jahngeer_tareen

جہانگیر ترین اور علی ترین نے ضمانت قبل از گرفتاری کرالی

EjazNews

عدالت نے ایف آئی اے کو جہانگیر ترین اور علی ترین کو گرفتاری سے روک دیا۔

ایڈیشنل سیشن جج حامد حسین نے جہانگیر ترین اور علی ترین کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔

جہانگیر ترین اور علی ترین کی جانب سے بیرسٹر سلمان صفدر عدالت میں پیش ہوئے تھے۔

جہانگیر ترین اور علی ترین نے موقف اختیار کیا کہ ایف آئی اے نے جھوٹا اور بے بنیاد مقدمہ درج کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا جبکہ ایف آئی اے نے بے بنیاد مقدمے میں نامزد کر دیا۔

درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت عبوری ضمانت منظور کرتے ہوئے ایف آئی اے کو گرفتاری سے روکے۔

عدالت نے درخواست قبول کرتے ہوئے دونوں کی عبوری ضمانت منظور کرلی اور ایف آئی اے سے 10 اپریل تک مقدمے کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا۔
جہانگیر ترین اور علی ترین نے سیشن کورٹ اور بینکنگ جرائم کورٹ سے مختلف مقدمات میں عبوری ضمانت لی۔

یہ بھی پڑھیں:  بدعنوان تمام برائیوں کی جڑ ہیں :چیئرمین نیب

بینکنگ جرائم کورٹ نے 7 اپریل تک ضمانت منظور کر کے مقدمے کا ریکارڈ ایف آئی اے سے طلب کر لیا۔

لاہور کی مقامی عدالت نے جہانگیر ترین کی ضمانت 10 اپریل تک منظور کی جبکہ بینکنگ کورٹ نے جہانگیر ترین اور علی ترین کی ضمانت 7 اپریل تک منظور کر لی۔ بینکنک کورٹ نے جہانگیر ترین اور علی ترین کو 5 لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا۔

جہانگیر ترین نے ضمانت قبل از گرفتاری کے لیے سیشن کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ جہانگیر ترین اورعلی ترین کے خلاف مبینہ مالیاتی فراڈ کامقدمہ درج ہے جہانگیر ترین اورعلی ترین کے خلاف مقدمہ ایف آئی اے نے درج کر رکھا ہے۔

عدالت میں پیشی کے موقع پر جہانگیر ترین نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ مجھ پر اور علی ترین پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں جبکہ میں مالیاتی امور میں صاف اور شفاف ہوں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس اثاثوں کی مکمل منی ٹریل موجود ہے یہ میری عادت نہیں کہ کسی چیز سے لاتعلقی کا اظہار کروں۔ مجھ پر مقدمہ ہے اور ہم عدالت میں پیش ہو گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  دلیپ کمار اور راج کپور کے آبائی گھر صوبائی حکومت نے قبضہ کیسے لیا ہے؟

جہانگیر ترین نے کہا کہ ہم عدالت میں اپنا موقف پیش کریں گے اور سرخروہوں گے۔ ایف آئی اے نے جان بوجھ کر منی لانڈرنگ کا لفظ ڈال کر تحقیقات شروع کیں۔ کمپنی کے فیصلوں سے متعلق تحقیقات ایس ای سی پی، ایف بی آر کا کام ہے تینوں مقدمات سے میرا کوئی تعلق نہیں ہے۔