asad_umer

بلدیاتی اور عام انتخابات نئی مردم شماری کی بنیاد پر ہوں گے:وفاقی وزیر اسد عمر

EjazNews

وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہے کہ مردم شماری کے بنیادی فریم ورک پر6سے 8ہفتوں میں کام مکمل ہوجائے گا اور ستمبر یا اکتوبر میں نئی مردم شماری کا عمل شروع ہوجائے گا، نئی مردم شماری کا عمل مارچ 2023تک مکمل کر لیا جائے گا،نئی مردم شماری پر ملک کے تمام شراکت داروں، صوبائی حکومتوں اور سول سوسائٹی کو ساتھ لیکر چلیں گے،مشترکہ مفادات کونسل نے 2017میں ہونیوالی مردم شماری کے نتائج کی منظوری دے دی جس پر سندھ اور بلوچستان نے اعتراض کیا تاہم ووٹنگ کے دوران وفاق کے7ارکان ،بلوچستان،پنجاب اور خیبر پختونخوا کے وزراء اعلیٰ نے اس کے حق میں جبکہ وزیر اعلیٰ سندھ نے اس کے خلاف ووٹ دیا۔

آئندہ عام انتخابات سے قبل نئی مردم شماری کے نتائج کو مکمل کر لیا جائے گا ،آئندہ بلدیاتی اورجنرل الیکشن اسی کی بنیاد پر ہوں گے ، آئندہ مردم شماری پر اخراجات کا تخمینہ 23ارب روپے لگایا گیا ہے جو مالی سال میں تقسیم ہوگا، مردم شماری کے لیے مطلولبہ فنڈز فراہم کیے جائیں گے ، افواج پاکستان کی نگرانی میں مردم شماری ہوگی یا نہیں اس کافیصلہ بعد میں ہوگا،یہ فیصلہ مشترکہ مفادات کونسل کرے گی۔2017ءکی مردم شماری پر ملک بھر میں سوالات اٹھائے گئے اور جب ملک کے کئی حصوں سے سوالات اٹھائے جا رہے ہوں تو یہ ملک کی یکجہتی کیلئےاچھی چیز نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  سابق صدرآصف زرداری کی درخواست پر عدالت نے میڈیکل بورڈ بنادیا

مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس کے بعد اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ہوئے وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل نے فیصلہ کیا ہےکہ آئندہ دس سال تک مردم شماری کے انتظار کی ضرورت نہیں بلکہ فوری بنیادوںپر مردم شماری کرائی جائے، نئی مردم شماری میں ٹیکنالوجی ، اقوام متحدہ کے اصولوں اور دنیا کے مروجہ طریقہ کار کو بروئے کار لایا جائے گا،مردم شماری الیکشن کی بنیاد بنتی ہے اور2023ءکا الیکشن نئی مردم شماری کے مطابق نہ ہوا تو چھوٹے صوبوں کی نمائندگی کم ہو جائے گی، اسد عمر نے کہاکہ نئی حلقہ بندیاں نئی مردم شماری کی بنیاد پر ہونگی ‘ضمنی انتخابات پرانی حلقہ بندیوں اور مردم شماری سے ہو سکتے ہیں لیکن مقامی حکومتوں کے انتخابات نئی مردم شماری کی بنیاد پر ہی ہوں گے اور اس میں عدلیہ کی بھی بہت زیادہ دلچسپی ہے‘وفاقی وزیر نے کہا کہ 2023ءکے الیکشن سے پہلے مردم شماری پر حتمی فیصلہ نہ ہوا تو آئینی ترمیم کا استثنیٰ ختم ہونے کے سبب اگلا الیکشن 1998 میں ہوئی مردم شماری کی بنیاد پر ہو گا جس کے نتیجے میں تینوں چھوٹے صوبوں کی اسمبلی میں نمائندگی کم ہو جائے گی اور پنجاب کی نمائندگی بڑھ جائے گی۔اگلے جنرل الیکشن سے قبل نئی مردم شماری پر حلقہ بندی بھی کرائی جا سکیں گی ۔

یہ بھی پڑھیں:  نیب کا شہباز شریف کا نام پھرای سی ایل میں ڈالنے کی سفارش

آئندہ مردم شماری میں ملک کے تمام شراکت داروں، صوبائی حکومتوں اور سول سوسائٹی کو ساتھ لیکر چلیں گے لیکن یہ لوگ فیصلہ کر تے ہوئے یاد رکھیں کہ اگر انہیں کہیں خرابی نظر آئے تو وہ ضرور اس میں دخل اندازی کر سکتے ہیں۔آج وزیر اعلیٰ سندھ نے جو فیصلہ کیا ہے یہ ان کا آئینی حق ہے‘گزشتہ مردم شماری میں صوبوں کی مکمل شمولیت تھی ،جس صوبائی حکومت نے مشترکہ مفادات کونسل میں نتائج کی مخالفت کی اس وقت اسی سیاسی جماعت کی صوبے میںحکومت تھی، انہوں نے کہا کہ عوام باالخصوص سندھ سے اپیل کرتا ہوں مردم شماری قوموں کو یکجا کرنے کی بنیاد بنتی ہے اور جب آپس میں شک ہو یا فیصلوں پر سوالیہ نشان اٹھیں تو اس سے ملک کمزور ہوتا ہے،انہوں نے ایک سوال کےجواب میں کہا کہ اگرموجودہ مردم شماری کے نتائج کو نہ مانتے تو کیا کرتے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کہ یا تو نتائج کو مانتے یا مسترد کردیتے اگر مسترد کردیتے تو چھوٹے صوبوں کی نمائندگی 1998ءکی مردم شماری پر چلی جاتی اسمبلیوں میں ان کی نمائندگی کم ہو جاتی، اسد عمر نے کہا کہ کراچی ، سندھ ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے عوام کے بھی مردم شماری پر سوال تھے، کراچی کے عوام کا موقف تھا کہ کراچی کی حقیقی آبادی نہیں دکھائی گئی‘مردم شماری میں شفافیت نہایت ضروری ہے‘ایم کیوایم پاکستان کے بھی مردم شماری پر تحفظات تھے لیکن ان سب کا علاج نئی مردم شماری ہے،انہوں نے کہا کہ پاکستان بیوروآف شماریات اکیلے مردم شماری نہیں کرسکتا ،اس کےلیے دیگر اداروں کو بھی شامل کیا جائےگا۔

یہ بھی پڑھیں:  پیپلزپارٹی کے جانے کے بعد عوام لاوارث ہوگئے ہیں:بلاول بھٹوزرداری