Natonal Assembly

کرمنل لا (ترمیمی) ایکٹ بل 2020 قائمہ کمیٹی سے منظور

EjazNews

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی سے منظور کیے جانے والے مسودے کے تحت تعزیرات پاکستان میں ترمیم تجویز کی گئی ہے۔کرمنل لا (ترمیمی) ایکٹ بل 2020 پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی امجد علی خان نے پرائیویٹ ممبر بل کے طور پر گزشتہ سال پیش کیا تھا۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں راجہ خرم نواز کی زیرصدارت منعقد ہوا۔

چیئرمین نے ووٹنگ کرائی تو پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کے اراکین نے بل کی مخالفت کی لیکن ووٹ برابر ہونے پر چیئرمین نے اپنے ووٹ کا حق استعمال کرتے ہوئے بل کو منظور کر کے قومی اسمبلی میں بھیج دیا۔ بل کے ذریعے تعزیرات پاکستان کے سیکشن 500 میں ایک اور شق کا اضافہ کیا گیا ہے جس میں تجویز دی گئی ہے کہ جو کوئی بھی جان بوجھ کر پاکستان کی مسلح افواج یا ان کے کسی رکن کا تمسخر اڑاتا ہے، عزت کو گزند پہنچاتا ہے اور یا بدنام کرتا ہے تو وہ ایسے جرم کا قصوروار ہو گا جس کے لیے دو سال تک قید کی سزا یا پانچ لاکھ روپے تک جرمانہ یا دونوں سزائیں بھی ہو سکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  کون کون سے شعبے کھولے جارہے ہیں؟

تعزیرات پاکستان کے سیکشن 500 میں پہلے ہی ہتک عزت کے خلاف سزا کا ذکر ہے لیکن اس میں صرف اتنا لکھا گیا ہے کہ جو کوئی شخص کسی دوسرے کو بدنام کرے گا تو اس کو دو سال کی قید یا جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران امجد علی خان کا کہنا تھا کہ پاک فوج کے ادارے کا تمسخر اڑانے والے پر سول عدالت میں کیس چلے گا۔پی پی کی جانب سے کمیٹی کے رکن آغا رفیع اللہ کا کہنا تھا کہ یہ قانون سیاسی انتقام کے لیے استعمال ہوگا آپ آزادی رائے پر قدغن لگا رہے ہیں۔ اداروں پرنیک نیتی سے کی گئی تنقید بھی اس قانون کے دائرے میں آئے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ 22 کروڑ عوام میں سے دو فیصد لوگ بھی اداروں کے خلاف نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپنے اداروں کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑے ہیں۔ن لیگ کی رکن مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ اس قانون کو متعارف کروایا ہی کیوں جا رہا ہے؟ انہوں نے استفسار کیا کہ پاکستان کے شہری کیوں ملکی اداروں کوجان بوجھ کر اشتعال دلائیں گے؟۔ امجد علی خان کا اس موقع پر کہنا تھا کہ یہ قانون کسی کے خلاف نہیں لایا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  ملک کے 24شہروں میں نئی پابندیاں عائد