد کی خوشخبری سنائی۔ رومیوں کے متعلق تمام قصہ بیان کیا۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سجدہ شکر ادا کیا اور اس کو فال نیک تصور فرما کر اس مال غنیمت سے مسلمانوں کا ایک دوسرا لشکر مرتب فرمایا۔ اس کے بعد آپ نے ایک خط اہل مکہ مکرمہ کے نام ارسال فرمایا جس میں جہاد کی ترغیب دی گئی تھی۔

تالیف:علامہ محمد بن عمر الواقدیؒ ، ترجمہ: حکیم شبیر احد سہارنپوریؒ