bilawal_bhutoo_zaradari_press_con

پی ڈی ایم پیپلزپارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی سے بلا مشروط معافی مانگے:بلاول بھٹو زرداری

EjazNews

پاکستان پیپلزپارٹی نے حکومت مخالف اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے تمام عہدوں سے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا۔ بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ جس نے استعفے دینے ہیں دے، ڈکٹیٹ نہ کرے۔

ن لیگ نے بلتستان میں بھی اپوزیشن لیڈر کا عہدہ چھیننے کی کوشش کی۔بے نظیر کے قتل کے ملزمان کے وکیل کو سینیٹر اور پھر اپوزیشن لیڈر بنانے کا سوچا بھی کیسے،پنجاب میں سینیٹ کی 5 نشستیں پی ٹی آئی کو دی گئیں تو کوئی نوٹس نہیں دیا گیا، اے آر ڈی سے لیکر کسی بھی اپوزیشن کی تحریک میں کوئی شوکاز نوٹس نہیں جاری ہو۔ شوکاز نوٹس پر پیپلزپارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی سے معافی مانگی جائے،اے این پی کے ساتھ ہیں۔حکومت کو آرام سے نہیں بیٹھنے دیں گے نہ بیٹھنے دیا ہے۔

آئی ایم ایف سے معاہد ہ ختم کیا جائے ، اسٹیٹ بینک سے متعلق آرڈیننس معاشی خود مختاری پر تاریخی حملہ ہے ،ایسا کوئی قدم برادشت نہیں جس میں اسٹیٹ بینک آئین اور پارلیمان سے بالا ہو اور صرف آئی ایم ایف کو جوابدہ ہو،میں اس آرڈیننس کو پاکستان کی عدالت میں چیلنج کروں گا یہ کیسا آرڈیننس ہے کہ اسٹیٹ بینک، پاکستان کی پارلیمنٹ اورعدالت کو جوابدہ نہیں ہوگا۔جبکہ رمضان میں پی ٹی آئی آئی ایم ایف ڈیل کے خلاف مہم چلائیں گے۔حکومت اور آئی ایم ایف ڈیل عوام دشمن ہے، پاکستان کو آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کو ختم کرنا چاہیے۔
پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پارٹی کی سی ای سی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں پی ڈی ایم کے شوکاز نوٹس کو مسترد کیا اور تمام عہدوں سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا۔بلاول بھٹو نے شوکاز نوٹس جاری کرنے پر پی ڈی ایم سے مطالبہ کیا کہ وہ پیپلزپارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی سے بلا مشروط معافی مانگے۔

یہ بھی پڑھیں:  سینٹ الیکشن سے متعلق عدالت عظمیٰ کی رائے

چیئرمین پی پی کا کہنا تھا کہ ہمارے دروازے ہر اس پارٹی کے لیے کھلے ہیں جو حکومت کے خلاف ہے۔ عزت اور برابری کے ساتھ سیاست کرنا جانتے ہیں اور کرتے رہیں گے، اے این پی کے ساتھ ہیں، حکومت کو آرام سے نہیں بیٹھنے دیں گے نہ بیٹھنے دیا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ اپوزیشن کےدرمیان ورکنگ ریلیشن شپ ہو تاکہ پارلیمان کے اندر اور باہر مل کر حکومت کی مخالفت کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جنہوں نے پارلیمان سے استعفے دینا ہیں دے دیں لیکن کسی پارٹی کو ڈکٹیٹ نہ کریں، ہم پر کوئی اپنے فیصلے مسلط نہ کرے، استعفے آخری ہتھیار ہونے چاہئیں، یہی ہمارا مؤقف رہے گا، یہ پی پی کا تاریخی موقف رہا ہے اور درست ثابت ہوا ہے، صرف ضمنی الیکشن میں حصہ لے کر پی ڈی ایم نے حکومت کو ایکسپوز کردیا، دنیا کو دکھادیا کہ عوام حکومت کےنہیں اپوزیشن کے ساتھ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  بلدیاتی اور عام انتخابات نئی مردم شماری کی بنیاد پر ہوں گے:وفاقی وزیر اسد عمر

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم میں نے بنائی ہے اور اس کی بنیاد میں نے رکھی ہے، اے این پی اور پی پی کے بغیر پی ڈی ایم نہیں ہوگی، نہیں سمجھتا وہ جمہوریت یا اپوزیشن کے مفاد کے لیے ایک قدم ہوگا، اس لیے اپوزیشن کو ورکنگ ریلیشن شپ رکھنا ہوگی، اپوزیشن کی ذمہ داری ہےکہ حکومت کی مخالفت کرتے رہیں لیکن ہم کسی صورت عزت اور برابری پر کمپرومائز نہیں کریں گے، جب تک اے این پی کو معافی نہیں دی جاتی تب تک آگے جانے کاطریقہ کار بہت محدود ہے، سمجھتا ہوں کہ ہمارے اور اے این پی کے تحفظات بہت ذمہ داری سے دور کیے جائیں گے۔