covid_19_pakistan_problems

کیوں کورونا وائرس کو لے کر سنجیدگی دکھائی نہیں دیتی؟

EjazNews

ہم در حقیقت شعور ، احساس اور ذمہ داری کے کس درجے پر کھڑے ہیں۔ بچّوں سے لے کر بزرگوں تک ہماری قوم کے ہر فرد میں بے پروائی، غیر ذمّہ داری کُوٹ کُوٹ کر بھری ہے۔امتحان کی تیاری کرنی ہو تو پیپر سے ایک رات پہلے پڑھتے ہیں، حکومت کہے سمندر پر نہیں جانا خطرہ ہے، تو لازماً جاتے ہیں، وَن وِیلنگ میں ہاتھ پَیر گنوانا منظور ہے، پر باز آنا نہیں۔ پان، گٹکا، چھالیا، تمباکو نوشی نہیں چھوڑیں گے، چاہے دنیا ہی کیوں نہ چھوڑنی پڑے، مگر اب تو حد ہی ہوگئی ہے۔ اس بار تو پاکستانیوں نے ’’دلیری، پارسائی، ایمان داری اور شعور ‘‘ کے تمام ریکارڈز ہی توڑ دئیے ہیںبلکہ ہمیں تویہ کہنے میں بھی ہر گز کوئی عار نہیں کہ یہ ریکارڈ بنانے میں حکومت وقت نے بھی ان کا بھر پور ساتھ دیاہے،جب کہ ’’فہم و فراست‘‘ کا اصل ثبوت تو مقتدر جماعت کے رہنما وقتاً فوقتاً دے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  محمد بن قاسم تاریخ کا رخ بدلنے والا سپہ سالار

2019ء کے اواخر میں چین کے شہر، ووہان سےکورونا وائرس یا کووڈ 19کا پھیلاؤ شروع ہوااوردیکھتے ہی دیکھتے یہ وبا پوری دنیا میں پھیل گئی ، جس کی تباہ کاریاں تا دمِ تحریر جاری ہیں۔26 فروری 2020ء کو پاکستان میں کورونا کا پہلا کیس رپورٹ ہوا، مگراس ضمن میںحکومت او رعوام دونوں قطعاً غیر سنجیدہ نظر آئے۔ اصولی طور پر تویہ ہونا چاہیے تھا کہ وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے فی الفور انتہائی سخت اقدامات کیے جاتے، بارڈرز سیل کرکے سخت لاک ڈاؤن کردیا جاتااور وائرس کے پھیلاؤ کے ابتدائی مرحلے ہی میں کنٹرول کر لیا جاتا، مگر ہمارے یہاں تو ایک عالم گیر وبا پر بھی سیاسی پوائنٹ سکورنگ شروع ہو گئی۔ وفاق اور صوبے روزِ اوّل سے کسی ایک فیصلے پر متفق نظر آئے اور نہ ہی کوئی مؤثر ،مربوط پالیسی ہی سامنے آسکی۔

پاکستانی حکومت نے اس عالم گیر وبا کو بھی ایک مذاق اور کھیل تماشا ہی بنا دیا۔اوّل تو حفاظتی اقدامات اور احتیاطی تدابیر کے ضمن میں کوئی اتفاقِ رائے ہی نہیں ہو سکا۔ دوم، خود حکومتی ارکان نہ صرف دھڑلے سے ایس او پیز کی خلاف ورزی کرتے نظر آئے بلکہ اس معاملے میں خود بھی کنفیوژ رہے اور عوام کو بھی تاحال کنفیوژن میں مبتلا کر رکھا ہے۔ کسی کا خیال ہے کہ ’’کورونا صرف فلو ہے‘‘،تو کوئی کہتا ہے ’’بھوک کورونا سے بڑا خطرہ ہے‘‘۔چند وفاقی وزراتو کورونا وائرس کو کم اور لاک ڈاؤن کو زیادہ خطرناک ثابت کرنے ہی میں لگے ہیں، حالانکہ اگر ہمارےیہاں بھی بروقت حفاظتی اقدامات اختیار کر لیے جاتے اور ایس او پیز پر پوری سختی سے عمل در آمد ہوتا تو آج ہم بھی دنیا کے کئی دیگر ممالک کی طرح اس وقت وبا کے خاتمے کی طرف بڑھ رہے ہوتے، نہ کہ عروج کی طرف۔

یہ بھی پڑھیں:  کامیابی کیا ہوتی ہے،رویے اور خصلتیں؟

پھر عوام کو بھی شاباش ہے کہ اکثریت اب تک یہ ماننے کو تیار ہی نہیں کہ کورونا وائرس بھی کسی عفریت کا نام ہے۔ ایک طرف طبّی عملہ جاں فشانی سے اپنے فرائض کی اَدائی میں مصروف ہے، عوام کو گھروں میں رہنے کی تلقین کر کے خود دن رات کام کر رہا ہے،تو دوسری طرف صرف نا خواندہ افراد ہی نہیں، مُلک کا پڑھا لکھا طبقہ بھی ایک عالم گیر وبا کو کسی صورت سیریس لینے کو تیار نہیں۔ در اصل ہمیں دوسروں کی غلطیوں سے سبق سیکھنے کی عادت ہی نہیں ہے۔

طاقتور ترین سمجھے جانے والے مغربی ممالک بھی اس وقت معاشی بقا کی جنگ میں مصروف ہیں۔سچ تو یہ ہے کہ یہودیوں کی سازش مسلمانوں کو مساجد سے دُور نہیں،علم و آگہی، تحقیق سے دُور کرناہے اور جس میں وہ بہت حد تک کامیاب بھی ہو چُکے ہیں۔ شاید ہی کوئی خاندان ایسا بچا ہوا، جس کا کوئی نہ کوئی فرد اس وبا کی لپیٹ میں نہ آیا ہو، اس سب کے با وجود ہمارے مجموعی رویوں میں قطعاً کوئی سنجیدگی دکھائی نہیں دیتی۔

یہ بھی پڑھیں:  حضرت ابوبکر صدیقؓ