Islam_tasuf_mash

متبادل تصوف(۳)

EjazNews

کسبِ معاش اور توکل

علامہ اقبال نے اپنی ایک نظم کا عنوان یہ رکھا ہے ”در بیان اینکہ خودی از سوال ضعیف میگردد“ علامہ اقبال نے حکیم امت اورماہرِ عمرانیات کی حیثیت سے جب امت مسلمہ کی حالت زار کا تجزیہ کیا تو اُنھوں نے یہ نتیجہ نکالا کہ اقوامِ عالم میں مسلمانوں کی ذلت اور کمزوری کی سب سے بڑی وجہ ان کی ناداری ہے ۔ وہ اپنے عہد کے مسلمانوں کا قرونِ اولیٰ کے مسلمانوں سے تقابل کرتے ہوئے کہتے ہیں :
اے فراہم کردہ از شیراں خراج گشتہ رو بہ مزاج از احتیاج
خستگی ہائے تو از ناداری است اصل درد تو ہمیں بیماری است

اے مسلمان ! تو نے کبھی شیروں سے خراج لیا تھا ۔ حاجت مندی کی وجہ سے تیرا مزاج لومڑی کا ہوگیا ہے ۔ تیری خستگی اور کمزوری کی وجہ تیری ناداری ہے یہی ایک ایسی بیماری ہے جو تیرے درد کا اصل ہے ۔

مسلمانوں کی ناداری کے کئی اسباب تھے لیکن اُن میں سے ایک اہم سبب یہ تھا کہ اُنھوں نے جدید علوم سے منہ موڑ لیا تھا ۔ سرزمین پاک و ہند میں ہندومت اور بدھ مت کے اثرات کی وجہ سے کئی مسلمان ناداری کو اچھائی سمجھتے تھے ۔ کئی صوفیہ نے قناعت اور ناداری کی فضیلت بیان کی۔ بدھ مت میں مانگ کر گزر اوقات کرنے کی تعلیم تھی وہ اپنے پیروکاروں کو دنیاوی خواہشات سے مکمل طور پر پاک دامن دیکھنا چاہتے تھے ۔ ہر وقت گیان دھیان کا سبق تھا اور بقدر ضرورت مانگ کر روح اور جسم کا رشتہ برقرار رکھنے کا حکم تھا ۔ میرا ایقان ہے کہ کسی بھی سماوی مذہب میں بھیک مانگنے کی ترغیب نہیں ہو سکتی۔ بدھ مت اور ہندومت بھی اپنے اپنے دور میں اعلیٰ اقدار کے مذاہب تھے ۔ ان مذاہب کے بانی بھی فرستادہ خدا ہوسکتے ہیں کیونکہ از روئے قرآن وَّ لِکُلِّ قَو±مٍ ھَادٍ (ہر قوم کے لیے اللہ تعالیٰ نے ہادی بھیجا ہے) قیاس یہ ہے کہ مرور زمانہ کے ساتھ ہندومت اور بدھ مت میں بھی غیر معقول تعلیمات اور طریقے داخل کر دیے گئے ہوں گے۔ مسلمانوں میں بھی فقیری کا یہ انداز بعد میں آیاکہ فقیر وہ ہے جس کا مختصر لباس ہو ۔ جنگلوں اور صحراوں میں رہتا ہو ۔ کسب معاش کی فکر سے آزاد ہو ۔ ہر لمحہ اُس کا دھیان اللہ کی طرف ہو اور وہ ذکر الٰہی میں مستغرق رہتا ہو ۔ اس اندازِ فکر سے مسلمانوں میں ولولہ حیات سرد پڑتا گیا وہ بے عمل اور سست ہوگئے ۔ اپنی ناداری اور غربت پر نہ صرف قانع ہوگئے بلکہ اس کو فقیری کی علامت سمجھنے لگے ۔ علامہ اقبال نے سمجھایا کہ ناداری سے خودی کے اجزا تحلیل ہوجاتے ہیں ۔ انسان اپنی اعلیٰ فطرت اور صلاحیتوں سے محروم ہو جاتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں پیدا کیا ہے تو اس دنیا میں باعزت طریق سے رہنے کے وسائل پیدا کرو۔ حیات دنیا میں اپنا نصیب اپنی کوشش سے حاصل کرو ۔ وہ تلقین کرتے ہیں :
از خم ہستی مے گلفام گیر! نقد خود از کیسہ ایام گیر
تو زندگی کے مٹکے سے سرخ شراب حاصل کر کیسہ  ایام (زمانے کی جیب ) سے اپنی نقدی حاصل کر۔

علامہ اقبال حضرت عمرؓ کی مثال کی پیروی کی تلقین کرتے ہیں کہ جب کبھی اُن کا تازیانہ گِر جاتا تھا تو وہ کسی سے نہیں کہتے تھے کہ وہ اُن کو اُٹھا کر دے بلکہ خود گھوڑے سے اُترتے تھے اور اپنا تازیانہ خود اُٹھاتے تھے ۔ علامہ اقبال کہتے ہیں کہ کسی دوسرے کا احسان مند نہیں ہونا چاہیے ۔ اپنے تمام کام خود کرنے چاہئیں ، خود داری خودی کا خاصہ ہے ۔ علامہ اقبال کسب معاش کو فریضہ انسان قرار دیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے پیدا کردہ وسائل رزق سے ہر انسان کو اپنا رزق خود تلاش کرنا چاہیے ۔ جو قوم اجتماعی حیثیت سے اپنی ضروریات پوری نہیں کر سکتی وہ اپنی خودی کو زندہ نہیں رکھ سکتی ۔ دوسروں کی دست نگری اور محتاجی سے انسان کی توقیر ختم ہوجاتی ہے ۔ اگر کوئی خوشحال شخص کبھی سوال کر بھی لیتا ہے تو لوگ اُس کی کوئی توجیہ تلاش کرکے اُس کی پذیرائی کرتے ہیں لیکن جب کوئی مفلس سوالی بن جاتا ہے تو اُس کی ذلت و رسوائی میں اضافہ ہوجاتا ہے اور اس عمل سے روز بروز اُس کی خودی کمزور ہوتی چلی جاتی ہے ۔ علامہ اقبال یہ درس دیتے ہیں کہ تنگ دستی اور مصائب میں بھی انسان کو کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلانا چاہیے ۔ اگر کسی حادثے یا بیماری کی وجہ سے اُس پر برے دن آگئے ہیں پھر بھی اُسے حتی الامکان غیروں کی نعمت سے رزق حاصل کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔ اپنی حالت کو بہتر بنانے کی تدبیریں کرنی چاہئیں۔ نہایت ہی کفایت شعاری سے کام لیتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی امداد کا انتظار کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ سے سعی و عمل کے ساتھ دُعا مانگتے رہنا چاہیے تاکہ معاشی حالات درست ہو جائیں ۔ ملتِ اسلامیہ کی حیثیت سے اجتماعی طور پر بھیک مانگنا تو ذلت کی انتہا ہے ۔ بقول اقبال غیروں کے سامنے ہاتھ پھیلا کر روشن ملت کی عزت کو ضائع نہ کرو ۔ اقبال انفرادی اور اجتماعی حیثیت سے کشکول اٹھانے کی ہی اجازت نہیں دیتے ۔ آج ہم کشکول توڑنے کی باتیں کرتے ہیں لیکن ان باتوں پر عمل درآمد کے راستے میں ہزار رکاوٹیں ہیں ۔ علامہ اقبال کسب معاش اور رزق حلال کو اسلامی روایات کا امتیاز سمجھتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول نے محنت کی عظمت اور محنت کش کی فضیلت یہاں تک بیان کی کہ کمانے والے کو حبیب اللہ قرار دیا ۔ کسب معاش کی فکر سے آزاد ہوکر صرف اللہ کی یاد میں مشغول رہنے سے اللہ کی دوستی میسر نہیں آسکتی ۔ اللہ تعالیٰ کا حبیب وہی ہے جو محنت مزدوری کرکے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالتا ہے اور معاشرے کی معاشی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لے کر معاشرے اور ملک کی پیداوار میں اضافے کا باعث بنتا ہے ۔

کسب اسلامی روایات کا اہم رکن ہے ۔ قرآن حکیم نے انفاق فی سبیل اللہ کا حکم دیا ہے ۔ ظاہر ہے کہ کچھ کمائی ہوگی تو اللہ کے راستے میں خرچ کیا جائے گا ۔ قرون اولیٰ کے صوفیہ نے کسب کو سنت رسول سے تعبیر کیا ہے اور انھوں نے ہمیشہ مسلمانوں کو کسب معاش کی تعلیم دی ہے۔مثلاً عہدِ نبوی کا یہ واقعہ دیکھیے :

حضرت محمدا کے پاس ایک شخص آیا اور اُس نے اپنی غربت کا شکوہ کیا ۔ اُس کے پاس جو اثاثہ تھا وہ صرف ایک بوسیدہ قالین اور پانی پینے کے لیے ایک پیالہ تھا۔ پیغمبرِ اسلام نے دونوں کو نیلام کیا اور اس طرح جو رقم ملی وہ اُس شخص کے حوالے کی اور اُس کو نصیحت کی کہ کچھ رقم اپنے گھر دے دے اور باقی سے اپنے لیے ایک کلہاڑی خریدے اور ایندھن کاٹنے کا کام کرے ۔ دو ہفتوں میں اُس شخص کی معاشی حالت بدل گئی۔

اس حدیث سے کئی اسباق حاصل ہوتے ہیں (i) پیغمبر اسلام نے اُس شخص کو نہ نقد رقم دی نہ اُسے صبر و قناعت کی تلقین کی ۔ (ii) اس طرح اُس شخص کی خودی بھی محفوظ رہی اُسے کسی کے سامنے دست سوال دراز نہ کرنا پڑا اور اُس کو اپنے ہاتھ کی حلال کمائی نصیب ہوئی ۔
حضرت محمدا کی احادیث اور سنت کی اتباع میں قرونِ اولیٰ کے صوفیہ نے کسب معاش کی ضرورت و اہمیت اور فضیلت بیان کی۔ بلند مرتبہ صوفی حضرت ابو عبد اللہ حارث بن اسد المحاسبی (165۔243ھ) کا زیادہ قیام بغداد میں رہا۔اُن کی مشہور تصنیف کا نام کتاب الرعایة فی التصوف ہے۔ اُنھوں نے رسالة المکاسب بھی تحریر کیا ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کسب معاش کے معاملے کی طرف کس قدر متوجہ تھے ۔ المحاسبی اُن فقیروں کے بارے میں اچھی رائے نہیں رکھتے جو حرام غذا سے بچنے کے لیے جنگلوں اور پہاڑوں کا رُخ کرتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں:
اُن میں سے کچھ وہ ہیں جو پہاڑوں اور وادیوں کا رُخ کرتے ہیں ۔ درختوں کے پتے ، بیج اور دال وغیرہ پر گزر اوقات کرتے ہیں ……. دوسرے وہ ہیں جو ہوا کے ذریعے گِری ہوئی غذائی چیزوں ، جڑی بوٹیوں ، گھاس اور جنگلی سبزیوں پر گزارا کرتے ہیں جب بھوک اُن کو ستاتی ہے اور ایک گروہ وہ بھی ہے جو مانگ کر کھانا کھانے کو ترجیح دیتے ہیں ۔

ایک دفعہ المحاسبی نے توکل کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: ”توکل کا یہ مطلب نہیں ہے کہ کام کرنا چھوڑ دیا جائے اور روزی کمانے کے ذرائع کو ترک کر دیا جائے ۔
ابو نصر السراجبطوسی کی کتاب اللمع تصوف کے لٹریچر میں بہت اہمیت کی حامل ہے ۔ اُنھوں نے اپنی تصنیف کے ایک حصے کو کتاب آداب المتصوفہ کا عنوان دیا ہے ۔ اس کتاب کے باب79میں کسب معاش پر اظہارِ خیال کیا ہے اور اُن صوفیہ کا ذکر کیا ہے جو کسب معاش میں مشغول تھے ۔ اُنھوں نے معروف صوفی سہل بن عبد اللہ تستری کا قول نقل کیا ہے کہ :
جو شخص کسب رزق کو بد نام کرتا ہے وہ سنت نبوی ا کو بد نام کرتا ہے اور جو توکل کو بدنام کرتا ہے وہ یقین کو بد نام کرتا ہے ۔۶۵
حیرت کی بات یہ ہے کہ اس کے فوراً بعد ابو نصر سراج نے بشر حافی کی ایک حکایت بیان کی ہے جو کسب معاش کی تردید کرتی ہے ۔ وہ حکایت یہ ہے :
’بشربن حارث  ایک کھڈی پر کام کرتے تھے ۔ ایک بلند مرتبہ صوفی نے اُن کو خط لکھا اور کہا ؛ ”میں نے سُنا ہے کہ تم نے ایک کھڈی پر کام شروع کر دیا ہے جس سے روزی کے بارے میں تمھارے تمام تفکرات ختم ہو گئے ہیں لیکن فرض کریں اللہ تعالیٰ تمھاری بصارت اور سماعت تم سے چھین لے تو تم کس کی پناہ ڈھونڈو گے ؟ یہ خط پڑھ کر بشر نے اپنا پیشہ ترک کر دیا اور ہمہ وقت عبادات میں مشغول ہوگیا۔
ایک اور دل چسپ حکایت بیان کی گئی ہے :

ابو حفص حداد نیشا پوری اپنے صوفی بھائیوں کے لیے کسب کیا کرتے تھے اور اس طرح وہ جو کچھ کماتے تھے وہ اُن پر خرچ کر دیتے تھے اور جہاں تک اُس کا اپنا تعلق تھا وہ رات گئے بھیک مانگ کر کھاتے تھے۔

ابو حفص حداد کی یہ حکایت زیادہ تفصیل کے ساتھ کتاب التعرف لمذہب التصوف میں بیان کی گئی ہے وہ اس طرح ہے :
حضرت شیخ ابو حفص حداد نیشا پوری ہر روز ایک دینار کی مزدوری کرتے اور درویشوں میں بانٹ دیتے اور نماز عشا کے بعد محلہ میں بھیک مانگتے اور چند روٹیوں کے ٹکڑے مانگتے اور کھاتے ۔ تستر (پردہ داری) کے لیے کرتے اور بے شبہتی کے لیے بھیک مانگ کر کھاتے (اتفاقاً) ایک روز دکان میں بیٹھے کام کر رہے تھے کہ ایک نابینا بازار سے گزرا جو قرآن پاک پڑھ رہا تھا جب اِس آیت پر پہنچا: ”اور وہ جو شخص اس جہاں میں اندھا رہا وہ آخرت میں بھی اندھا ہے اور رستے سے بہت دور بھٹکا ہوا ہے ۔“ (بنی اسرائیل ۷۱، آیت 72)یہ سُن کر حضرت شیخ ابو حفص مغلوب ہوگئے اور بھٹی میں ہاتھ ڈال کر (تپتے) لوہے کو باہر نکال لائے ۔ ایک شاگرد پکار اُٹھا کہ اُستاد جی ہاتھ ۔ حضرت ابو حفص نے لوہے کو زمین پر پھینک دیا اور اُٹھ بیٹھے اور فرمایا کہ: ترکنا الکسب مراراً فعدنا الیہ فقد ترکنا الان فلا نعود الیہ بعد ھذا۔ ”ہم نے کسب کو یک لخت چھوڑ دیا اور اُسی کی طرف ہم پھر آئے سو اب سے ہم کسب نہیں کریں گے اور نہ بعد ایں اِس کا خیال کریں گے یعنی جب تک کسب میرے واسطے پردہ تھا تو میں کسب میں رہا اور جب میرا پردہ کھُل گیا تو اِس کو چھوڑ دیا ۔
کتاب التعرف لمذہب التصوف کے مصنف شیخ ابوبکر ابی اسحاق بخاری الکلاباذی (متوفی: 385ھ) نے اوپر والی حکایت بھی بیان کی ہے لیکن مکاسب پر مثبت تبصرہ بھی کیا ہے ۔ اُنھوں نے سورة الجمعة کی آیت سے استدلال کرتے ہوئے کسب کو واجب قرار دیا ہے ۔ (الجمعة62، آیت10) ”اور جب تم نماز ادا کر لو تو زمین میں پھیل جاو اور اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کرو۔“ شیخ موصوف نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی گلہ بانی ، حضرت داود علیہ السلام کی زرہ گری اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مویشی پالنے کے کسب کا خصوصی ذکر کیا ہے ۔ اُنھوں نے قرآن حکیم کی اُن آیات کا حوالہ دیا ہے جن میں لوہے سے لوگوں کے منافع کا ذکر ہے اور تجارت و لین دین کے احکام کا ذکر ہے ۔ ان آیات سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاشرے کی معیشت کا انحصار کسب پر ہے۔ اُنھوں نے درج ذیل حدیث کا خصوصی حوالہ دیا ہے :

حضرت محمد ا نے فرمایا: من طلب الدنیا حلالاً استعفافاً من المسئلة وسعیا علی العیال و تعطفا علی الجار سیلقی اللہ وجھہ کالقمر لیلة البدر۔ ”جس نے سوال سے اجتناب کے لیے اور عیال پر کشائش کے لیے اور ہمسایہ پر مہربانی کے لیے دنیا کو طلب کیا تو وہ اللہ تعالیٰ سے اِس حال میں ملے گا کہ اُس کا چہرہ چودھویں رات کے چاند جیسا ہوگا۔“

شیخ ابوبکر بخاری نے کسب معاش اور توکل کے مابین تطبیق کی کوشش کی ہے ۔ اُنھوں نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ:قولھم فی المکاسب اجمعوا علی اباحة الکسب من الحرف والتجارات والحرث و غیر ذلک۔ ”بزرگوں کا مکاسب مثلاً حرفت اور تجارت اور زراعت وغیرہ کی اباحت پر اجماع ہے ۔“

لیکن وہ خواص صوفیہ کے لیے توکل و طاعت کو کسب پر ترجیح دیتے ہیں ۔ وہ لکھتے ہیں :

حضرت جُنید کے نزدیک یہ کسب کرنا تنہا آدمی کو مباح ہے ۔ اُس پر واجب نہیںہے بشرطیکہ اُس کے توکل میں قدح نہ لائے اور نہ اُس کے دین میں حرج پیدا کرے …….. مثلاً کھانا اور سونا اور دیگر افعال جبکہ اِس سے شریعت میں نقصان نہ آئے اور نہ خدا تعالیٰ کی خدمت سے ہٹائے۔ یہ لوگ کسب کو یوں سمجھتے ہیں لیکن اِس شرط پر کہ توکل کو نقصان نہ پہنچے اور توکل کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ کسب پر اعتماد کرے اور دین کا حرج یہ ہوتا ہے کہ اُس کو طاعت سے روک دے اور اگر ان دو سے ایک بھی (پیدا) ہوجائے تو اِس پر کسب حرام ہو جاتا ہے جیسے نماز کے وقت میں سونا (حرام) ہے اور خواب بنفسہ مباح ہے لیکن جب نما ز کا وقت ہو تو حرام ہے ……… اور حق تعالیٰ کے وظائف میں مشغول ہونا کسب کرنے سے نہایت ہی بہتر اور عمدہ ہے کیونکہ حق تعالیٰ کے وظائف سب طاعت ہیں اور کسب کرنا اِس قائل کے نزدیک مباح ہے اور طاعت ، مباح سے بہتر ہے …….. اور یہ فرمایا کہ جب توکل درست ہو اور خدا تعالیٰ کے وعدے پر اعتماد صحیح ہو تو پھر کسب سے اعراض واجب تر ہے …….. حضرت سہل فرماتے ہیںکہ اہل توکل کو کسب کرنا روا نہیں ہوتا مگر اتباع سنت کے لیے روا ہے ۔ انبیا علیھم السلام نے کسب کیا ہے اور نیز بزرگان دین نے بھی کیا ہے ۔ میں بھی ان کی موافقت کرتا ہوں تاکہ ان کی طفیل بخشا جاوں۔
حضرت ابو طالب المکی (متوفی: 386ھ) صوفیہ کے امام سمجھے جاتے ہیں ۔ اُن کی کتاب قوت القلوب فی معاملة المحبوب تصوف کے لٹریچر میں وقیع مقام رکھتی ہے ۔ کسب اور توکل کے بارے میں اُن کی آرا کا خلاصہ بیان کیا جاتا ہے :

الغرض کاروبار اور اسباب کسب ایسی راہیں ہیں کہ جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ مخلوق کو روزی دیتا ہے ۔ یہ چیزیں خود روزی رساں اور عطا کرنے والی نہیں ہیں بلکہ یہ واسطوں کی حیثیت رکھتی ہیں ۔ جیسے کہ ایک انسان دوسرے کو عطا کرنے کے لیے واسطہ ہوتا ہے ………. اب جو آدمی ان اسباب و اشخاص کی طرف نظر رکھے یا اُن سے مانوس ہو اور مطمئن ہو تو اُن کے پائے جانے سے اُس کے دل کو قوت حاصل ہوگی اور اُن کے فقدان پر اُسے قلبی اضطراب و وحشت یا کمزوری ہوگی ۔ یاد رکھیے کہ یہ بات اُس کے توکل میں نقص ہے …….. ہمارے اس زمانہ میں بازاروں میں کاروبار کرنے اور تصرف کرنے سے الگ ہونا حقیقت میں صبر و قناعت کے لیے زیادہ معاون ہے اور ایسا آدمی ایسے کاروبار کرنے والے سے افضل و اکمل ہے کہ جسے اس بات کا ڈر ہے کہ خدا کی معصیت و نافرمانی کے بغیر مال نہیں کما سکوں گا ……….. کاروبار فرض نہیں ہے البتہ اگر اہل و عیال ہوں یا کسی دوسرے مباح طریق سے بقدر ضرورت کفالت نہ ہوتی ہو یا (کاروبار نہ ) ہونے سے وہ فرض سے ہی منقطع ہوجاتا ہو اور ادائیگی فرض میں کمزوری آتی ہو تو ان حالات میں کاروبار فرض ہے ………. حضرت ثوری کے پاس پچاس دینار تھے۔ وہ ان سے کاروبار کرتے۔ آخرکار یہ دینار لیے اور اپنے بھائیوں میں تقسیم کر دیے اور کاروبار ترک کر دیا ۔ بتاتے ہیں کہ یہ کام اُنھوں نے اُس وقت کیا کہ جب اُن کے گھر والے وفات پا گئے اور کسی بندے کے لیے یہ جائز نہیں کہ اپنے اہل و عیال کا حال اپنے حال پر ڈال لے ہاں اگر وہ بھی اختیار و پسند میں اسی کی طرح ہوں تو اجازت ہے کہ اُنہیں بھی فقر پر صبر حاصل ہو ۔“

اگر توکل صحیح ہو اور اللہ کے لیے اور اللہ کی راہ میں ذخیرہ کر رہا ہو تو پھر توکل کے ساتھ ذخیرہ کرنا کچھ نقصان نہیں دیتا ………… چنانچہ جب کوئی حق دیکھے تو اُس میں خرچ کرے اور حقوق اللہ کی ادائیگی ، بندے کے مقامات میں کمی نہیں کرتی ………. جناب رسول اللہ ا نے ایک سال کے لیے اپنے اہل و عیال کے لیے ذخیرہ فرمایا تاکہ یہ مسنون ہوجائے اور حضرت ام ایمن وغیرہا کو کل آئندہ تک کے لیے بھی ذخیرہ کرنے سے منع کیا اور حضرت بلالؓ کو بھی ذخیرہ اندوزی سے منع فرمایا تاکہ اہل مقامات اس میں اُن کی اقتدا کریں ……… ایک خبر مشہور میں ہے: ” اہل صفہ میں ایک صحابی کا انتقال ہوا تو اُن کے کفن کے لیے کچھ نہ ملا۔ حضور نبی اکرم ا نے فرمایا: ”اس کے کپڑوں کی تلاشی لو۔“ بتاتے ہیں کہ ہم نے اُن کے تہ بند سے دو دینا ر پائے۔ آپ نے فرمایا: ”یہ دو داغ لگانے کے مقام ہیں۔“ حالانکہ دوسرے مسلمان وفات پاتے اور مال چھوڑتے مگر آپ یہ ارشاد نہ فرماتے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اُن کا حال زہد کا تھا اور فقر کا اظہار تھا اِس لیے ذخیرہ اندوزی کو معیوب قرار دیا۔

ابوالقاسم عبد الکریم قشیری نیشا پوری (متوفی: 465ھ) کا رسالہ قشیریہ مضامینِ تصوف کا بہترین خلاصہ ہے ۔ اُن کے خیالات کا تجزیہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ توکل کی طرف زیادہ میلان رکھتے تھے اور کسب کی بوقت ضرورت محض اجازت دیتے تھے ۔ وہ سہل بن تستری کے قول کا حوالہ دیتے ہیں ۔ اُنھوں نے کہا تھا : ”توکل پیغمبرِ اسلام کا حال تھا جبکہ کسب اُن کی سنت تھی ۔ اگر کوئی اُن کے حال کا اتباع نہیں کرتا تو کم از کم اُن کی سنت کی تو نقل کرے۔

ابو القاسم قشیری ایک حکایت شفیق بلخی کی بیان کرتے ہوئے اُن کا اختتامی بیان اس طرح نقل کرتے ہیں :
میرا رب مال دار ہے پس میں روزی کمانے کے لیے کوشش کیوں کروں؟

حضرت سید علی بن عثمان ہجویری  المعروف بہ داتا گنج بخش کی کتاب کشف المحجوبجنوبی ایشیا میں تصوف کے موضوع پرلکھی گئی اوّلین کتاب ہے ۔ حضرت امام عبد الکریم قشیری اور حضرت شیخ علی ہجویری دونوں ہم عصرہیں ۔ حضرت شیخ علی ہجویری نے کسب کے بارے میں اظہارِ خیال نہیں کیا ہے ۔ اُنھوں نے اثباتِ فقر کے بارے میں مفصل لکھا ہے ، ایک اقتباس نقل کیا جاتا ہے:

مشائخ کرام نے فرمایا کہ درویش جس قدر تنگ دست ہو اُس کے لیے مفید ہے تاکہ حقیقت توکل و شان رزاق کے راز کا اُس پر انکشاف ہو اس لیے کہ درویش کے لیے علائق دنیاوی جس قدر زیادہ ہوں گے ، اُسی قدر اُس کو نقصان ہوگا۔ غرضیکہ درویش درحقیقت وہی ہے جو ضروریات زندگی کی کسی چیز سے واسطہ نہ رکھے مگر اِسی قدر جس قدر کہ اُس کی ضرورت قوت لا یموت کو کافی ہو ……… وہ تمنا جس کو مشائخ کرام تمنا کہتے ہیں وہ مال و دولتِ دنیا نہیں ہے بلکہ وہ غنا منعم حقیقی کی نعمت وصل ہے …….. بشر حافی فرماتے ہیں : ”افضل ترین درجہ فقر کا یہ ہے کہ وہ صبر کے ساتھ دنیاوی تنگ دستی کو اِس حد تک گزارے کہ میدان حشر محتاجگی تک وہ قائم رہے۔

حضرت داتا گنج بخش ایسے متشرع صوفی بھی توکل کی تعریف میں انتہائی نوعیت کی ایک حکایت نقل کرتے ہیں :
انھی میں سے داعی عصر یگانہ دہر حضرت ابو حمزہ خراسانی رضی اللہ عنہ ہیں ۔ قدما مشائخ خراساں سے گزرے ہیں ۔ حضرت ابو تراب کے صحبت یافتہ تھے اور حضرت ابو سعید احمد خراز کی زیارت سے مشرف ہوئے ۔ توکل میں آپ کا قدم بہت راسخ تھا ۔ ایک حکایت میں مشہور ہے کہ آپ ایک روز جاتے جاتے کنویں میں گر گئے ،تین روز ہی کنویں میں رہے ۔ ایک قافلہ ادھر پہنچا ۔ آپ نے اپنے دل میںکہا کہ انھیں آواز دوں۔ پھر دل میں ہی فرمایا کہ یہ اچھا نہیں کہ اپنے رب کے سوا کسی سے مدد چاہی جائے بلکہ یہ شکایت اپنے مولا کی ہے جو غیر سے کی جائے ۔ اس لیے کہ مجھے یہ کہنا پڑے گا کہ میرے رب نے مجھے کنویں میں ڈالا اب تم مجھے اس کنویں میں سے باہر نکالو۔ کہتے ہیں کہ اِس قافلہ کے لوگوں میں سے کسی نے اس کنویں کو دیکھا ۔ آپس میں مشورہ کیاکہ یہ کنواں بر سرِ راہ ہے ۔ اگر اسے بند کر دیا جائے تو ہمیں ثواب ملے گا اور ( اور یہ اماطة الاذیٰ ہے یعنی تکلیف دہ اور ایذا رساں کو ہٹا دینا ثواب ہے ) آخرش وہ جمع ہوئے کہ اس کا منہ استوار کرنا شروع کیا اور تمام کنویں کا منہ پاٹ دیا اور واپس ہوگئے ۔ میں اس بند کنویں میں اپنے رب کے حضور مناجات میں مشغول ہوگیا اور جان دینے کے لیے آمادہ ہوگیا اور تمام مخلوق سے نااُمید تھا ۔ جب شام ہوئی تو میں نے دیکھا کہ کنویں کے اوپر کچھ جنبش معلوم ہوئی ۔ میں نے غور سے دیکھا کہ یہ کنواں کون کھول رہا ہے تو معلوم ہوا کہ ایک سانپ کے مانند کوئی جانور ہے ۔ اُس نے اپنی دم نیچے لٹکا رکھی ہے ۔ میں سمجھ گیا کہ من جانب اللہ میری اِس کنویں سے نجات اس کے ذریعہ مقرر ہے ۔ میں نے فوراً اُس کی دم پکڑ لی۔ اُس نے مجھے فوراً اوپر کھینچ لیا ۔ غیب سے فرشتے نے آواز دی ۔ اے ابوحمزہ تیری نجات بہت اچھی نجات ہے کیونکہ تجھے ایک بڑی ہلاکت کے بعد نجات ملی ہے ۔

حجة الاسلام ابو حامد الغزالی (1085ءتا 1111) مسلم مفکرین میں وہ مقبول ترین شخص ہیں جنھوں نے قرآن و سنت ، علم الکلام اور دیگر علوم میں مہارت حاصل کرنے کے بعد تصوف کی راہ اپنائی ۔ اُنھوں نے تصوف کے علوم و اسرار کو شریعت اسلام کی حدود میں رہتے ہوئے فصیح اور دل نشین انداز میں بیان فرمایا۔ اُنھوں نے کسب معاش ، طلب معاش ، ذخیرہ اندوزی ، تقسیمِ دولت پر بصیرت افروز خیالات کا اظہار کیا ہے ۔ اُن کے افکار میں قرآن و سنت کی روشنی ، روزمرہ کے تجربے اور اپنے زمانے کے عمرانی مسائل کاگہرا شعور پایا جاتا ہے ۔ امام غزالی نہ صرف صوفی تھے بلکہ وہ ماہرِ عمرانیات بھی تھے ۔ اُنھوں نے معاشیات و سیاسیات کے اُصولوں سے بھی بحث کی ہے ۔ اُنھوں نے کسب معاش کو عمرانی زندگی کی بنیاد قرار دیا ہے ۔ اُنھوں نے احیا العلوم میں ایک باب بعنوان کتاب آداب الکسب والمعاش قائم کیا ہے ۔ وہ لکھتے ہیں :

یہ بھی پڑھیں:  قطب مینارکس کی ملکیت ہے ؟، پہلے بھی سوال اٹھ چکے ہیں ؟

دنیا میں انسان محنت کرتا ہے ، ہمیں اُس کی جزا آخرت میں ملتی ہے ۔ دنیا کی محنت صرف یہی نہیں ہے کہ آدمی نماز ، روزے کے علاوہ کچھ نہ کرے بلکہ یہ بھی آخرت کے اعمال کا اہم ترین جز ہے کہ زندگی گزارنے کے لیے کمائے اس لیے کہا جاتا ہے کہ الدنیا مزرعة الاٰخرة (دنیا آخرت کی کھیتی ہے ) ……….. معاش کے اعتبار سے لوگوں کی تین قسمیں کی جا سکتی ہیں ۔ ایک وہ شخص ہے جو معاش کی مشغولیوں میں معاد کو بھول گیا ہو ۔ یہ شخص ہلاکتوں کے راستے پر گامزن ہے ۔ دوسرا وہ شخص ہے جو معاد کی مشغولیت کی وجہ سے معاش سے بے نیاز ہوگیا ہو یہ ان لوگوں کا درجہ ہے جو قرب خداوندی کی انتہائی منزلیں طے کر چکے ہیں ۔ تیسرا وہ شخص جو معاد کے لیے معاش میں مشغول ہو یہ شخص راہِ اعتدال پر ہے لیکن اعتدال کا یہ درجہ اُس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتا جب تک وہ شخص معاش کے سلسلے میں شریعت کے بتائے ہوئے طریقے پر نہ چلے۔

کسب معاش کی اہمیت اور کمانے کے فضائل بتاتے ہوئے امام غزالی نے قرآن حکیم کی دو آیات مبارکہ سے استدلال کیا ہے : (النبا 78:آیت 12)”اور ہم نے دن کو معاش کا وقت بنایا“۔ اسے معرض امتنان یعنی موقع احسان میں ذکر فرمایا ہے ۔ ذیل کی آیت کریمہ میں معاش کو نعمت قرار دیا گیا ہے اور پھر اس نعمت پر ادائے شکر کا مطالبہ کیا گیا ہے: ”اور ہم نے تمھارے لیے زمین میں سامانِ زندگی پیدا کیا تم لوگ بہت ہی کم شکر ادا کرتے ہو“۔
امام غزالی احادیث نبوی نقل کرتے ہیں :

التاجر الصدوق یحشر یوم القیامة مع الصدیقین والشھدا (ترمذی ۔ حاکم ۔ ابو سعید الخدری) ”سچا تاجر قیامت کے دن صدیقین اور شھدا کے ساتھ اٹھایا جائے گا ۔“ من طلب الدنیا حلالاً تعففاً عن المسئلة وسعیا علی عیالہ و تعطفا علی جار سیلقی اللہ وجھہ کالقمر لیلة البدر(بیہقی شعب الایمان (ابوہریرہ)) ۔”جو شخص مانگنے سے بچتے ہوئے حلال طریقے سے اپنے اہل و عیال کے لیے جدوجہد اور اپنے پڑوسی پر مہربانی کے نقطہ نظر سے دنیا طلب کرے تو وہ چودھویں رات کے چاند کی طرح حسین چہرے کے ساتھ باری تعالیٰ سے ملاقات کرے گا۔“ ان اللہ یحب المومن المحترف ” اللہ تعالیٰ پیشہ ور مومن کو محبوب رکھتا ہے ۔“ لان یاخذ احدکم حبلہ فیحتطب علی ظہرہ خیرلہ من ان یاتی رجلا اعطاہ اللہ من فضلہ فیسالہ اعطاہ و منعہ (بخاری و مسلم ۔ابو ہریرة) ”کوئی شخص رسی لے کر اپنی پشت پر لکڑیاں لادے یہ عمل اُس شخص کے لیے اس سے بہتر ہے کہ کسی ایسے شخص کے پاس جائے جسے اللہ نے اپنی نعمتوں سے نوازا ہو اور اِس کے سامنے دست طلب دراز کرے وہ اُس کو دے یا نہ دے۔

امام غزالی انبیا کرام اور صحابہ کرامؓ کے اقوال اور عمل کے نظائر پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

حضرت لقمان علیہ السلام نے اپنے بیٹے سے فرمایا: کہ اے بیٹے! حلال کمائی کے ذریعے افلاس سے نجات حاصل کرنا ، جو شخص گرفتار فقر ہو اُس میں تین باتیں پیدا ہوجاتی ہیں : دین میں نرمی آجاتی ہے ۔ عقل میں فتور آجاتا ہے ۔ مروت اور لحاظ ختم ہوجاتا ہے ۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ لوگ اُسے حقیر سمجھنے لگتے ہیں ۔ حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں کہ یہ ہرگز مناسب نہیں ہے کہ کوئی شخص طلب رزق کے لیے ہاتھ پیر چلائے بغیر یہ دُعا کرتا رہے کہ ”اے اللہ مجھے رزق عطا کر“ ۔ اُسے معلوم ہونا چاہیے کہ آسمان سے سونا چاندی نہیں برستا ۔ زید ابن مسلمہ اپنی زمین میں شجرکاری کررہے تھے ۔ حضرت عمر ؓ ادھر سے گزرے تو فرمایا کہ زید! اپنے دین کی حفاظت اور لوگوں سے بے نیاز ہونے کے لیے یہ بہترین کام ہے جس میں تم مشغول ہو۔

ایک مرتبہ آنحضرت نے پرندوں کے متعلق ارشاد فرمایا: تغدو خماصاً و تروح بطاناً (ترمذی ، ابن ماجہ ۔ حضرت عمرؓ)۔ ”صبح کو خالی پیٹ جاتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کر واپس آتے ہیں۔ حدیث کا منشا و مراد یہ ہے کہ پرندے تک طلب رزق کے لیے نکلتے ہیں ۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین تجارت کے لیے بحر و بر کا سفر کرتے، ملکوں ملکوں گھومتے اور اپنے باغوں میں کام کرتے ۔ ابو قلابہ نے ایک شخص سے فرمایا کہ مسجد کے کونے میں مصروفِ عبادت ہونے سے بہتر یہ ہے کہ طلب معاش میں لگو۔ کہتے ہیں کہ اوزاعی کی ملاقات ابراہیم بن ادہم سے اِس حالت میں ہوئی کہ اُن کے سر پر لکڑیوں کا ایک گٹھا رکھا ہوا تھا ، اوزاعی نے کہا :اے ابو اسحاق! تم کیوں اِس قدر مشقت برداشت کرتے ہو ، تمھاری کفالت کے لیے تمھارے بھائی کافی ہیں۔ فرمایا: اے ابو عمر! طلب حلال کے لیے جو شخص ذلت کے کام کرتا ہے اُس کے لیے جنت واجب کر دی جاتی ہے ۔ اِس لیے تم مجھے لکڑیاں اٹھانے سے مت روکو۔ ابو سلیمان دارانی کہتے ہیں کہ ہمارے نزدیک عبادت اِس کا نام نہیں کہ اپاہچ بن کر بیٹھ جاو، دوسرے لوگ تمھیں کھانا کھلائیں ، روٹی کی فکر کرنا عبادت کا پہلا مرحلہ ہے ۔ پہلے روٹی کی فکر کرو پھر عبادت کرو۔ حضرت معاذ بن جبلؓ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن اعلان کیا جائے گا کہ وہ لوگ کہاں ہیں جو دنیا میں اللہ کے مبغوض تھے ، یہ سُن کر وہ لوگ کھڑے ہو جائیں گے جو مسجدوں میں مانگا کرتے تھے۔

امام غزالی چار قسم کے لوگوں کو کسبِ معاش سے مستثنیٰ قرار دیتے ہیں ۔ اُن کی رائے کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ وہ ہمہ وقت عبادت اور سیرِ باطن میں مشغول رہنے والے افراد کو بھی کسبِ معاش سے مستثنیٰ قرار دیتے ہیں اور بیت المال وغیرہ سے اُن کی کفالت کا راستہ دکھاتے ہیں ۔ لکھتے ہیں:

چار قسم کے لوگ کمانے کی فضیلت سے مستثنیٰ قرار دیے جا سکتے ہیں ، اُن کے لیے زیادہ افضل کام وہ ہے جس میں وہ لوگ مشغول ہیں ۔ ایک وہ شخص جو بدنی عبادات کا عابد ہو اور ہمہ وقت عبادت میں لگا رہے ، دوسرا وہ شخص جو سیر باطن میں مشغول ہو ، اور اُسے احوال و مکاشفات کے علوم میں قلب کا عمل میسر ہو ، تیسرا وہ شخص جو اپنے ظاہری علوم سے لوگوں کو دینی نفع پہنچا رہا ہو ، مثلاً مفتی ، مفسر اور محدث وغیرہ ۔ چوتھا وہ شخص جو مسلمانوں کے مفادات کا نگہبان ہو اور اُن کے معاملات کا متکفل ہو ۔ جیسے بادشاہ اور قاضی وغیرہ ۔ اگر یہ لوگ بیت المال سے ، یا علما اور فقرا کے لیے موقوفہ املاک کی آمدنی میں سے ضرورت کے بقدر لیتے رہیں تو اُن کے لیے افضل یہی ہے کہ وہ کسب کے بجائے اپنے متعلقہ فرائض کی ادائیگی میں مصروف رہیں ۔
عمر بن محمد شہاب الدین سہروردی (ولادت:356ھ) سلسلہ سہروردیہ کے بانی ہیں ۔ آپ نے بغداد میں اپنے چچا شیخ ابو نجیب سے ظاہری و باطنی تعلیم حاصل کی ۔ آپ شیخ الشیوخ کے عہدے پر بھی فائز تھے ۔ آپ کے عباسی خلفا اور مسلم امرا سے اچھے مراسم تھے ۔ وہ آپ کا بے حد احترام کرتے تھے ۔ آپ اسلامی ممالک کے درمیان مصالحت کے لیے سفیر کے فرائض بھی سرانجام دیتے رہے ۔ خلیفہ الناصر نے آپ کے لیے ایک رباط (خانقاہ) تعمیر کرائی ۔ آپ کی شہرہ آفاق کتاب عوارف المعارف تصوف کے موضوع پر منفرد اور متوازن کتاب ہے ۔ آپ نے اِس کتاب میں کسب کے موضوع پر زیادہ نہیں لکھا۔ صرف باب 19میں صوفیہ کی معاشی زندگی کے بارے میں اظہارِ خیال کیا ہے اور سوال نہ کرنے کی فضیلت بیان کی ہے :

صوفیہ کرام کے حالات مختلف ہیں بعض ظاہری اسباب معیشت کے مطابق زندگی بسر کرتے ہیں اور بعض ان سے روگردانی کرتے ہیں ۔ کچھ لوگ نذر و نیاز (فتوح) پر بسر اوقات کرتے ہیں اور کسی معلوم ذریعہ پر بھروسہ نہیں کرتے وہ نہ کماتے ہیں اور نہ مانگتے ہیں ۔ کچھ لوگ کما کر کھاتے ہیں ۔ کچھ انتہائی فاقہ کشی کی صورت میں دست سوال دراز کرتے ہیں مگر کسی حالت میں وہ اپنی مقررہ حدود ادب سے تجاوز نہیں کرتے ……… بہرحال جہاں تک ممکن ہو درویش کو سوال کرنے سے پرہیز کرناچاہیے کیونکہ رسول اللہ ا نے ترغیب و تنبیہ کے ذریعے سوال کرنے سے منع فرمایا ہے ۔ ترغیب کے سلسلے میں وہ روایت ہے جو حضرت ثوبانؓ سے منقول ہے کہ رسول اللہ ا نے فرمایا:

کون ہے جو ایک چیز کی ذمہ داری لے تو میں اُس کے لیے بہشت کا ذمہ دار بن جاوں۔“ حضرت ثوبانؓ کہنے لگے ”وہ میں ہوں۔“ آپ نے فرمایا: ”وہ چیز یہ ہے کہ تم لوگوں سے کچھ نہ مانگو۔“ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اگر حضرت ثوبانؓ کے کوڑے کا ڈورا گر جاتا تو وہ کسی کو اٹھانے کا حکم نہیں دیتے تھے بلکہ گھوڑے سے اُتر کر اُسے اٹھاتے تھے ۔“

حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا: ”اگر تم میں سے کوئی ایک رسی سے لکڑیوں کا گٹھا باندھ کر اپنی کمر پر اٹھائے اور اُسی کے ذریعے روزی کھائے اور (اسی میں سے ) صدقہ کرے ۔ تو اُس کے لیے یہ اِس سے بہتر ہے کہ وہ کسی کے سامنے دستِ سوال دراز کرے ۔ اُس وقت وہ اِسے کچھ بخشش کرے یا نہ کرے اُسے اختیار حاصل ہے ۔ بہرحال اونچا ہاتھ (دینے والا) نچلے ہاتھ (لینے والا) سے بہتر ہوتا ہے۔

شہاب الدین سہروردی کے نزدیک سوال کرنے کی اجازت صرف مندرجہ ذیل صورت میں ہے:

اگر درویش اپنی تمام کوشش صرف کرنے کے بعد کمزور ہوتا گیا اور اُس کی ضرورت انتہا تک پہنچ گئی اور اپنے مولیٰ سے سوال کرنے کے بعد بھی اسے کچھ نہ ملے ، وہ اپنے روحانی مشغلہ میں اِس قدر مصروف ہو کہ روزی کمانے کی فرصت ہی نہ ہو تو ایسے موقع پر ایک درویش عالمِ اسباب کا دروازہ کھٹکھٹا سکتا ہے اور اُسے مانگنے کی اجازت ہے ۔

قرونِ وسطیٰ کے سلسلہ چشتیہ کے صوفیہ فقر و استغنا میں باقی سلسلوں کی نسبت زیادہ شہرت رکھتے ہیں ۔ وہ کسبِ معاش کی طرف زیادہ راغب نہیں تھے لیکن اُن میں سے بھی کچھ ایسے تھے جو اپنے ہاتھ کی کمائی کھاتے تھے ۔ صوفی حمید الدین ناگوری (متوفی: 1274ئ) سلسلہ چشتیہ کے نامور صوفی ہیں ۔ وہ توکل اور استغنا میں خاص شہرت رکھتے ہیں ۔ سلطان دہلی اور ناگور کے مقامی عامل نے اُن کو بیش بہا نقدی اور اراضی دینے کی پیش کش کی لیکن اُنھوں نے قبول کرنے سے صاف انکار کر دیا ۔ وہ دنیاوی مرغوبات اور املاک سے کلی طور پر لا تعلق ہونے کی وجہ سے سلطان التارکین کہلاتے تھے ۔ اُن کے اور ملتان کے سلسلہ سہروردیہ کے معروف بزرگ بہا الدین زکریا کے مابین مال و دولت کے محاسن و فتن پر خط کتابت رہی جو نہایت ہی دلچسپ ہے ۔ چشتی سلسلہ کے صوفیہ مال و دولت کو سانپ سے تشبیہ دیتے تھے جبکہ سہروردیہ صوفیہ کہتے تھے کہ سانپ اُس شخص کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا جو اُس کا منتر جانتا ہو ۔ حمید الدین ناگوری کی گاوں میں صرف ایک بیگھہ زمین تھی اور ایک گائے تھی۔ وہ آدھی زمین ایک موسم میں کاشت کرتے تھے اور دوسری آدھی دوسرے موسم میں ۔ اُن کی بیوی بھی اللہ والی تھی وہ اپنے لیے اور اپنے خاوند کے لیے خود ہی کپڑا بُنا کرتی تھی ۔

شیخ نظام الدین اولیا ( 1244ءتا 1325ئ(برصغیر پاک و ہند کے بہت بڑے صوفی گزرے ہیں ۔ آپ بابا فرید گنج شکر (متوفی:1265) کے جانشین تھے ۔ اُس دور کے مشاہیر علماے کرام ، شعراے عظام اور معروف مصنفین اُن کے علمی تفوق اور روحانی طاقت کے معتقد تھے۔ اُن کے خلفا ملک کے طول و عرض میں پھیل گئے اور سلسلہ چشتیہ کو سب سے زیادہ مقبول سلسلہ بنا دیا ۔ شیخ نظام الدین اولیا کے کئی معتقدین حکومت کے عہدوں پر فائز تھے جن میں فوائد الفواد کے مولف حضرت امیر حسین سنجری ،عزیز کوتوال بدایون ، قاضی کمال الدین جعفری اور خواجہ محمود (یار شیخ) معروف ہیں ۔ نظام الدین اولیا نے اپنے مریدوں کو کسب کی اجازت دے رکھی تھی لیکن جو آپ کی خانقاہ میں سکونت پذیر ہوکر سلوک و عرفاں کی منازل طے کرنا چاہتا تھا اُس کو آپ کسی دنیاوی شغل کی اجازت مرحمت نہیں فرماتے تھے ۔ آپ کا وسیع دستر خوان تھا اور جماعت خانہ میں سیکڑوں افراد رہتے تھے اور اُس کا انتظام و انصرام فتوح (بن مانگے ملنے والے عطیات) کے ذریعے چلتا تھا ۔ محبوبِ الٰہی کی علالت کے زمانے کا ایک ملفوظ یوں نقل کیا گیا ہے :

جب نظام الدین اولیا بستر علالت پر تھے اور جماعت خانے کے مکینوں نے پوچھا ”کہ آپ کے روپوش ہونے کے بعد ہمارا کیا بنے گا۔“ اُنھوں نے جواب دیا: ”کہ جو کچھ تمھیں ضرورت ہوگا وہ میری تربت سے ملے گا۔“

اُن کی یہ بات سچ ثابت ہوئی ۔ آج بھی اُ ن کا جماعت خانہ بغیر کسی مستقل آمدنی کے فتوح پر چل رہا ہے ۔ شیخ موصوف کے نزدیک دنیا ، سونے چاندی ، گھوڑوں اور دیگر مال و اسباب کا نام نہیں بلکہ دنیا ان سے محبت کرنے کا نام ہے ۔ ترکِ دنیا کے بارے میں ایک بار حضرت نظام الدین اولیا نے فرمایا:
ترکِ دنیا یہ نہیں کہ کوئی اپنے آپ کو ننگا کرلے مثلاً لنگوٹی باندھ کر بیٹھ جائے ۔ ترکِ دنیا یہ ہے کہ لباس پہنے اور کھانا کھائے (البتہ جو کچھ آئے اُسے خرچ کرتا رہے جمع نہ کرے اور اِس سے رغبت نہ رکھے اور دِل کو کسی چیز سے اٹکائے نہ رکھے۔

شیخ نظام الدین اولیا کے خلفا میں سے سب سے زیادہ شہرت شیخ نصیر الدین چراغ دہلی کو ملی ۔ اُن کا تعلق متمول خاندان سے تھا لیکن اُنھوں نے اپنے اختیار سے فقر کی زندگی منتخب کی۔ اُن کے ملفوظات حمید قلندر نے خیر المجالس کے نام سے جمع کیے ہیں ۔ چراغ دہلی (متوفی: 1365) کسب اور توکل میں کوئی تضاد نہیں پاتے ۔ وہ فرماتے ہیں:

کسب میں مشغول ہونے سے توکل کی نفی نہیں ہوتی ۔ اگر ایک عیال دار شخص کسب میں مشغول رہتا ہے لیکن اُس کے دل کی آنکھ کسب پر مرتکز نہیں ہوتی بلکہ حق پر مرکوز رہتی ہے تو وہ متوکل ہے۔

حضرت چراغ دہلی سلسلہ چشتیہ کے وہ بزرگ ہیں جنھوں نے کسب معاش کی نہ صرف اجازت دی ہے بلکہ اس کی تحسین و تعریف بھی کی ہے ۔ وہ فرماتے ہیں :

بچوں کو پڑھانا بہت بڑی نیکی ہے ۔ کھیتی باڑی سب سے اچھا لقمہ فراہم کرتی ہے ۔ کسب کے ذریعے روزی کما کر کھانا سب سے بہترین غذا ہے ……… آپ جو بھی کام کرتے ہیں اُسے جاری رکھیں چاہے یہ حکمرانی ہو یا کوئی اور دنیاوی شغل لیکن اللہ تعالیٰ کو کبھی ایک لمحہ کے لیے بھی نہ بھولیے گا ۔

سلسلہ نقش بند کے صوفیہ پابندی شرع میں باقی تینوں سلسلوں کی نسبت زیادہ مشہور ہیں ۔ اِس سلسلے کے اکثر صوفیہ کسب معاش کا التزام کرتے ہیں ۔ خواجہ بہا الدین نقش بندی (متوفی: 1389ئ) نقش بندی سلسلہ کے بانی ہیں ۔ اُن کے پیرو مرشد سید امیر کلال علم و تقویٰ میں لاثانی تھے ۔ اُنھوں نے اپنے مریدوں کو حصولِ علم کی بہت تاکید کی تھی۔ انھوں نے علوم کی اقسام میں علم خرید و فروخت کو بھی شامل کیا تھا ۔ اُنھوں نے کسب حلال اور لقمہ حلال کی بار بار تلقین کی ہے۔ اُنھوں نے ایک بار فرمایا:
کسب کی طرف توجہ دو اور اپنی روزی کسب حلال کے ذریعے حاصل کرو۔ حرام سے اجتناب کرو۔ کفایت شعاری اختیار کرو۔ اسراف نہ کرواور نہ ہی نمود و نمائش سے کام لو ۔ دوسروں پر شرع کے مطابق خرچ کرو۔ اِس سلسلے میں کنجوسی یا فضول خرچی کی روش نہ اختیار کرو، میانہ روی اختیار کرو کیونکہ پیغمبرِ اسلام نے فرمایا:خیر الامور اوسطھا(تمام امور میں میانہ روی بہترین راستہ ہے) اور صرف حلال غذا کھاو اور یہ واجب ہے کہ تم اپنی کمائی میں سے کھاو۔
خواجہ بہا الدین نقش بندی کے ملفوظات کو صالح بن مبارک بخاری نے انیس الطالبین تذکرہ خواجہ بہاءالدین نقشبندی کے نام سے جمع کیا تھا ۔ اس کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ سلسلہ نقش بندیہ کے عظیم صوفی کسب معاش کی بہت تحسین کرتے تھے۔ ملفوظات میں ایسے افراد کا ذکر ہے جو کھیتی باڑی کرتے تھے ۔ اُن میں سے کچھ کپاس کاشت کرتے تھے ۔ خود خواجہ بہا الدین ایک پیشہ سے منسلک تھے ۔ اس سلسلے میں صوفیہ (سلسلہ خواجگان) دست کاری ، برتن سازی اور دیگر پیشوں کے ساتھ منسلک تھے ۔ اُنھوں نے اپنے مریدوں کو بھی کسب معاش کی تلقین کی ۔ اُن کے سلسلے میں یہ قول بہت مشہور تھا ۔ ”دست با کار، دل با یار“ قرآن حکیم نے اعلیٰ انسانوں کی یہی خصوصیت بتائی ہے :

ایسے آدمی جن کو اللہ کی یاد سے اور نماز قائم کرنے سے اور زکوٰة دینے سے نہ تجارت غافل کرتی ہے اور نہ فروخت۔

صوفیہ کرام کی سوانح عمریوں کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اُن کی اکثریت نے مکمل رہبانیت اختیار نہیں کی تھی اور اُنھوں نے کسب معاش کی اجازت دی تھی البتہ وہ سالکین جو سلوک و عرفان کے اعلیٰ مقامات حاصل کرنے کے متمنی تھے اُنھیں ہمہ وقت ذکرِ الٰہی کی تلقین کی جاتی تھی ۔ مختلف خطوں اور منطقوں کی صوفیانہ روایت کو سامنے رکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بغداد اور خراسان کے صوفیہ میں کسب کو زیادہ اہمیت حاصل تھی ۔ ان علاقوں کے کچھ صوفیہ کا تجارت اور دیگر پیشوں سے تعلق رہتا تھا اور یہاں تک کہ کچھ صوفیہ اپنے پیشے کی نسبت سے معروف ہوگئے تھے جبکہ جنوبی ایشیا کے صوفیہ کسب معاش پر زیادہ زور نہیں دیتے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ اِس خطے کے اکثر صوفیہ خانقاہ نشین تھے اور اُن کا خانقاہی نظام وقف املاک یا فتوح کے ذریعے چلتا تھا ۔

اگرچہ صوفیہ کسب معاش کی اجازت دیتے ہیں اور اپنے ہاتھ کی کمائی کی فضیلت بیان کرتے ہیں لیکن صوفیہ کے ملفوظات میں ترکِ دنیا ، فقر ، زہد اور توکل پر اِس قدر اصرار ہے کہ ان کے ارادت مندوں کا دنیا اور اسبابِ دنیا سے اعتقاد اُٹھ جاتا ہے ۔ اس قسم کی ذہنی فضا میں معاشیات سے کوئی دل چسپی نہیں رہتی،ذہن عوام الناس کی غربت اور افلاس کے مسائل کی طرف متوجہ نہیں رہتا ۔ صوفیہ کے نزدیک معاشی منصوبہ بندی توکل کے منافی ہے ۔ کئی معروف صوفیہ کل کی فکر کرنے کو توکل کے خلاف سمجھتے تھے ۔ اِس لیے اُن کے پاس جو غلہ اور دیگر اشیائے ضرورت جمع ہوتیں وہ اُن کو فوراً تقسیم کرنے کا حکم دیتے اور کل کے لیے خود بخود فتوح کے ذریعے مزید غلہ اور ضروریات زندگی مہیا ہو جاتی تھیں ۔ یہ صوفیہ کا ایک خاص ذوقِ توکل یا کرامت سمجھی جاتی ہے ۔ قرآن محل والے صوفی محمد برکت علی لدھیانوی (1911ءتا1996ء) اس راہ توکل پر گامزن تھے۔ اُن کا لنگر چلتا رہتا تھا لیکن جو کچھ آج ملتا تھا اُس کو کل کے لیے اُٹھا نہ رکھتے تھے جو کچھ بچ رہتا تھا حاضرین میں تقسیم کر دیتے تھے ۔ جسٹس صدیق صاحب ، اشفاق احمد اور بانو قدسیہ ایک روز صوفی محمد برکت علی کے دار الاحسان فیصل آباد میں گئے ۔ اشفاق صاحب کہتے ہیں :

”میں نے کہا کہ سرکار یہ تو بہت خرچ ہے کہنے لگے نہیں ، کچھ بچت بھی ہوگی ، بچت بھی ہوئی ہوگی۔ ہیلو ہیلو مسٹر ہیلو ہیلو (اشفاق صاحب) بچت بھی ہوئی ہے ۔ شفیع صاحب (حساب رکھنے والا) نے کہا کہ جی یہ9321روپے بچ گئے ہیں ۔ کہنے لگے شاباش ۵ہزار روپے جج صاحب کو دے دیں ۔ شفیع صاحب کہنے لگے باقی بچے 4321، بابا جی کہنے لگے اچھا یہ اِس کو دے دو ، ہیلو ہیلو کو دے دو ۔ میرے نزدیک یہ اُلٹا کام تھا ۔ یہاں لوگ دینے آتے تھے اور مجھے مل رہا تھا ۔ مجھ سے رہا نہ گیا ، میں نے عرض کیا جناب یہ کیسا حساب ہے ۔ کہنے لگے کہ ہمارا حساب ٹھیک ہے شام کو فقیر کے پاس پیسہ نہیں ہوتا ۔ میں نے کہا بابا جی میں تو ہوں معاشیات کا ایک طالب علم۔ یہ جو بندہ یہاں ہزاروں کی تعداد میں پڑا ہے ان کو صبح آپ نے ناشتہ فراہم کرنا ہے ، ان کی بھی کوئی فکر آپ کو ہے کہ نہیں ۔ کہنے لگے بس ایک ایک انڈہ اور ایک ایک پراٹھا۔ میں نے کہا کہ اِس طرح بھی ہزاروں انڈے اور ہزاروں پراٹھے بنتے ہیں یہ تو مہیا کرنے مشکل ہوجائیں گے ۔ بابا جی کہنے لگے تو پھر جس نے بھیجے ہیں وہ واپس لے جائے گا ۔ میں نے کسی کو بلایا تو نہیں ۔ جس نے یہاں بھیجے ہیں وہ اگر انھیں ناشتہ نہیں دے سکتا تو لے جائے ۔ جج صاحب نے بھی کہا کہ حضور آپ یہ رقم رکھ لیں ۔ کہنے لگے کہ نہیں بس ۔ حساب بند ۔ کاٹی پھیر دیں ۔ کاٹی پھیر دیں ۔ تشکیک کے مارے ہوئے آدمی کی طرح میرا ایک تجسس تھا ہم کچھ اور دیر اور وہاں پر معلومات حاصل کرنے کے لیے رُکے ………. جب ہم پُلی عبور کرکے ٹرکوں کے نزدیک سے گزرے ………میں نے ڈرائیور سے پوچھا کہ یہ کیا ہے تو کہنے لگے کہ جی یہ آٹے کی بوریاں ہیں ۔ میں نے کہا یہ تو ٹرکوں کی بڑی لمبی قطار ہے اتنا آٹا کہاں جا رہا ہے تو وہ بولا کہ جناب یہ بابا جی کے ہاں ہم تحفہ لے کر جا رہے ہیں جو مل مالکان بھیجتے ہیں ۔ آگے پکی سڑک پر چڑھے تو دو چھوٹی گاڑیاں سوزوکی پک اپ دیکھنے میں آئیں ۔ وہ کسی پولٹری فارم کی تھیں اور اُن کے اندر انڈے تھے ۔ میں نے اپنے تجسس کے پیش نظر اُن سے بھی پوچھ لیا ۔ وہ کہنے لگے کہ جناب بابا جی کے ہاں جا رہے ہیں ۔ یہ بات سُن کر میرے ذہن میں بابا جی کی یہ بات گردش کرنے لگی کہ ایک ایک انڈہ ایک ایک پراٹھا ۔ ایک ایک انڈہ ایک ایک پراٹھا۔

صوفیہ کا یہ ذوقِ توکل اچھا سہی لیکن منصوبہ بندی اِس سے بہتر طریقہ ہے ۔ حضرت یوسف علیہ السلام کی منصوبہ بندی قرآن حکیم میں مذکور ہے ۔ جب گندم کی خوب پیداوار ہوئی تو اُس کو گوداموں میں سنبھال کر رکھا اور آنے والے قحط کے سالوں میں اُس کو استعمال کیا ۔ قرآن حکیم عقل و حکمت اور تدبر پر بہت زور دیتا ہے کیونکہ فرد اور قوم کی زندگی میں منصوبہ بندی اور دور اندیشی بہت اہمیت رکھتی ہے ۔ ضابطے ، دساتیر اور معاشی منصوبہ بندی کے بغیر عمرانی مسائل حل نہیں ہوسکتے۔

یہ بھی پڑھیں:  جتنا وقت قیمتی ہے اس سے زیادہ بچے

صوفیہ کے ان افکار اور طرزِ عمل سے عوام الناس میں معاشی تگ و دو اور معاشی ترقی کی امنگیں سرد پڑ گئیں ۔ ڈاکٹر ریاض الاسلام کا تبصرہ قابلِ توجہ ہے ۔ وہ لکھتے ہیں :

It is also important to remember that elements like Tawakkal, Zuhud and Faqr ٰwhich were likely to eclipse positive ideas on Kasab, were much more noised about in Sufi circles than Kasb and Sa’i’ (effort, endeavour) In the popular image, whether among the educated people or the common folk, Tasawwuf was associated much more with self denial, fortitude, asceticism and other-worldliness than with the practice of Kasab.

صوفیہ کی خانقاہوں پر سالکین کے علاوہ بے شمار ایسے لوگ بھی پڑے رہتے تھے جو کوئی کام نہیں کرتے تھے ۔ اُن کو صبح و شام کھانا مل جاتا تھا ۔ خانقاہی نظام میں انحطاط کے ساتھ صوفیہ کے مزاروں اور خانقاہوں پر بھکاریوں کا بھی ہجوم ہونے لگا ۔ ان خانقاہوں کا تمام تر انحصار ”فتوح “ پر تھا ۔ کئی سلاطین او رامرا نے کچھ زمینیں بھی کچھ خانقاہوں کے لیے وقف کر دیں ۔ انگریزی دور میں ان خانقاہوں کے ذریعے حکومت کی حمایت حاصل کرنے کے لیے حکومت کی کچھ اراضی ان کی تحویل میں دے دی گئی تھی۔ ”فتوح“ کی تشریح کرتے ہوئے ڈاکٹر ریاض الاسلام لکھتے ہیں :

Unasked for charity came to be known in Persian writings as ‘Futuh’ and thus indeed became the main source of support for the sufism of certain silsilas. The concept of futuh in this sense was evolved mainly in Baghdad and Khurasan and its application was mostly institutionalized mostly in South Asia. The rationale for depending on futuh was that non earning made the sufi independent. Any earning activity would inevitably bring him into contact with, and place him in a position of subordination, to the authority of administration, thus limiting his freedom. Even if he were to cultivate a piece of barren land — an activity highly approved of in the Shari’at — This would place him in a position of subordination to the Revenue officer. So the ideal was to depend on God, So that if some one came to offer you futuh, you in return would offer thanks, not to him but to God who employed him as an agency to help you: your obligation was to God and none else. Thus being offered Futuh placed a Sufi in a position of inferiority to none except God. some Sufis disapproved of accepting Succour from any person. Others openhandedly accepted Zakat (mandatory poor-due) Sadaqat (alms) Tahaif (presents) and bakhshish (offerings) asserting that God had fixed a Haqq (entitlement) in the wealthy people’s money for the Fuaqara (poor men, also darweshes) and in receiving these things they were merely receiving what was their due, which they should not renounce.

فتوح کی تقسیم کا بھی کوئی باقاعدہ نظام نہیں تھا ۔ بلاشبہ صوفیہ بہت مخلص اور دیانتدار آدمی تھے ۔ وہ خود بھی کم خوردن، کم خفتن اور کم گفتن پر عمل پیرا تھے لیکن فتوح کے ذریعے مفت خوروں کا ایک گروہ تیار ہو رہا تھا اور عوام الناس کی معاشی اور معاشرتی زندگی پر اِس کے منفی اثرات پڑ رہے تھے ۔ دورِ انحطاط میں فتوح ، گدی نشینوں کے لیے کمائی کا ایک ذریعہ بن گیا ۔ فتوح (نذر و نیاز) کے اموال کی کثرت کی وجہ سے کئی خانقاہوں اور درگاہوں کی گدی کے حصول کے لیے حریفانہ کشمکش شروع ہوگئی ۔

ہم کو تو میسر نہیں مٹی کا دیا بھی گھر پیر کا بجلی کے چراغوں سے ہے روشن
——
نذرانہ نہیں ، سود ہے پیرانِ حرم کا ہر خرقہ سالوس کے اندر ہے مہاجن
میراث میں آئی ہے انھیں مسندِ ارشاد زاغوں کے تصرف میں عقابوں کے نشیمن

معاشیات و عمرانیات سے صوفیہ کی عدم دل چسپی کے باعث اُن کے مرید اپنے معاشی مسائل سے غافل رہے ۔ برصغیر پاک و ہند کے عوام کی توجہ غربت اور اُن کے دیگر عمرانی مسائل کی طرف نہیں کرائی گئی تھی ۔ وہ بے عمل ہوگئے تھے ۔ دنیا میں اعلیٰ مقام حاصل کرنے کے لیے سعی و عمل کا کوئی میدان اُن کا ہدف نہیں رہا تھا ۔ خواص صوفیہ روحانی اور عرفانی جہاں میں ہمہ وقت مشغول رہے ۔ اُن کی روحانی طاقت سے کچھ انسانوں کی زندگیاں توبدل گئیں لیکن عوام الناس نے صوفیہ کا تقویٰ اور بے لوثی احتیار نہیں کی تھی۔ اُنھوں نے تصوف کے منفی اثرات جذب کر لیے ۔ اخلاقیات کے اعتبار سے وہ راہ تصوف سے دور تھے لیکن تصوف کی آڑ لے کر وہ کوئی محنت کا کام نہیں کرتے تھے۔ قناعت اور بے عملی اُن کے مزاج میں رچ بس گئی تھی۔ اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے کے بجائے وہ صرف مزاروں پر حاضری دینے پر اکتفا کرتے تھے۔ عوام الناس خوش اعتقادیوں کی وجہ سے اِس زعم میں مبتلا ہوگئے تھے کہ وہ اپنے پیروں کی دعاوں کی وجہ سے بخشے جائیں گے ۔ یہ سب کچھ بے عمل لوگوں کی من پسند تشریح کا نتیجہ تھا ۔ لیکن قرونِ وسطیٰ کے صوفیہ نے فکری و علمی لحاظ سے آئیڈیل زندگی کا جو تصور دیا تھا اُس پر بھی کسی تمدن کی بنیاد نہیں رکھی جا سکتی تھی ۔ خانقاہی نظام میں پختہ تر ہوکر معاشی ترقی کے لیے جدوجہد کرنا اور منصوبے بنانا ناممکن تھا۔ ماہرِ عمرانیات کی حیثیت سے علامہ اقبال تصوف کے ان اثرات سے بخوبی واقف تھے ۔ اُنھوں نے ابتدا میں علم الاقتصاد لکھ کر معاشیات سے اپنی دل چسپی کا اظہار کیا تھا اور برصغیر ہندو پاک کے مسلمانوں کی توجہ اس طرف مبذول کرائی تھی کہ غربت و افلاس اُن کا بنیادی مسئلہ ہے ۔ مسلمانوں کی ابتر حالت کا نمایاں سبب معاشی بدحالی ہے ۔ مزید برآں جب بعد میں اقبال نے تصوف کے لٹریچر کا مطالعہ کیا تو اُنہیں معلوم ہوا کہ تصوف نے معاشی ترقی پر منفی اثرات ڈالے ہیں۔ اِس لیے اُنھوں نے تصوف کے اِس پہلو پر تنقید کی ۔ اسلام یہ تعلیم نہیں دیتا کہ جدوجہد نہیں کرنی چاہیے اور اپنی اقتصادی حالت کو سنوارنا نہیں چاہیے۔

صوفیہ کی آئیڈیل زندگی جو زہد ، قناعت ، عبادت و ریاضت اور سیر باطن سے عبارت ہے، اجتماعی معاشی زندگی میں قابلِ عمل نہیں ہے اور اگر اکثریت اس پر عمل پیرا ہو جائے تو زرعی و صنعتی سرگرمیاں ماند پڑ جائیں گی ، عالیشان عمارتوں اور رونقوں والے بلاد و امصار ویران ہو جائیں گے ۔ پروفیسر این میری شمل ( Innemarie Schimmel) کا تبصرہ قابلِ غور ہے :

If every body had lived according to their ideals promoted by some of the early mystics, the whole economic and social fabric of the Muslim Empire would have collapsed.

اقبال جب یہ تعلیم دے رہے تھے کہ خودی سوال کرنے سے کمزور ہو جاتی ہے تو اُس وقت اُن کے ذہن میں مسلمانوں کے زوال کا پورا پس منظر تھا ۔ اُن کی خانقاہیں فتوح پر چلتی تھیں، اُن کے دینی مدارس صدقہ و خیرات پر چلتے تھے ۔ مسلمان کسان ہندو ساہوکار کے قرض تلے دبے ہوئے تھے ۔ مسلمانوں کی صنعت و حرفت اور تجارت تباہ ہوچکی تھی ۔ مسلم قوم میں خود اعتمادی اور خود داری ختم ہو چکی تھی ۔ محکومیت ، مغلوبیت اور محتاجی نے ان کی صلاحیتوں کو سرد کر دیا تھا، اِس لیے اقبال اُن کو احساس دلاتے ہیں :

ہمت از حق خواہ و با گردوں ستیز آبروے ملّتِ بیضا مریز
آنکہ خاشاکِ بتاں از کعبہ رفت مرد کاسب را حبیب اللہ گفت
وائے بر منت پذیرِ خوانِ غیر گردنش خم گشتہ احسانِ غیر
خویش را از برق لطف غیر سوخت با پشیزے مایہ غیرت فروخت
اے خنک آں تشنہ کاندر آفتاب می نخواہد از خضر یک جام آب
——
قلزم زنبیل سیل آتش است گر ز دست خود رسد شبنم خوش است

حق سے ہمت مانگ اور آسمان (نا مساعد حالات) کا مقابلہ کر ملتِ بیضا کی آبرو کو ملیامیٹ نہ کر ۔ وہ ذات (حضرت محمدا) جس نے کعبے کو بتوں کے خاشاک سے پاک کیا اُنھوں نے فرمایا کہ کمائی کرنے والا اللہ کا دوست ہے ۔ اُس پر افسوس ہے جو غیروں کے دستر خوان کا احسان مند ہے اور غیروں کے احسان سے اُس کی گردن ٹیڑھی ہوگئی ہے ۔ اُس نے دوسروں کی مہربانی کی بجلی سے اپنے آپ کو جلا لیا اور ایک دمڑی کے عوض اُس نے اپنی غیرت کو فروخت کر دیا ۔ وہ آدمی کیا ہی اچھا ہے جو دھوپ میں پیاسا ہے لیکن پھر بھی حضرت خضر علیہ السلام سے پانی کا طلبگار نہیں ہوتا ۔ جس کا ماتھا مانگنے والے کی خجلت سے تر نہیں ہوتا ۔ جو مٹی بن کر شرمندہ نہیں ہوتا اور اپنی آدمیت برقرار رکھتا ہے ۔ کاسہ گدائی کا بھرا ہوا سمندر مل جائے تو وہ بھی آگ کا سیلاب ہے ۔ اگر اپنے ہاتھوں سے شبنم بھی حاصل کر لی جائے تو وہ اچھی ہوتی ہے۔

ادبیات اور خودی
اقبال عالمی تاریخ کا شعور رکھنے والے حقیقت پسند مفکر ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ اقوام کے مابین مقابلہ فطری امر ہے ۔ جو قوم کمزور ہوتی ہے طاقتور قوم اُسے زیر کرکے محکوم بنا لیتی ہے ۔ قرآن حکیم نے مسلمانوں کو طاقت اور اعلیٰ اخلاقیات کی تعلیم دی تھی ۔ خود شناسی ، خود اعتمادی اور اپنے برتر ہونے کے احساس نے اُن کو سرزمین عرب سے نکال کر عالم کے طول و عرض تک پھیلا دیا تھا ۔ یہ سب کچھ اسی لیے ممکن ہوا کہ اُن کی خودی مضبوط تھی ۔ وہ جدوجہد اور سعی و عمل پر یقین رکھتے تھے ۔ خطرات اور مصائب سے نہیں گھبراتے تھے ۔ اُن میں قہاری و غفاری اور قدوسی و جبروت کے عناصر تھے لیکن مرورِ زمانہ کے ساتھ ملوکیت کے منفی اثرات اور کمزور فلسفیانہ افکار کی تقلید سے مسلمانوں کا انحطاط شروع ہوگیا ۔ دوسری طرف جن قوموں کو مسلمانوں نے زیرِ نگیں کیا تھا اُنھوں نے مسلمانوں کے خلاف ریشہ دوانیوں اور سازشوں کا سلسلہ شروع کر دیا تھا۔ ان سازشوں میں سے ایک مو¿ثر سازش یہ تھی کہ راہبانہ تصوف کو مسلمانوں میں خوب پھیلایا جائے تاکہ وہ خانقاہی مزاج میں پختہ تر ہو کر اپنے آبا و اجداد کی جرا¿ت و بہادری اور سخت کوشی کی تاریخ بھول جائیں ۔ اس تصوف نے فروتنی و انکساری اور بے خودی کو اچھے اوصاف کی حیثیت سے نمایاں کیا ۔ دنیا کی بے ثباتی کو بے عملی کاجواز بنایا اور طاقت و زور آوری کو برائیوں کی حیثیت سے پیش کیا ۔ اِس حیات گریز فلسفے کی شاعروں اور ادیبوں نے خوب تشہیر کی ۔ کمزور ادبیات کی وجہ سے اہلِ اسلام عملی دنیا سے بے دخل ہوگئے اور اُن میں مجاہدانہ حرارت نہ رہی ۔ اقبال فرماتے ہیں:
مجاہدانہ حرارت رہی نہ صوفی میں بہانہ بے عملی کا بنا شراب الست
فقیہ شہر بھی ہے رہبانیت پر مجبور کہ معرکے ہیں شریعت کے جنگ دست بدست
گریز کشمکش زندگی سے مردوں کی اگر شکست نہیں تو اور کیا ہے شکست!

اقبال کہتے ہیں کہ اس تصوف کی اشاعت کرنے والوں نے روحانیت کا سہارا لیا ۔ اپنی باتوں کو الہام خداوندی کا نام دیا۔ اُنھوں نے درس دیا کہ یہ دنیا چند روزہ ہے ۔ آخرت ہی اصل زندگی ہے ۔ اُس زندگی میں اُن کو اجرو ثواب بے حساب ملے گا جو اس دنیا سے دل نہیں لگائیں گے جو چپکے چپکے انکساری کے ساتھ اور بے عملی کے ساتھ مستعار حیات کو گزار لیں گے ۔ اقبال نے اپنے افکار کو ایک حکایت نما تمثیل کی صورت میں واضح کیا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ پرانے وقتوں میں بہت سی بھیڑ بکریاں ایک چراگاہ میں رہتی تھیں ۔ اُن کی نسل میں اضافہ ہو رہا تھا اور وہ دشمنوں سے بے خبر تھیں ۔ ایک دن جنگل سے شیروں نے نکل کر بھیڑوں کی چراگاہ پر حملہ کر دیا ۔ شیروں نے اپنی بادشاہی کا اعلان کرکے بھیڑوں کو آزادی سے محروم کر دیا ۔ ان بھیڑوں میں ایک بھیڑ عقل مند اور تجربہ کار تھی ۔ وہ اپنی قوم کے حالات سے پریشان ہوئی ۔ اُس نے سوچا کہ شیروں کی سوچ بدل دو ۔ اُن کو اپنی اصل ہستی اور خودی سے غافل کرکے اُن کے ذہن میں یہ راسخ کردو کہ طاقت اور اقتدار کے حصول کے بجائے اپنے آپ کو مٹانا اور باطن کی دنیا کو روشن کرنا اصل نیکی ہے اور یہی زندگی کا نصب العین ہونا چاہیے چنانچہ اُس بھیڑ نے الہام کا دعویٰ کیا اور شیروں کو اِس طرح وعظ کرنے لگی :

اُس (بھیڑ) نے نعرہ لگایا اور مخاطب کرکے کہا اے جھوٹے شریروں کی قوم ! تم اُس دن سے بے خبر ہو جو تمھارے لیے منحوس ہے (قیامت کا دن) میں روحانی قوتوں سے بہرہ یاب ہوا ہوں۔ شیروں کی طرف میں اللہ کی طرف سے مرسل ہوں(بھیجا گیا ہوں) ۔میں بے نور آنکھوں کے لیے روشنی کا حکم رکھتا ہوں میں ایک آئین شریعت کا مالک ہوں اور تمھاری طرف مامور کیا گیا ہوں۔ تم اپنے برے اعمال سے توبہ کرو۔ اے ہمیشہ گھاٹے کی سوچنے والو اپنے نفع کی فکر کرو۔ جو بھی تند اور زور آور ہوتا ہے وہ شقی (بد بخت) ہوتا ہے ۔ زندگی خودی کے مٹا دینے سے مضبوط ہوتی ہے ۔ نیکوں کی روح گھاس سے غذا حاصل کرتی ہے اور گوشت کو ترک کرنے والا مقبولِ خدا ہوتا ہے ۔ تجھے دانتوں کا تیز ہونا رسوا کرتا ہے اور اِس سے ادراک کی آنکھیں اندھی ہوجاتی ہیں۔ بہشت کمزور لوگوں کے لیے ہے اور بس ۔ طاقت سے خسارے کے اسباب پیدا ہوتے ہیں اور بس ۔ عظمت و سطوت کی جستجو کرنا برائی ہے ، تنگ دستی ، امارت سے اچھی ہے۔ تو اگر عقل مند ہے تو ذرہ ہوجا صحرا نہیں تاکہ تو سورج کا نور حاصل کرسکے ۔ اے مخاطب تو بھیڑ ذبح کرنے پر ناز کرتا ہے اپنے آپ کو ذبح کرو تاکہ ارجمند ہو جاو۔ جبر، قہر اور انتقام و اقتدار سے زندگی ناپائیدار ہوجاتی ہے ۔ سبزہ پاوں سے روندا جاتا ہے اور بار بار اگتا ہے اپنی آنکھ کو نیند کی موت سے بار بار دھو لیتا ہے ۔

بھیڑ کے اِس وعظ کا شیروں پر بڑا گہرا اثر ہوا وہ سخت محنت کرکے تھکے ہوئے تھے ۔ اُن کا دِل اپنے جسم کو پالنے کی طرف مائل تھا اِس لیے اُن کو یہ نیند لانے والی نصیحت بہت پسند آئی ۔ اپنی خامیوں اور کمزوریوں کی وجہ سے بھیڑ کی باتوں میں آگئے ۔ شیر جو بھیڑوں کا شکار کیا کرتے تھے ۔اُنھوں نے بھیڑوں کا مسلک اختیار کر لیا ۔ گھاس کھانے سے اُن کے دانتوں کی تیزی مٹ گئی ۔ آگ برسانے والی آنکھ کی شان و شوکت ختم ہوگئی ۔ اُن کی قدرت ، ارادہ اور استقلال ختم ہوگئے ۔ اُن کے آہنی پنجوں میں طاقت نہ رہی۔ اُن کے دِل مرگئے اور اُن کے جسم قبر میں تبدیل ہوگئے ۔

علامہ اقبال اِس حکایت سے مسلمانوں کو خبردار کر رہے تھے کہ فکرِ اسلامی میں دنیا سے بے رغبتی اور جہد و عمل کے بجائے گوشہ نشینی اور سیرِ باطن ایسے نظریات اُن اقوام کے ذریعے داخل ہوئے ہیں جن کو مسلمانوں نے مفتوح کیا تھا ۔ اِن مفتوح اقوام نے یونانی فلسفے اور عجمی تصوف کے افکار کے ذریعے اسلام کی قوت تسخیر اور جہد و عمل کی تعلیمات کو مٹانے کی دانستہ کوشش کی ہے ۔ علامہ اقبال نے مسلمانوں کی علمی تاریخ میں افلاطون کی فکر کے گہرے اثرات دیکھے ۔ اُن کا خیال تھا کہ مسلم فلسفیوں اور مسلم صوفیہ کی اکثریت نے ما بعد الطبیعیات کے افکار میں افلاطون کا تتبع کیا ہے ۔ افلاطون فلسفہ کو اعلیٰ علم قرار دیتے تھے اور کہتے تھے کہ شہری ریاست کا مطلق العنان حکمران فلسفی بادشاہ ہونا چاہیے کیونکہ وہ اپنے علم کی بدولت یہ جان سکتا ہے کہ اچھائی (Virtue) کیا ہے ۔ اُس کا مشہور مقولہ تھا Knowledge is virtue۔ افلاطون کے افکار کی بنیاد یہ مفروضہ تھا کہ یہ خارجی دنیا ، مثالی دنیا کا عکس ہے اور مثالی دنیا کی ماہیت کو صرف عقل سلیم سے معلوم کیا جا سکتا ہے ۔ یہ دنیا (World of Becoming) ہے ۔ اصل دنیا (World of Being) ہے ۔ افلاطون نے یہ نظریہ پیش کیا کہ حقیقی دنیا متحرک نہیں ہے ۔ اُس میں کوئی کمی بیشی نہیں ہوتی۔ اُس نے اعیان نا مشہود کا تصور دیا جو خارجی زندگی سے ماورا ہیں ۔ اِس لیے کہا جا سکتا ہے کہ افلاطونی فلسفہ میں مادی زندگی کے حقائق کو نظر انداز کر دیا گیا تھا۔ اُس کے نزدیک حقیقت کا مشاہدہ حواس خمسہ کے ذریعے نہیں کیا جا سکتا ۔ صرف فلسفہ ہی حقیقت کا کھوج لگا سکتا ہے ۔ افلاطون کے فلسفے سے اقبال نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ وہ حرکت اور جدوجہد کا مخالف تھا ۔ ڈاکٹر یوسف حسین خان اس سلسلے میں کہتے ہیں :

اقبال کی مقاصد آفرینی اور افلاطون کے اعیانِ نامشہود میں بھی بنیادی فرق ہے ۔ اقبال نے افلاطون کے فلسفے کو ”مسلکِ گوسفندی“ سے تعبیر کیا ہے ۔ افلاطون کے نزدیک دنیا کے خارجی حقائق اصلی نہیں ۔ زمان و مکان ، مادہ اور سلسلہ علل اور اسباب بے حقیقت ہیں ۔ افلاطون کے اعیان نامشہود خارجی حقیقت اور زندگی سے ما ورا حیثیت رکھتے ہیں ۔

علامہ اقبال نے افلاطون کی فکر کو راہبانہ قرار دیا ۔ اُن کا خیال تھا کہ افلاطونی فکر نے مسلمانوں کو بے عمل بنا دیا ہے کیونکہ قرونِ وسطیٰ کی مسلم ادبیات جو زیادہ تر تصوف کے مضامین پر مشتمل ہے اُس میں یہ فکر سرایت کیے ہوئے ہے ۔ صوفی ما بعد الطبیعیات اور کشفی نظریات میں مشغول رہا اور عملی زندگی کی جدوجہد سے لا تعلق رہا۔ اقبال اسرارِ خودی کی ایک نظم کو یہ عنوان دیتے ہیں ”در معنی اینکہ افلاطون یونانی کہ تصوف و ادبیات اقوامِ اسلامیہ از افکار او اثر عظیم پذیرفتہ بر مسلک گوسفندی رفتہ است و از تخیلاتِ او احتراز واجب است“۔ علامہ اقبال اِن اشعار میں فکر افلاطون کی تنقیص کرتے ہیں:

راہب دیرینہ افلاطون حکیم از گروہ گوسفندانِ قدیم
رخش او در ظلمت معقول گم در کہستان وجود افگندہ سم
آنچناں افسون نامحسوس خورد اعتبار از دست و چشم و گوش برد
گفت سر زندگی در مردن است شمع را صد جلوہ از افسردن است
بر تخیل ہائے ما فرماں رواست جامِ او خواب آور و گیتی ربا است
گوسفندے در لباسِ آدم است حکمِ او بر جانِ صوفی محکم است
عقل خود را بر سرِ گردوں رساند عالمِ اسباب را افسانہ خواند
——
بسکہ از ذوقِ عمل محروم بود جان او وارفتہ معدوم بود
منکرِ ہنگامہ موجود گشت خالقِ اعیانِ نامشہود گفت
——
قومہا از سکر او مسموم گشت خفت و از ذوقِ عمل محروم گشت

افلاطون حکیم پرانے زمانے کا راہب بھیڑوں کے گروہ میں سے تھا ۔ اُس کے گھوڑے نے ظلمتِ معقول(عقلی دنیا کے اندھیرے) میں اپنی راہ گم کر لی اور وجود کہستان میں اپنے سم کو ڈال لیا ہے ۔ اِس طرح وہ نامحسوس اشیا کا فریب کھا گیا ۔ ہاتھ ، کان اور آنکھ پر سے اُس کا اعتبار جاتا رہا ۔ اُس نے کہا زندگی کا بھید مر جانے میں ہے ۔ بجھ جانے سے شمع میں سیکڑوں جلوے پیدا ہوتے ہیں ۔ وہ (افلاطون) ہمارے تخیلات پر فرمان روا ہے۔ اُس کا پیالہ خواب آور ہے اور دنیا کو مٹانے والا ہے۔ وہ لباس آدم میں گوسفند ہے۔ اُس کا حکم صوفی کی جان پر مسلط ہے۔ عقل (افلاطون کا عقلی نظریہ) نے اپنے آپ کو آسمان تک پہنچا دیا اور عالمِ اسباب کو محض افسانہ قرار دیا۔ چونکہ وہ ذوقِ عمل سے محروم تھا اُس کی جان معدوم پر وارفتہ تھی۔ اُس نے (عالم) موجود کے ہنگامے سے انکار کیا۔ (اِس طرح)وہ عالم نامشہود (نہ دیکھا ہوا عالم) کا خالق ٹھہرا۔ قومیں اُس کے جادو سے زہر آلود ہوگئیں۔ وہ سوگئیں اور ذوقِ عمل سے محروم ہوگئیں۔
اقبال نے افلاطون کے افکار کا تجزیہ کرتے ہوئے اُس کے افکار کا کلی طور پر جائزہ نہیں لیا۔ اُنھوں نے افلاطون کے اس نظریے پر گرفت کی ہے کہ وہ معقول جہاں کے قائل تھے ۔ مادے کو غیر حقیقی اور تصور کو حقیقی گردانتے تھے ، خارجی دنیا کو موہوم سمجھتے تھے ۔ امر واقعہ یہ ہے کہ اُس دور میں استخراجی طرزِ فکر ہی مقبول تھا۔ سب سے بڑا عالم وہ سمجھا جاتا تھا جو فلسفے اور منطق کی زبان میں گفتگو کرتا تھا۔ فلسفے کا موضوع ہی نامشہود دنیا تھی لیکن اس کے ساتھ ساتھ فلسفہ کے اُصولوں کی روشنی میں نظم مملکت اور عملی زندگی گزارنے کے طریقے بھی اخذ کیے جاتے تھے ۔ افلاطون بنیادی طور پر سیاسی مفکر تھا۔ اُس نے باقاعدہ ایک جمہوریہ کا تصور اور خاکہ پیش کیا ہے۔ اُس کی سب سے اہم کتاب کا نام بھی ”جمہوریہ“(Republic )ہے ۔
افلاطون کے فلسفے میں یہ دنیا اور اُس کی موجودات کا حقیقت میں وجود نہیں ہے اور جو کچھ نظر آتا ہے وہ محض ظل ہے۔ لیکن اگر افلاطون کے افکار کے مقاصد اور اہداف کو سامنے رکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اُنھوں نے کہیں بھی بے عملی کی تعلیم نہیں دی بلکہ اُنھوں نے اس دنیا میں عملاً شہری ریاست قائم کرنے کی تلقین کی جس کی بنیاد دائمی انصاف پر ہے ۔ اُنھوں نے تعلیم اور مملکت کا ایک جامع نظام پیش کیا ہے ۔ جسمانی تربیت کے لیے جمناسٹک اور اخلاقی و روحانی تربیت کے لیے موسیقی کی تربیت کو ضروری قرار دیا ہے ۔ اُنھوں نے کہیں بھی یہ نہیں کہا کہ اس دنیا سے بھاگ جاو اور راہب بن جاو۔ اقبال نے اُن کی مابعد الطبیعیات سے انتہائی دل چسپی کو ناپسند کیا اور اُن کے اس عقیدے سے شدید اختلاف کیا کہ حواس خمسہ علم کے حقیقی ذرائع نہیں ہیں اور تصورات (اعیان) حقیقی ہیں لیکن اُس دور میں یہی طرزِ استدلال مقبول تھا ۔ استقرائی طرزِ فکر کا ابھی وقت نہیں آیا تھا ۔ یونانی فکر کی تاریخ بتاتی ہے کہ افلاطون کے بعد ارسطو اور دیگر فلسفیوں نے حواس علم اور زمینی حقائق پر توجہ دینی شروع کر دی تھی ۔ یہ حقیقت ہے کہ افلاطون کے طرزِ استدلال سے مشرق و مغرب کے علما اور فلسفیوں نے استفادہ کیا ہے ۔ قبل از اسلام ایران و یونان اور ہند کے مابین علما اور فلسفیوں کے علاوہ عام لوگوں کا آنا جانا بھی تھا ۔ اس طرح ان منطقوں کے مابین ثقافتی تعلقات قائم ہوگئے تھے ۔ اِس لیے ویدانت ، بدھ مت ، عجمی تصوف اور یونانی فکر میں کئی باتوں کا مشترک ہونا فطری بات ہے ۔ تاریخی طور پر یہ ثابت ہے کہ ان منطقوں کے تفکر نے علمی دنیا کے اثاثے میں قابلِ قدر اضافے کیے ہیں بالخصوص فلسفے اور ما بعد الطبیعیات کے موجد (Poineers) ہندوستان اور یونان کے علما تھے ۔ ان ثقافتوں کے یہ نظریات کہ عالمِ خارجی موہوم ہے اور فنائے ذات اور دائمی سکون کی تلاش زندگی کا نصب العین ہے ، جیسے نظریات سے اقبال بیزار تھے وہ کہتے ہیں کہ ان حیات گریز نظریات نے جب عوام تک نفوذ حاصل کیا تو اُن میں سستی ، کاہلی ، سُکر اور افسردگی پھیل گئی۔ ایسے نظریات رکھنے والی اقوام دنیا میں کبھی غلبہ حاصل نہیں کرسکتیں ۔ وہ دنیا کی متحرک طاقتوں کے لیے لقمہ تر ثابت ہوتی ہیں ۔ اقبال نے تاریخ کی روشنی میں اس حقیقت کو عیاں کیا کہ جب مسلمانوں میں ان نظریات کا غلبہ ہوگیا تو اُن کا انحطاط شروع ہوگیا اور آخرکار وہ محکوم ہوگئے ۔

یہ بھی پڑھیں:  گھریلو تشدد کی ہمارے ہاں کیا صورتحال ہے

اقبال نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ مسلمانوں کا ادب ،ویدانت ، عجمی تصوف اور یونانی فلسفے کے اثرات کی وجہ سے مردہ ہوگیا ہے ۔ شاعروں ، ادیبوں اور صوفیہ کے افکار میں زندگی کی تیزی اور سرگرمی ناپید ہوگئی ہے ۔ ایسی شاعری مقبول ہوگئی ہے جو سُلا دیتی ہے، جو دنیا کی بے ثباتی کا نقشہ کھینچ کر انسان کو افسردہ کر دیتی ہے ۔ یہ شاعری خوف اور غم کی کیفیات کو راسخ کر دیتی ہے ۔ تقدیر پرستی ، توہم پرستی اور دنیا سے بے رغبتی اس شاعری کے مرکزی مضامین ہیں۔ اس شاعری کی دِل پذیری ، اثر آفرینی ، نغمگی اور انسانی جذبوں کی بھرپور عکاسی کی خوبیوں سے انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن اس ادب نے زندگی کو نئی جہت اور نیا پیغام نہیں دیا ۔ اقبال ادب برائے زندگی کے قائل ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ شاعر کو نہ صرف معاشرتی و عمرانی مسائل کی عکاسی کرنی چاہیے بلکہ اُن کے حل کے لیے لوگوں میں آمادگی اور ہمت پیدا کرنی چاہیے ۔ شاعر اپنی نغمگی اور درد دِل سے نئی دنیا تخلیق کر سکتا ہے ۔ توانا ادب ولولہ انگیز اور انقلاب آفریں ہوتا ہے ۔ ایسا ادب عمرانی مسائل کو موضوعِ سخن بناتا ہے ۔ مسائل کے اسباب و علل کا بے لاگ تجزیہ کرتا ہے اور معاشرتی ناانصافیوں کو بے نقاب کرتا ہے اور قوم میں زندگی کی امنگ پیدا کرتا ہے ۔ ادیب ہو یا شاعر اس کا منصب یہ ہے کہ وہ قوم کی خودی کی پاسبانی کرے اور افراد کے دلوں میں اپنا درد پنہاں منتقل کردے ۔ علامہ اقبال شاعر کی خصوصیات کو منظوم پیرایے میں بیان کرتے ہیں :
سینہ شاعر تجلی زارِ حسن خیزد از سینائے او انوارِ حسن
از نگاہش خوب گردد خوب تر فطرت از افسونِ او محبوب تر
——
بحر و بر پوشیدہ در آب و گِلش صد جہانِ تازہ مضمر در دلش
فکر او با ماہ و انجم ہم نشیں زشت را ناآشنا ، خوب آفریں
——
از فریب او خود افزا زندگی خود حساب و ناشکیبا زندگی
اہلِ عالم را صلا بر خواں کُند آتش خود را چو باد ارزاں کُند

شاعر کا سینہ حسن کی تجلی گاہ ہے ۔ اُس کے طور سینا سے حسن کے انوار پیدا ہوتے ہیں ۔ اُس کی نگاہ سے خوبصورت چیز خوب تر ہوجاتی ہے ۔ (حسن) فطرت اُس کی (شاعری) کے جادو سے محبوب تر ہو جاتا ہے ۔ اُس کے آب و گِل میں بحر و بر پوشیدہ ہیں ۔ اُس کے دل میں سیکڑوں تازہ جہاں چھپے ہوئے ہیں ۔ اُس کے افکار چاند اور ستاروں کے ہم نشین ہیں وہ زشت (بد صورت) سے ناآشنا ہے اور خوب (اچھی چیزوں) کو پیدا کرنے والا ہے ۔ اُس کی (شاعری) کے جادوسے زندگی میں ترقی ہوتی ہے ۔ وہ خود اپنا محاسبہ کرتی ہے اور زندگی میں (بڑھنے ) کے لیے بے قرار ہے ۔ وہ اہلِ دنیا کو اپنے دستر خوان (شاعری) کی طرف دعوت دیتا ہے اور اپنے شوق کی آگ کو ہوا کی طرح ارزاں کرتا ہے ۔

علامہ اقبال مسلمانوں کے دورِ انحطاط کے شعرا کے کلام کی سُلا دینے والی تاثیر کا ذکر کرکے ملت پر اُن کی شاعری کے منفی اثرات بیان کرتے ہیں :
وائے قومے کز اجل گیرد برات شاعرش وا بوسد از ذوقِ حیات
خوش نماید زشت را آئینہ اش در جگر صد نشتر از نوشینہ اش
بوسہ او تازگی از گل برد ذوق پرواز از دل بلبل برد
سست اعصاب تو از افیونِ او زندگانی قیمتِ مضمون او
——
دایہ ہستی ز جان تو برد لعلِ عنابی ز کان تو برد
چوں زیاں پیرایہ بندد سود را می کند مذموم ہر محمود را
دریم اندیشہ اندازد ترا از عمل بیگانہ می سازد ترا
خستہ ما از کلامش خستہ تر انجمن از دور جامش خستہ تر
——
اے دلیل انحطاط انداز تو از نوا افتاد تار ساز تو
آں چناں زار از تن آسانی شدی در جہاں ننگِ مسلمانی شدی
——
فکر صالح در ادب کمی بایدت رجعتے سوئے عرب می بایدت

اُس قوم پر افسوس ہے جو اپنی اجل خود لاتی ہے اور جس کا شاعر زندگی کے ذوق سے منہ موڑے ہوئے ہے ۔ اُس کا آئینہ بری چیز کو بھی اچھی کرکے دکھاتا ہے اور جس کے شہد میں بھی جگر کے لیے سیکڑوں نشتر ہیں ۔ وہ اگر پھول کو بوسہ دے تو پھول خشک ہوجاتا ہے اور بلبل کے دل سے ذوق پرواز لے جاتا ہے ۔ اُس کی افیون سے تیرے اعصاب سست ہوجاتے ہیں ۔ اُس کے مضمون کی قیمت زندگی ہوتی ہے ۔ وہ تیرے دل سے زندگی کی خواہش نکال لیتا ہے ، تیرے کان سے سرخ لعل نکال لیتا ہے ۔ وہ تجھے اندیشہ کے سمندر میں ڈال دیتا ہے اور تجھے عمل سے بیگانہ کر دیتا ہے ۔ تھکا ہارا اُس کے کلام سے خستہ تر ہوجاتا ہے اور اُس کے پیالے کی گردش سے مجلس افسردہ ہوجاتی ہے ۔ تیرا انداز ، انحطاط کی دلیل ہے ۔ تیرے ساز کی تاریں نغمہ سرائی سے معذور ہیں ۔ تو تن آسانی اور سہل انگاری سے اِس قدر کمزور ہوگیا ہے کہ تو دنیا میں مسلمانی کے لیے ننگ بنا ہوا ہے ۔ تجھے ادب میں فکر صالح پیدا کرنا چاہیے ۔ تجھے دوبارہ عرب کے ادب کی طرف لوٹنا چاہیے ۔

علامہ اقبال اہلِ اسلام کو اُس ادبیات کے خوش نما گرداب سے نکالنا چاہتے تھے جس نے کئی صدیوںسے اُن کو بے ہمت بے عمل ، افسردہ ، تقدیر پرست اور یاسیت زدہ بنا رکھاتھا ۔ ادیب اور شاعر نہ صرف اپنے عہد کی نفسیات کے عکاس ہوتے ہیں بلکہ وہ عوام الناس کی سوچ کو کوئی خاص جہت بھی دے سکتے ہیں ۔ یہ ادیب یا شاعر پر منحصر ہے کہ وہ قوم میں عمل کا ولولہ پیدا کرتا ہے یا اُس کی بے عملی کی تحسین کرتا ہے ۔ اقبال نے یہ نتیجہ نکالا کہ ابن عربی کی فکر کو شاعروں نے اپنی اثر آفرینیوں کے ذریعے عوام الناس کے ذہنوں میں راسخ کر دیا اوریہ فکر مسلمانوں کے انحطاط کا سبب بنی ۔ وہ اسرارِ خودی کے دیباچے میں لکھتے ہیں :

”اِسی نقطہ خیال [وحدت الوجود] سے شیخ محی الدین ابنِ عربی اندلسی نے قرآن شریف کی تفسیر کی جس نے مسلمانوں کے دل و دماغ پر نہایت گہرا اثر ڈالا ہے ۔ شیخ اکبر کے علم و فضل اور اُن کی زبردست شخصیت نے مسئلہ ”وحدت الوجود“ کو جس کے وہ انتھک مفسر تھے ، اسلامی تخیّل کا ایک لا ینفک عُنصر بنا دیا ۔ اوحد الدین کرمانی اور فخر الدین عراقی اُن کی تعلیم سے نہایت متاثر ہوئے اور رفتہ رفتہ چودھویں صدی کے تمام عجمی شعرا اِس رنگ میں رنگین گئے ۔

علامہ اقبال نے سراج الدین پال کے نام ایک خط میں زیادہ وضاحت سے لکھا ہے :
حقیقت یہ ہے کہ کسی مذہب یا قوم کے دستور العمل و شعار میں باطنی معنی تلاش کرنا یا باطنی مفہوم پیدا کرنا اصل میں اُس دستور العمل کو مسخ کر دینا ہے ۔ یہ ایک نہایت Subtleطریق تنسیخ کا ہے ۔ اور یہ طریق وہی قومیں اختیار یا ایجاد کر سکتی ہیں جن کی فطرت گوسفندی ہو ۔ شعرائے عجم میں بیشتر وہ شعرا ہیں جو اپنے فطری میلان کے باعث وجودی فلسفے کی طرف مائل تھے ۔ اسلام سے پہلے بھی ایرانی قوم میں یہ میلان طبیعت موجود تھا اور اگرچہ اسلام نے کچھ عرصے تک اُس کا نشوونما نہ ہونے دیا تاہم وقت پاکر ایران کا آبائی اور طبعی مذاق اچھی طرح سے ظاہر ہوا ، یا بالفاظ دیگر مسلمانوں میں ایک ایسے لٹریچر کی بنیاد پڑی جس کی بنا وحدت الوجود تھی ۔ ان شعرا نے نہایت عجیب و غریب اور بظاہر دل فریب طریقوں سے شعائرِ اسلام کی تردید و تنسیخ کی ہے اور اسلام کی ہر محمود شے کو ایک طرح سے مذموم بیان کیا ہے ۔ اگر اسلام ، افلاس کو بُرا کہتا ہے تو حکیم سنائی افلاس کو اعلیٰ درجہ کی سعادت قرار دیتا ہے ۔ اسلام جہاد فی سبیل اللہ کو حیات کے لیے ضروری تصور کرتا ہے تو شعرائے عجم اِس شعارِ اسلام میں کوئی اور معنی تلاش کرتے ہیں ۔ مثلاً:
غازی ز پئے شہادت اندر تگ و پوست غافل کہ شہیدِ عشق فاضل تر ازوست
در روزِ قیامت ایں باد کے ماند ایں کشتہ دشمن ست و آں کشتہ دوست
——

یہ رباعی شاعرانہ اعتبار سے نہایت عمدہ ہے اور قابلِ تعریف ، مگر انصاف سے دیکھیے تو جہادِ اسلامیہ کی تردید میں اِس سے زیادہ دل فریب اور خوبصورت طریق اختیار نہیں کیا جا سکتا ۔ شاعر نے کمال یہ کیا ہے کہ جس کو اُس نے زہر دیا ہے ، اُس کو احساس بھی اِس امر کا نہیں ہوسکتا کہ مجھے کسی نے زہر دیا ہے بلکہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ مجھے آبِ حیات پلایا گیا ہے ۔ آہ! مسلمان کئی صدیوں سے یہی سمجھ رہے ہیں ۔
مشرق کی ادبیات میں اقبال کو زندگی کی آتش نظر نہیں آئی ۔ اس ادبیات کے موضوعات افسردہ کرنے والے اور رُلانے والے ہیں ۔ دکھوں اور دردوں کی ایسی حسین تصویر کشی کی گئی ہے کہ پڑھنے اور سننے والے مسحور ہوجاتے ہیں ۔ اس لیے مشرق میں زندگی اور جرات کے چشمے خشک ہوگئے ۔ اقبال کو اہلِ مشرق میں باکردار قائد نظر نہ آئے۔ اقبال اِس حالت پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں :
صوفی کی طریقت میں فقط مستی احوال مُلّا کی شریعت میں فقط مستی گفتار
ساغر کی نوا مُردہ و افسردہ و بے ذوق افکار میں سرمست ، نہ خوابیدہ نہ بیدار
وہ مردِ مجاہد نظر آتا نہیں مجھ کو ہو جس کے رگ و پے میں فقط مستی کردار
——

جب اہلِ مشرق سو رہے تھے اُس وقت مغرب میں بیداری کی تحریکیں اٹھیں ۔ اہلِ مغرب نے ارضی حیات میں دل چسپی لی۔علوم و فنون کے ذریعے قوت و توانائی حاصل کرکے زندگی کو خوشحال اور خوبصورت بنانے میں منہمک ہوگئے۔ اس طرح وہ مادی زندگی کی آسائشوں اور نعمتوں سے تو مالا مال ہوگئے لیکن افسوس کہ وہ مادیت پرست ہوگئے۔ اُنھوں نے انسانی اور روحانی اقدار کو پس پشت ڈال دیا ۔ تجدد پسندی کی رو میں ماضی کی اچھی روایات کو بھی خیر باد کہہ دیا ۔ روحانی و انسانی اقدار سے خالی مادی و سائنسی ترقی نے اُن کو بھی افسردہ اور بے حس بنا دیا۔ اس پس منظر میں اقبال نے خودی کا حیات آفریں تصور پیش کیا۔ علامہ اقبال نے کی شام لندن میں اقبال لٹریری ایسوسی ایشن کے عصرانے میں تقریر کرتے ہوئے فرمایا:
ءمیں میں جب انگلستان آیا تھا تو محسوس کرچکا تھا کہ مشرقی ادبیات اپنی ظاہری دلفریبیوں اور دل کشیوں کے باوجود اُس روح سے خالی ہیں جو انسانوں کے لیے امید ، ہمت اور جرات عمل کا پیغام ہوتی ہے اور جسے زندگی کے جوش اور ولولے سے تعبیر کرنا چاہیے۔ یہاں پہنچ کر یورپی ادبیات پر نظر ڈالی تو وہ اگرچہ ہمت افروز نظر آئیں لیکن اُن کے سامنے سائنس کھڑی تھی جو اُن کو افسردہ بنا رہی تھی ۔ ۸۰۹۱ءمیں انگلستان سے واپس گیا تو میرے نزدیک یورپی ادبیات کی حیثیت بھی تقریباً وہی تھی جو مشرقی ادبیات کی تھی ان حالات سے میرے دل میں کشمکش شروع ہوئی کہ ان ادبیات کے متعلق اپنی رائے ظاہر کرنی چاہیے اور ان میں روح پیدا کرنے کے لیے کوئی نیا سرمایہ حیات فراہم کرنا چاہیے ۔ میں اپنے وطن گیا تو یہ کشمکش میرے دل میں جاری تھی اور میں اس میں اس درجہ منہمک تھا کہ دو تین سال تک میرے عزیز دوستوں کو بھی علم نہ تھا کہ میں کیا کر رہا ہوں ۔ میری اندرونی کشمکش کا ایک حد تک خاتمہ ہوا اور میں نے فیصلہ کر لیا کہ اپنے خیالات ظاہر کر دینے چاہئیں لیکن اندیشہ تھا کہ ان سے غلط فہمیاں پیدا ہوں گی ۔ بہرحال میں نے  اپنے خیالات کو مدنظر رکھ کر اپنی مثنوی اسرارِ خودی لکھنی شروع کی۔

ایک خط بنام سراج الدین پال میں یوں رقمطراز ہیں :
ہندی مسلمانوں کی بڑی بدبختی یہ ہے کہ اِس ملک سے عربی زبان کا علم اُٹھ گیا ہے اور قرآن کی تفسیر میں محاورہ¿ عرب سے بالکل کام نہیں لیتے۔ یہی وجہ ہے کہ اِس ملک میں قناعت اور توکل کے وہ معنی لیے جاتے ہیں جو عربی زبان میں ہرگز نہیں ہیں۔ کل میں ایک صوفی مفسرِ قرآن کی
ایک کتاب دیکھ رہا تھا ، لکھتے ہیں :خلق الارض والسمٰوٰت فی ستة ایام میںایام سے مراد تنزلات ہیں یعنی فی ستة تنزلات ہیں ۔ کم بخت کو یہ معلوم نہیں کہ عربی زبان میں یوم کا یہ مفہوم قطعاً نہیں اور نہ ہوسکتا ہے کہ تخلیق بالتنزلات کا مفہوم ہی عربوں کے مذاق اور فطرت کے خلاف ہے اس طرح ان لوگوں نے نہایت بے دردی سے قرآن اور اسلام میں ہندی اور یونانی تخیلات داخل کر دیے ہیں …….
مولانا اسلم جیراجپوری نے ایک کتاب حیاتِ حافظ نام لکھی ہے ، آسانی سے مل جائے گی ۔ اسے بھی ملاحظہ کر لیجیے ۔ شاید کوئی مطلب کی بات معلوم ہو جائے اور نہیں تو مآخذ معلوم ہوجائیں گے اور سب سے بڑی بات تو یہ ہے کہ حافظ کی معاصرانہ تاریخ غور سے دیکھیے۔ مسلمانوں کی دماغی فضا کس قسم کی تھی اور کون کون سے فلسفیانہ مسائل اس وقت اسلامی دماغ کے سامنے تھے ۔ مسلمانوں کی پولیٹکل حالت کیا تھی ، پھر ان سب باتوں کی روشنی میں حافظ کے کلام کا مطالعہ کیجیے ۔ تصوف کا سب سے پہلا شاعر عراقی ہے جس نے لمعات میں فصوص الحکم ، محی الدین ابن عربی کی تعلیموں کو نظم کیا ہے ( جہاں تک مجھے علم ہے فصوص میں سوائے الحاد و زندقہ کے اور کچھ نہیں اس پر میں ان شا اللہ مفصل لکھوں گا) اور سب سے آخری شاعر حافظ ہے (اگر اُسے صوفی سمجھا جائے) یہ حیرت کی بات ہے کہ تصوف کی تمام شاعری مسلمانوں کے پولیٹکل انحطاط کے زمانے میں پیدا ہوئی اور ہونا بھی یہی چاہیے تھا ۔ جس قوم میں طاقت و توانائی مفقود ہوجائے جیسا کہ تاتاری یورش کے بعد مسلمانوں میں مفقود ہوگئی تو پھر اِس قوم کا نقطہ نگاہ بدل جایا کرتا ہے ۔ اُن کے نزدیک ناتوانی ایک حسین و جمیل شے ہوجاتی ہے اور ترک دنیا موجب تسکین ۔ اِس ترک دنیا کے پردے میں قومیں اپنی سُستی و کاہلی اور اُس شکست کو جو اُن کو تنازع للبقا میں ہو،چھپایا کرتی ہیں ۔ خود ہندوستان کے مسلمانوں کو دیکھیے کہ اُن کے ادبیات کا انتہائی کمال لکھنو کی مرثیہ گوئی پر ختم ہوا۔
علامہ اقبال فارسی شعرا بالخصوص شمس الدین محمد حافظ (ولادت :1326) کی شاعری کی فنی خوبیوں ، استعاروں اور تشبیہات کے حسنِ استعمال اور اُن کی معنوی تاثیر کے قائل تھے ۔ وہ اُن کو بلند پایہ شاعر تسلیم کرتے ہیں لیکن اُن کی شاعری میں دنیا کی بے ثباتی ، لمحہ موجود سے زیادہ سے زیادہ حظ اُٹھانے اور شاہد و شراب کا اِس تواتر اور کثرت سے ذکر ہے کہ اُن کی صوفیانہ تعبیر کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ اگر اُن کے اشعار کی صوفیانہ تعبیر اور معنویت کو مان بھی لیا جائے تو اِس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ زندگی کے فلسفہ¿ نشاط (Epicureanism) کے قائل اور عامل اشخاص اُن کے اشعار کے استعمال سے معاشرے میں بے عملی اور عیش عاجلہ کے رجحانات کو تقویت دیتے ہیں ۔ حافظ کے مندرجہ ذیل شعر کی کیا صوفیانہ تعبیر کی جا سکتی ہے :
مے دہ سالہ و محبوب چار دہ سالہ ہمیں بس است مرا صحبت صغیر و کبیر
اِس کے مقابل علامہ اقبال کا یہ شعر ملاحظہ کیجیے :

مے دیرینہ و معشوق جواں چیزے نیست
پیش صاحب نظراں حور و جناں چیزے نیست
علامہ اقبال کی حافظ کے اشعار کے بارے میں جارحانہ تنقید قابلِ فہم ہے اگرچہ اس پر بھی کئی اہلِ علم نے سخت گرفت کی ہے لیکن ابنِ عربی کے بارے میں اقبال کا نقطہ نظر مبنی برحقیقتنظر نہیں آتا ۔ شاید انھوں نے ابنِ عربی کی کتابوں کا براہِ راست مطالعہ نہیں کیا تھا اور کیا بھی تھا تو سرسری طور پر ۔ ابن عربی کے خلوص، اُن کے قرآن و سنت کے علم اور اُن کے ذہن رسا کی گہرائیوں اور گیرائیوں سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا ۔ اُن کے نظریہ وحدت الوجود کو اگر اُن کے اپنے الفاظ میں پڑھا جائے تو قاری اُن کے تبحر علمی کا قائل ہو جاتا ہے اور یہ نہیں کہہ سکتا کہ اُن کے خیالات میں الحاد و زندقہ ہے۔ ابن عربی الفاظ کے استعمال میں بہت محتاط اور فصیح ہیں ۔ مزید برآں وحدت الوجود اور وحدت الشہود کے نظریات پیش کرنے والے دونوں مکاتب فکر کے اپنے اپنے کشفی اور وجدانی تجربات ہیں لیکن دونوں اللہ کی وحدانیت اور انسان کی عبدیت کے قائل ہیں ۔ شاہ ولی اللہ کا تجزیہ اور نتیجہ متوازن اور تشفی بخش ہے کہ یہ محض لفظی نزاع ہے۔ دونوں مکاتب فکر کی مراد ایک ہی ہے البتہ اندازِ بیان جدا جدا ہے اور دونوں سے عملی نتائج مختلف نکالے جا سکتے ہیں ۔ یہ الگ بات ہے کہ وحدت الوجود کے نظریے کو شعراے کرام اور بے عمل لوگوں نے شریعت اسلام کی پابندیوں سے آزادی حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا۔ اُنھوں نے اِس سے عجیب و غریب نتائج اخذ کیے اور شعائرِ اسلامی کی تخفیف بلکہ کبھی کبھی اِس کا استہزا کیا ہے ۔

علامہ اقبال صوفیانہ ما بعد الطبیعیات کو صرف خواص تک محدود رکھنا چاہتے تھے ۔ اُن کا خیال تھا کہ چونکہ اسلام کی تعلیمات سادہ اور عام فہم ہیں اِس لیے صوفیانہ موشگافیوں اور اصطلاحات میں عام مسلمانوں کو نہیں الجھانا چاہیے کیونکہ ان کی آڑ میں وہ بے عمل ہو جاتے ہیں وہ صوفیانہ شعروں میں کھو جاتے ہیں اور عملی زندگی کے تقاضوں سے غافل ہوجاتے ہیں ۔ دوسری طرف سماج کا بالائی طبقہ جو اسلام کا براہِ راست علم نہیں رکھتا اور عیش و طرب حیات کے وسائل رکھتا ہے وہ بھی صوفیانہ نظریات اور شطحیات کے ذریعے بے یقینی اور تشکیک کے رجحانات کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور اپنی محفل رقص و سرود اور بزمِ طرب و نشاط کی اباحت کے لیے صوفیانہ کلام کو ڈھال بناتا ہے ۔ غربا ءاور امراءکے اِس اباحت پسندانہ انداز فکر سے مسلم معاشروں میں کمزوری ، بے حسی اور ضعیف الاعتقادی کی روش مضبوط ہوتی چلی گئی ۔ عہدِ ملوکیت سے اب تک مسلم معاشروں میں متوسط طبقہ کی تعداد بہت کم اورمفلسوں کی تعداد بہت زیادہ رہی ہے اور یہ لوگ جاگیرداروں اور دولت مندوں کے زیرِ اطاعت رہتے ہیں ۔ مسلم معاشروں کے عوام نہ صرف معاشی لحاظ سے پس ماندہ تھے بلکہ وہ جاہل اور ان پڑھ بھی تھے۔ تصوف کے دورِ انحطاط میں خانقاہی نظام نے بھی جاگیرداری کی ایک صورت اختیار کر لی تھی اور کئی گدی نشینوں نے جبہ و دستار کو الوداع کہہ دیا کیونکہ طاقت کے آلات و میزان بدل گئے تھے ۔ پیر زادے عملی سیاست میں حصہ لے کر اقتدار کے ایوانوں تک پہنچ گئے ۔ اُن کے سادہ لوح مریدین بدستور اُن کے حلقہ بگوش ہی رہے ۔ وہ نسل در نسل نہ صرف پیروں کو بامِ اقتدار تک پہنچاتے تھے بلکہ ایّامِ عُرس میں اُن کے قدموں میں سجدہ ریز ہونے کا شرف بھی حاصل کرتے تھے۔

برصغیر پاک و ہند میں بالخصوص پنجاب اور سندھ میں خانقاہی نظام کی یہ حالت اقبال کے لیے بہت تکلیف دہ تھی ۔ اس نظام نے تقریباً سارے معاشرے کو جکڑ رکھا تھا اس ذہنی اور سماجی فضا میں اقبال نے اپنا حرکی نظریہ حیات پیش کیا جو متبادل تصوف ہے ۔ اُن کا یہ نظریہ خود شناسی ، خود آگاہی ، روحانی و مادی طاقت ، جمالیاتی بالیدگی اور اجتماعی یگانگت و خود داری سے عبارت ہے ۔ یہ تصوف ، اُسوہ رسول اور شیرِ خدا ، فاتحِ خیبر کی روایت کا امین ہے ۔ یہ طاقتور تصوف بعض ناقدینِ اقبال کو اِس قدر طوفانی نظر آیا کہ اُنھوں نے یہ کہنا شروع کیا کہ خودی کا فلسفہ احساسِ برتری ، بے قدغن طاقت اور جنگ کا درس دیتا ہے ۔ علامہ اقبال نے اپنے ایک خط بنام مولوی ظفر احمد صدیقی میں اپنے تصورِ خودی کی بالصراحت وضاحت کی ہے ۔ وہ فرماتے ہیں :
دین اسلام جو ہر مسلمان کے عقیدہ کی رُو سے ہر شے پر مقدم ہے ، نفسِ انسانی اور اِس کی مرکزی قوتوں کو فنا نہیں کرتا بلکہ اُن کے عمل کے لیے حدود معین کرتا ہے ۔ ان حدود کے معین کرنے کا نام اصطلاحِ اسلام میں شریعت یا قانونِ الٰہی ہے ۔ خودی خواہ مسولینی کی ہو ، خواہ ہٹلر کی ، قانونِ الٰہی کی پابند ہو جائے تو مسلمان ہو جاتی ہے ۔ مسولینی نے حبشہ کو محض جوع الارض کی تسکین کے لیے پامال کیا ۔ مسلمانوں نے اپنے عروج کے زمانے میں حبشہ کی آزادی کو محفوظ رکھا۔ فرق اِس قدر ہے کہ پہلی صورت میں خودی کسی قانون کی پابند نہیں ، دوسری صورت میں قانونِ الٰہی اور اخلاق کی پابند ہے ۔ بہرحال حدودِ خودی کے تعین کا نام شریعت ہے اور شریعت اپنے قلب کی گہرائیوں میں محسوس کرنے کا نام طریقت ہے ۔ جب احکامِ الٰہی ، خودی میں اِس حد تک سرایت کر جائیں کہ خودی کے پرائیویٹ امیال و عواطف باقی نہ رہیں اور صرف رضائے الٰہی اس کا مقصود ہوجائے تو زندگی کی اِس کیفیت کو بعض اکابر صوفیاے اسلام نے فنا کہا ہے ۔ بعض نے اِسی کا نام بقا رکھا ہے لیکن ہندی اور ایرانی صوفیہ میں سے اکثر نے مسئلہ فنا کی تفسیر فلسفہ ویدانت اور بدھ مت کے زیرِ اثر کی ہے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان اِس وقت عملی اعتبار سے ناکارہ محض ہے ۔ میرے عقیدہ کی رُو سے یہ تفسیر بغداد کی تباہی سے بھی زیادہ خطرناک تھی اور ایک معنی میں میری تحریریں اسی تفسیر کے خلاف ایک قسم کی بغاوت ہیں ۔

معترض کا یہ کہنا کہ اقبال اِس دور ترقی میں جنگ کا حامی ہے ، غلط ہے ۔ میں جنگ کا حامی نہیں ہوں، نہ کوئی مسلمان شریعت کے حدود معینہ کے ہوتے ہوئے اس کا حامی ہوسکتا ہے ۔ قرآن کی تعلیم کی رُو سے جہاد یا جنگ کی صرف دو صورتیں ہیں : محافظانہ اور مصلحانہ ۔ پہلی صورت میں، یعنی اُس صورت میں جبکہ مسلمانوں پر ظلم کیا جائے اور اُن کو گھروں سے نکالا جائے ، مسلمان کو تلوار اُٹھانے کی اجازت ہے (نہ حکم ) دوسری صورت میں جہاد کا حکم ہے (۹:۹۴) میں بیان ہوئی ہے ۔ ان آیات کو غور سے پڑھیے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ وہ چیز جس کو سیموئل ہور ، جمعیت ِ اقوام کے اجلاس میں Collective Securityکہتا ہے ، قرآن نے اِس کا اُصول کس سادگی اور فصاحت سے بیان کیا ہے ۔ اگر گذشتہ زمانہ کے مسلمان مدبرین اور سیاسیین قرآن پر تدبر کرتے تو اسلامی دنیا میں جمعیتِ اقوام کے بنے ہوئے آج صدیاں گزر گئی ہوتیں۔ جمعیت اقوام جو زمانہ حال میں بنائی گئی ہے اُس کی تاریخ بھی یہی ظاہر کرتی ہے کہ جب تک اقوام کی خودی قانونِ الٰہی کی پابند نہ ہو ۔ امنِ عالم کی کوئی سبیل نہیں نکل سکتی ۔ جنگ کی مذکورہ بالا دو صورتوں کے سوائے میں اور کسی جنگ کو نہیں جانتا ۔ جوع الارض کی تسکین کے لیے جنگ کرنا دینِ اسلام میں حرام ہے علیٰ ہٰذا القیاس دین کی اشاعت کے لیے تلوار اُٹھانا بھی حرام ہے ۔