Turkmenistan

ترکستان کی شہزادی

EjazNews

ترکستان میں ایک بادشاہ بنام شاہ کمال بصد جاہ وجلا حکومت کرتا تھا دولت وحشمت، شان وشوکت میں دوسرے بادشاہوں سے بہتروبرتر تھاایک روز شاہی باغ کی سیرکر رہاتھا کہ ایک عجیب و غریب کیڑا نظر آیا۔ شکل وصورت، حرکت ورنگت میں نادِررونایاب پایا تو اس نے اپنے وزیر باتدبیر سے اس کا نام پوچھا۔ بوڑھے وزیر نے کچھ سر ہلایا کچھ داڑھی کھجائی مگر اس کی عقل میں یہ بات نہ آئی کہ وہ کیڑا تھا یا کوئی بَلاتھی۔ مگر چونکہ عجیب وغریب تھا اس لیے بادشاہ کو پسندآیا۔ اب اس کی پرورش شاہی انداز سے ہونے لگی۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ کیڑا پھول کر کُپا مانند کُتا ہو گیا۔

اب تو بادشاہ نہ صرف حیران بلکہ پریشان بھی ہوا۔ سوچا اگر اسی رفتار سے وہ بڑھتا رہا تو نہ جانے کونسا فتنہ وفساد برپا ہو۔
عقل سے کام لیا، قصّہ تمام کیا۔ یعنی قتل کرواکر کھال میں بھس بھروادیا۔ مُنادی کرادی کہ جوکوئی خاص و عام اس جانور کا نام بتائے اس کی شادی شہزادی سے قرار پائے عوام نے اس مردودبَلا کو آگے سے دیکھاپیچھے سے دیکھا۔ اوپر سے دیکھانیچے سے دیکھا مگر کسی کی سمجھ میں یہ بات نہ آئی کہ یہ کیا جنجال، کس جانور کی کھال ہے۔

یہ خبردوردرازملکوںتک جاپہنچی۔ایک ساحر جو طلسم کا ماہر تھا۔ اِنسانی صورت شیطان خصلت، عیاّری میں استاد، مکاّری میں ہوشیارتھا، دھینگامشتی، مارکٹائی جس کا چلن تھا۔

یہ خبرسُن کر مگن ہوا۔شہزادی سے شادی کے خواب بنتادربار میں حاضر ہوا۔ پھر حال اُس واردات کا بادشاہ کے حضور میں اِس طرح ظاہر کیا:

’’اس جانور کانام فیل تن ہے۔ پہلے یہ معمولی ساکیڑاتھا، پھول کر کُتابنا۔اور چند مہینوں میں وہ ہاتھی برابر ہو جاتا پھر ایساقہرڈھاتا کہ خدا کی پناہ!اچھاہواجوحضور نے اس بَلا کا گلاکاٹ دیا۔‘‘

اب تو بادشاہ کو قائل ہوناپڑا۔ ساحر نے شاد ی کا مطالبہ کیا۔ بادشاہ کو اپنے قول کا پاس ضروری تھا۔ اب اسے اپنی حماقت کا احساس ہوا۔ خدا نے آدمی کو ہوش وگوش اس واسطے دیئے ہیںکہ بھلے بُرے کو پہچانے، سنبھل کر چلے، سوچ کر قدم دھرے۔ ایک معمولی بات کابتنگڑ بنایا۔ اپنی لاڈلی بیٹی کو جوصورت وسیرت، قدوقامت میں پریوں سے کم نہ تھی۔ نام عالم آراسچ مچ ماہ پارہ تھی، داؤں پر کیوں لگایا؟ غضب اس کے سر پر کیوں ڈالا؟ اس نے ساحر سے منّت سماجت کی۔
’’دولت چاہے جتنی لے لو، مگرشادی کاخیال دل سے نکال دو‘‘

ساحر جہاں دیدہ،گرگ باراں دیدہ اور بڑا دیدہ دلیرتھا بے ہودہ ہنسی ہنسنے لگا پھڑکڑک آواز میں بولا:
’’آندھی کا کام میوے گِرانا ہے‘لگانا نہیں۔ اگرتم نے وعدہ خلافی کی تو یاد رکھنا، محل کو تہس نہس کردوںگا۔ سلطنت کا نقشہ بگاڑدوں گا اور ساراراج پاٹ اُجاڑدوںگا۔ لوگ میرے نام سے خوف کھاتی ہیں، میرے دام میں پھنسے آج تک کوئی چھوٹا نہیں۔ بس یوں سمجھ لوکہ شیرے میں مکھی پھنسی، پھر اسے آڑنا نصیب نہ ہوا۔‘‘

بادشاہ نے بے بسی سے کہا:
تجھ سے تو بات کرنا آفت ہے
آدمی ہے کہ قیامت ہے
پھر شہزادی سے مخاطب ہوا:
’’میری نورِ نظر! لخت جگر!! جان ودل سے بہتر!! میں بے حد رَنجورُ اپنے قول سے مجبورہوں۔ زروجوہر تولٹاسکتاہوں مگر قسمت کا لکھا مٹانہیں سکتا۔اب تو ساحر کے ساتھ جاناہے۔
ہماری توتقدیر روٹھی قسمت پھوٹی۔‘‘
یہ سن کر عالم آرا ہک دھک رہ گئی۔ خوف سے رخسارزرد، ہاتھ سرد ہوگئے۔ سینے میں سانس رُک رُک کر چلنے لگا۔ جی کو بے قراری ہوئی ۔ غشی طاری ہوئی۔

شاہی اصطبل میں عربی نسل کا ایک گھوڑا تھا۔ صبارفتار، بَرق کِردار، گُلاب اور کیوڑے کے عرق سے غسل دیا جاتا تھا۔ عمدہ میوے، رسیلے پھل کھاتاتھا۔ جیساقدآورویساہی زورآور۔ جتناشاندار اتنا وفادارتھا۔

کمیت سرتاج اس کا نام تھا۔ سیاہی مائل سُرخ رنگ اور بجلی سا مزاج تھا۔ غرض اس طلسمی گھوڑے کا بیاں میں کہاں تک بیاں کروں کہ وہ تو عجوبۂ زماں تھا۔ اس پر شاہ کمال کو کامل یقین تھا کہ یہی گھوڑا شہزادی کی نجات کا باعث بنے گا۔ اب اس کے امتحان کا وقت آگیا تھا۔ دوسرے دِن شاہ کمال نے شہزادی کو باچشم ترگھوڑے پر سوار کیا اور ساحر کے حوالے کیا۔ شہزادی کو حد درجہ افسردہ اور ملول پایا تو اسے دلاسادیا:
کمیت:(فارسی) لاکھی رنگ(سیاہی مائل سرخ) کا گھوڑا جس کی دُم اور ایال سیاہ ہوں۔(فرہنگ آصفیہ)
’’ میں شامتِ اعمال میں گرفتا، مجبوروناچارہوں۔ اگر میرا بس چلتا تو اس طرح جُدانہ کرتا۔ بیٹی غم نہ کھا۔ کون سی ایسی مشکل ہے جو آساں نہ ہو، فقط انسان ہراساں نہ ہو۔ دنیا میں کبھی کچھ ہے تو کبھی کچھ اور۔زمانہ یکساں نہیں رہتا۔ اللہ بڑا کارسازبندہ نواز ہے۔
اس کی ذات پر بھروسہ رکھنا، پھر دیکھنا پردۂ غیب سے کیا نمودار ہوتاہے۔ خدا حافظ! تمہارا اللہ بیلی!!‘‘
شہزادی کی جدائی سے ایک ہنگامہ ماتم برپا تھا۔ درودیوار، زمیں وزماںروتا تھا۔ عالم آراروتی دھوتی، خونِ دل پیتی ساحر کے ساتھ تو چلی پر مڑمڑ کر دیکھتی جاتی تھی۔ کہتی جاتی تھی:
دیکھ لو آج ہم کو جی بھر کے
کوئی آتا نہیں ہے۔ پھر مَرکے

چند میل تک نوکر چاکر ملازم خادم ساتھ رہے پھر وہ بھی دِل پرسِل دھرے واپس ہوئے۔ اب تو عالم آرا کا دل دھڑکنے، کلیجہ پھڑکنے لگا۔ آیاتِ ربانی کلماتِ سبحانی چو کچھ اَزبر تھے ان کا وِرد کرنے لگی۔ یہاں سے وہاں تک صحرا، وہاں سے آسمان تک ویرانی کاپہرہ۔ راہ دشوار، کوئی دوست نہ غم خوار، فقط ایک ساحر خونخوار تھا۔ ساحر کا گھوڑا آگے کمیت سرتاج پیچھے تھا ۔شہزادی نے دُعا مانگی:
’’اے پاک پروردگارِ عالم! مجھے اس ساحر جفاکار، بدشعار سے نجات دے۔ میں ایک آدم زاداور وہ ظالم آتش نہاد، کس طرح اس سے بیاہ کروں گی۔ کیسے نباہ کروں گی۔ میری تو زندگی تباہ ہوئی ایسی خطا مجھ سے کیاہوئی جو اس عذاب میںپڑی۔ اب تو تیرا ہی سہارا ہے ۔رحم فرما۔‘‘ دل سے جوبات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے۔
پَر نہیں، طاقت پرواز مگر رکھتی ہے۔ (اقبالؔ)

شہزادی نے سچی دل سے دُعا مانگی تو بادلوں کو چیرتی آسمان پر پہنچی۔ قدرت نے اپنا کرشمہ دکھایا۔ کمیت سرتاج کو قوت گویائی عطا فرمائی۔ سرتاج بولا:

’’اے آقازادی! کچھ اندیشہ نہ کیجئے۔ خداکریم ورحیم ہے۔ جو بَلاآئے میرے سرآئے۔ آپ کی جان نہ جائے۔ بادشاہ کا نمک خوار،فرماں بردارہوں۔ ایک کیا سوجان سے نثار ہوں۔ ساحر بداطوار سے نجات دلاؤں گا۔ میرے بال مانندلگام مضبوطی سے تھام لیجئے اور آنکھیں بند کر لیجئے۔‘‘گھوڑے کو بولتا دیکھ شہزادی ازحد خوشی ہوئی۔ چند لمحوں بعد اُسے محسوس ہوا کہ گھوڑا اُڑا جا رہا ہے۔ وہ صورتِ حال دیکھ کر ساحر بے حال ہوا۔ بہت چیخا چلایا۔ افسُوس پڑھا۔ دانے پھینکے، سحر کیامگر سے بے اثر۔ کمیت سرتاج تو سرتاپا بجلی بنا تھا۔ چشم زدن میں نظروں سے اوجھل ہو گیا۔ ساحر نہایت غضبناک ہوا۔

یہ بھی پڑھیں:  سنہری پرندہ

آتشِ غضب سے جل کر خاک ہوا۔ پَیرزمین پر مارا، غصہ یوں اُتارا پھر دانت پیس کرکہا:۔
’’ کہاں بچ کر جاؤ گی؟ آکاش پاتال کھنگا لوں گا، تمہیں ڈھونڈ نکالوں گا۔‘‘

کھسیاناہوااپنے ملک کو بے نیل مُرا واپس ہوا۔
اب کمیت سرتاج کے کارنامے سُنو۔

منزلوں پر منزلیں بس طے کرتا وہ ایک سر سبز وشاداب مقام پر رُک گیا ۔ وہاں ایک محل طرح دار، ضواہر نگار، ہیروں سے جڑا، سونے سے مَڑھا، دور سے چم چم چمک رہا تھا۔ باغ پاکیزہ پرفضا، گل زار جنت بہار تھا۔ دشت مہکتا تھا ، بلبل چہکتا تھا۔ کوئل کو کہتی تھی۔ مورتی تھرکتی تھی۔ فرش زمرّد کا بچھا تھا جس پر قدم بہکتا تھا۔ درخت میوے دار پھولے پلے بے شمار، قطار در قطار گویا کسی کے انتظار میں باوقار کھڑے تھے۔ ان کا سایہ فرش پر چھایا تھا۔ شہزادی کو دیکھ کر دریا بھی فرطِ خوشی سے موج میں آیا، مستوں کی طرح جھوم کے لہرایا۔ بگلے ایک پاؤں پر کھڑے بغلوں میں چونچ دابے کھڑے تھے۔ گھوڑابولا:

’’آقازادی! حکم خداوندی سے آپ کو یہاں تک پہنچادیا۔ اس محل میں میں آپ کو قیام کرنا اور قسمت کے مہربان ہونے کا انتظار کرنا ہے۔‘‘
ساحر کے شوروشر زورِ سحر سے نجات پانے پر عالم آرا سجدۂ شُکر بجا لائی۔ دیر تک فرش سے پیشانی نہ اُٹھائی۔ غم سے آزاد نہایت شاد ہوئی۔ اپنے وفادار گھوڑے کُمیت سرتاج کے ساتھ زندگی کے اّیام آرام سے گزارنے لگی۔

ایک دن ایران کا شہزادہ سَیر کرتے اس جزیرے تک جا پہنچا جہاں عالم آرا قیام پذیر تھی۔ شہزادی گُل گشت کر رہی تھی۔ اس کانازوانداز، حُسن ونزاکت، حرکات وسکنات دیکھ کر شہزادہ اسے پری سمجھا، کہا:

’’اے مہربان پری! گُستاخی معاف!! میں ایک تھکا ماندہ مُسافراتفاق سے راہ بھولا اس طرف آنکلا۔ میں نہیں جانتاکہ یہ محل زرنِگار یہ چمن پپر بہار کس کاہے؟ ناگاہ یہ بات ہوئی کہ آپ سے ملاقات ہوئی۔ اگر آپ اجازت دیں تو کچھ دیر یہاں آرام کروں۔‘‘

عالم آرا اس کی سادگی پر مُسکرائی۔ اس ویرانے میں ایک آدم زاد کو دیکھ کر پھولے نہیں سمائی۔ ہنس کر کہا:
’’ اے مُسافر! میں پری وری نہیں شہزادی ہوں۔‘‘

پھراس نے سارا حال اوّل تا آخر سُنایا۔ مُسافر نے اپنا تعارف یوں کرایا:

’’ میں ایران کا شہزادہ شاہ عالم ہوں۔ یہ علاقہ ہماری سرحدی میںہے۔ شکار کی غرض سے نکلاتھا‘ بھٹک گیا۔اچھا ہوا بھٹک کر اِدھر آنِکلا۔ اب میرے ساتھ چلئے۔آپ کو شریک حیات بناؤں گا۔‘‘

عالم آرانے سرجھکاکر کہا:
’’حضور کی مرضی کی پابند ہوں،جوحکم ہو دل وجان سے رضامندہوں۔‘‘
اس ویران محل کو چھوڑ دونوں ایران گئے۔ وفادارگھوڑا بھی ساتھ تھا۔ محل میں مُبارک سلامت کا شور بلند ہوا۔ دونوں کی شادی بڑے اہتمام سے ہوئی۔ زندگی عیش وآرام سے گُزرنے لگی۔

ایک روز شاہی مخبروںنے خبر دی کہ پڑوسی ملک کا بادشاہ ایران پر حملہ آور ہوا چاہتا ہے۔ شاہ ایران بہرام نے سپہ سالار کو حکم دیا کہ دشمن کی سرکوبی کے لیے روانہ ہو جائے۔ شاہ عالم نے کہا:’’اباحضور میں بھی جنگ میں جاؤں گا۔‘‘

بہرؔام نے سمجھایا: جانِ پدر! ابھی تم ناتجربہ کار ہو۔ جنگ پر جانا مناسب نہیں۔‘‘
’’اپنے وطن کی حفاظت کرنا میرافرض ہے۔ ابا حضور! فوج میں رہوںگا تو سپاہیوں
کے حوصلے بھی بلند رہیں گے۔ آپ کچھ تَردُّد نہ فرمائیں۔

جانے کی اجازت فرمائیں‘‘
شاہ عالم کی ضد کے آگے بہرؔام کی ایک نہ چلی۔ آخر کار اجازت دے دی۔ جانے سے پہلے شاہ عالم نے عالم نے عالم آرا کو تسلی دی۔ اور کہا:

’’ جانِ عالم! دُعا کرنا کہ سرخ رو واپس لوٹوں۔ میرا انتظار کرنا۔‘‘
قصہ مختصر۔ شاہ عالم لشکرجرار فوج بے شمار‘ بہادرصف شکن‘ سردار فیل تن لے کر روانہ ہوا۔ لیکن مہم طول کھینچ گئی۔ اس دوران عالم آرانے ایک خوبصورت بچی کو جنم دیا۔ نام نورعَالم تجویزہوا۔

اب ذرا بیان اس ساحر نفرمان کا ہوجائے۔
ایک سال تک جھاڑ پھونک، ٹونے ٹوٹکے کا عمل کرتا رہا۔ ہرگھٹ کی ٹھیکر یاں جمع کرتا رہا۔ تب جا کر کچھ علم ہوا۔طلسمی آئینہ میں دیکھا کہ شاہ عالم جنگ پر جا رہا ہے۔ محل میں عَالم آرا نور عالم کے ساتھ ہنس کھیل رہی ہے۔ یہ منظر دیکھ کر اس کے سینے میں خنجر سا چھبا۔ انتقام کی آگ بھڑکنے ، رگِ شرارت پھڑکنے لگی۔ پھر منظر بدلا۔ دیکھا کہ ایک نامہ بَر گھوڑے پر اُڑا چلا جارہاہے۔ اس کے پاس ایک خط تھا۔ جس میں بچی کی پیدائش کی خبر تھی۔ ساحر فوراً روانہ ہوا۔ ایک سرائے میں قیام کیا۔ اس راہ سے نامہ بر کو جانا تھا۔ آرام کی غرض سے وہ سرائے میں ٹھہرا۔ ساحر نے اس کی خوب خاطر کی۔ جب وہ چلنے کو ہوا تو ساحر نے کہا:
’’ ارے بھائی! ایسی بھی کیا جلدی ہے۔ تھکے ماندے آئے ہو۔ سفر دراز ہے۔ رات
یہیں قیام،کچھ آرام کرو۔ صبح تازہ دم سفر کرنا۔‘‘

نامہ براس کی باتوں میں آگیا۔ جب وہ سو گیا تو ساحر نے خط نکال کر مضمون پڑھا اور جلاکر راکھ کر دیا۔ دوسرا خط یوںلکھا:
’’ تمہاری بیوی نے ایک پلیّ کو جنم دیا ہے۔ اسے زندہ رکھیں یا مروا دیںــ‘‘

پھر اس خط کو شاہی لفافے میں رکھ کر مُہر بند کر دیا۔ صبح ہوتے ہی نامہ براپنی منزل کی طرف چلا۔ جب شاہ عالم نے خط پڑھا تو جی سنسنایا، کلیجہ منہ کو آیا۔ یقین نہ آیا کہ ایسا ہوا ہو گا۔ جواب لکھا: ’’میرے آنے تک دونوں کی زندہ رکھئے۔‘‘ نامہ بر پھر اس سرائے میں ٹھہرا۔ ساحر تو منتظر تھا۔ رات کو خط نکال کر مضمون بدل دیا۔

’’ میری بیوی اور پلیّ کو ویران جنگل میں چھوڑ دو جہاں آب ودانہ تک نہ ملے اور کُمیت
سرتاج کو بھاری زنجیروں سے جکڑدو۔‘‘
اس طرح ساحر نے جُدائی و بربادی کا نقشہ بنایا۔ بہرؔام یہ خبر وحشت اثر پڑھ کر حیران ہوا۔ شہزادی نے نامہ بر کو دیکھا تو خط کا جواب طلب کیا۔ معاملے کی نزاکت کو بھانپ کر بہرؔام نے جھوٹ کا سہارا لیا۔
شہزادی نے پوچھا:

یہ بھی پڑھیں:  اللہ کادوست

’’ عالم پناہ! آپ اس خط کو مجھ سے چھپانا کیوں چاہتے ہیں؟ خدانخواستہ کوئی منحوس خبر تو نہیں۔ـ‘‘
بہرؔام نے لرزتے ہاتھوں سے خط دے دیا۔ جسے پڑھ کر عالم آرا کا چہرہ زرد، وست و پا سرد ہوگئے۔ اس کا دل الٹنے لگا، جان دینے کو جی چاہنے لگا۔ دل پر ہاتھ دھر رونے لگی۔ گرتی پڑتی

دیوانہ وار، بادلَ بے قرار محل میں گئی۔ بچیّ کو گلے سے لگایا۔ خوب پیار کیا۔ شوہر کا حکم ماننافرض تھا۔ جانے کی تیاری ہوئی۔ بہرؔام نے اسے بہت روکا مگر اس نے ایک نہ مانی اور جنگل جانے کی ٹھانی۔ بہرؔام نے آنیسوں جلیسوں کو ساتھ کرنا چاہا، زروجواہر کی تھیلیاں دیں مگر اس پر بھی وہ راضی نہ ہوئی۔ فقط ایک خنجر اور بچی کو لے کر تن تنہا چل پڑی۔ شہزادی عالم آرا، بادلِ پارہ، خستہ تن بقول میرحسنؔ
نہ سُدھ بدھ کی لی اور نہ منگل کی لی
نکل شہر سے راہ جنگل کی لی

کہاں وہ شہزادی‘ نازوں پلی‘ پھولوں میں تلی کہاں یہ سفر پیادہ پائی‘ کوئی رہبر نہ ہمدرد‘ ٹٹونہ گھوڑا، جنگل جنگل صحرا صحرا ماری ماری پھرتی تھی۔ جہاں تک نظر کام کرتی تھی۔ بیابان سنسان دکھائی دیتا تھا۔ کہاں جانے؟ کس سے پوچھے؟ کون بتائے؟ وہ ہے اور صحرائے ہولناک‘ جدھر دیکھو تودَہ خاک، نہ سبزہ زار نہ برگ وبار۔ بھوک پیاس کی شِدّت سورج کی حدّت کبھی دیکھی نہ سنی۔ ریت کی گرمی سے تلوے جلتے تھے۔دوگام قدم نہ اُٹھتے تھے۔ پاؤں میں چھالے پڑے، اب تو گھر پہنچنے کے بھی لالے پڑے۔ کبھی کوئی تالاب نظر آیا تو پانی پی لیا نہیں تو آنسو پی لیا۔ ایک معصوم ننھی سی جان وہ بھی پریشان۔ ایک سہارا سرتاج کا تھا سو وہ بھی تاراج ہوا۔

ساحر نے طلسمی آئینہ میں منظر دیکھا تو خوشی سے اُچھل پڑا۔ پلک جھپکتے ہی وہاں پہنچا۔ شہزادی اسے پہچان گئی۔ جان گئی کہ ساری مصیبتیں اس کی لائی ہوئی ہیں وہ ستم اسی نے ڈھائے ہیں۔ دِل میں اِرادہ کر لیا کہ جان دے دیگی پرجیتے جی اس کی مُراد پوری نہ ہونے دے گی۔ اچانک اس طلسمی گھوڑے کا خیال آیا زور سے پُکارا۔
کُمیت سرتاج ! کہاں ہو؟ یہاں جلدآؤ ۔ورنہ میں ساحر کے ہاتھوں مرچلی۔‘‘

بادلوں کو چیرتی شہزادی کی پُکار‘ نالہ وفریاد گھوڑے کے کانوں میں پڑی جو بے آب ودانہ کال کوٹھری میں بند زنجیروں سے جکڑا تھا۔ اس نے زور لگایا مگر زنجیریں جھن جھناکر رہ گئیں۔ شہزادی نے پھر پُکارا۔ اب کی بار گھوڑے نے ایسا زور مارا کہ زنجیریں کچی دھاگے کی طرح ٹوٹ گئیں۔آندھی اور طوفان کی طرح اُڑتا شہزادی کے پاس پہنچا۔ساحر کے سر پرایسی ٹاپ ماری کہ وہ اوندھے مُنہ گرا اور خاک چاٹنے لگا‘ پھر شہزادی اور بچی کو پشت پر سوار وہاں سے فرار ہوا۔ ساحر نے دوبارہ منہ کی کھائی۔ طلسمی گھوڑا ایک جگہ رُک کر پُر درد لہجے میں بولا:

’’ میری جان آپ پر قربان! زنجیریں توڑنے سے میرے پاؤں
شل، بند بندبے کل، بدن عرق، پسینے میں غرق ہوا جا رہا ہے۔
اب میری موت یقینی ہے۔‘‘
’’ یوں نہ کہو میرے جاں نثار ساتھی۔ میرے معصوم بچی کا کیا ہو گا۔

’’ پریشان نہ ہوں آقازادی! مارنے والے سے بچانے والے کے ہاتھ لمبے ہوتے ہیں۔ گہرے گھاؤ بھرتا ہے، وقت مرہم بڑا ہے۔ جس طرح میں کہوں عمل کیجئے۔ اَجل میرے سَر پر کھڑی ہے۔ جب میں مَر جاؤں،سَر میرا کاٹ کر یہیں دفن کیئجے گا۔ پیٹ چاک کر کے بچے سمیت میرے قلب سما جائیے گا۔ ایال کے چند بال کاٹ کر رکھ لیجئے گا۔ جب کوئی مصیبت در پیش ہو بازو پر باندھ لیجئے گا۔‘‘

اتنا کہہ کر گھوڑے نے دم توڑا،شہزادی کا ساتھ چھوڑا۔ اس کی لاش دیکھ کر دِل پاش پاش ہوا۔ آنسو تھے کہ تھمتے نہ تھے۔ نیناں ایسے برستے تھے کہ ساون کی جھڑی بھی کھڑی شرمائے۔ اس سے بہتر کیا عمل ہے کہ حیوان کا احسان انسان پر ہو۔ دل پر جبر کرکے سرکاٹ کر دفن کیا۔ بال کاٹے، پیٹ چاک کیا۔ بچی سمیت اس میں سماگئی تو اسے نیند آگئی۔ جب آنکھ کھلی تو ماحول دِگر پایا۔ خود کو ایک محل میں پایا۔ لونڈی ، باندی، پہرے دار خدمت گار، سردار نیزہ دار ادب سے جُھکے شہزادی کے حُکم کے منتظر تھے۔ عالم آرا نے جو یہ سامانِ عیش وعشرت پایا‘ جی کو قدرے آرام آیا۔ کُمیت سرتاج کی یاد میں لکڑی کا ایک گھوڑا بنوایا۔ ہر چند کہ محل میں دُنیا جہاں کی نعمتیں میسّر تھیںمگر شہزادی غم کے آنسو پیتی تھی۔ اپنے لاڈلے نورِ نظر نور عالم کو دیکھ کر جیتی تھی۔ دِل کی حالت ابتر تھی۔

کھائے جاتا ہے کوئی سینے کو
آگ لگ جائے ایسے جینے کو (جوشؔ)
کِسی مقام پر قرار حاصل نہیں تھا۔ اس کیفیت میں کئی سال بیت گئے۔

اب اُدھر کی سنئے۔
جب جنگ ختم ہوئی تو شاہ عالم بیوی بچیّ سے ملنے کو بے قرار ہوا۔ محل میں پہنچتے ہی پوچھا:
’’ میری بیوی اور بچہّ کہاں ہیں؟‘‘

یہ سن کر شاہ بہرام سُن ہوا۔ پھر آپس کی بات چیت سے یہ بھید کُھلا کہ شاہ نے اور نہ شاہ عالم نے ایسا کوئی پیغام کوئی خط بھیجا تھا۔ بہرام نے بطور ثبوت وہ خط پیش کیا۔ شہزادے نے تحریر میں فرق پایا تو نامہ بر کو بُلایا۔ بہرام نے غصّے کی نگاہ سے اسے گھُورااور پوچھا:’’ سچ سچ بتا‘ خط کا مضمون کس نے بدلا؟‘‘ نامہ برتھر تھر کانپنے لگا ۔ دماغ پر زور دیا تو سرائے کے میزبان کا خیال آیا ۔ سارا ماجرا کہہ سنایا۔ یہ سُن کر شاہ عالم گرفتارِ رنج والم‘ مبتلائے غم ہوا۔ جی سنبھالے نہیں سنبھلتا تھا۔ دِل کو ہاتھوں سے ملتا تھا۔ وزیر زادے کو ساتھ لے کر عالم آرا کی تلاش میں چل کھڑا ہوا۔

جنگل جنگل مار امارا پھرا۔ صحرا کی خاک چھانی۔ آخر حکم خداوندی سے اس جزیرے تک پہنچ گیا جہاں شہزادی کا محل تھا۔ شاہ عالم ایسا تھا تھک کر چُور ہو اکہ دو قدم چلنا بھی منظور نہ ہوا۔ اپنے دوست وزیر زادے سے کہا کہ محل میں جا کر کچھ کھانے پینے کا انتظام کرے۔ شہزادہ نو رعالم نے اجنبی مہمان کا استقبال کیا۔ کرسی پر بٹھا احوال پُرسی کی۔
’’ کیا نام ہے؟ کہاں مقام ہے؟ کیوں آئے ہو؟ کسی نے بھیجا ہے یا ازخود آئے ہو؟‘‘
بچی کے یوں پٹ پٹ بولنے پر وزیر زادہ مسکرایا‘ بولا:
’’خوب کِیا جو ایک ہی سانس میں سب کچھ پوچھ لیا۔‘‘
’’خوب کیاہے خراب کیا ہے؟ ثواب کیا ہے عذاب کیا ہے؟ ہم نہیں جانتے۔‘‘
’’ مگر ہم تو آفت رسیدہ، خانماں برباد ہیں۔ رات کو چین نہ دِن کو آرام۔ دانہ پانی حرام ہے۔ یہ زندگی تو بس ہمارے لیے ناگ پھنی بنی ہے۔ میاںخونِ دِل پیتے ہیں‘ زخم جگر سی سی کر جیتے ہیں۔ مقام فرحت افزادیکھا تو دل کی راحت ملی۔ پھُولوں کی بو سے دماغ خوش ہوا۔ تو قدم خود بخود اس طرف لے آئے۔ کسی سے عداوت نہیں رکھتے کہ ہمارا پیشہ شرافت کا ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھیں:  انوکھا چور

ننھے شہزادے نے دستر خوان سجانے کا حکم دیا۔ تب وزیر زادے نے کہا:
’’اے ننّھے میزبان! تم پر جان قربان!! باہر میرا یاک دوست بے سہار‘غموں کا مرا، زخموں سے چُور بے حدر رنجُور جاںَ بلَب ہے۔ پہلے اسے کچھی پیش کردوں تو اس کی جان میں جان آئے۔‘‘

نور عالم نے اسے بھی عَزت و حُرمت سے بُلایا۔ اعزازو اکرام سے محل کے اندر لایا۔
دسترخوان عالیشان آراستہ کیا۔ کھانے مزے دار نمکین، میوے رنگ دار شیریں‘ پیش کیا۔ مہمان داری کے تمام حقوق ادا کئے۔ عالم آرا نے حلمپن سے دیکھا تو اپنے سرتاج شاہ عالم کو پہچان گئی۔ دل کا کنوں کھل گیا۔ بچیّ کو الگ کمرے میں بُلا کر اچھی طرح سکھا پڑھادیا۔بچہ ہوشیار ہونہار تھا۔ ماں کے اشارے کو سمجھ گیا۔ عالم آرا پردے کی اوٹ میں جا بیٹھی۔ شہزادہ نور عالم نے انھیں آداب کیا۔ دوبارہ کھاناپیش کیا۔ شاہ عالم نے کہا:

’’ عزیز بچی! ہم تو شِکم سَیر کھا چکے۔ اب تم بھی کھالو۔‘‘
’’ہم بھی کھا چکے۔ مگر ہاں! ہمار گھوڑا ابھی تک بھوکاہے۔‘‘
یہ کہہ کر طشتری لکڑی کے گھوڑے کے سامنے رکھ دی۔ شاہ عالم اس کی نادانی پر ہنسا‘
بولا: ’’ بھلا لکڑی کا گھوڑا بھی کچھ کھاتا پیتا ہے؟ً
’’ کیوں نہیں! جب ایک عورت پلی کو جنم دے سکتی ہے تو بے جان گھوڑا بھی کھا سکتاہے۔‘‘
اب تو شاہ عالم چونکا۔ موقع کی نزاکت کو سمجھا۔ پہچان گیا کہ اسی کا لختِ جگر ہے۔

گلے لگا کر خوب پیار کیا۔ تب عالم آرا بھی سامنے آئی۔ دونوں نے اپنی اپنی بپتا سُنائی غلط فہمی دور ہوئی۔ دِل صاف ہوئے۔ برسوں کے بچھڑے ملے۔رنج والم دور ہوئے۔ سب مسرور ہوئے۔ کچھ روئے کچھ ہنسے۔ اب سب واپس چلنے کو ہوئے۔
ابھی چند میل چلے تھے کہ فضا پر قدم مارتا، پھنکارتا ایک سیلابِ بَلا پھراُٹھا۔ جب ذراگر دوغبار چھٹا تو وہی چھٹا ہوا بدمعاش، چھٹی کابگڑا‘ ابلیس کا چیلا ساحر پھٹے بیگن ساچہرہ لئے مُنہ پھاڑے سامنے کھڑا تھا۔دانت چہارے بے ہودہ ہنسی ہنس رہا تھا عالم آرا نے کہا:

’’میرے سرتاج! یہی وہ بد ذات کمینہ صفت ہے جِس نے ہم سے کُمیت سرتاج کو چھینا۔ ہمیں انگاروں پر لوٹنے پر مجبور کیا۔ کوہ ستم ڈھایا۔ حق تو یہ ہے کہ اس کی وجہ سے ہم نے بہت سے رنج کھنیچے۔اس کی بوٹیاں کات چیل کوؤں کو بانٹ دیجئے۔ بَلا کو دفع کیجئے۔

اب تو شاہ عالم کا پارہ چڑھا‘ اس سے پیشتر کہ وہ ساحر پر چڑھ بیٹھتا، عالم آرا نے کُمیت سرتاج کے بال نکال اس کے بازو باندھے اور دُعا کے لیے ہاتھ اُٹھائے۔

شاہ عالم شیر کی طرح دہاڑا۔
’’ ارے او جادو کا دیوانہ، آفتِ زمانہ، زِندگی عزیز ہے تووہیں سے پلٹ جا۔ شیطانی چکرو مکر چھوڑ صراطِ مستقیم پرآ۔ اے بدی کے پیکر عُجلت نہ کر! اس جنگ وجدل کی راہ میں پاؤں نہ دھر۔ اپنے خون سے ناحق ہاتھ نہ بھر۔
تو نے تعلیم کِس سے پائی ہے۔ ہاتھا پائی فقط سکھائی ہے۔ (شوقؔ)
اگر تو سامری کی اولاد ہے ہم بھی شمشیر زنی کے کمال میں طاق‘ شُہرہ آفاق ہیں۔ ہم نے بڑے بڑے سورماؤں کو بزورِشمشیر زیروزَبر کیا ہے۔

تو کیا اور تیری اوقات کیا۔ ساحر کو یوں مارتے ہیں جسے کوئی جُوں‘ کھٹمل کو مارتا ہے۔ یادر کھ! تُو نے وہ وہ رنج ومحن دئیے مگر تجھے تو گوروکفن تک نہ ملے گا۔ خاک ہو کر ہوا کے ساتھ اُڑتا پھرے گا۔ تُوتو انسانیت کا زبردست مُجرم ہے۔ لازم ہے کہ سخت سزادوں۔‘‘
یہ کہہ کر شاہ عالم مانند شیرِ ظالم ، ظالم ساھر کی طرف لپکا۔ ساحر نے افسوس کیا۔ مُنہ ہی منہ میں بدبدانے لگا۔ طلسمی عَصا کھڑا کیا۔ دم پڑھ کر نایل کھینچ کر مارا۔ مگر یہ کیا؟

سحر نے کچھ کام نہ کیا۔ شاہ عالم کا کام تمام نہ کیا۔ ناریل پانی پانی ، گُداپاش پاش نہ ہوا۔
یہ سب ایال کے بال کا اثر تھا۔ سحر کا کا وار پارنہ ہوا۔ اب تو شاہ عالم کی آنکھوں سے انگارے برسنے لگے۔ پھر للکارا۔
’’ اے نابکار! خبردار! کیا کرتا ہے؟ اگرہم چاہیں تو آسمان کو زمین پر گِرادیں، کوہ پُر شکوہ کو بنیاد سے اُکھاڑ کر آسمان سے لگا دیں۔ اچھا تو لے! اے جادو گر بھالو۔ بھوت پلید کے خالو! تجھے ہلاک پیوند خاک کرتا ہوں۔ مانند ناریل تیرا بھیجا پاش پاش کرتا ہوں۔ تجھے مارتا‘ فنا کے گھاٹ اُتارتا ہوں۔ لے سنبھل۔‘‘

ساحر کو جتنے جنترمنتر زبَر تھے سب آزمائے‘ مگر مات کھائے۔ اب تو وہ گھبرایا، تھرایا‘ پیروں تلے زمین کھسکنے لگی‘ آسمان گھومنے لگا، موت سر پر ناچنے لگی، پلٹا، بھاگنے لگا۔
شاہ عالم نے بڑھ کر تلوار کا ایسا وار کیا کہ کھیرا ککڑی کی طرح سَرتن سے جُدا ہوا۔ پھر گھٹا اٹھی۔ بجلی کڑکی، اندھیرا چھا گیا۔ شورو غوغا ایسا بلند ہوا کہ کانوں کے پردے پھٹے جاتے تھے۔ ایسی آندھی چلی کہ خدا کی پناہ! ساحر کی لاش کو آندھی اُڑا کر لے گئی۔
خس کم جہاں پاک۔ مطلع صاف ہوا۔ سب ہنسی خوشی وہاں سے چلے،طَبل شادیا نے بجاتے، مُبارک سلامت کاشور مچاتے شہر میں داخل ہوئے۔ شاہ بہرامؔ نے تخت وتاج شاہ عالم کو سونپا۔ وزیر زادے کو وزیر مقرر کیا۔ ملک وسلطنت سے منہ موڑا۔ عیش وعشرت کو چھوڑا۔ فقیرانہ ٹھاٹھ کیا۔ اور عبادت میں مشغول ہوا۔

کیٹاگری میں : بچے