Islam_jihad

جہاد کی حقیقت

EjazNews

جہاد جہد کے معنی طاقت سے مشتق ہے جس کے معنی محض اللہ کا بول بالا کرنے کے لئے اپنی طاقت کو پانی کی طرح بہا دینا ہے جس جنگ میں یہ مقصد نہ ہو بلکہ صرف عصبیت، وطن، قوم، اظہار مردانگی اور توسیع سلطنت مقصود ہو وہ جہاد نہیںہے۔ چنانچہ آپ صحابہ کرام کے جہاد میں ملاحظہ کریں گے کہ ان کے جنگی معرکوں میں صرف اور صرف ”اعلاءکلمتہ اللہ “ مقصود تھا اور کوئی دوسرا مطلب نہیں تھا۔

جہاد کی اقسام

دفاعی جہاد
اقدامی جہاد
(1) دفاعی جہاد یہ ہے کہ کوئی کافر قوم خود مسلمانوں پر لشکر کشی کرے اور حملہ آور ہو تو اس سے مدافعت کے لئے ان کا مقابلہ کرو اس قسم کے جہاد کا حکم سورة بقرہ آیت 190 اور سورة حج آیت 39 میں موجود ہے۔
(2) اقدامی جہاد یہ ہے کہ جب کفر کی قوت اور شوکت سے اسلام کی آزادی کو خطرہ ہو ایسی صورت میں اسلام اپنے پیرو کاروں کو حکم دیا ہے کہ تم دشمنان اسلام پر جارحانہ حملہ اور ہامان اقدام کرو تاکہ اسلام اور مسلمان کفر اور شرک کے فتنہ سے محفوظ ہو جائیں اور بغیر کسی خوف و خطرہ کے امن و عافیت کے ساتھ خداوند ذوالجلال کے احکام بجا لا سکیں۔ اور عقل و فراست کا تقاضا بھی یہی ہے کہ خطرہ کو پیش آنے سے پہلے ختم کر دیا جائے جس طرح سے شیر اور چیتے کو حملہ کرنے سے پہلے قتل کرنا اور سانپ اور بچھو کو کاٹنے سے پہلے کچل دینا ظلم نہیں اعلیٰ درجہ کا تدبر ہے۔

جہاد کا حکم کب ہے ؟

دین اسلام کے کفر کے فتنہ سے اطمینان کی تین صورتیں ہیں۔
(1) مسلمانوں کے سامنے کافر اپنے ہتھیار ڈال دیں، مسلمانوں کی رعایا بن کررہیں اور جزیہ دے کر اسلامی حکومت میں رہیں یا جزیہ کی بجائے مسلمانوں کے غلام بن کر رہیں۔
(2) کافر مسلمانوں سے امن کا معاہدہ کر لیں۔
(3)یا کافر مستامن بن جائیں یعنی مسلمانوں سے امن اور پناہ طلب کر کے ان کی پناہ میں آجائیں۔ ان صورتوں میں کافروں سے جہاد کرنے کا حکم اٹھ جاتا ہے ۔
اسلامی مملکت میں رہنے والے کفار کا حکم
جو غیر مسلم اسلامی حکومت میں رہتے ہوں وہ از روئے احکام اسلام، عدالتی اور شہری احکام میں مسلمانوں کے برابر ہیں ان کی جان و مال اور آبرو کی حفاظت مسلمانوں اور اسلامی حکومت پر فرض ہے بشرطیکہ غداری اور خفیہ سازشیں نہ کریں۔

جہاد کی مثال

جب کسی کے ہاتھ میں پھوڑا یا پھنسی نکل آئے تو پہلا درجہ مرہم کا ہے تاکہ اس کے لگانے سے فاسد مادہ نکل جائے یا تحلیل ہو جائے۔ دوسرا درجہ نشتر کا ہے کہ شگاف دیدیا جائے۔ تیسرا درجہ یہ ہے کہ ڈاکٹر اس عضو کو کاٹ دے تاکہ باقی اعضائے صحیحہ اس سے متاثر نہ ہوں،ایسی صورت میں اگر ڈاکٹر کسی کا ہاتھ یا پیر کاٹ دے تو سب اس کے ممنون و مشکور ہوتے ہیں اور گرانقدر فیس کا نذرانہ پیش کرتے ہیں اور مدت العمراس کی تعریف کیا کرتے ہیں کہ اس نے بیمار عضو کو کاٹ کر باقی عضاءکو گلنے سڑنے سے بچا لیا اور کوئی شخص ڈاکٹر کے اس فعل کو وحشیانہ اور ظالمانہ فعل نہیں کہتا ،اسی طرح سے اطبا ئے روحانی (انبیاءاور رسل) سب سے پہلے کفر کے پھوڑے پر وعظ و نصیحت کا مرہم رکھتے ہیں اگر اس سے کوئی فائدہ نہ ہو اور کفر کے مٹنے کی امید منقطع ہو گئی ہو اور یہ خطرہ پیدا ہو جائے کہ یہ مرض متعدی ہو کر مومنین کو بھی خراب کر دے گا تو پھر اس عضو کفر (یعنی کافروں) کو کاٹ ڈالتے ہیں تاکہ یہ خبیث مادہ آگے نہ بڑھنے پائے۔

دوسری مثال

چوروں اور رہزنوں کی سرکوبی حکومت لوازم اور فرائض میں سے ہے اگر نہ کی جائے تو نظام حکومت درہم برہم ہو جائے۔ اسی طرح سے جو لوگ دولت ایمان کے خواہشمند ہوں اور یہ چاہتے ہوں کہ ہم مومنوں سے ایمان اور حق کی دولت لوٹ کر لے جائیں اور معاذ اللہ اہل حق کو بھی اپنے جیسا رہن یعنی کافر بنا لیں اور خداوند کے وفاداروں کی فہرست سے اپنا نام کٹا کر باغیوں کی جماعت میں شامل ہو جائیں تو ایسے لوگوں سے جہاد و قتال کرنا عین حکمت و مصلحت ہو گا بلکہ فرض اور واجب ہو گا۔

جہاد کا مقصد

جہاد کے علم سے خداوند تعالیٰ کا یہ ارادہ نہیں کہ کافروں کو یکلخت موت کے گھاٹ اتار دیا جائے بلکہ مقصود یہ ہے کہ اللہ کا دین دنیا میں حاکم بن کر رہے۔ اللہ کے فرمانبردار عزت کے ساتھ زندگی گزاریں اور امن و عافیت کے ساتھ خدا کی عبادت اور اطاعت کر سکیں اور کافروں سے کوئی خطرہ نہ رہے کہ وہ ان کے دین میں خلل ڈال سکیں۔ اسلام اپنے دشمنوں کے نفس وجود کا دشمن نہیں بلکہ ان کی ایسی شان و شوکت کا دشمن ہے جو اسلام اور اہل اسلام کے لئے خطرہ کا باعث ہو۔

یہ بھی پڑھیں:  غیر مسلموں کے تعلقات(اسلامی تعلیمات کی روشی میں)

جہاد اور جبر

جہاد لوگوں کو جبراً مسلمان بنانے کے لئے نہیں بلکہ اسلام کی عزت اور ناموس کی حفاظت کے لئے ہے اور دنیا کی کوئی قوم اور عالم کا کوئی مذہب بدوں حکومت کے اپنی حفاظت نہیں کرسکتا۔ مخالفین اسلام آسمان اور زمین کو سرپراٹھائے ہوئے ہیں اور زبان اور قلم سے یہ ڈھنڈورا پیٹتے رہتے ہیں کہ اسلام بزور شمشیر پھیلا ان کو یہ معلوم نہیں کہ شریعت اسلامیہ میں مسلمان وہ شخص کہلاتا ہے جو برضا و رغبت حقانیت اسلام کا زبان سے اقرار اور دل سے اس کی تصدیق کرے اور جو شخص کسی طمع اور لالچ یا کسی خوف اور ہر س سے اسلام کا محض زبانی اقرار کرے اور دل سے منکر ہو وہ کبھی مسلمان نہیں ہو سکتا۔

اگر آپ غور سے دیکھیں تو آسانی سے معلوم ہو سکتا ہے کہ اگر عالم کی تمام قوتیں بھی یہ چاہیں کہ جبر و اکراہ سے کسی کے قلب کو مطمئن کر دیں تو نا ممکن اور محال ہے تلوار و تیر اور خنجر سے کوئی عقیدہ قلب میں نہیں اتر سکتا اور غالب اس واضح حقیقت کا کوئی معمولی سے معمولی عقل والا بھی انکار نہیں کر سکتالہٰذا یہ کہنا کہ اسلام بزور شمشیر پھیلا ہے بالکل غلط ہے۔ بلکہ اگر اسلام کو تلوار اور تیرسے پھیلایا جاتا تو اسلام پھیلنے کی بجائے کمزور ہوتا اور لوگ اپنے اس قاتل مذہب کے دشمن بن جاتے۔

2)بعثت کے بعد مکہ مکرمہ میں تیرہ سال آپ ﷺکا قیام رہا اسی زمانے میں اور اسی حالت میں صدہا قبائل اسلام کے حلقہ بگوش ہوئے ابو ذر غفاری شروع ہی زمانے میں مسلمان ہوئے اور جب واپس ہوئے تو ان کی دعوت سے نصف قبیلہ غفار مسلمان ہو گیا ہجرت سے قبل تراسی مرد اور اٹھارہ عورتوں نے (جو مشرف باسلام ہو چکے تھے) کفار مکہ کی ایذاوں سے تنگ آکر حبشہ کی طرف ہجرت کی۔ نجاشی بادشاہ حبشہ حضرت جعفر طیار کی تقریر سن کر مشرف باسلام ہوا ہجرت سے قبل مدینہ کے 70آدمیوں نے مقام منیٰ میں آپ ﷺکے دست مبارک پر بیعت کی ۔مصعب بن عمیر کے وعظ سے ایک ہی دن میں تمام قبیلہ بنی عبدالا شہل مدینہ منورہ میں مشرف با سلام ہو ا بعد ازاں باقی ماندہ انصار بھی مشرف باسلام ہو گئے۔

یہ سب قبائل جہاد کا حکم نازل ہونے سے پہلے ہی مسلمان ہوئے اور ابوبکر صدیق، فاروق اعظم، عثمان غنی، علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین جنہوں نے چار دانگ عالم میں اسلام کا ڈنکا بجایا یہ بہادر بھی جہاد و قتال کی آیات کے نازل ہونے سے پہلے ہی اسلام کے حلقہ بگوش بن چکے تھے۔

3) نجران اور شام کے نصاری کو کسی نے مجبور نہیں کیا تھا کہ وہ بطور وفد آپ کی خدمت میں حاضر ہوں اور اسلام قبول کریں ہر طرف سے وفود کا تانتا بندھا ہوا تھا وفود آپ ﷺکی خدمت میں حاضر ہوتے اور اسلام قبول کرتے جبر تو درکنار آپ نے تو ان کے بلانے کے لئے بھی کوئی قاصد نہیں بھیجا تھا۔

4)مسئلہ جہاد اسلام کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ انبیاءسابقین کی تربیت میں بھی یہ مسئلہ موجود تھا پس اگر اسلام کی ترقی اور اشاعت کا سبب صرف جہاد ہوتا تو دوسرے جن مذہب میں بھی یہ مسئلہ موجود تھا وہ کیوں اتنی جلدی کے ساتھ نہ پھیلے خصوصاً جبکہ تاریخ میں بکثرت ایسی نظیریں موجود ہیں کہ بوقت قدرت سلاطین و یہود ونصاری نے اپنے اپنے مخالفین کا قتل عام کرایا ہے۔

5) سلاطین اسلام اگر لوگوں کو جبراً مسلمان بناتے یا اس قسم کی تدبیر کرتے جو عیسائیت کیلئے کی گئی تھی اور کی جارہی ہے تو کم از کم اسلامی قلم رو میں تو کسی غیر مذہب کا وجود باقی نہ رہتا۔ اس لئے کہ اگر حق و صداقت کے ساتھ مادی اعانت و مساعدت بھی شامل ہو جائے تو پھر حق کے قبول کرنے میں کیا تامل ہے جبکہ طمع اور لالچ سے تثیث کا گورکھ دھندا اور ایک ذات انسانی میں باجود ہزار احتیاج کے بشریت اور الوہیت کا اجتماع اور شجر اور حجر کو خدا اور مادہ اور روح کو خدا تعالیٰ کی طرح قدیم اور ازلی ابدی اور سرمدی منوایا جا سکتا ہے تو خداوند ذوالجلال کی توحید خالص اور یکتائی اور اس کی بے چونی اور چگوئی اور شان علمی و قدیری اور سمیعی و بصیری کو طمع و لا سے منوانا کیا مشکل ہے مگر اسلام کا خدا داد حسن و جمال اس سے منزہ اور مستغنی ہے کہ درہم و دینار کی چمک کو ذریعہ اشاعت بنائے اور شیطانی کمان (عورت) کے ذریعے سے اپنے تیر چلائے جو لوگ اس راہ سے کسی مذہب کو اختیار کرتے ہیں وہ خدا کے بندے نہیں بلکہ درہم اور دینار کے بندے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  اللہ تعالیٰ قریب ہے ، قرب اللہ

6) نیز اسلام کے قوانین خود اس کے شاہد ہیں کہ اسلام بزور شمشیر نہیں پھیلا اس لئے کہ اسلام میں اشاعت اسلام کا قانون یہ ہے کہ جب کسی قوم پر حملہ کرو تو اول ان پر اسلام پیش کرو کہ ایمان لے آو پس وہ ایمان لے آئیں تو وہ تمہارے بھائی ہیں تم میں اور ان میں کوئی فرق نہیں سب برابر ہو۔اور اگر اسلام نہ لائیں اور اپنے مذہب پر قائم رہنا چاہیں تو ان سے یہ کہہ دیا جائے گا کہ تم اسلامی حکومت کی اعانت کا عہد کرو اور جزیہ دینا قبول کرو اور حکومت میں کوئی بدامنی نہ پھیلاو تو ہم تمہاری جان اور آبرو کی حفاظت کے ذمہ دار ہیں تمہاری جان اور مال و آبرو کی حفاظت مسلمانوں کی جان و مال کی و آبروں کی طرح ہو گی اس شرط کے ساتھ تم اسلامی حکومت میں عیسائی اور یہودی اور مجوسی بن کر رہ سکتے ہو حکومت اسلامی تمہارے مذہب میں کوئی مداخلت نہیں کرے گی اور مزید برآں تمہارے لئے آزادی ہو گی کہ اسلام اپنے خاص احکام تم پر جاری نہ کرے گا مثلاً ۔” شراب پینا اسلام میں منع ہے اور تمہارے مذہب میں جائز ہے اس لئے اسلام تم کو شراب پینے اور اس کی خریدو فروخت سے منع نہ کرے گا۔ نکاح کے لئے اسلام میں جو خاص شرائط ہیں ۔اسلام میں ان کے کرنے پر مجبور نہ کرے گا تمہیں اپنے رواج کے مطابق نکاح کرنے کی اجازت ہو گی وغیرہ وغیرہ۔

اور اگر جزیہ دینا بھی منظور نہ کریں تو پھر شمشیر کا حکم ہے معلوم ہوا کہ شمشیر کا حکم مسلمان بنانے کے لئے نہیں بلکہ آخری درجہ میں ان کی سرکشی کے جواب میں ہے۔ پس اگر اسلام تلوار سے پھیلتا تو سب سے پہلے تلوار کا علم ہوتا تیسرے درجہ میں نہ ہوتا۔

7)اگر اسلام جبرواکراہ سے پھیلتا تو جبرو اکراہ سے اسلام لانے والے اسلام پر عاشق اورفریفتہ نہ ہوتے اس لئے کہ جبرو اور اکراہ کا اثر ظاہر اور بدن پر ہوتا ہے۔ قلب پر نہیں ہو تا پس جو لوگ جبراً مسلمان بنائے گئے ان کی حالت یہ ہوتی کہ ظاہر ایسی زبان سے اسلام کا کلمہ پڑھنے اور دل میں اس سے متنفر اور بیزار ہوتے حالانکہ یہ لوگ دل و جان سے ظاہر و باطن ، جلوت اور خلوت میں اسلام پر فریفتہ اور شیدا تھے۔ اور بہ نسبت مسجد کے گھر میں زیادہ عبادت کرتے تھے اور اسلام پر اپنی جان اور مال دینے کی سعادت سمجھتے تھے علاوہ ازیں شریعت اسلامیہ کا مسئلہ ہے کہ جو تھی محض زبان سے لا الہ الا اللہ پڑھ لے اس کا قتل جائز نہیں ہیں جس مذہب نے دشمن کے ہاتھ میں یہ سپردے رکھی ہو کہ ایک مرتبہ زبان سے کلمہ پڑھ لینے پر فوراً چھوڑ دئیے جاو گے کیا وہ مذہب جبر اًاور اکراہ سے پھیل سکتا ہے ۔جبر کی اس میں گنجائش ہی نہیں ہر کافر تقیہ کر کے کلمہ پڑھ کر قتل سے بچ سکتا ہے اور پھر قدرت اور موقع پانے پر سابق مذہب کی طرف لوٹ سکتا ہے آخر اس کی کیا وجہ ہے کہ جن لوگوں نے بقول معترضین جبر اور اکراہ سے اسلام کو قبول کیا تھا وہ ساری عمر کیوں اس جبر کے پابند رہے موقع پا کر اپنے سابق مذہب کی طرف کیوں نہ لوٹ گئے۔

اسلام اور مسئلہ غلامی

حق جل شانہ نے جو عزت اور کرامت انسان کو دی وہ کسی مخلوق کو نہیں دی اپنی خاص صفات کمال علم و قدرت، سمع، بصر، تکلم و ارادہ کا مظہر اورتجلی گاہ بنایا اپنی خلافت سے سرفراز فرمایا ، مسجود ملا مکہ بتایا تمام مخلوق پر اس کو فضیلت دی تمام کائنات کو اس کے لئے پیدا کیا اور اس کو اپنی عبادت اور عبودیت کے لئے بنایا اس کو وہ ریت اور آزادی عطا فرمائی کہ تمام روئے زمین اس کی ملک اور تصرف میں دے دی لیکن جب اس نادان انسان نے اپنے خالق پروردگار کے واجب اطاعت ہونے ہی سے انکار کر دیا اور خداوند ذوالجلال سے بغاوت (کفر) کی ٹھان لی اور انبیاءو مرسلین سے مقابلہ اور مقا تلہ کے لئے میدان میں نکل آیا تو اس کافر انسان کی ساری عزتیں خاک میں مل گئیں اور وہ حریت اور آزادی جواس کو عطا کی گئی تھی یکلخت چھین لی گئی اور حق جل و علا نے اس باغی اور سرکش انسان کو اپنے ان عباد صالحین کا (جنہوں نے اس کا بول بالا کرنے کے لئے جان کی بازی اور سرفروشی کی) مملوک بنا دیا اور ان کو یہ اجازت دی کہ بہائم اور اموال مملوکہ کی طرح جس طرح چاہو اس کی خریدو فروخت کرو تم کو اس کی بیع اور ہبہ اور ران کا کلی اختیار ہے اور یہ تمہاری بغیر اجازت کے کوئی تصرف نہیں کر سکتا۔

یہ بھی پڑھیں:  بیمار اور قریب الموت کے پاس بیٹھنا

جان نثار اور وفادار کو باغی اور غدار کے برابر کر دینا عقل اور فطرت اور قوانین سلطنت میں صریح ظلم ہے وہ کوئی متمدن حکومت ہے جس کے قانون میں فرمانبردار اور مجرم تمام احکام میں مساوی ہوں۔ خداوند عالم کا ارشاد ہے۔ افنجعل المسلمین کالمجرمین (سورہ القلم آیت 35) کیا ہم اپنے فرمانبرداروں کو مجرموں کے برابر کر دیں کہ( دونوں کے احکام میں کوئی فرق نہ رہے ایسا نہیں ہو گا)۔

تمام متمدن حکومتوں میں باغیوں اور پولیٹیکل مجرموں کی سزا چوروں اور بدمعاشوں اور دھوکہ بازوں اور جعل سازوں سے کہیں زیادہ ہے جس پر بغاوت اور سازش کا جرم ہو اس کی سزا سزائے موت یا عمر بھر کی جلا وطنی کے اور کچھ نہیں ہوتی اگرچہ مادہ تمردو عصیاں اور سرکشی کا دونوں مجرموں میں ہے مگر چوروں اور بدمعاشوں کی سرکشی رعیت کے کسی ایک یا چند افراد کے مقابلہ میں ہوتی ہے اور باغیوں اور پولیٹیکل مجرموں کا تمرد اور عصیان سلطان وقت اور حکومت اور قانون حکومت کے مقابلہ میں ہو تا ہے وہ یہ چاہتا ہے کہ یہ حکومت ہی مٹ جائے اور تمام متمدن حکومتوں کی نظروں میں بغاوت سے بڑھ کر کوئی جرم نہیں۔ چوری اور بدکاری کا جرم بغاوت کے مقابلہ میں کوئی حقیقت نہیں رکھتا ،حکومتوں کا مسلمہ قانون ہے کہ جو شخص بغاوت کرے تو اس کی تمام فطری آزادی یکلخت چھین لی جاتی ہے اور مال و جائیداد سب ضبط ہو جاتی ہے اور حقیر و ذلیل چوپایہ کا معاملہ اس کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ اگرچہ یہ پولیٹیکل مجرم کتنا ہی لائق اور عاقل اور فاضل کیوں نہ ہو اور عجب نہیں کہ یہ مجرم عقل اور فہم اور تعلیم میں صدر جمہوریہ سے بھی بڑھ کر ہو پس جبکہ خالی اور مجازی حکومتوں کو اپنے باغیوں کی آبادی سلب کرنے کا اختیار ہے تو اس خداوند ذوالجلال کو جس نے ان باغیوں کو وجود اور حیات اور عقل اور فہم کی دولت عطا کی ہے یہ اختیار کیوں نہیں کہ وہ اپنے باغیوں (کافروں) سے اپنی دی ہوئی آزادی سلب کر سکے؟

ایک شبہ اور اس کا ازالہ

انسان کو فطرة آزاد کیا جاتا ہے اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ حریت اور آزادی انسان کی نفس ماہیت کے لوازم اورمقتضیات سے ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر انسان فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے اس لئے فطرتاً آزاد ہے اور جب اسلام زائل ہو گیا تو آزادی بھی زائل ہو گئی اور یہ غلامی اس جرم کی سزا ہے جو خلاف فطرت ہے اور اگر تھوڑی دیر کے لئے یہ تسلیم کر لیا جائے کہ آزادی انسان کا فطری حق ہے تو ہمارا یہ سوال ہے کہ یہ حق کس کا دیا ہوا ہے اور کیا یہ ایسا اٹل حق ہے کہ کوئی جرم کرو، کفر کرو، شرک کرو ،خداوند ذو الجلال سے بغاوت کرو، اس کے اتارے ہوئے قانون کے اجزاءمیں مزاحمت کرو“ اس کے بھیجے ہوئے پیغمبروں کو جھٹلاﺅ،ان کا تمسخر کرو، ان کا مقابلہ کرو، اس کے پرستاروں کو ستاوغرض یہ کہ جو جرم چاہو کرو مگر تمہارا یہ حق آزادی کی طرح زائل نہیں ہو سکتا ہے۔

سمجھ لو اور خوب سمجھ لو کہ تمام آسمانی دین اس پر متفق ہیں کہ کفر و شرک کے بعد حیات اور وجود کا حق بھی نہیں رہتا۔ صفت ریت اور وصف آزادی کا تو ذکر کہاں ہے۔ اور ایک آزادی تو کسی بڑی سے بڑی متمدن اور جمہوری حکومت میں بھی نہیں کہ حکومت کو بھی نہ مانو وزراءاور حکام سلطنت کو بھی نہ مانو۔قانون حکومت کو بھی نہ مانو اور اس کے خلاف تقریریں کرو اور اس کے اجزاءاور تفیذ میں مزاحمت کرو اور پھر بھی تم آزاد رہو ،نہ کوئی گرفتاری عمل میں آئے، نہ کوئی مقدمہ چلایا جائے ،یہ تماری زمین اور جائیداد پر حکومت قبضہ کرے تمہاری دولت اور سرمایا جو بنک میں جمع ہے وہ بھی ضبط نہ ہو۔ کیوں نہیں جب تم حکومت سے بغاوت کرو گے تو حکومت بھی وہ سب کچھ کرے گی جس کے تم مستحق ہو ،اعضا ءجسمانی اور حیات انسانی کا ازالہ اور اعدام ہو جاتا ہے ارتکاب جرم سے فطری حقوق ختم ہو جاتے ہیں اور کفر سے بڑھ کر کوئی جرم نہیں۔

(مختصر امن سیرة المصطفی حضرت مولانا محمد ادریس صاحب کاندھلوی)