hafeez ch

بھارت سے جب بھی بات ہو گی تو اس میں بنیادی نقطہ مقبوضہ جموں کشمیر ہی ہو گا:ترجمان دفتر خارجہ

EjazNews

ترجمان دفتر خارجہ نےکہاہےکہ بھارت کیساتھ مذاکرات سے کبھی انکار نہیں کیا ،بامقصدبات چیت کیلئے تیارہیں ،پاکستان سمجھتا ہے کہ تنازعات کا حل بات چیت کے ذریعے نکالا جا سکتا ہے ۔سارک کانفرنس کا گزشتہ دو سال سے التوا رکن ممالک کیلئے بے چینی کا سبب ہے تاہم فی الوقت سارک کانفرنس کا انعقاد اور پاک بھارت ہائی کمشنر ز کی واپسی خارج از امکان ہے ۔امریکہ میں پاکستان سفیر اسد مجید خان بہتر کام کررہے ہیں اس لئے ان کے تبدیل کیے جانے کے حوالے سے کوئی اطلاعات نہیں ۔

ہفتہ واربریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا پاکستان بھارت کیساتھ اچھے تعلقات اور بامعنی مذاکرات کا خواہاں ہے ، مسئلہ کشمیر پر پاکستان کا مؤقف تبدیل نہیں ہوا۔ بھارت کی جانب سے قیدیوں کی رہائی میں ہمیشہ تاخیر کی جاتی ہے ،انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رہائی جلد از جلد ہونی چاہیے۔

عالمی برادری دونوں ممالک کے مابین موجود تنازع کو مدنظر رکھتے ہوئے بات چیت کرے اور اس سلسلے میں امریکا سمیت کسی بھی ملک کی ثالثی کو سراہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  قومی ٹیم کی پوزیشن اتنی بری نہیں،11پوائنٹس کے ساتھ واپس آئے ہیں: سرفراز ا حمد

انہوں نے کہا کہ ہم بھارت سے بات چیت کرنے کیلئے تیار ہیں لیکن بات چیت بامعنی اور بنیادی تنازعات پر ہونی چاہیے۔

حفیظ چوہدری نے مزید کہا کہ موزوں حالات کیلئے بھارت کو 5 اگست 2019 کے اقدامات واپس لینا ہوں گے ،بھارت سے جب بھی بات ہو گی تو اس میں بنیادی نقطہ مقبوضہ جموں کشمیر ہی ہو گا کیونکہ مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر خطے میں امن ممکن نہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت میں ہائی کمشنرز کی تعیناتیوں کے حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی اور ہائی کمشنرز کی واپسی فی الحال خارج از امکان ہے۔

انہوں نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ پاکستان کے حوالے سے جاری قیاس آرائیوں کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس کے بارے میں اطلاعات مکمل معلومات پر مبنی نہیں۔2017 سے سارک کانفرنس نہیں ہو سکی، پاکستان دوسال سے سارک کانفرس کے لیے کوشاں ہے لیکن موجودہ صورتحال میں اس کا انعقاد ممکن نظر نہیں آتا۔

یہ بھی پڑھیں:  اوورسیز پاکستانی ہمارا اثاثہ ہیں،ان کو انتخابی عمل میں شریک کریں گے:وزیراعظم

ترجمان کا کہنا تھا کہ سپیکر قومی اسمبلی کے دورہ افغانستان میں افغان سپیکر کیساتھ معاملات طے شدہ تھے، ہمیں یہی بتایا گیا کہ کابل ائیرپورٹ سکیورٹی وجوہات پر بند تھا اور سکیورٹی خدشات کے باعث پاکستانی پارلیمانی وفد کا طیارہ لینڈ نہ کر سکا۔

زاہد حفیظ چوہدری نے مزید کہا کہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے پاکستانی ویزوں پر پابندی کے حوالے سے ان سے رابطے میں ہیں ، امید ہے کہ جلد یہ معاملہ مثبت انداز میں حل ہو جائے گا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے قابض بھارتی فورسز کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں جاری غیرقانونی کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہیں انسانی حقوق کی مکمل خلاف ورزی قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں ماورائے عدالت قتل کا سلسلہ گزشتہ ہفتے بھی جاری رہا اور پلوامہ اور شوپیاں میں مزید 10 کشمیریوں کو شہید کیا گیا۔

یاد رہے: کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جمعہ کے روز شوپیاں اور پلواما میں دو الگ الگ واقعات میں قابض بھارتی فوج نے فائرنگ کرکے مزید 4 کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا،جمعرات کو بھی 3نوجوانوں کو شہید کر دیا گیا تھا ۔شوپیاں میں سرچ آپریشن کے دوران قابض بھارتی فوج نے ایک مسجد کی بھی بے حرمتی کی جس پر اہل محلہ نے شدید احتجاج کیا، مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے قابض بھارتی فوج آنسو گیس کی شیلنگ بھی کی۔

یہ بھی پڑھیں:  پاکستان نے امن کیلئے انڈین پائلٹ کو رہا کر دیا

کشمیری نوجوانوں کی شہادت کا پہلا واقعہ ضلع شوپیاں میں پیش آیا جہاں سرچ آپریشن کے دوران قابض بھارتی فوج نے ایک گھر پر اندھا دھند فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں 2 نوجوان شہید ہوگئے۔

اسی طرح ضلع پلوامہ میں بھی سفاک بھارتی فوج نے گھر گھر تلاشی کے دوران دو نوجوانوں کو حراست میں لیا اور محلے سے باہر لے جاکر گولیوں سے بھون ڈالا۔ دونوں واقعات کے بعد لاشیں لواحقین کے حوالے کرنے سے انکار کردیا گیا۔