Maulana Fazl ur Rehman

ہمیں توقع ہی نہیں تھی کہ وہ باپ کو باپ بنائیں گے:مولانا فضل الرحمٰن

EjazNews

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ پی ڈی ایم کا ہنگامی اجلاس بلایا گیا، اجلاس میں نہ آنے والے قائدین سے ٹیلی فون پر رابطہ ہے، پی ڈی ایم 10 جماعتوں کے اتحاد کا نام ہے جس میں تمام جماعتوں کی حیثیت برابر ہے۔ہمارے اکثر فیصلے اتفاق رائے سے سامنے آئے، چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ، سینیٹ میں قائد حزب اختلاف کا متفقہ فیصلہ کیا گیا۔ جب ان فیصلوں کی خلاف ورزی ہوئی اور نتائج برآمد ہوئے تو تنظیمی تقاضہ تھا کہ جس جماعت سے شکایت ہے ان سے وضاحت طلب کی جائے، ہر جماعت کی قیادت تنظیمی معاملات ضابطہ کار کے تحت انجام دیتی ہے، فیصلوں کی خلاف ورزی پر وضاحت طلبی وقت کا تقاضا تھا۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ دونوں جماعتوں کے سیاسی قد کاٹھ کا تقاضا تھا کہ باوقار انداز میں وضاحت کا جواب دیتیں، غیر ضروری طور پر اس کو عزت نفس کا مسئلہ بنانا، سیاسی تقاضوں کے مطابق نہیں تھا، دونوں جماعتیں وضاحت دینے کے لیے پی ڈی ایم کا سربراہی یا اسٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس بلانے کا بھی تقاضہ کر سکتی تھیں۔پی ڈی ایم قومی سطح کے مقاصد کے لیے قائم کیا گیا اتحاد ہے، یہ عہدوں اور منصب کے لیے لڑنے کا فورم نہیں ہے، ہم نہیں چاہتے تھے کہ تنظیمی اختلافات چوک پر لے جائیں، اب بھی ان کے لیے موقع ہے کہ اپنے فیصلوں پر نظرثانی کریں اور پی ڈی ایم سے رجوع کریں، ہم ان کی بات سننے کو تیار ہیں اور مل کر شکایتیں دور سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  سینیٹ انتخابات کیلئے اوپن بیلٹ آرڈیننس جاری، حکومت اور ا پوزیشن کیا کہتی ہے

ان کا کہنا تھا کہ دونوں جماعتوں کے استعفوں کی منظوری ملتوی کی ہے، ہم موقع دے رہے ہیں کہ پاکستان کے عظیم الشان مقصد کو اولیت دی جائے، آپ بہت چھوٹی سطح پر آکر فیصلے کر رہے ہیں یہ آپ کا مقام نہیں ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ پی ڈی ایم میدان میں رہے گی، پی ڈی ایم کی تحریک اور اس کے آگے بڑھنے کی رفتار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے، اپنے دوستوں کو واپس لانے کے لیے ہم نے ان کا انتظار کیا، اب بھی کریں گے۔ہم نے بیان بازی میں بالکل نہیں الجھنا، یہ ہمارا آخری بیان ہے، ہماری طرف سے جواب آگیا، اب ان سے توقع ہے کہ وہ بلوغت کا مظاہرہ کریں گے۔

پیپلز پارٹی کی طرف سے سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کے لیے بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) سے ووٹ لینے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ہمیں توقع ہی نہیں تھی کہ وہ باپ کو باپ بنائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:  کیا اب ٹرین حادثے بھی سڑکوں پر چلنے والی گاڑیوں کی طرح ہوں گے