wardrobe

الماری گھر میں ہماری راز دار

EjazNews

فرنیچر کا خاص جز الماری ہر گھر کی اہم ضرورت ہوتی ہے۔ خواہ آپ کے باورچی خانے میں بیش قیمت برتنوں کی الماری ہو گروسری کا ذخیرہ کرنے والی ہو یاواش روم اور سونے کے کمروں کی وارڈروب ہو اس کی اہمیت سے کون انکاری ہوگا حتیٰ کہ جوتوں کے ریکس تک ہماری ضرورتوں کی تکمیل کرتے ہیں۔ قیمتی اور روز مرہ استعمال ہونے والے عام جوتے یہاں حفاظت سے رکھے رہے ہیں۔ غرضیکہ ہروہ چیز جو ہمارے زیراستعمال ہواسے محفوظ رکھنے کے لئے کوئی سائبان کوئی الماری ہر گھر میں موجود ہوتی ہے۔

ترتیب و تنظیم میں مددگار
الماری کو سہیلی کہنے کی وجہ بھی تسلیم کرنی چاہے کسی سہیلی کی مانند آپ اس سے راز و نیاز کر سکتے ہیں۔ اسی طرح الماری میں بڑے اطمینان سے اپنی خاص اور عام اشیاءسنبھال کے رکھ سکتی ہیں جو ظاہرنہیں ہوں گی ۔راز داری سے بھی رہیں گی۔ کپڑے ہوں تو ان کی ترتیب و تز ئین کرتی رہے روزانہ استعمال کے کپڑے ایک جانب رکھتی جائے۔ انہیں دھو کے استری کر کے رکھیں گی تو استعمال کے وقت آسانی رہے گی۔ جوڑے بنائے رکھیں گی تو اور بھی آسانی رہے گی کیونکہ وقت سرمائے جتناہی قیمتی ہوتا ہے۔

الماریوں کی ظاہری خوبصورتی
لکڑی اور فارمیکا کے میٹریل میں خاصی منفرد اور شاندار ڈیزائنگ دیکھنے میں آرہی ہے۔ بیرونی دروازوں پرشیٹس، سرمئی، سیاہی مائل سرخ، اخروٹ کے رنگوں کے علاوہ بھی متعد شیڈز اورمختلف خطوط میں دستیاب ہورہی ہیں۔ یہ آپ کی صوابدید پر منحصر ہے کہ آپ کس زاویئے سے اپنے ماحول کودلکش بناتی ہیں۔ کچھ خواتین دروازوں پر خوشنما پینٹ کرواتی ہیں اورانہیں پھولدار ڈیزائن بہت بھاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  اپنی بالکنی، گیلری اور ٹیرس کو پھولوں اور پودوں سے سجائیں

متعددخانوں والی الماریاں
چھوٹے بڑے طویل القامت خانوں کو اپنی ضرورت کے مطابق استعمال کیا جاسکتا ہے۔ جیولری کے لئے دراز میں مخصوص ہونی چاہئیں یہاں قیمتی زیورات ہی نہیں جائیداد کے کاغذات وغیرہ بھی رکھے جا سکتے ہیں۔ پہیوں کے لئے ایک چھوٹی دراز بھی ہوتو کیا کہنے۔

مکمل دیوار سے منسلک الماریاں
خوا بگاہوں کی دیواروں کے آخری سروں تک الماری بنوانا بھی ایک اچھا تخیل ہے۔اکثر لوگ اس طرح گنجائش نکالتے ہیں۔ بڑے گھروں میں مہمانوں کے بیڈروم کی الماری موزوں رہتی ہے۔ آج کل ماسٹر بیڈ روم چونکہ رقبے میں قدرے بڑا ہوتا ہے اس لئے بھی یہاں ایسی وارڈروبس دو سے تین عدد تک بنوائی جاسکتی ہیں۔

تعمیرات کے وقت in Built الماریوں کا تصور
اگر عین تعمیراتی کام کے دوران دیواری الماریاں بنالی جائیں تو یہ تصور بھی مناسب ہے۔ لیکن دیواروں میں سی پیچ آجانے کی صورت میں کمرے اور الماری میں تعفن بھی پھیلتا ہے۔ چیزیں بھی خراب ہوسکتی ہیں۔ اگر ٹھوس، پائیدار اور کام مستحکم ہوں تب ہی ان دیواری الماریوں کا رسک لیا جانا چاہئے۔

یہ بھی پڑھیں:  رنگ گھرکی خوبصورتی میں کیا کردار ادا کرتے ہیں؟

آئینے کے ہمراہ الماریاں
ماضی میں بھی قد آدم آئینوں کی آرائش کو مدنظر رکھتے ہوئے الماریاں بنائی جاتی تھیں اور تینوں اطراف منقش کام اور دل آویز ڈیزائن بنائے جاتے تھے۔ آج کل جدید اسلوب اختیار کرتے ہوئے ڈیزائنگ میں قدرے تبدیلی آ چکی ہے۔ آئینوں سے روشنی کا انعکاس خوبصورت تصور پیش کرتا ہے۔ کشادگی اور ندرت کے احساس کے ساتھ کر بڑا اور منظر نظر آتا ہے۔

بچوں کی الماریاں
چلڈرن آرٹ سے متعلق یا آرائش بھی کم بھلی نہیں لگتیں۔ بچوں کے کمرے کا فرنیچر شوخ رنگوں سے مزین ہوتا ہے۔ کوشش ہونی چاہئے کہ اپنے بچوں کو بھرپور ،توانا اور ان کی عمر کے مطابق طلسماتی کشش رکھنے والے فرنیچر سے سجا کمرہ دیا جائے۔ یک مشت نہ سہی مگر رفتہ رفتہ ان کے کمروں کو بچوں کی امنگوں بھرا کمرہ بنادیں۔ اس کمرے میں ہمیں بچوں کے کپڑوں، جوتوں، کتابوں کھلونوں اور چادروں تولیوں وغیرہ کو حفاظت سے رکھنے کے لئے الماریوں میں گنجاش درکار ہوتی ہے۔ بچوں کے ساتھ ایک آسانی یہی رہتی ہے کہ بڑھتی عمر کے ساتھ ان کے کپڑوں کے سائز مختلف ہوجاتے ہیں اب جس گھر میں اوپر تلے کے بھائی یا بہنیں نہ ہوں وہاں کپڑے بہت دیر تک کار آمدنہیں رہتے۔اس طرح نئی چیزوں کی جگہ بنتی ہے۔ کوشش یہی کریں کہ بچوں میں فلاحی کاموں کی تحریک پروان چڑھے اور یہ خود اپنی واڈ روب صاف کریں اور چھوٹے ہوجانے یابد وضع ہونے والے ملبوسات کوعلیحدہ کردیں۔

یہ بھی پڑھیں:  نیا سال ہے: گھر کو نئے انداز سے سجاتے ہیں

سلائڈنگ ڈورزوالی الماریاں
جس گھر میں کمرے چھوٹے ہوں تو پہلی کوشش یہ ہونی چاہئے کہ پھیلا ہوا وسیع تر فرنیچر نہ خریدا جائے۔ جب بھی الماریاں بنوانے کی ضرورت پیش آئے یا خریدی جائیں تو سلائڈنگ والے پٹوں کی الماریاں لیں۔ یہ جگہ بھی کم گھیرتی ہیں خوبصورت بھی نظر آتی ہیں۔

احتیاطی تدابیر
جن الماریوں کے نچلے خانوں میں جوتے رکھے جاتے ہیں کوشش کیجئے کہ گھر لوٹ کر صاف خشک کپڑے سے ان جوتوں کو ہر طرف سے صاف کر کے الماری میں رکھا جائے۔ نئے اور قیمتی جوتوں کو ان کے ڈبوں ہی میں رکھیں البتہ شاپرز اور پلاسٹک کی تھیلیاں الگ کر دی جائیں۔ جن افراد کے پیروں سے بو آنے کا مسئلہ ہو ان کے جوتے الماری میں نہ رکھے جائیں یا انہیں دھوپ میں رکھ کر خشک کیا جائے مگر سائے ہی میں انہیں رکھیں۔
واڑروب فریشنر (Freshner) ہر الماری میں میں خواہ چمڑے اور سردیوں کے کپڑوں کی الماری ہو یا روز مرہ استعمال کے کپڑوں کی ، یہ کپڑوں اور الماری کو تعفن سے بھی محفوظ رکھتے ہیں۔
گیلے کپڑوں کو کبھی تہہ لگا کے الماری میں نہ رکھیں اور اخباری کاغذ بھی نہ بچھائیں۔ بچھانے کے لئے براو¿ن کاغذہی مناسب انتخاب ہوتا ہے۔