ملکہ برطانیہ اور شہزادہ فلپس کی زندگی کے کچھ احوال

EjazNews

شہزادہ فلپس کو دنیا بھر میں ایک ایسے شوہر کے طور پر پہچانا جاتا ہے جو 70 سال تک اپنی اہلیہ کے آگے، پیچھے، دائیں اور بائیں دکھائی دئیے۔شہزادہ فلپس نے ملکہ برطانیہ سے 1947 میں اس وقت شادی کی تھی جب وہ ملکہ نہیں بنی تھیں۔

اس وقت شہزادہ فلپس برطانیہ کی شاہی نیوی میں خدمات سر انجام دے رہے تھے اور ان کی بہادری، سچائی اور خوبصورتی سے متاثر ہوکر ملکہ برطانیہ کے والدین نے اپنی بیٹی کا ہاتھ انہیں دیا تھا۔

دنیا کے بہت سارے لوگ یہ بات نہیں جانتے کہ شہزادہ فلپس، جو برطانوی شاہی خاندان کے سب سے اہم والی وارث بنے، دراصل وہ پیدائشی برطانوی نہیں تھے۔

ان کی سوانح عمری کے مضمون کے مطابق شہزادہ فلپس دراصل یورپی ملک یونان کے قصبے کرفیو آئی لینڈ میں یونانی شاہی خاندان میں 1920 میں جنگ عظیم اول کے اختتام کے فوری بعد پیدا ہوئے۔
یہ وہ زمانہ تھا جب یورپ میں ہر طرف جنگ کی تباہ کاریاں مچی ہوئی تھی اور یورپی ممالک کے دشمنوں کے حملے کے وقت ایک دوسرے کا ساتھ دینے کے معاہدے کرنے میں مصروف تھے۔

شہزادہ فلپس جب ڈیڑھ سال کے ہوئے تو اس وقت کے یونانی بادشاہت کا تختہ الٹ دیا گیا اور شاہی خاندان بڑی مشکلوں سے جان بچا کر فرانس پہنچا۔

ملکہ الزبتھ دوئم اپنے شوہر کے ہمراہ
ملکہ الزبتھ دوئم اپنے شوہر کے ہمراہ

چھوٹے سے شہزادہ فلپس کو ابتدائی تعلیم کے لیے پیرس میں داخل کروادیا گیا اور کم عمری میں جنگ عظیم دوئم کے آغاز سے قبل وہ برطانیہ سے فرانس منتقل ہوئے اور شاہی بحری فوج میں شمولیت اختیار کرلی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یونانی شاہی خاندان کے گھر میں پیدا ہونے والے شہزادہ فلپس کے دادا یورپی ملک ڈنمارک کے شاہی خاندان کے فرد تھے۔

یہ بھی پڑھیں:  بھارت کےسب سے بڑے سیکس سکینڈل میں حیرت انگیز انکشافات

یہی نہیں بلکہ شہزادہ فلپس کے دیگر یورپی ممالک کے شاہی خاندان سے بھی قریبی رشتے تھے، کیونکہ دو صدیاں قبل تک کئی یورپی ممالک کے شاہی خاندانوں کی آپس میں شادیاں اور رشتہ داریاں ہوئی تھیں۔

جب شہزادہ فلپس نوجوان تھے اور شاہی بحریہ میں خدمات سر انجام دیتے تھے تب انہوں نے پہلی مرتبہ اپنی اہلیہ ایلزبتھ کو دیکھا تھا، جو 13 برس کی تھیں۔دونوں ایک دوسرے کو دیکھنے کے بعد محبت میں گرفتار ہوئے، اس وقت شہزادہ فلپس کو نیوی میں ہونے کی وجہ سے انگلستان سے باہر بھی خدمات کے لیے سفر کرنا پڑتا تھا اور انہوں نے جنگ عظیم دوئم کے دوران برطانوی اتحاد کی جانب سے مختلف ممالک میں جنگی خدمات بھی سرانجام دیں۔

ایک طرح سے شہزادہ فلپس برطانوی شاہی خاندان کے گھر داماد بنے اور پھر ایک صدی کے اندر وہ شاہی محل کے مالک بن گئے اور اب ان کے بیٹے اور پوتے ہی شاہی خاندان کے سلسلے کو آگے بڑھائیں گے۔

شادی کے ایک سال بعد ان کے ہاں پہلے بیٹے شہزادہ چارلس کی پیدائش ہوئی جو اس وقت 72 سال کے ہو چکے ہیں اور وہ بھی تاحال بادشاہ نہیں بن پائے۔

ملکہ برطانیہ کے شوہر ہونے کی وجہ سے شہزادہ فلپس کو شاہی خاندان میں انتہائی اہمیت حاصل رہی اور وہ زندگی کے آخری ایام تک 800 فلاحی اداروں کے اعزازی سربراہان میں شامل رہے۔
شہزادہ فلپس اور ملکہ برطانیہ کو چار بچے ہوئے، جن میں سب سے بڑے شہزادہ چارلس، دوسری بیٹی شہزادہ اینی، تیسرا بیٹا شہزادہ اینڈریو اور سب سے کم عمر 57 سالہ شہزادہ ایڈورڈ ہیں۔ملکہ برطانیہ سے شہزادہ فلپس کی شادی مرتے دم تک برقرار رہی مگر حیران کن طور پر ان کے چار بچوں میں سے تین کی پہلی شادیاں ناکام ہوئیں مگر ان کے سب سے چھوٹے بیٹے شہزادہ ایڈورڈ کی تاحال ایک ہی شادی ہے۔
شہزادہ فلپس کے بڑے بیٹے شہزادہ چارلس کی پہلی شادی لیڈی ڈیانا سے ہوئی تھی جو طلاق پر ختم ہوئی جب کہ ان کے دوسرے بیٹے شہزادہ اینڈریو کی پہلی شادی بھی طلاق پر جب کہ بیٹی شہزادہ اینی کی پہلی شادی بھی طلاق پر ختم ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں:  افغانستان میں بیک وقت اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ نے صدارتی حلف اٹھالیا

شہزادہ فلپس کی اہلیہ 94 سالہ ملکہ برطانیہ نصف صدی سے زائد عرصے سے ملکہ بنی ہوئی ہیں، ان کے بعد شہزادہ چارلس کے بادشاہ بننے کا نمبر ہے ۔تاہم خیال کیا جاتا رہا ہے کہ وہ زائدالعمری کی وجہ سے خود بادشاہ بننے کے بجائے بڑے صاحبزادے ولیم کو تخت دیں گے۔

شہزادہ فلپ اور ملکہ برطانیہ کے کل 4 بچے ہیں، ان کے 8 پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں اور 10 پڑپوتے پڑپوتیاں، پڑنواسے اور پڑنواسیاں ہیں۔

ان کے پہلے بیٹے، پرنس آف ویلز، شہزادہ چارلس کی پیدائش 1948 میں ہوئی، جن کے پرنسس رائل پرنسس این 1950 میں پیدا ہوئیں، ڈیوک آف یورک شہزادہ اینڈریو 1960 میں جبکہ ارل آف ویسیکس شہزادہ ایڈورد 1964 میں پیدا ہوئے۔

شہزاد فلپ 10 جون 1921 کو یونانی جزیرے کورفو میں پیدا ہوئے، ان کے والد یونان اور ڈنمارک کے شہزادہ اینڈریو تھے جو ہیلنس کے کنگ جیورج دوم کے چھوٹے بیٹے تھے۔

ان کی والدہ شہزادی ایلس، لارڈ لوئس ماؤنٹ بیٹن کی بیٹی اور ملکہ وکٹوریا کی پڑنواسی تھیں۔

شہزادہ فلپ کی موت کا اعلان شاہی خاندان کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ سے شیئر کی گئی ٹوئٹ میں کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:  دنیا بھر میں کوروناوائرس ویکسی نیشن کروانیوالے سرفہرست 25 ممالک

ٹوئٹ میں کہا گیا کہ ‘انتہائی دکھ کے ساتھ ہم یہ اعلان کرتے ہیں کہ ملکہ برطانیہ کے شوہر، شہزاد فلپ، ڈیوک آف ایڈنبرا نہیں رہے۔

شہزادہ فلپ کے انتقال کے بعد برطانیہ کی اہم عمارتوں پر موجود پرچم کو سرنگوں کردیا گیا۔

شہزادہ فلپ کے انتقال کے باعث برطانوی شاہی خاندان سے منسلک تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا ہیڈر اور پروفائل فوٹو بھی تبدیل کردی گئی ہیں۔

گزشتہ دو ماہ سے ان کی طبیعت خراب تھی اور رواں برس فروری میں انہیں ہسپتال داخل کرایا گیا تھا۔تاہم ان کی طبیعت میں کوئی بہتری نہ آنے اور قبل از وقت دل کے عارضے کی پیچیدگیوں سے بچنے کے لیے انہیں لندن کے دوسرے ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ بیان میں کہا گیا تھا شہزادہ فلپس معمول کے چیک اپ کے لیے کار پر سوار ہوکر ہسپتال گئے تھے مگر انہیں معالج نے ہسپتال میں داخل ہونے کا مشورہ دیا تھا۔بیان میں تصدیق کی گئی تھی کہ زائد العمری کی وجہ سے شہزادہ فلپس کو احتیاطی تدابیر کے تحت ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔

شہزادہ فلپس اور ان کی اہلیہ 94 سالہ ملکہ برطانیہ پہلے ہی کووڈ کی وبا کے باعث بیکنگھم پیلس سے نکل کر ونڈسر کے شاہی محل میں مقیم تھے اور انہوں نے احتیاطی تدابیر کے تحت کووڈ ویکسین بھی لگوا رکھی تھی۔

شہزادہ فلپس کو پہلے بھی متعدد بار طبیعت میں ناخوشگواری کے باعث ہسپتال منتقل کیا جاتا رہا تھا۔

شہزادہ فلپس نے رواں برس جون میں اپنی 100 ویں سالگرہ منانی تھی اور وہ زائد العمری کی وجہ سے ہی 2017 سے شاہی ذمہ داریوں سے ریٹائرڈ ہوگئے تھے۔