Child abuse_pakistan

سال توبدل رہے ہیں، بچّوں کے حالات نہیں

EjazNews

ایک غیر سرکاری تنظیم ،ساحل کی ایک رپورٹ کے مطابق 2019ء کے صرف پہلے چھے ماہ میںپاکستان میں 1300بچّوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گيا۔رپورٹ کے مطابق پنجاب میں 652، سندھ میں 458، بلوچستان میں 32، خیبرپختونخوا میں 51، اسلام آبادمیں 90، آزاد کشمیر میں 18اورگلگت بلتستان میں 3 بچے جنسی تشدد کا نشانہ بنے۔واضح رہے کہ یہ اعدادو شمار جنوری 2019 ء تا جون 2019ء کے ہیں اور یہ وہ واقعات ہیں، جوباقاعدہ رپورٹ ہوئے۔ یعنی حقیقی اعدادو شمار کا اندازہ لگانا بھی ہمارے لیے ممکن نہیں۔ نہ جانے کتنی زینب، کتنی اوزِنور ، کتنے سلمان ، ورک شاپس، گلی، محلوںاور گھروں وغیرہ میں درندگی کا نشانہ بن کر اپنا بچپن کھو دیتے ہیںاور سسٹم پر بھروسے کا یہ عالم ہے کہ بچّوں کےساتھ زیادتی و ہراسانی کے بیش تر واقعات اول توپولیس میں درج ہی نہیں کروائے جاتے کہ ان میںزیادہ تر قریبی رشتے دار، استاد یا ہمسائےوغیرہ ملوث ہوتے ہیں، تو والدین اپنی دوستیوں، خاندان کی عزت اور رشتوں کوبچوں پر فوقیت دیتے ہیں۔دوم، اگر مقدمات درج ہو بھی جائیں، تو اَن گنت قانونی پیچیدگیوں کے باعث یا تو کیس واپس لے لیا جاتا ہے یا پھر مجرم ضمانت لے کر ایک بار پھر دندنا تا پھرتا ہے۔یوں ننھے پھولوں کے لیے مدرسہ، سکول اور کبھی کبھار اپنا گھر بھی محفوظ نہیں رہتا۔ایک بات تو طے ہے کہ کوئی ذی شعور انسان ، اس طرح کی غیر انسانی سر گرمیوں میں ہر گز ملوث نہیں ہو سکتا۔

جنوری 2018ءکو قصور کی 6 سالہ زینب روز کی طرح قرآن پڑھنے تو گئی، لیکن گھر واپس نہ لوٹی۔ تلاش شروع ہوئی تو 9جنوری کو ننّھی پری کی تشدد زدہ لاش ملی،جسے زیادتی کے بعد قتل کر دیا گیا تھا۔شاید یہ کیس بھی دیگر کیسز کی طرح پولیس فائلز یا قصور کی گلیوں میں کہیں گُم ہو جاتا، مگربات سوشل میڈیا تک جا پہنچی، جہاں سے زینب قتل کیس نے اپنی جڑیں مضبوط کیں اور عوام کے شدید ردعمل پر ترجیحی بنیادوں پر کیس کی تحقیقات کا آغاز ہوا۔جب زینب کا مجرم گرفتار ہوا تو معلوم ہوا کہ وہ اس علاقے کی مزید 12بچیوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنا چکاہے۔ 17اکتوبر 2018ء کو اِس انسان نما درندے، عمران کو پھانسی دے دی گئی۔ زینب قتل کیس اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں اور نہ ہی مجرم کی سزا کے بعد اس طرح کے واقعات میں کوئی کمی واقع ہوئی کہ ہنوز یکے بعد دیگرے اسی نوعیت کےمختلف واقعات سامنے آرہےہیں۔نومبر 2019ء میں راولپنڈی کے علاقےڈھوک چوہدریاں سے درندگی کے ایک ایسے واقعہ کی خبر سامنے آئی کہ جس نے سگے رشتوں تک کو مشکوک کر دیا۔ ذرا سوچیں،جب معصوم کلیوں کے لیے اُن کا گھر، والدین کی چھپّر چھایا بھی محفوظ نہ رہے، توپھر بھلا تحفظ کہاں ملے گا کہ 7سالہ سدرہ کو اُس کےسگے چچا نے زیادتی کا نشانہ بنا کر قتل کیا۔سدرہ کے والد نوراللہ نے پولیس کو بتایا کہ ’’جب مَیں کام سے واپس آیا، تو گھر کا دروازہ کھلا ہوااور بیوی سوئی ہوئی تھی۔ مَیں نے دیکھا کہ بچّی مُردہ حالت میں کمرے کے باہر پڑی ہے۔‘‘ پوسٹ مارٹم میں بچّی سے زیادتی اورقتل کی تصدیق ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں:  علم اور مذہبی مشاہدہ

پولیس نے جائے وقوعہ سے ملنے والے شواہد کی روشنی میں بچّی کے چچا ، ولی اللہ خان کو گرفتار کرکے ڈسٹرکٹ جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا تو،بھتیجی کو زیادتی کا نشانہ بنا نے والے درندہ صفت انسان نے اعتراف جرم کرتے ہوئے کہا کہ’’ فحش فلمیں دیکھ کرمیرا ذہن خراب ہوااورمَیں سمجھ ہی نہیں پایا کہ جس بچّی کے ساتھ شرم ناک حرکت کرنے جا رہا ہوں، وہ میری سگی بھتیجی ہے۔مَیں نےاس سے قبل بھی ایک بارسدرہ کو پکڑنے کی کوشش کی، مگرتب میری بھابھی جاگ گئی تھی۔ لیکن اس بارمَیں نےاس کےمنہ پر ہاتھ رکھ دیا ، تاکہ اُس کی آواز نہ نکل سکے اور اسی دوران دم گھٹنے سے اس کی موت واقع ہوگئی ۔ مَیں اس حرکت پر اپنے بھائی ، بھابھی سے معافی مانگتا ہوں اورعدالت سے بھی معافی کا طلبگار ہوں ۔‘‘

لیکن کیا دنیا کی کسی بھی عدالت کو ایسے سفاک درندے کو معاف کرنے کا اختیار ہونا چاہیے اور کیا بچّی کے والدین کو ایسے غلیظ ، بد کردار انسان کے منہ پر تھوکنا بھی چاہیے۔ ایسے ایسے دل خراش واقعات سامنے آئے کہ اگر مجرموں کو سو باربھی پھانسی دی جائے، تو کم ہے۔عقل سمجھنے سے قاصر ہے کہ آخر یہ لوگ کس ذہنی کیفیت میں ایسی غیر انسانی حرکات کے مرتکب ہوتے ہیں۔

جنوری 2020ء، زینب قتل کیس کے ٹھیک 2 سال بعد، صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع، نوشہرہ میں آٹھ سالہ اوز نور اپنی بہن کے ساتھ سہ پہر 3 بجے سپارہ پڑھ کر واپس آرہی تھی کہ محلّے کے ایک لڑکے نے اسے روکااور کچھ دلانے کا لالچ دیا۔ چھوٹی بہن گھر چلی گئی اور وہ اسے بہلا پھسلا کر ساتھ لے گیا ۔تھوڑی ہی دیر بعد ہر طرف نور کی تلاش شروع ہوگئی، توملزم بھی گھر والوں کے ساتھ مل کربچّی کو تلاش کرتا بلکہ گھر والوں کو گمراہ کرتا رہا، پھر اوزنور کی چھوٹی بہن نے بتایا کہ’’یہی لڑکا تو نور کواپنے ساتھ لے گیا تھا۔‘‘بالآخر ایک جگہ سےبچّی کا دوپٹا اور پانی کی ٹینکی سے اُس کی لاش بر آمد ہوگئی ۔جس جگہ سے لاش ملی، وہ جگہ نور کے گھر سے محض دس منٹ کے فاصلے پر تھی، لیکن یہ جگہ نسبتاً خالی اور ویران تھی ۔ملزم لڑکا مقامی افراد کے گھروں میں کام کرتا تھا اور اس کی عُمر 18 سال کے لگ بھگ ہے ، گرفتاری پر اس نے بتایا کہ وہ اس جرم میں اکیلا نہیں ،رفیق نامی ٹیکسی ڈرائیور بھی اس کے ساتھ شریک تھا۔دونوں ملزمان میں سے ایک نے تو بچّی کے ساتھ زیا دتی اور قتل کا اعتراف کرلیاہے، جبکہ ایک کااعتراف جرم ابھی باقی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  اقبال کی افغان دوستی اور افغانوں کی اقبال دوستی

10 جنوری 2020ء کومردان کی تحصیل، تخت باہی میں نویں جماعت کا 15سالہ، سلمان خان جمعہ کی نماز پڑھنے گھر سے نکلا ، مگر واپس نہیں لوٹا۔ 15 سولہ دنوں بعد جب گاؤں کے بچے کھیتوں سےگھاس کاٹنے گئے ،تو انہیں ایک لاش نظر آئی، جسے جانور آدھےسےزیادہ کھا چکے تھے،چہرےکی جگہ صرف کھوپڑی بچی تھی۔معصوم بچّے کی لاش کی حالت تک اتنی بُری تھی کہ اس کے والدین نے بچے کھچےکپڑوں اور جوتوں کی مدد سے بمشکل پہچانا۔تحقیقات کے بعد پتا چلا کہ بچّے کو زیادتی کا نشانہ بنا کر کھیت میں پھینکا گیا۔ جنوری ہی میںنوشہرہ میں 9دِنوں میں بچیوں کے ساتھ زیادتی کا 5واں واقعہ پیش آیا۔ ٹیٹارہ میں سفاک ملزم نے چار سالہ ، حیا نور کے ساتھ زیادتی کی کوشش کی اور فرار ہوگیا۔ زوجہ نعیم خان سکنہ ٹیٹارہ نے پولیس کو رپورٹ درج کرواتے ہوئے بتایا کہ’’ میری چار سالہ بیٹی، حیا نور بازار سے چیزخریدنے گئی ،کافی دیر تک گھر واپس نہیں لوٹی، تو میں اُس کی پیچھے گئی اور اس کو ڈھونڈنے کے لیے پہلےآواز یں دیں، پھر چیخ و پکار شروع کردی ۔ اسی دوران حیا نور روتی دھوتی، حواس باختہ سی کھیت سے نکل آئی،جبکہ ملزم شہزاد جائے وقوعہ سے بھاگتا دکھائی دیا ۔‘‘

ہنگو میں تھانہ دوآبہ کے علاقے سروخیل سے لاپتاہونے والی7سالہ بچّی ، مدیحہ کی لاش ، 16 فروری 2020ء کوکھیتوں سے برآمد ہوئی ۔ ہنستی کھیلتی، شرارتیں کرتی، مدیحہ بنت عُمر خان شام کے وقت محلے میں واقع ایک دُکان سے کھانے کی کوئی چیز خریدنے گئی ،جب کافی وقت گزر گیا اوروہ واپس نہ لوٹی تو، محلے میں اس کی تلاش شروع ہوئی۔ بعدازاں، کھیتوں سےاُس کی تشدد زدہ لاش بر آمد ہوئی۔ جب مدیحہ کی لاش ،پوسٹ مارٹم کے لیےڈسٹرکٹ ہسپتال ،ہنگو بھیجی گئی تو رپورٹ میں بچّی کے ساتھ زیادتی کی تصدیق کرتے ہوئے یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ ننھی کلی کو پہلے چاقو کے وار سےاوربعد میں گولیاں برسا کر قتل کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:  نظریہ پاکستان اور زمینی حقائق

یہ غیر انسانی واردات کرنے والا ، الیاس نامی مجرم بچّی کاقریبی رشتے دار ہےاور ابتدائی پوچھ گچھ کے دوران ہی اس نے مدیحہ سے زیادتی کے بعد قتل کا اعتراف بھی کرلیا ہے،جبکہ مقا می جر گے نے بھی اس کا گھر نذر آتش کرنے کے ساتھ خاندان کو علاقہ بدر کر نے کا حکم دیا ہے ۔

اسی طرح راولپنڈی میں بھی ایک ایسا دل خراش واقعہ سامنے آیا، جو انسانوں کے اس معاشرے میںحیوانیت کی ایک ہولناک مثال ہے۔ایک 14سالہ بچّی،جو اپنے والد اور سوتیلی ماں کے ساتھ رہتی تھی، گھریلو ناچاقی کی وجہ سے اُس کی سوتیلی ماں گھر چھوڑ کر چلی گئی، تو باپ کے کام پر جانے کے بعد وہ بچّی گھر میں اکیلی رہتی۔ ایک محلے دار نے باپ کے آنے جانے کے اوقات پر نظر رکھی اور پھر ایک روز گھر میں داخل ہو کر اُسے زیادتی کا نشانہ بناڈالا۔مگر ساتھ ہی یہ کہہ کر خاموش کروا دیا کہ اگر کسی کو کچھ بتایا توباپ کو قتل کردےگا۔درندگی دیکھئے کہ یہ سلسلہ وہیں نہیں رُکا، بلکہ چند روز بعد وہ اپنے ایک دوست کو بھی ساتھ لے گیا اورپھردونوں نے معصوم بچّی کے ساتھ زیادتی کو معمول بنا لیا۔ وحشیوں کو اکیلے گھر میں آتا جاتا دیکھ کر محلے کے ایک بزرگ کا ماتھا ٹھنکااور ایک روز انہوں نے دونوں لڑکوں کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا، لیکن ’’بزرگی‘‘ کا رُوپ دھارے یہ حیوان بھی واقعہ رپورٹ کرنے کے بجائے، جرم میں با قاعدہ حصے دار بن گیا۔ قریباً 6ماہ تک یہ سلسلہ چلتا رہا۔ ایک روز جب بچّی کی طبیعت بگڑ ی اوراس کا طبّی معائنہ کروایا گیا، تو پتا چلا کہ وہ حاملہ ہے، جس پر ساری حقیقت آشکا ر ہوئی اور باپ نے ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج کروائی ۔ اب وہ تینوں شیطان پولیس کی حراست میں ہیں۔

ذرا سوچیں کہ اس پورے عرصے میںبچّی کس ذہنی و جسمانی اذیت سے گزری ہوگی، ملزمان تو پکڑ لیے گئے، شاید انہیں سزا بھی مل جائے، لیکن جو گھاؤ بچّی کی روح پر لگے ہیں، کیا وہ کبھی بھر پائیں گے؟ کیا اب وہ بچّی کسی بزرگ، بڑے کو بھی شفیق، مہربان سمجھ سکے گی…؟؟ ۔ہمیں تو ایسا گمان ہورہا ہے، انسانوں کے اس معاشرے میں انسانیت ہی نایاب ہو گئی ہےکہ سال توبدل رہے ہیں، بچّوں کے حالات نہیں۔