Taswuf_second

متبادل تصوف(۲)

EjazNews

عشق و محبت اور خودی

علامہ اقبال نے اسرارِ خودیمیں فرمایا ہے کہ ”خودی از عشق و محبت استحکام می پذیرد“ خودی عشق و محبت سے مستحکم ہوتی ہے ۔ میر درد نے کہا تھا :
کون مقصد کو عشق بن پہنچا آرزو عشق ، مدعا ہے عشق

عشق کا لفظ قرآن و احادیث میں کہیں نظر نہیں آتا۔ فارسی و اُردو کے شعرا اور صوفیہ کرام نے اس لفظ کا بکثرت استعمال کیا ہے اور عشق کے وسیع اور عمیق معانی بتائے ہیں ۔ قرآن حکیم میں حُب اور محبت کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں ۔ عشق ”شدید محبت “ کا مترادف ہے ۔ ایسی محبت جس میں نہایت درجے کا خلوص ہو اور نہایت درجے کی شدت ہو وہ عشق کہلاتی ہے ۔ عربی زبان میں”حبّ“ چاہنے اور پسند کرنے کے معانی میں استعمال ہوتا ہے ۔ مثلاً قرآن حکیم میں ارشاد ہوتا ہے:

اللہ نے تمھارے لیے ایمان کو محبوب (پسندیدہ) بنا دیا اور اُس کو تمھارے دلوں میں زینت دی اور کفر اور گناہ اور نافرمانی سے تم کو متنفر کر دیا ۔
محبت چاہت ، پسندیدگی اور رضامندی سے عبارت ہے۔ حُب کے بالمقابل عربی میں کبھی کبھی ”کرہ “ کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے جس کا مطلب ناپسندیدگی اور بظاہر بُرا لگنا ہے۔ قرآن حکیم میں ارشاد ہے :

ممکن ہے تمھیں کوئی چیز بری لگے اور وہ تمھارے حق میں خیر ہو اور ممکن ہے ایک چیز تم کو بھلی لگے اور وہ تمھارے لیے شر ہو اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے اور تم نہیں جانتے ۔

اس کا ایک دوسرا معنی جبر آتا ہے۔ فرمایا گیا :
”دین میں جبر نہیں ہے۔“
اللہ اور بندے کے تعلق میں بھی محبت کا لفظ استعمال ہوا ہے ۔ بندے میں محبت کا جذبہ فطری ہے اور اللہ تعالیٰ بھی اپنے بندوں سے محبت کرتا ہے ۔ اس لحاظ سے محبت دو طرفہ ہوتی ہے۔ اس چاہت اور پسندیدگی میں ارادہ بھی شامل ہوتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
کہہ دیجیے کہ اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میرا (حضر ت محمدا( کا اتباع کرو اللہ تم سے محبت کرے گا۔

دوسری جگہ فرمایا:
اللہ ایسی قوم کو لائے گا جو اُس کی محبوب ہوگی اور وہ بھی اللہ کے ساتھ محبت رکھتی ہوگی اور جو مومنوں پر نرم دل ہوں گے اور کافروں پر سخت ہوں گے۔

قرآن حکیم نے کردار کے لحاظ سے لوگوں کے دو گروہ بتائے ہیں ۔ ایک گروہ نیکوکاروں کا ہے اور دوسرا بدکاروں کا ، نیک خصوصیات رکھنے والوں سے اللہ محبت رکھتا ہے اور بُری خصلتوں والوں سے اللہ محبت نہیں رکھتا ۔ مثلاً اللہ تعالیٰ محسنین (احسان کرنےوالے) توابین(توبہ کرنے والے) متطھرین(پاک صاف رہنے والے) متقین (پرہیزگاروں) صابرین ، متوکلین اور مقسطین (انصاف کرنے والے) سے محبت رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا معتدین (حد سے بڑھنے والے) کفار اثیم (نا شکرے گناہگار) کافرین ، ظالمین ، مختال فخور (اِترانے والے اور شیخی کرنے والے) خوان اثیم (دغا باز گناہ گار) مفسدین (فساد کرنے والے) مسرفین (فضول خرچ کرنے والے) خائنین (خیانت کرنے والے) خوان کفور (دغا باز بہت کفر کرنے والے ) فرحین (اِترانے والے) لوگوں کو ۔

قرآن حکیم میں مومنین کی یہ شان بیان کی گئی ہے کہ وہ اللہ سے بے حد محبت کرتے ہیں ۔
اور بعض لوگ ایسے ہیں جو اللہ کے سوا اوروں کو شریک بناتے ہیں اور اُن سے ایسی محبت رکھتے ہیں جو اللہ سے کرنی چاہیے لیکن اہلِ ایمان کو اللہ ہی کے ساتھ زیادہ (اشد) محبت ہے ۔

صوفیہ اور شعرا نے انتہائی اور شدید محبت کے اظہار و بیان کے لیے لفظ ”عشق“ استعمال کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان اصل تعلق عبدیت کا تعلق ہے اور جب یہ تعلق مضبوط ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اور بندے کے مابین دو طرفہ چاہت پیدا ہو جاتی ہے جس میں ارادہ اور شعور دونوں شامل ہوتے ہیں اور چاہت کے اِس مقامِ شعور کو محبت سے تعبیر کرتے ہیں۔ عشق ، شدید چاہت کا وہ مقام ہے جہاں بے اختیاری اور اضطراری کیفیت کا غلبہ ہوتا ہے۔ اس بنا پر بعض بزرگ کہتے ہیں کہ عشق انسانی جذبہ ہے ۔ انسان خدا کے عشق میں مبتلا ہو سکتا ہے لیکن خدا کے لیے اضطراری کیفیت کا تصور محال ہے ۔ مزید براں عشق کا جذبہ تو وہاں پیدا ہوتا ہے اور پنپتا ہے جہاں ملاقات میں کوئی رکاوٹ ہو بندے کے راستے میں تو رکاوٹیں ہوسکتی ہیں لیکن حق تعالیٰ کو بندے سے ملنے میں کوئی حجاب اور رکاوٹ نہیں ہے ۔ بندہ بھی محبت کرتا ہے اور خدا بھی لیکن بندے کی محبت کی نوعیت اور کیفیت اور ہے اور خدا کی محبت ، چاہت اور رضا کی نوعیت اور شان اور ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ محبت اور عشق دونوں کے مفہوم میں کوئی فرق نہیں۔ فارسی زبان اور کلچر میں عشق کے معانی اور مفاہیم بہت وسیع اور گہرے ہیں یہاں تک کہ خواص اور عوام عشق کے معانی سے آشنا ہوگئے ۔ یہ لفظ شدید چاہت ، شدید ولولے اور قرب حاصل کرنے اور ملنے کی شدید خواہش کے معانی میں استعمال ہونے لگا ۔ خلوص ، قربانیاں ، بے قراریاں ، بے تابیاں ، سوز و گداز ، ہجر و وصال کی کلفتیں اور لذتیں ، انقباض و انبساط ، خوشی و غم ، انتظار و اضطراب ، اندوہ و سقم اور کیف و سرور ، رقص و سرود اور آہ و بکا اور استغراق و محویت عشق کے لوازمات ہیں۔

عشق کے بارے میں عبد السلام ندوی کہتے ہیں :
عشق اگرچہ عربی لفظ ہے لیکن قرآن و حدیث اور شعرائے جاہلیت کے کلام میں یہ لفظ نظر نہیں آتا ہے ۔ متاخرین شعرائے عرب نے بھی اس لفظ کو بہت کم استعمال کیا ہے اور عشق کی دو اہم خصوصیات جو فارسی شاعری میں نظرآتی ہیں اُن کا تو عربی شعرا کے کلام میں وجود ہی نہیں ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ سب سے پہلے عشق اور عشق کی تمام خصوصیات کو فلسفہ اشراق نے نمایاں کیا اور اُن کو نہایت اہمیت دی ۔ اشراقیوں کے نزدیک نظامِ عالم قہر و مہر کی بنیاد پر قائم ہے۔ شیخ الاشراق حکمة الاشراق میں لکھتے ہیں کہ ہر بلند نور کو نیچے کے نور پر غلبہ و اقتدار حاصل ہے اور نیچے کا نور بلند نور سے محبت رکھتا ہے اور اس قہر و مہر سے نظام عالم کا وجود وابستہ ہے ۔

جوہری لحاظ سے حُب اور عشق کے معانی میں کوئی فرق نہیں۔ اول الذکر قرآن اور عربی لٹریچر میں استعمال ہوا ہے جبکہ موخرا لذکر فارسی لٹریچر میں بکثرت استعمال ہوا ہے ۔ صوفیہکرام نے زیادہ تر بغداد ، ایران و خراسان اور وسط ایشیا اور برصغیر پاک و ہند کے شہروں میں توطن اختیار کیا اور ان علاقوں میں فارسی نہ صرف سرکاری زبان تھی بلکہ خواص کی زبان بھی فارسی تھی اس لیے عشق کے لفظ کو قبولیت عام حاصل ہوگئی ۔

حُبّ (محبت) اور حَب (دانہ) دونوں کا عربی زبان میں ایک ہی مادہ ہے ۔ قرآن حکیم میں ارشاد ہے :
بے شک اللہ ہی دانے اور گٹھلی کو پھاڑتا ہے ۔ وہی جان دار کو بے جان سے نکالتا ہے اور وہی بے جان کو جاندار سے نکالنے والا ہے۔
اور ہم نے نچڑنے والے بادلوں سے زور دار پانی اُتاراتاکہ ہم اُس سے دانے (اناج) اور نباتات (سبزہ) پیدا کریں اور گھنے گھنے باغ۔
دانے میں تخم حیات پنہاں ہوتا ہے اور موسم آنے پر وہ زمین پھاڑ کر اپنا وجود باہر لاتا ہے ، اُگ کر پھلتا پھولتا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے روح انسا نی میں جو امر رب ہے ایسا تخم رکھ دیا ہے جس میں اُس کی محبت پنپتی ہے اور وہ انسان حُب الٰہی کے مزے چکھتا رہتا ہے ۔ روح کو مادی آلائشوں سے پاک رکھا جائے تو اِس کی زمین میں اللہ کی محبت خوب نشوونما پاتی ہے ۔ انسان میں محبت کا جو جذبہ رکھا گیا ہے اُس کے گوناگوں مظاہر ہیں ۔ عشق کائنات کے ذرے ذرے میں پنہاں اور حضرت انسان میں درجہ کمال تک پہنچ گیا ہے ۔ یہ جذب و انجذاب کا عمل ہی ہے کہ کائنات میں وحدت فطرت موجود ہے ۔
کمال وحدت عیاں ہے ایسا کہ نوکِ نشتر سے تو جو چھیڑے
یقیں ہے مجھ کو گرے رگِ گل سے قطرہ انسان کے لہو کا

طبیعیات میں کشش ثقل اور قطبین میں مقناطیسیت کے نظریات، نظامِ شمسی ، کہکشاوں کے نظام اور متحد و منظم تیرتی ہوئی کائنات کے ذروں میں جذب و انجذاب نے وحدتِ فطرت کے تصور کی توثیق کر دی ہے ۔ انسان جو سب سے زیادہ باشعور ، فعال اور خلاّق ہستی ہے اُس کے محبت و عشق کے گوناگوں جذبات و احساسات کا اظہار مختلف صورتوں میں ہوتا رہتا ہے ۔ انسان جمالِ فطرت سے محبت کرتا ہے وہ پھولوں ، اشجار، کوہساروں ، پہاڑوں کے مناظر دیکھ کر خوش ہوتا ہے ۔ اُسے طلوع آفتاب اور غروب آفتاب کے مناظر بھی بھلے لگتے ہیں ۔ وہ ہلال، ماہ نیم ماہ ، ماہ تمام اور ستاروں کی دل کشی و دلفریبی سے بھی متاثر ہوتا ہے ۔ انسانوں کو انواع و اقسام کے پرندوں کے رنگ و نقوش، اُن کی اڑان اور اُن کی آوازیں مسحور کر دیتی ہیں۔ انسانوں کے لیے حیوانات میں نہ صرف زینت ہے بلکہ اُن کا مالک ہونے کا احساس اُن کو گونا مسرت عطا کرتا ہے اور وہ اُن کے دودھ ، کھال اور گوشت سے بھی فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ انسان کئی جانوروں کو پالتا ہے اور اُن سے اُس کو خصوصی لگاو ہوجاتا ہے ۔ کسانوں کو اپنی کھیتیوں اور مویشیوں سے محبت ہوتی ہے ۔ تاجر کو اپنے مال تجارت سے محبت ہوتی ہے ۔ انسان فطری طور پر حب جاہ او رحب مال کے شدید جذبات رکھتا ہے ۔جمادات ، نباتات اور حیوانات کی طرف میلان محبت سے آگے انسان میں اپنے ابنائے جنس سے محبت کا شدید جذبہ پایا جاتا ہے ۔ انسان اپنے والدین ، بچوں ، بھائیوں اور بہنوں سے پیار کرتا ہے ۔ اپنے دوستوں کو چاہتا ہے اور تمام بنی نوع انسان سے فطری طور پر مانوس ہوتا ہے ۔ محبت اور عشق کا جذبہ شدید تر ہوجاتا ہے جب انسان جنس مخالف کی محبت کا اسیر ہو جاتا ہے ۔

یہ بھی پڑھیں:  ہندوستان کامیڈیا اور کشمیر

انسان کو اپنے مقاصد اور اعلیٰ اقدار سے بھی محبت ہوتی ہے ۔ سلیم الفطرت انسان عدل و انصاف اور اخلاقی قدروں سے محبت کرتے ہیں اور اعلیٰ اخلاق اور کردار والے عظیم انسانوں سے شدید محبت کرتے ہیں۔ مختلف لوگوں کی اپنی اپنی افتاد طبع اور اپنے ذوق کے مطابق پسندیدہ شخصیات ہوتی ہیں ۔ اور پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ انسان اپنے خالق ، مالک اور حی و قیوم خدا کو دیکھنے ، اُس کو پانے اور اُس سے ملنے کی شدید خواہش رکھتا ہے ۔ ہر انسان کی زندگی میں ایسے لمحات ضرور آتے ہیںجب اُسے کسی سہارے آسرے اور حقیقی غمگسار ، قاضی الحاجات ، دافع بلیات اور حقیقی دوست کی ضرورت محسوس ہوتی ہے جو اُس کے کلی دکھوں اور دردوں کا مداوا کر سکے۔ ایسی رحیم و کریم ، علیّ و عظیم ، احکم الحاکمین ، احسن الخالقین ہستی صرف خدا کی ہستی ہے ۔
علامہ اقبال نے عشق و محبت دونوں الفاظ کا استعمال کیا ہے ۔ اُنھوں نے عشق اور محبت کو جوش و استیلا ، قوتِ حیات ، ولولہ حیات ، شرار ِ زندگی ، جذب و انجذاب ، چاہت ، لگن ، ہمت ، پیش قدمی ، خلوص سے اتباع محبوب اور محبوب کی خاطر غیر سے کامل انقطاع کے معانی میں استعمال کیا ہے ۔ وہ اسرارِ خودی میں فرماتے ہیں :
نقطہ نورے کہ نام او خودی است زیرِ خاکِ ما شرارِ زندگی است
از محبت می شود پائندہ تر زندہ تر ، سوزندہ تر ، تابندہ تر
از محبت اشتعالِ جوہرش ارتقائے ممکناتِ مضمرش
فطرتِ او آتش اندوازد ز عشق عالم افروزی بیا موزد ز عشق
عشق را از تیغ و خنجر باک نیست اصل عشق از آب و باد و خاک نیست
در جہاں ہم صلح و ہم پیکار عشق آب حیواں تیغ جوہر دار عشق

نور کا نقطہ (وحدت شعور ) جس کا نام خودی ہے ہمارے خاکی بدن میں زندگی کی چنگاری ہے ۔ یہ حُب (الٰہی) سے زندہ تر ، پائندہ تر ، تابندہ تر اور زیادہ جلانے والی (خودی ) ہوگئی ہے ۔ محبت ہی سے اس کے جوہر میں جوش و نکھار پیدا ہوتا ہے اور محبت ہی سے اس میں ارتقا کے مضمر امکانات وا ہوتے ہیں ۔ اُس کی فطرت عشق ہی سے آتش حاصل کرتی ہے اور عشق کی وجہ سے عالم کو جگمگا دینے والے طریقے سیکھتی ہے۔ عشق کو تیغ و خنجر سے کوئی باک نہیں ۔ عشق کی اصل پانی، ہوا اور خاک میں سے نہیں ہے ۔ عشق کی جوہر دار تلوار آب حیات ہے ۔ اسی سے جہاں میں پیکار اور صلح و آشتی کا وجود ہے ۔

معلوم ہوا کہ عشق کی مختلف جہتیں اور مدارج ہیں ۔ انسان کا دِل زندہ ہو تو وہ فطرت (Nature) سے بھی پیار کرتا ہے اور بنی نوع انسان سے بھی محبت کرتا ہے وہ مذہبِ محبت پر یقین رکھتا ہے ۔ اس راستے پر جو آزمائشیں اور تکلیفیں آتی ہیں وہ اُن کا نہ صرف ہمت و استقلال سے سامنا کرتا ہے بلکہ اُن سے بہت کچھ سیکھتا ہے ۔ اقبال انسانی خودی کو مضبوط و مستحکم کرنے کے لیے انسان کو ان سب مدارج سے گزارنا چاہتے ہیں ۔ وہ انسان کی توجہ مطالعہ¿ فطرت اور مطالعہ کائنات کی طرف مبذول کراتے ہیں تاکہ وہ دیکھے کہ عشق کی کائنات میں کس طرح کارفرمائی ہے ۔
یہ موجِ نفس کیا ہے، تلوار ہے خودی کیا ہے، تلوار کی دھار ہے
خودی کیا ہے، رازِ درونِ حیات خودی کیا ہے، بیداریِ کائنات
——
زمانے کے دریا میں بہتی ہوئی ستم اُس کی موجوں کے سہتی ہوئی
تجسس کی راہیں بدلتی ہوئی دمادم نگاہیں بدلتی ہوئی
——
ازل سے ہے یہ کشمکش میں اسیر ہوئی خاکِ آدم میں صورت پذیر

اقبال کے نظریہ خودی کے مطابق ہر ذرے میں خوئے نمود ہے۔ خودی انسان میں جلوہ گر ہوکر تکمیل کے مراحل طے کرتی ہے اور اِس تکمیل میں وہ کشمکش اور پیکار کے عمل سے بھی گزرتی ہے۔
مردِ خدا کا عمل عشق سے صاحب فروغ عشق ہے اصلِ حیات ، موت ہے اس پر حرام
تند و سبک سیر ہے گرچہ زمانے کی رو عشق خود اک سیل ہے سیل کو لیتا ہے تھام
عشق کی تقویم میں عصرِ رواں کے سوا اور زمانے بھی ہیں جن کا نہیں کوئی نام
عشق دمِ جبرئیل ، عشق دلِ مصطفی عشق خدا کا رسول ، عشق خدا کا کلام

خاکِ آدم میں خودی صورت پذیر ہو کر اپنے جذبہ عشق کو خوب پالتی ہے ، اُس کی حفاظت کرتی ہے اور اِس سے مصاف زندگی میں فعال کردار ادا کرکے اپنے کارناموں کو ابدیت بخشتی ہے۔ عشق و محبت سے لیس ہوکر انسانی خودی ، تمدن ، فنونِ لطیفہ اور علمی و روحانی زندگی میں خلاّقیت کے وہ جوہر دکھاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اُس پر نازاں ہوتا ہے ۔ خود شناس ، خود آگاہ اور جہاں آگاہ انسانوں سے اللہ محبت کرتا ہے ۔ علامہ اقبال عشق کے ان مظاہر کو جس زور دار اور وسیع تناظر میں منظوم کرتے ہیں اُس کی اُردو لٹریچر میں مثال نہیں ملتی ۔ وہ نغمہ زن ہوتے ہیں :
عقل و دل و نگاہ کا مرشد اوّلیں ہے عشق
عشق نہ ہو تو شرع و دیں بت کدہ تصورات
صدقِ خلیل بھی ہے عشق ، صبر حسین بھی ہے عشق
معرکہ وجود میں بدر و حنین بھی ہے عشق

اقبال نے عشق کو عمل کی جان قرار دیا ہے ۔ اُن کے نزدیک عشق کے بغیر نہ خالق سے محبت کا تعلق قائم ہوسکتا ہے نہ مخلوقِ خدا کی خدمت کی جا سکتی ہے ۔ جن کے دل محبت و خلوص سے خالی ہوں اُن کو شریعت اسلام کی رسوم اور عبادات کو باقاعدگی سے سرانجام دینے سے روحانی بالیدگی حاصل نہیں ہوتی ۔ اسلام کے اُصولوں سے حقیقی محبت اور عبادات میں خلوص اور اخلاص کے بغیر کچھ حاصل نہیں ہوتا ۔ عشق ہی سے بندہ اللہ کا قرب حاصل کر سکتا ہے ۔ جذبات و احساسات سے عاری انسان پتھر کی مانند بلکہ اُس سے بھی بڑھ کر ہوتا ہے ۔ بالفاظ قرآن ”کچھ پتھر ایسے ہوتے ہیں کہ اُن سے دریا نکلتے ہیں اور وہ خشیتِ الٰہی سے لڑھک جاتے ہیں لیکن یہ لوگ قسوت میں پتھروں کی مانند ہیں یا اُن سے بھی زیادہ سخت ہیں۔“ علامہ اقبال نے اپنی شاعری کے ذریعے جذبہ عشق کی ہمہ گیری ،اثر آفرینی اور نتیجہ خیزی کو نئے نئے انداز سے بیان کیا ہے۔ وہ عشق کو محرک عمل قرار دیتے ہیں اور عشق پر ہی ثمر عمل کا انحصار بتاتے ہیں ۔ اقبال تصوف کو جو محبت کی اعلیٰ قسم ہے سامی مذاہب اور آریائی تہذیب کے امتزاج کا نتیجہ قرار دیتے ہیں :

Semitic religion is a code of strict rules of conduct, the Indian Vedanta on the other hand, is a cold system of thought; Sufism avoides their incomplete psychology, and attempts to synthesize both the Semitic and the Aryan formulas in the higher category of Lo ve.
اس مقام پر علامہ اقبال نے تصوف کے بارے میں جو رائے دی ہے وہ اس موضوع پر اُن کے خیالات کا نچوڑ ہے ۔ وہ اس رائے پر ہمیشہ قائم رہے اگرچہ یہ ان کے ابتدائی دور کی رائے ہے : وہ لکھتے ہیں :

Like the geographical positon of its home, It stands midway between the Semitic and the Aryan, assimilating ideas from both sides, and giving them the stamp of its own individuality which on the whole is more Aryan than Semitic in Character.
فکرِ اقبال میں عشق وہ جذبہ ہے جو پوری زندگی کی سرگرمیوں کا محرک ہے ۔ اگر یہ جذبہ نہ ہو تو انسان محض ایک لاشہ ہے۔ عشق کے جذبے کی قوت و آتش سے انسانی زندگی متحرک اور خلاّق رہتی ہے لیکن اس جذبے کو صحیح راستے پر منظم کرنا ضروری ہے ۔ اگر یہ جذبہ کسی اعلیٰ نصب العین سے عاری ہو اور اس کے سامنے کوئی قابلِ تقلید ماڈل نہ ہو تو یہ سراسر آگ ہے جو جلا دیتی ہے یا یہ اندھی طاقت ہے جو تباہی سے ہمکنار کرتی ہے ۔ اس لیے علامہ اقبال ایک کامل رہنما اور انسان دوست رہبر کی ضرورت پر زور دیتے ہیں جو عشق کے جذبے کو صحیح رخ پر پروان چڑھائے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ مرشد کامل کی رہنمائی سے شخصیت کی تطہیر و تعمیر ہوسکتی ہے اور کوئی جماعت یا قوم قائد کامل اور میر کارواں کے بغیر منزل سے ہمکنار نہیں ہوسکتی ۔ علامہ اقبال مولانا رومی کی مثال دیتے ہیں جو شمس تبریز کی توجہ سے فیضیاب ہوکر منزل ولایت پر فائز ہوئے۔ مولانا رومی کے افکار نے اقبال کے دل و دماغ کو جلا بخشی اور وہ دانائے راز بن گئے۔اقبال کہتے ہیں :
کیمیا پیدا کن از مشتِ گلےِ بوسہ زن بر آستانِ کاملے
شمع خود را ہمچو رومی بر فروز روم را در آتشِ تبریز سوز

اور کسی کامل کے آستاں پر بوسہ زن ہوکر اپنی مشت خاک کو کیمیا بنالے ۔ اپنی شمع کو رومی کی مانند روشن کر اور روم کو تبریز کی آگ میں جلا دے ۔
وہ مردِ کامل جس کی زندگی تمام انسانوں کے لیے اُسوہ ہے وہ حضرت محمد ﷺ ہیں ۔ امیر جنود ہو یا امام صلوٰة ، فاتح خیبر ہو یا یارِ غار، مرادِ رسول ہو یا ذوالنورین ، مفسرِ قرآن ، فقیہ اور محدث ہو یا صوفی، ہر ایک کا رہبر اور مرشد حضرت محمد مصطفی ﷺ ہیں ۔ طلبِ حق اثباتِ ذات ، خود شناسی ، احترامِ آدمیت ، رحمت و رافت ، مساوات و حریت، آئین شناسی ، حقوقِ انسان اور مصاف حیات میں سعی و عمل کا قابلِ تقلید ماڈل اقبال کو سیرت رسول ﷺ میں نظر آیا۔ علامہ اقبال سیرتِ رسول کو ہی دین اسلام کا عملی نمونہ سمجھتے ہیں اس لیے اقبال سیرتِ رسول میں رنگے ہوئے کامل رہبر کی پیروی کی تلقین کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ”بمصطفیٰ برساں خویش کہ دیں ہمہ اوست“ اقبال کا یہ فرمان قرآن حکیم اور ارشاد رسول ﷺ کے عین مطابق ہے ۔ حضرت انس ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

یہ بھی پڑھیں:  بے فکری کی صبح

تم میں سے کوئی مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اُس کو اُس کے والد ، اُس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوں ۔
حُبّ رسول ، اتباعِ رسول کی متقاضی ہے اور اتباعِ رسول سے حُبِ الٰہی حاصل ہوتی ہے اسی لیے علامہ اقبال اتباعِ رسول اور حُبِ رسول کو تمام تر دین قرار دیتے ہیں ۔ وہ حقیقتِ محمدیہ کو اِس انداز میں بیان کرتے ہیں :
وہ دانائے سبل ختم الرسل مولائے کل جس نے
غبارِ راہ کو بخشا فروغ وادی سینا
نگاہِ عشق و مستی میں وہی اوّل وہی آخر
وہی قرآں ، وہی فرقاں ، وہی یٰسیں ، وہی طٰہٰ

یہاں اس امر کا ذکر ضروری ہے کہ اقبال اسرارِ خودی کی نظم بعنوان” در بیانِ اینکہ خودی از عشق و محبت استحکام می پذیرد“ میں جہاں عشقِ رسول کی تلقین کرتے ہیں وہاں حیاتِ نبوی کے اُن تمام واقعات کا ذکر کرتے ہیں جو سعی و عمل سے عبارت ہیں ۔ غارِ حرا میں آپ ا کے ذکر و فکر کا بھی حوالہ دیتے ہیں ۔ اُن کا خیال ہے کہ خلوت نشینی اور ذکر وفکر سے اللہ تعالیٰ کے انوار و تجلیات سے دل مومن منور ہو سکتا ہے ۔ اُس کو عرفانِ نفس نصیب ہوسکتا ہے ۔ اُس کے دل و دماغ میں اعلی افکار اور خیالات کا نزول ہو سکتا ہے لیکن مومن کو حقیقی توانائی اُس وقت حاصل ہوتی ہے جب وہ معاشرے میں آتا ہے ۔ اپنے افکار کو عملی جامہ پہناتا ہے ۔رنگ و نسب کے امتیازات کو مٹاتا ہے اور معاشی ناہمواریوں کو دور کرتا ہے ۔ مخالفتوں اور مزاحمتوں کا سامنا کرتا ہے ۔ بنی نوع انسان کی اصلاح اور اُن کی روحانی تطہیر کا سامان مہیا کرتا ہے اور سماجی و معاشی زندگی میں اُن کو وہ راہِ عمل بتاتا ہے جس پر چل کر وہ صحیح معنوں میں اپنی خودیوں کو مستحکم کر سکتے ہیں ۔ راہِ عمل مومن کے لیے آسان ہو جاتی ہے جب وہ عشقِ رسول ا سے سرشار ہو کر سیرتِ رسول کے ماڈل سے قدم قدم پر رہنمائی حاصل کرتا ہے ۔ اِس طرح وہ مزید حرارت حاصل کرکے پیش قدمی کرتا رہتا ہے ۔ اِس موضوع پر اقبال کے ایمان افروز اشعار دیکھئے:

در دلِ مسلم مقامِ مصطفی است آبروئے ما زِ نامِ مصطفی است
طور موجے از غبار خانہ اش کعبہ را بیت الحرم کاشانہ اش
بوریا ممنونِ خواب راحتش تاجِ کسریٰ زیرِ پاے امتش
در شبستانِ حرا خلوت گزید قوم و آئین و حکومت آفرید
——
وقت ہیجا تیغ او آہن گداز دیدہ او اشکبار اندر نماز
در دُعائے نصرت آمیں تیغ او قاطع نسلِ سلاطیں تیغ او
——
در جہاں آئین نو آغاز کرد مسند اقوامِ پیشیں در نورد
از کلید دین درِ دنیا کشاد ہمچو او بطنِ ام گیتی نزاد
در نگاہِ او یکے بالا و پست با غلامِ خویش بر یک خواں نشست
——
آں کہ بر اعدا درِ رحمت کشاد مکہ را پیغامِ لا تثریب داد
——
امتیازاتِ نسب را پاک سوخت آتشِ او ایں خس و خاشاک سوخت
—–
خاکِ یثرب از دو عالم خوش تر است اے خنک شہرے کہ آنجا دلبر است

حضور کا مقام مسلمان کے دل میں ہے ، حضور ہی کے نام سے ہماری آبرو ہے ۔ طور آپ کے گھر کے غبار کی ایک موج ہے ، آپ کا حجرہ مبارک کعبہ کے لیے بیت الحرام ہے ۔ آپ خواب راحت کے لیے بوریا کو ممنون فرماتے ، دوسری طرف آپ کی امت نے کسریٰ کا تاج پاوں تلے روند ڈالا ۔ آپ نے شبستان حرا میں خلوت اختیار کی اور (ایک نئی ) ملت ، نیا آئین اور حکومت وجود میں لائے ۔ جنگ کے دوران آپ کی تلوار لوہے کو بآسانی کاٹ کے رکھ دیتی ، نماز کے دوران آنجناب کی آنکھوں سے آنسووں کی جھڑیاں لگ جاتیں ۔ نصرت کی دعا کے ساتھ آمین کہتے ہی آپ اپنی تلوار میان سے باہر نکال لیتے ۔ آپ کی تلوار نے بادشاہت کا سلسلہ ختم کر دیا ۔ آپ نے دنیا میں نیا آئین رائج فرمایا ۔ اقوامِ قدیم ایران و روما کی مسندیں پلٹ دیں ۔ آپ نے دین کی کنجی سے دنیا کا دروازہ کھولا ، زمانہ کے بطن سے آپ جیسا کوئی اور پیدا نہ ہوا ۔ آپ کی نگاہ میں پست و بالا ایک درجہ رکھتے تھے ، آپ اپنے غلام کے ساتھ ایک دستر خوان پر بیٹھ کر کھانا کھاتے ۔ حضور اکرم نے نسلی امتیازات (مفاد ) کو یکسر جلا دیا ۔آپ نے ان خس و خاشاک سے باغ دنیا کو پاک کر دیا ۔ مدینہ منورہ کی خاک دونوں جہانوں سے پیار ی ہے ۔ کیا ٹھنڈک پہنچانے والا ہے وہ شہر جہاں محبوب آرام فرما ہے ۔ “

علامہ اقبال صوفیہ سے بھی یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ بھی کلید دین سے درِ دنیا کو کھولیں ۔ وہ ذکر و فکر اور وظائف و اوراد کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے سماجی مسائل کی طرف بھی توجہ دیں اُن کی آخرت کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ اُن کے لیے دنیا بھی بہتر تعمیر کریں۔ غربت، افلاس ، بیماری ، جہالت ، معاشی ناہمواری ، ذہنی غلامی ایسے مسائل سے پہلو تہی کرکے اسلام کے تقاضے پورے نہیں کیے جا سکتے ۔ تاریخِ تصوف بتاتی ہے کہ صوفیانہ سلوک سے رواداری اور احترامِ آدمیت کو فروغ ملا ۔ تعصب اور تنگ نظری ایسی سماجی برائیوں کی حوصلہ شکنی ہوئی ۔ صوفیہ نے مساواتِ انسانی کا درس دیا ۔ صوفیہ کی عملی زندگیاں فقر و استغنا سے سرشار تھیں۔ کئی صوفیہ نے لنگر خانے کھولے ، غریبوں بے کسوں اور اپاہجوں کے لیے اُن کی خانقاہیں پناہ گاہیں تھیں ۔ اگرچہ صوفیہ غریب نواز تھے تاہم صوفیہ نے لوگوں میں یہ شعور پیدا نہیں کیا کہ وہ انفرادی اور اجتماعی طور پر افلاس اور جہالت کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوں ۔ صوفیہ نے ایسا ماحول پیدا نہیں کیا کہ لوگوں میں ولولہ¿ حیات پیدا ہو ۔ اُن میں اثباتِ ذات اور سعی و عمل کی حرارت پیدا ہو اور وہ خوب سے خوب تر کی تلاش میں سرگرم ہوں ۔ صوفیہ نے عوام الناس کو بہتر معیار زندگی کا راستہ نہیں دکھایا ۔ اُن کو صرف امن و سکون ، بھائی چارے اور صبر و قناعت کی تعلیم دی ۔

اقبال کہتے ہیں کہ عشق رسول کا تقاضا یہ ہے کہ رسول اللہ ا کی کامل تقلید کی جائے۔ اُن کی طرح آخرت کے ساتھ ساتھ دنیاوی زندگی کو بہتر بنانے کی سعی کی جائے۔ مخالف قوتوں کے سامنے ہتھیار نہ ڈالے جائیں بلکہ اُن کے مقابلے کے لیے قوت و وسائل پیدا کیے جائیں ۔ اقبال مسلمانوں کو رسول اللہ ا اور قرونِ اولیٰ کے مسلمانوں کی طرح توانا ، غیور و جسور ، فعال ، رحیم و روف ، عادل و محسن اور حقوقِ انسانی کے محافظ دیکھنا چاہتے تھے ۔ اسی لیے وہ کہتے ہیں کہ اگر تمھیں عشق رسول کا دعویٰ ہے تو رسول اللہ ا کی پوری زندگی کی تقلید کرو ۔ اس طرح تم حُبِ الٰہی کے حق دار بن جا¶ گے اور صحیح معنوں میں ”اِنِّی جَاعِل فِی الاَرضِ خَلِیفَةً“ کی تفسیر بن جاو گے ۔
عاشقی؟ محکم شو از تقلید یار تا کمند تو شود یزداں شکار
اند کے اندر حرائے دل نشیں ترک خود کن سوئے حق ہجرت گزیں
——
تا خدائے کعبہ بنوازد ترا شرح انی جاعل سازد تر

اگر تو عاشق ہے ؟ تو محبوب کی تقلید سے اپنے عشق کو محکم کر، تاکہ تو اللہ تعالیٰ کو اپنی محبت کی کمند میں لا سکے تھوڑی دیر کے لیے اپنے دل کے غار حرا میں خلوت اختیار کر ۔ اپنے آپ کو چھوڑ اور اللہ تعالیٰ کی طرف ہجرت کر ۔ تاکہ رب کعبہ تجھے اپنی تجلی سے نواز دے اور خلافت الٰہی کے بلند مرتبہ پر فائز کرے۔

اقبال صوفیہ کو محویت اور بے خودی کی کیفیت سے نکال کر جیتے جاگتے انسان دیکھناچاہتے تھے تاکہ وہ تلخ حقائق حیات کا مشاہدہ کریں اور عوام الناس کے دنیاوی مسائل حل کرنے کے لیے رہنمائی مہیا کریں ۔ وہ دیکھیں کہ ایک غریب کسان جو زمین کا مالک نہیں اُس کے شب و روز کیسے گزرتے ہیں ؟ اُس پر زمیندار کس طرح ظلم و ستم روا رکھتا ہے ؟ اُس کی بیوی اور بچوں کے کیا مسائل ہیں؟ بندہ مزدور کے ایاّم کیوں تلخ ہیں ؟ معذوروں ، ناداروں اور بیواوں کی زندگیاں کس قدر اندوہناک اور تکلیف دہ ہیں ۔ غلام قوموں کے ساتھ حکمران کیا سلوک روا ررکھتے ہیں ؟ قدرتی آفات اور بیماریوں سے انسانوں پر کیا گزرتی ہے ؟ سماج دشمن عناصر معاشرے میں کس طرح بگاڑ اور فساد کو عام کرتے ہیں ؟ معاشرے میں ثقافتی انقلاب لا کر بنی نوع انسان کو بہتر حالاتِ زندگی دینا انبیا کے مشن میں شامل رہا ہے ۔ حضرت محمد ا نے جن کے ذریعے دین اسلام کی تکمیل ہوئی اپنے عمل سے یہ پیغام دیا کہ دین ، لوگوں کے لیے ہے نہ کہ لوگ دین کے لیے ۔ اللہ اپنے دین کا خود محافظ ہے ۔ دین کا مقصد لوگوں کی زندگیوں کو بدلنا ہے ۔ عارضی خلوت نشینی کے دوران ذکر و فکر میں مستغرق ہونا اور نفسِ امارہ کے داعیات پر قابو پا کر اپنی شخصیت کو مضبوط کرنا سلوک کی اہم منزل ہے لیکن اس ریاضت و عبادت کے بعد لوگوں میں واپس لوٹنا چاہیے تاکہ بنی نوع انسان کو فائدہ ہو ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اکثر صوفیہ نے مکمل رہبانیت اختیار نہیں کی ۔ اُنھوں نے وعظ و ارشاد کی محافل منعقد کیں اور لوگوں کو اپنے عمل اور توجہ سے راہ راست پر لائے لیکن اُن کی ترجیح حُبِ الٰہی میں مستغرق رہنا تھا ۔ اُن پر وجد و کیف طاری رہتا تھا اور اُن کی طبیعتیں اس نشاط کی عادی ہوگئی تھیں ۔ علامہ اقبال ولایت اور نبوت کے اس فرق کو عبد القدوس گنگوہی کے ایک قول سے واضح کرتے ہیں ۔ اُنھوں نے اس قول کا حوالہ اپنے لیکچر بعنوان”The Spirit of Muslim Culture” میں دیا ہے ۔اِس واقعہ کی تفصیل یہ ہے :

یہ بھی پڑھیں:  کیا آپ انفارمیشن اینڈ ڈیٹا مینجمنٹ کے بارے میں جانتے ہیں؟

لطائف قدوسی میں ہے کہ ایک دفعہ میر یونس علی بیگ حضرت شیخ (عبد القدوس گنگوہی) کی ملاقات کے لیے حاضر ہوئے ۔ دیکھا کہ آپ پر سر مستی کی کیفیت ہے ۔ اس حالت کو دیکھ کر اُنھوں نے حضرت شیخ سے ساز بجانے کی اجازت طلب کی ، ساز کا بجنا تھا کہ حضرت شیخ پر محویت اور بے خودی کی کیفیت اس درجہ طاری ہوئی کہ آپ کو کسی چیز کا شعور نہ رہا ۔ اُس وقت شیخ فرید دانشمند تھانیسری بھی حاضر تھے ۔ اسی عالم سرمستی میں حضرت شیخ کی زبان سے کچھ کلمات شطحیات نکلے ۔ آپ نے فرمایا: ”محمد مصطفی در قاب قوسین او ادنی رفت و باز گردید ، واللہ ما باز نہ گردیم“ پھر تھوڑے سے وقفے کے بعد اسی حالت میں اپنے اس قول کی توجیہ کرتے ہوئے فرمایا: ” کہ محمد مصطفی اعہدہ دار لنگر دار تھے ۔ اس لیے آپ واپس تشریف لے آئے اور ہم جان باختہ و جہاں تاختہ کیسے لوٹ سکتے تھے ۔ شیخ کا اشارہ عہدہ داری و لنگر داری سے عہدہ نبوت و رسالت کی طرف تھا اور لنگر سے مراد وہ آپ کی دعوت عامہ تھی جس کے لیے آنحضرت ا کو مبعوث فرمایا گیا ۔ پھر آپ نے اسی کیفیت و مستی کے عالم میں فرمایا کہ خدا ہی جانتا ہے کہ ہم کہاں ہیں ۔ پھر آپ نے بعض اسی قسم کے اور کلمے بھی فرمائے ۔

یہاں بحث کا ایک دل چسپ پہلو سامنے آتا ہے کہ کیا صوفیہ کے لیے یہی کافی نہیں کہ وہ اپنی توجہ سے لوگوں کے دلوں کی کایا پلٹ دیں ، افسردہ و ناآسودہ لوگوں کی سائیکو تھراپی کر دیں ۔ لوگوں میں رواداری اور محبت بانٹیں ، لوگوں کی دل جوئی اور اُن کے جذبات کی تسکین کے لیے مقبول عام شاعری کی تخلیق کریں ۔ دنیا کی بے ثباتی اور عوام کے دکھوں کو موضوع سخن بنا کر اُن کی دل داری کریں یا صوفیہ روزمرہ کے سماجی مسائل اور معیشت و سیاست کے شعبوں میں بھی دخل دیں۔ ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ صوفیہ اصلاحِ قلب کے شعبے کے ماہر ہوتے ہیں ۔ وہ بندے کا خدا سے تعلق جوڑ دیتے ہیں ۔ سماجی مسائل ، معاشی منصوبہ بندی اور نظمِ مملکت کے معاملات سے بے نیاز ہوتے ہیں ، اقبال اِس سے متفق نہیں ہیں۔ اقبال تصوف کے مقبول عام ادارے کو جس میں قوم کی ذہین و فطین شخصیتیں شامل تھیں محدود نہیں دیکھنا چاہتے تھے ۔ وہ تھیاکریسی اور تنگ نظر علما سے مایوس تھے ۔ وہ قوم کی قیادت کا اہل صوفیہ کو سمجھتے تھے کیونکہ لوگوں میں اُن کی ساکھ بھی تھی اور ان میں قیادت کی صلاحیت بھی تھی ۔ اقبال روایتِ تصوف کے خلوص ، رواداری اور قلندرانہ شان سے بہت متاثر تھے ۔ ابتدائی دور کے تصوف میں حرکت تھی اور اُس نے قوم کو قیادت بھی فراہم کی تھی لیکن قرونِ وسطیٰ کے تصوف نے جمود اور بے عملی کو تقویت پہنچائی ۔ اقبال جس ثقافتی انقلاب کے داعی تھے اُس کے ہراول دستہ کے لیے وہ ایسے قائدین کی تمنا کرتے تھے جن کی سیرت میں روحِ تصوف جلوہ گر ہو لیکن وہ قرونِ وسطیٰ کے طریقوں سے نکل کر اپنے آپ کو جدید دور سے ہم آہنگ کرنا سیکھیں، سماجی علوم اور سائنس کے جدید علمی حقائق کی طرف توجہ دیں اور لوگوں کو ان کے حصول کے لیے آمادہ کریں۔

اقبال صوفیہ کی تسخیرِ قلب کی قوت اور اُن کے دبدبے کے قائل تھے۔ اقبال نے اسرار خودی میں ایک نظم کو عنوان دیا ہے ”در بیان اینکہ چوں خودی از عشق و محبت محکم میگردد قوائے ظاہرہ و مخفیہ نظام عالم را مسخر می سازد“ (اس بیان میں کہ جب خودی عشق و محبت سے محکم ہو جاتی ہے تو وہ نظامِ عالم کی ظاہری اور پوشیدہ قوتوں کو مسخر کر لیتی ہے )۔ اس نظم میں اُس نظریے کی جھلک نظر آتی ہے جس کے ہندوستان کے کئی سلاطین اور بادشاہ قائل تھے ۔ وہ یہ سمجھتے تھے کہ جس طرح ظاہری طور پر حکومت اور بادشاہت ہے اسی طرح روحانی دنیا میں بھی بادشاہتیں قائم ہیں ۔ ظاہری حکومتیں ان روحانی حکومتوں کے ماتحت ہیں ۔ اس لیے ہندوستان کے کئی حکمران صوفیہ کرام کی امداد کے طالب رہتے تھے ۔ وہ سمجھتے تھے کہ اُن کی حکومتوں کے عزل و نصب میں یہ بزرگانِ کرام فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں۔ علامہ اقبال نے بو علی قلندر سے منسوب ایک حکایت بیان کی ہے ۔ اس حکایت کا خلاصہ بیان کیا جاتا ہے :

بو علی قلندر کا ایک مرید بازار کی طرف جا رہا تھا وہ حضرت بو علی کی شراب سے مست تھا ۔ اُس شہر کا حاکم سوار ہو کر گزرا تو اُس کے ساتھ کئی غلام اور نوکر چاکر تھے ۔ اُن میں سے ایک نے بڑھ کر آواز دی ۔ اے نا سمجھ! حاکم کے ہمراہیوں کا راستہ مت روکیے۔ وہ درویش اپنا سر نیچے کیے چلتا رہا ۔ وہ اپنے افکار کے سمندر میں غوطہ زنی کر رہا تھا ۔ دوسری طرف چوبدار اپنے تکبر میں مست تھا ۔ درویش کے سر پر اُس نے اپنی لاٹھی توڑ ڈالی ۔ حاکم کی جانب سے فقیر آزردہ ہوگیا ۔ اُس کا دل بھاری تھا وہ ناخوش تھا اور افسردہ ہوگیا۔ اُس نے بوعلی قلندر کے حضور فریاد کی، وہ اشکبار تھا۔اُس کی فریاد سننے کے بعد پہاڑ پر گرنے والی بجلی کی طرح شیخ نے باتیں کی۔ اُس کے اندر سے ایک اور قسم کی آگ بھڑکی اور اپنے میر منشی کو بُلا کر کہا:

خامہ را بر گیرد فرمانے نویس از فقیرے ، سوئے سلطانے نویس!
بندہ ام را عاملت بر سرذدہ است بر متاع جان خود اخگر ذدہ است
باز گیر ایں عامل بد گوہرے ورنہ بخشم ملک تو بادیگرے
نامہ آں بندہ حق دستگاہ لرزہ ہا انداخت در اندام شاہ
پیکرش سرمایہ آلام گشت زرد مثل آفتاب شام گشت
بہر عامل حلقہ زنجیر جست از قلندر عفو ایں تقصیر جست

قلم اٹھا اور اس فقیر سے بادشاہ کی طرف فرمان لکھ ۔ میرے درویش کو تیرے عامل نے سر پر لاٹھی ماری ہے گویا اُس نے ایسا کام کیا ہے جو اُس کی متاع جان کو جلا دے گا ۔ اس بد نہاد عامل کو یہاں واپس بلا ، ورنہ میں تیری بادشاہت کسی اور کو دے دوں گا ۔ اس خدا رسیدہ بندے کے مکتوب نے بادشاہ کے بدن پر کپکپی طاری کر دی ۔ اُس کے رگ و پے میں رنج و غم کا طوفان امڈ آیا اور اس کا چہرہ آفتاب شام کی طرح زرد پڑ گیا ۔ اُس نے حاکم کی گرفتاری کا حکم جاری کیا اور قلندر سے اپنی غلطی کی معافی کا خواستگار ہوا ۔

علامہ اقبال کا یقین تھا کہ جب بندہ مقام عشق پر فائز ہو جاتا ہے تو اس میں بے پناہ قوت پیدا ہو جاتی ہے ۔ کوئی گلوگار ہو ، شاعر ہو، خشت و سنگ سے تعمیر کا ذوق و شوق رکھتا ہو یا کوئی اعلیٰ اُصولوں سے لگن رکھتا ہو اس قسم کے سچے اور سُچے عاشقوں میں توانائی اور قوت تسخیر پیدا ہو جاتی ہے ۔ لوگ اُن کے شیدا و والہ ہو جاتے ہیں ۔ اسی طرح جب صوفی حُب الٰہی اور حُب رسول میں مستغرق ہوتا ہے اور باقی تمام عالم سے مستغنی ہو جاتا ہے تو اُس میں بھی ایک خاص توانائی اور قوت تسخیر پیدا ہو جاتی ہے لیکن کیا وہ اپنی اس قوت تسخیر سے حکومتوں کو گرا سکتا ہے یا اپنی مرضی کا حکمران لا سکتا ہے؟اِس بارے میں کوئی حتمی رائے نہیں دی جا سکتی ۔ اہلِ دنیا کے اعمال سے قضا و قدر کے نظام میں تغیر تو آ سکتا ہے اور حکمرانوں کے ظلم و ستم کی وجہ سے بھی حکومتیں گرتی ہیں ۔ صوفیہ کی کرامتیں بھی بر حق ہیں ۔ علامہ اقبال ، بو علی قلندر کی قوتِ تسخیر کی حکایت بیان کرنے سے پہلے اسی نظم میں حضرت محمد ا کے معجزے بیان کرتے ہیں :

از محبت چوں خودی محکم شود قوتش فرماندہ عالم شود
پنجہ او پنجہ حق می شود ماہ از انگشت او شق می شود
در خصومات جہاں گردد حکم تابع فرماں او دارا و جم

جب خودی عشق الٰہی سے مستحکم ہو جاتی ہے تو اُس کی قوت زمانے کی فرماں روا بن جاتی ہے ۔ اُس کا ہاتھ اللہ کا ہاتھ ہوجاتا ہے ۔ اُس کی انگلی کے اشارے سے چاند دو ٹکڑے ہوجاتا ہے ۔ ایسا شخص دنیا کے معاملات کے فیصلے کرتا ہے ۔ دار ا و جم بھی اُس کے حکم کے تابع فرمان ہوجاتے ہیں۔
صوفیہ عظام حقوق انسانی کے علمبردار تھے ۔ وہ انسانی مساوات کے قائل تھے ۔ اقبال نے اُس صوفی کا انتخاب کیا ہے جو سراپا طاقت تھا ۔ جس کی خودی مستحکم تھی ۔ جو عشق الٰہی سے سرشار تھا ۔ سلطان اُس خدا مست قلندر کے جلال سے خائف تھا ۔ وہ ایسے صوفی نہ تھے جو چوبدار کے ظلم پر خاموش رہتے اور مرید کو تکلیف سہہ کر اللہ کا شکر ادا کرنے اور زیادتی کرنے والے کو معاف کر دینے کی تلقین کرتے۔ ایسے صوفیہ اقبال کے پسندیدہ کردار نہیں ہیں ۔ حضرت بوعلی قلندر نے ظالم کے ظلم پر سخت احتجاج کیا بلکہ اس قسم کے چوبدار کو مقرر کرنے والے سلطان کو مورد الزام ٹھہرایا اور اُسے بذریعہ خط تنبیہ کی کہ اپنے بد گوہرعامل کو باز رکھیے۔ اس کو واپس بلا لیجیے ورنہ میں تیرا ملک کسی اور کو بخش دوں گا ۔ اُن کے اس خط نے بادشاہ کے وجود پر کپکپی طاری کر دی ۔ بادشاہ نے عامل کو قید کر دیااور قلندر سے اس قصور کی معافی مانگی ۔
(دوسرا حصہ)