mandi_Arabic_dish

مندی: اہل عرب کا پسندیدہ پکوان

EjazNews

ضیافتوں اور تہواروں کے موقع پر جی چاہتا ہے کہ دسترخوان پر اچھوتے سے خوان سجیں۔ نئے کھانے تیار کئے جائیں۔ ذرا سجاوٹ بھی بنی ہو اور جب سے پاکستان میں دیگرملکوں کے کھانوں کے ریسٹورنٹس قائم ہونے لگے اور کوکنگ چینلز اور ویب سائٹس نے غیر ملکی کھانوں کے بارے میں بتانا شروع کیا تو اب اکثر و بیشتر یہ ہمارے دستر خواں کا حصہ بننے لگے ہیں۔

افطار ڈنر اور افطار پارٹیوں کا رواج ہمارے ہاں خاصا مقبول ہے ۔ جس پر کورونا کے باعث خاصہ اثر پڑا ہے ۔ آج ہم آپ کو ایک عربی ڈش کے بارے میں بتاتے ہیں جو عرب ممالک میں خاصہ مشہور ہے چونکہ عرب کھانے ہمارے ہاں بھی خاصے مقبول ہیں اس لیے یہ دستر خواں کی شان بڑھانے کیلئے سود مند ثابت ہو سکتی ہے۔مندی اہل عرب کا پسندیدہ پکوان ہے۔ عرب ریاستوں کا سلسلہ ابو ظہبی سےیمن، خلیجی ریاستوں سے مصر تک وسیع وعریض خطے پر مشتمل ہے اور ہر جگہ کے عربی کھانوں کی اپنی ہی شاندار روایات ہیں جن کے منفرد ذائقے محسوس کئے جا سکتے ہیں۔مثلاً سعودی باشندے علیحدہ مصالے اور سبزی شامل کرتے ہیں۔دوسرے علاقوں والے اپنی مخصوس تراکیب آزماتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  حسین مجروح

کہتے ہیں کہ مندی اصل میں یمن کے عربوں کا خاص پکوان ہے جسے بدازاں دیگر عربوں نے بھی اختیار کیا اور پکانے کی ترکیب میں ردو بدل کیا جا تارہا۔

لفظ مندی عربی زبان کے لفظ Nada سے اخذ کیا گیا ہے۔ جس کے لغوی معنی گوشت و منفرد انداز سے پکانے کے لئے جاتے ہیں ۔ مندی کے خاص ان اجزاء میں گوشت ، مصالحے، چاول اور مقامی ثقافت کے پہلو سے تیارکیے جانے والی ٹماٹر کی چٹنی اور دہی سے تیارکردہ چٹنی Tzatziki ہیں۔ اصل میں مندی کاذائقہ ان چٹ پٹی ٹماٹر کی اس چٹنی سےدوبالا ہوتا ہے اس ڈش کے لئے دنبے،بکرے اور مرغی کا گوشت لیا جاسکتا ہے۔ دیکھا یہ گیا ہے بنیادی اجزاءوہی ہیں جو تاریخی حوالوں سے سامنے آ تے ہیں باقی اگر کچھ فرق ہے تو پکانے کے مختلف زاویوں کا ہے۔ سب سے پہلے گوشت کی یخنی تیار کی جاتی ہے۔ گوشت کے گل جانے یعنی Tender ہو جانے کے بعد اسے عرب روایتوں کے مطابق تندور میں روسٹ کیا جا تا ہے اس طرح گوشت مز ید نرم اور خستہ ہو جاتا ہے۔ اگر تندور کولکڑی اور کوئلے سے دہکایا گیا ہو تو مندی سے کوئلے کی مخصوص مہک آ نے لگتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  افواہیں معاشرے میں بے یقینی پیدا کرتی ہیں

اب بچی ہوئی یخنی میں چاول ابالیں جائیں اور گوشت کو ایک تہہ لگا کے دم پر رکھ دیا جائے۔

مندی مقابلہ حیدرآبادی بریانی

اگر ان دونوں میں کوئی بنیادی فرق ہے تو تیز مصالحوں کا ، حیدر آبادی بریانی میں سرخ مرچ ، ثابت مصالحوں اور ہری مرچ کا استعمال قدرے زائد مقدار میں ہوتا ہے جبکہ عرب تیکھا کھانا عموماً پسند نہیں کرتے۔ عرب کھانوں میں سرخ مرچ کا استعمال کم مقدار میں ہوتا ہے جبکہ ان کھانوں کا ذائقہ بے حد عمدہ ہوتا ہے۔ یہ کھانے نظام ہاضمہ کے لئے بے حد مفید سمجھے جاتے ہیں۔ ہماری بریانیوں کا مندی سے مقابلہ کرناصحیح نہیں ہوگا گو کہ مندی کی شکل بریانی جیسی ہوتی ہے۔

اس کے اجزاء میں سفید زیرہ، Nutmeg اور سوکھی ہلدی شامل ہیں اس طرح چالوں اور گوشت کے علاوہ ان تین مصالحوں کی مدد سے شاندار ذائقے دار ڈش تیار ہو جاتی ہے جس کا ذائقہ مدتوں یاد رکھا جاسکتا ہے۔ یہ صحت بخش کھانوں کے تصوکا یقینی حل بھی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  کیوں کورونا وائرس کو لے کر سنجیدگی دکھائی نہیں دیتی؟

عرب دنیا کی ضیافت اور کھانوں کی پیشکش کے انداز جداگانہ ہیں۔ یہ لوگ خاندان بھر کے ساتھ ایک دستر خوان پر ایک بڑے تھال یا پلیٹ میں کھانا پیش کرتے ہیں اور بیٹھ کر اکٹھے ایک پلیٹر ہی سے کھانا تناول کرتے ہیں ۔ ایک دور تھا جب مندی صرف شادی بیاہ کی تقریبات اور عید تہواروں کے موقع پر بنائی جانے والی ڈش تھی مگر اب ہفتے کے ساتوں دن کسی بھی عربی کھانوں کے مرکز میں جا کے اس ڈش سے لطف اندوز ہوا جاسکتا ہے۔