Taswuf_new

متبادل تصوف(۱)

EjazNews

نظریہ خودی

اقبال نے نظریہ خودی کو متبادل تصوف کے طور پر پیش کیا ہے ، یہ نظریہ ، قرونِ وسطیٰ کے طریقوں کے بالمقابل عرفان و ایقان تک پہنچنے کا نیا راستہ بتاتا ہے جو زندگی کی حقیقتوں کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے ۔ قرونِ وسطیٰ کے اکثر صوفیہ کا خیال تھا کہ اپنے آپ کو مٹانے کے بغیر عرفانِ حق نصیب ہی نہیں ہوسکتا ۔ اِن صوفیہ کا ایک ہی نعرہ¿ مستانہ تھا کہ اپنی آرزو اور اپنی ہستی کو فنا کرکے خدا تک رسائی حاصل کرلو۔
ابو سعید ابن ابی الخیر (ولادت: 357ہجری ) سے کسی نے پوچھا : ”شر کیا ہے ؟ اور بد ترین شر کیا ہے ؟ “ جواب دیا : ”تو شر ہے اور بد ترین شر یہ ہے کہ تو اِس حقیقت سے آگاہ نہ ہو کہ تو شر ہے ۔ ابو سعید نے ایک دفعہ شاگردوں اور مریدوں سے کہا : ”یہ تصوف بھی تو شرک ہے ! اُنھوں نے حیران ہوکر پوچھا یہ کیسے؟ جواب دیا: ”تصوف نام ہے نفس کو غیر اللہ میں مشغول ہونے سے باز رکھنے کا ۔ مگر اللہ کے سوا غیر اللہ کا وجود ہی کہاں ہے؟غیر اللہ تو موجود ہی نہیں۔“ ایک مرتبہ کہا: ”خدا تک پہنچنے کا راستہ صرف ایک قدم کا ہے ۔ اپنی خودی سے باہر نکلنے کے لیے ایک قدم اٹھاو فوراً خدا تک پہنچ جاو گے۔
علامہ اقبال فنائے ذات کے بجائے اثباتِ ذات کے قائل ہیں ۔ وہ آرزو کو علامت زندگی اور مقاصد کی تولید کو بقائے زندگی قرار دیتے ہیں ۔ وہ خدا اور پوری کائنات کی تعبیر و تشریح نظامِ خودی سے کرتے ہیں ۔ اُن کے نزدیک خدا واجب الوجود ہے اور کائنات ممکن الوجود ۔ دونوں کا وجود حقیقی ہے فرق یہ ہے کہ کائنات کا وجود اللہ تعالیٰ کے وجود کا مرہونِ منت ہے۔ حقیقت الحقائق خدا ہی ہے اور تمام موجودات کا ظہور و صدور اسی سے ہوا ہے ۔ اللہ تعالیٰ حیّ و قیّوم ہے ۔ حقیقی ، ازلی اور دائمی ذات اُسی کی ہے ۔ وہی کائنات کو تھامے ہوئے ہے ۔ وہ ذرے ذرے میں موجود ہے ، پوری کائنات پر محیط ہے اور کائنات سے ورا الورا بھی ہے ۔قرآن حکیم میں صاف صاف الفاظ میں کہا گیا ہے : ما من دآبة الا ھو اخذ بناصیتھا۔”کوئی جاندار ایسا نہیں جس کی چوٹی اُس کے ہاتھ میں نہ ہو۔“ تمام موجودات خودیوں کے ہی سلسلے ہیں جو ایک دوسرے سے مربوط ہیں اور ایک نظامِ وحدت میں سمٹے ہوئے ہیں ۔ علامہ اقبال اپنے خطبات میں ایک مقام پر فرماتے ہیں :

I have conceived the Ultimate Reality as an Ego; and I must add now that from the Ultimate Ego, only egoes proceed. The creative energy of the Ultimate Ego, in whom deed and thought are identical, functions as ego-unities. The world, in all its details from the Mechanical movement of what we call the atom of matter to the free movement of thought in the human ego, is the self revelation of the Great I am. Every item of Divine energy, however low in the scale of existence is an ego. But there are degrees in the expression of egohood. Throghout the entire gemut of being, runs the gradually rising note of egohood until it reaches its perfection in man. That is why the Quran declares the Ultimate Ego to be nearer to man than his own neck-vein.

علامہ اقبال کو زمان و مکان کے موضوع سے خاص دل چسپی تھی۔ اس ضمن میں اُنھوں نے مشرق اور مغرب کے مفکرین کے افکار اور قرآن حکیم کی تعلیمات کا بنظرِ غائر مطالعہ کیا تھا ۔ وہ عمل تخلیق کو ماضی کا کوئی واقعہ نہیں سمجھتے اور نہ ہی کائنات کو ایک بنائی ہوئی جامد شے تصور کرتے ہیں جس کو خدا نے پیدا کرکے چھوڑ دیا ہو ۔ محدود نگاہ رکھنے والے کائنات کو حیاتِ الٰہیہ میں ایک حادثہ تصور کرتے ہیں بالفاظِ دیگر وہ کائنات کو حادث قرار دیتے ہیں ۔ علامہ اقبال سوال اُٹھاتے ہیں کہ کیا کائنات خدا کے حوالے سے کوئی دوسری چیز ہے اور مکان ، خدا اور کائنات کے درمیان حائل ہے ؟ وہ جواباً کہتے ہیں خدا کی نظر میں خاص واقعہ کی رُو سے جو پہلے اور بعد کے مفہوم کا حامل ہو تخلیق کا کوئی تصور نہیں ۔ کائنات کوئی مطلق حقیقت نہیں ہے جو خدا کے مقابل موجود ہو۔ جو لوگ کائنات کو محض مادہ سمجھتے ہیں وہ کائنات اور خدا کو دو الگ الگ وجود تصور کرتے ہیں جو لامحدود مکان میں موجود ہیں ۔ دراصل زمان و مکان اور مادہ ایسی تعبیرات ہیں جن کو فکر، اللہ تعالیٰ کی آزاد تخلیقی توانائی پر اوڑھ لیتی ہے ۔ زمان و مکان اور مادہ مطلق حقیقتیں نہیں ہیں بلکہ یہ ذہنی حالتیں ہیں جن کے ذریعے حیاتِ الٰہیہ کی تفہیم کی جاتی ہے ۔ علامہ اقبال فرماتے ہیں :

The question of creation once arose among the disciples of the well-known Saint Ba Yazid of Bistam. One of the disciples very pointedly put the common sense view saying. There was a moment of time when God existed and nothing else existed beside Him. The Saint’s reply was equally pointed, it is just the same now. said he, as it was then.

اقبال ، با یزید بسطامی کے مندرجہ بالا بیان کے ذریعے یہ وضاحت کرتے ہیں کہ تخلیق کا وجود الگ تھلگ نہیں ہے بلکہ تخلیق اللہ تعالیٰ کا مسلسل فعل ہے جو ہمیں مختلف اشیا کے ظہور کی شکل میں نظر آتا ہے ۔ خدا کے عملِ تخلیق میں زمان و مکان بے معنی ہیں۔ ابنِ عربی بھی یہی کہتے ہیں کہ کائنات علمِ الٰہی میں ازل سے موجود ہے اور اللہ تعالیٰ کے تنزل یا اُس کی تجلی سے اعیانِ ثابتہ اپنے اپنے تعینات کا روپ دھارتے چلے جاتے ہیں ۔ اقبال کہتے ہیں کہ کائنات مختلف درجات کی خودیوں سے عبارت ہے جو حیات الٰہیہ میں زندگی بسر کر رہی ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم حیات الٰہیہ کی رو میں موتیوں کی طرح زندہ رہتے ہیں ، حرکت کرتے ہیں اور اپنی ہستی کو برقرار رکھتے ہیں ۔ اقبال کے نزدیک بھی حقیقتِ کائنات روحانی ہے ۔اقبال اور ابنِ عربی کے نظریہ تخلیقِ کائنات میں جوہری طور پر تضاد نظر نہیں آتا۔ البتہ ابن عربی اور اقبال کے الفاظ اور تعبیرات مختلف ہیں اور دونوں نے اپنے اپنے نظریات سے نتائج مختلف نکالے ہیں ۔ دونوں کے اطلاقات مختلف ہیں ۔ اقبال اپنے اس نظریے کو توحید کا تصور اسلام قرار دیتے ہیں اور انسان کو خود مختار اور فعال قرار دیتے ہیں ۔ انسانی خودی کی بقائے دوام اور اُس کی حریت کے قائل ہیں جبکہ ابنِ عربی کے متبعین وحدت الوجود کے نظریے کی بنیاد پر انسان کو مجبور محض قرار دیتے ہیں ۔ ابن عربی کے ماننے والے حافظ شیرازی کے اس شعر پر مہر تصدیق ثبت کرتے ہیں ۔

در کوئے نیک نامی ما را گزر ندادند
گر تو نمی پسندی تغییر کن قضا ر

اقبال خدا کے فعال ہونے کے ساتھ ساتھ انسان کے نائب فعال ہونے کے قائل ہیں۔ یہاں تک کہ وہ چھوٹی سے چھوٹی خودی کو فعل اور عمل سے تعبیر کرتے ہیں ۔ اقبال اپنی مثنوی اسرارِ خودی کا آغاز اس عنوان سے کرتے ہیں :

در بیان اینکہ اصل نظام عالم از خودی است و تسلسل حیات تعینات وجود بر استحکام خودی انحصار دارد۔

اِس بیان میں کہ نظام عالم کی بنیاد خودی پر ہے اور زندگی کا تسلسل اور اُس کی مختلف شکلوں کا انحصار استحکام خودی پر ہے ۔
اقبال کی اِس نظم کا مرکزی خیال یہ ہے کہ ”میں چھپا ہوا خزانہ تھا ، میں نے چاہا کہ میں پہچانا جاوں اس لیے میں نے دنیا کو خلق کیا۔“ اس جامع کلمہ کی بنیاد پر اقبال یہ نتیجہ نکالتے ہیںکہ کائنات خودیوں کا ہی ایک سلسلہ وجود ہے ، ہر خودی کی اصل روحانی ہے اور ہر خودی کو نمایاں ہونے کا شوق ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ دانہ زمین کا سخت سینہ چیر کر اپنا سر باہرنکال لیتا ہے ۔ ہر بود میں شوق نمود ہے ۔ کائنات میں ہر وجود اپنی حفاظت اور اپنی نمو کا شدید ارادہ رکھتا ہے ۔ چونکہ انائے مطلق فعّال لما یرید ہے اِس لیے اُس سے صادر ہونے والی خودیاںارادے (will) کی مالک ہیں اور اس ارادہ کی وجہ سے اُن میں زندگی رواں دواں ہے ۔ مختلف ذرات کے اندر انائے مطلق کی تخلیقی توانائی نے اُن کو کہیں صحراوں کا روپ دے دیا اور کہیں پہاڑ بن گئے اور کہیںسمندر نمودار ہو گئے ۔ خودی کی تخلیقِ توانائی سے ہر لمحہ صدائے کُن فَیَکُون آرہی ہے اور کئی جہاں تخلیق ہو رہے ہیں ۔

ضمیرِ پاک و نگاہِ بلند و مستی شوق نہ مال و دولت قاروں ، نہ فکرِ افلاطوں
سبق ملا ہے یہ معراجِ مصطفی سے مجھے کہ عالمِ بشریت کی زد میں ہے گردوں
یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید کہ آرہی ہے دمادم صدائے کُن فیکوں

انائے مطلق نے کائنات اور اپنے نائب حضرت انسان کو ایجاد کیا ۔ غیر کو اس لیے ایجاد کیا تاکہ وہ اپنا مشاہدہ کرے۔ کائنات گویا بمنزلہ آئینہ ہے جس میں قادر مطلق خدا اپنی تجلیات کا مشاہدہ کرتا ہے ۔ کائنات کی ہستی کا تصور خدا کے وجود سے منسلک ہے ۔ ہم سب اپنے وجود کے لیے خدا کے محتاج ہیں اور خدا نے اپنی تجلیات اور صفات کے تماشے کے لیے کائنات اور حضرت انسان کے وجود کو ضروری قرار دیا ۔ اقبال نے اس اُصول قدرت کی طرف اشارہ کیا ہے کہ خودی اپنے آپ سے ہی غیروں کے وجود تیار کرتی ہے ۔ اس اُصول میں لذت پیکار مضمر ہے ۔ اسی لذت پیکار سے خودی میں استحکام پیدا ہوتا ہے اور اُسے اپنی قوت کا اندازہ ہوتا رہتا ہے ۔ کائنات میں جذب و انجذاب کے ساتھ ساتھ تصادم و مقاومت بھی جاری و ساری ہے ۔ بلاشبہ اقبال نے اپنے دور کے فلسفہ اور طبیعیات و حیاتیات کے علمی حقائق سے استفادہ کیا اور ان علمی حقائق کی روشنی میں اپنے نظریہ خودی کی توسیع کی ۔ اُنھوں نے ہیگل کے فلسفہ جدلیات (Dialectics) اور شوپن ہور کے فلسفہ ارادہ (World & Will) کے علمی استدلال سے الٰہیاتی اور اسلامی علم الکلام میں استفادہ کیا ہے ۔ لیکن نتائج مختلف اخذ کیے ہیں ۔ ہیگل نے اپنے جدلیاتی افکار کے ذریعے تاریخ کی جبریت اور قومی ریاست کی برتری کو ثابت کر دیاجبکہ اقبال نے مزاحمت و مقاومت کو خودی کے استحکام کے لیے ضروری قرار دیا ۔ شوپن ہور نے خواہش کوخالق وجود قرار دیا لیکن اسے موجب عذاب قرار دیا اور ہر قسم کی آرزو کی نفی کو اعلیٰ نصب العین قرار دیا ۔ وہ ہستی کو مٹانے کا قائل ہے جبکہ اقبال آرزووں اور خواہشات کی تولید و تنظیم کے قائل ہیں ۔ اقبال رجائیت پسند ہیں اور ذوق زندگی کے لذت آشنا ہیں ۔ اُنھوں نے کائنات اور حیات کی حقیقت ، خدا کو قرار دیا ہے اور اس مقدمے سے اپنے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے یہ ثابت کیا ہے کہ کائنات کی اصل روحانی ہے ۔ جس کو ہم مادہ کہتے ہیں وہ بھی اپنے جواہر میں احساس شعور رکھتا ہے ۔ ہر جوہر ایک چھوٹی سی خودی ہے ۔ ہر خودی اپنا غیر پیدا کرتی ہے تاکہ اُسے لذت پیکار حاصل ہو اور وہ اپنے قدموں کو مضبوطی سے جمائے ۔ اس پیکار میں کمزور اور خام وجودمٹ جاتے ہیں ۔ برتر اور قوی تر وجود اپنے آپ کو برقرار رکھتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں ۔ پیکار کا یہ سلسلہ جاری رہتا ہے اور جاری رہے گا ۔ اس طرح اصلح للبقاکا اُصول کارفرما رہتا ہے۔ صالح وجود غالب آتے ہیں اور اُن کو بقا نصیب ہوتی ہے ۔ بادی النظر میں اس کرہارض پر شکست و ریخت کا سلسلہ جاری ہے ۔ کبھی موسم کی بے اعتدالیاں آتی ہیں کبھی زلزلے اور قحط آتے ہیں۔ انسان کو کبھی بیماریوں اور دیگر آفات ارضی و سماوی کا سامنا رہتا ہے لیکن ان آفات و مصائب کے باوجود کرہ ارض پر نباتات و حیوانات اور انسان کا وجود ہنوز باقی ہے بلکہ وہ پہلے سے زیادہ علم ، تصرف اور وسائل رکھتا ہے ۔ خودی کا یہ سفر جاری ہے اور انسان ترقی و تقدم کی راہوںپر چلتا رہے گا ۔ لیکن اگر اُس نے ایک دوسرے کی خودی کا پاس نہ کیا تو اُس کا وجود مٹ جائے گا ۔ علامہ اقبال کے اشعار میں خودی کی ماہیت اور اُس کی فعالیت کے مظاہر ملاحظہ کیجیے:

یہ بھی پڑھیں:  دنیا بد ل گئی ہے اور ایشیا

پیکرِ ہستی ز آثارِ خودی است ہر چہ می بینی ز اسرارِ خودی است
خویشتن را چوں خودی بیدار کرد آشکارا عالمِ پندار کرد
صد جہاں پوشیدہ اندر ذات او غیر او پیداست از اثباتِ او

پیکرِ ہستی خودی کے آثار میں سے ہے ۔ جب خودی نے اپنے آپ کو نمایاں کیا تو اُس نے عالم کو آشکار کیا ۔ اُس کی ذات میں ہزاروں جہاں پوشیدہ ہیں ۔ اُس کے اثبات سے اُس کا غیر پیدا ہوا۔
سازد از خود پیکرِ اغیار را تا فزاید لذت پیکار را
میکشد از قوتِ بازوئے خویش تا شود آگاہ از نیروے خویش
خودی اپنے آپ سے ہی اپنے غیروں کے وجود تیار کرتی ہے تاکہ لذت پیکار زیادہ ہو ۔ خودی اپنے بازو کی قوت سے بعض کو فنا کر دیتی ہے تاکہ وہ اپنی طاقت سے آگاہ ہو۔
شعلہ ہائے او صد ابراہیم سوخت تا چراغ یک محمد بر فروخت
می شود از بہر اغراض عمل عامل و معمول و اسباب و علل
خیزد ، انگیزد پرد تا بدر مد سوزد ، افروزد ، کشد ، میرد ، دمد

اُس ”خودی “کے شعلوں نے سیکڑوں ابراہیم جلا دیے تاکہ ایک مصطفی ا کا چراغ روشن ہو ۔ اغراض عمل کے لیے خودی کبھی عامل بن جاتی ہے اور کبھی معمول اور کبھی اسباب و علل کا روپ دھار لیتی ہے ۔ (خودی) کبھی اٹھتی ہے ، اٹھاتی ہے ، اڑاتی ہے، جاگتی ہے ، جلتی ہے ، روشن کرتی ہے ، مارتی ہے ، مرتی ہے اور زندہ ہوتی ہے ۔

وانمودن خویش را خوئے خودی است خفتہ در ہر ذرہ نیروی خودی است
قوت خاموش و بے تاب عمل از عمل پابند اسباب عمل
چوں حیاتِ عالم از زور خودی است پس بقدر استواری زندگی است

اپنے آپ کو نمایاں کرنا خودی کی خُو ہے ۔ دنیا کے ہر ذرے میں خودی کی قوت خوابیدہ ہے ۔ (خودی کی) قوت خاموش ہے لیکن عمل کے لیے بے تاب ہے اور عمل ہی کی خاطر عمل کے اسباب کی پابندی اختیار کرتی ہے ۔ حیات عالم زورِ خودی کی وجہ سے ہے اس لیے ہر ایک کی زندگی خودی کی مضبوطی کے بقدر ہے ۔
حلقہ زد نور تا گردید چشم از تلاش جلوہ ہا جُنبید چشم
سبزہ چوں تاب دمید از خویش یافت ہمت او سینہ گلشن شگافت

روشنی نے جب حلقہ بنا لیا تو وہ آنکھ بن گئی اور آنکھ نے جلووں کی تلاش میں جھپکنا سیکھا۔ سبزے نے جب اپنے آپ میں اُگنے کی طاقت پیدا کی تو اس نے اپنی ہمت سے گلشن کا سینہ چاک کر دیا۔

اقبال کا نظریہ انسانی خودی اُن کے تصور خدا اور تصورِ کائنات سے مربوط ہے ۔ انسانی خودی کے خواص کی تفہیم، توحیدِ باری تعالیٰ کی توضیح اور کائنات کی مقصدیت کی تفہیم کے بغیر ناممکن ہے ۔ علامہ اقبال کے خیالات کا بنیادی سرچشمہ قرآن حکیم ہے ۔ اُن کا فہم قرآن وسیع و عمیق ہے ۔ اُنھوں نے اپنے دور کے علمی حقائق بالخصوص طبیعیات ، حیاتیات اور نفسیات کی جدید تحقیقات اور اُن کے جدید اُصولوں کی روشنی میں قرآن حکیم کو پڑھا اور قرآن حکیم کے نور میں جدید علمی حقائق کو جانچا اور پرکھا ۔ قرآنی بصیرت کی روشنی میں وہ انسانی خودی کی حریت اور اُس کی بقائے دوام کے قائل تھے ۔

علامہ اقبال نے حقیقت مطلقہ (Ultimate Reality) کو ایک خودی قرار دیا ہے جس کو قرآن حکیم کی زبان میں ”اللہ“ کہتے ہیں اور جس کے کئی صفاتی نام ہیں ۔ خودیِ مطلق کی توضیح و تشریح کرتے ہوئے علامہ اقبال اس کی سب سے بڑی خصوصیت تفرد کامل بتاتے ہیں۔ وہ وحدہ لا شریک لہ اورلیس کمثلہ ہے یعنی اُس کا کوئی ہمسر اور مثیل نہیں ہے ۔ وہ احدیت میں بھی یکتا ہے ۔ وہ کائنات میں ہر جگہ موجود ہے ۔ انسان کی شہ رگ سے بھی قریب ہے لیکن وہ اپنا ایک الگ اور منفرد تشخص بھی رکھتا ہے ۔ اقبال کہتے ہیں کہ اللہ کے علاوہ تمام خودیوں میں بھی تفرد ہے لیکن ناقص ہے کیونکہ اُن میں توالد و تناسل کا سلسلہ جاری ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے ہر شے کا جوڑا (زوج) پیدا کیا ہے ۔ نباتات ، حیوانات اور عالمِ انسانی میں تولید کے سلسلوں کی وجہ سے کسی بھی خودی کی انفرادیت درجہ کمال تک برقرار نہیں رہ سکتی کیونکہ نر اور مادہ کے جینز اُن کی نسلوں میں منتقل ہو جاتے ہیں اس طرح اولاد میں اپنے آبا و اجداد کے کچھ خواص اور خصوصیات آجاتی ہیں۔

حقیقت مطلقہ ہی تمام قوتوں کا سرچشمہ ہے ۔ اُس کے علاوہ کوئی بھی حقیقی طور پر قوی نہیں ہے ۔ جس خودی کے پاس جوبھی قوت اور توانائی ہے وہ اُسی کی مرہون منت ہے ۔ تمام کائنات اُس کی محتاج ہے ۔ تمام موجودات اپنے وجود اور اپنی بقا کے لیے اُس کے محتاج ہے ، وہ بے نیاز ہے ۔ وہ اپنی ذات اور صفات کے ساتھ قائم ہے ۔ قرآن حکیم کے الفاظ میں: لمن الملک الیوم للّٰہ الواحد القہار۔ (آج کے دن کس کی بادشاہی ہے صرف اللہ کی جو واحد ہے اور قوی ہے سب پر غالب ہے ۔) یہ ”آج“ روزِ ازل بھی ہے ، ہر روز بھی ہے اور روزِ قیامت اور روزِ حشر بھی ہے ۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں اپنی ذات کا تعارف کراتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ وہ زمین اور آسمانوں کا نور ہے ۔ اس سے بعض صوفیہ اور فلاسفہ نے اللہ تعالیٰ کی حقیقت کو نور سے تعبیر کیا اور اُن کا میلان وحدت الوجود کی طرف ہوگیا ۔ اُن کا خیال ہے کہ کائنات کے ذرے ذرے میں اللہ تعالیٰ کا وجود ہے اور شاید خارج میں اُس کا الگ تشخص نہیں ہے ۔ اللہ کی تجلی ہی کائنات ہے ۔علامہ اقبال اس نظریے کی حمایت نہیں کرتے ۔ وہ اللہ تعالیٰ کی کائنات سے وراءالورا شخصیت کے بھی قائل ہیں اس لیے وہ کہتے ہیں کہ قرآن حکیم کی ان آیاتِ نور میں بھی اللہ تعالیٰ کے تشخص کی طرف اشارہ موجود ہے ۔ اللہ کے نور کو مشخص کرنے کے لیے اُس کی مثال ایک چراغ کی بیان کی گئی ہے جو ایک طاق میں رکھا ہوا ہو اور چراغ ایک فانوس میں ہو۔ اللہ ایک اکمل ذات ہے جو علیم ہے۔ اُس کے علم کا احاطہ نہیں کیا جا سکتا وہ قدیر اور قادر ہے ۔ اُس کا اقتدار پوری کائنات پر محیط ہے اور اِس سے ما ورا بھی ہے ۔ جیسا کہ قرآن حکیم میں ہے :

ترجمہ:اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے ۔ اُس کے نور کی مثال ایسی ہے جیسے ایک طاق میں چراغ رکھا ہوا ہو ، چراغ ایک فانوس میں ہو ، فانوس کا حال یہ ہو کہ جیسے موتی کی طرح چمکتا ہوا تارا، اور وہ چراغ زیتون کے ایک ایسے مبارک درخت کے تیل سے روشن کیا جاتا ہو جو نہ شرقی ہونہ غربی ۔ جس کا تیل آپ ہی آپ بھڑکا پڑتا ہو چاہے آگ اس کو نہ لگے ۔ روشنی پر روشنی ، اللہ اپنے نور کی طرف جس کی چاہتا ہے رہنمائی کرتا ہے ، وہ لوگوں کو مثالوں سے بات سمجھاتا ہے ، وہ ہر چیز سے خوب واقف ہے ۔
علامہ اقبال نے اللہ تعالیٰ کی دو صفات ، خالقیت اور عالمیت پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ کائنات میں اللہ تعالیٰ کی صفت خالقیت ہر لمحہ نمایاں ہے ۔ ماضی، حال اور مستقبل اللہ تعالیٰ کے علم میں حال کا درجہ رکھتے ہیں جو ”ثم استوی علی العرش“ کا مفہوم یہ لیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ عرش پر مستوی ہے اور علمی لحاظ سے ہر جگہ اور ہر ذرے میں موجود ہے ، وہ اللہ تعالیٰ کے لیے ایک قسم کی تجسیم کے قائل ہیں۔ اشاعرہ کا یہ عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر جگہ موجود ہے ۔ وہ پوری کائنات پر محیط ہے اور اُس کی ہستی کائنات سے وراءالورا بھی ہے ۔ علامہ اقبال نے فکرِ اسلامی کی تاریخ کی روشنی میں اس امر کا جائزہ لیا ہے کہ خدا کا تخلیقی عمل کس طرح اور کس انداز میں کام سر انجام دیتا ہے ۔ اقبال نے بتایا ہے کہ مسلمانوں کے اشاعرہ مکتب فکر کی رائے ہے کہ اللہ تعالیٰ کی توانائی کا تخلیقی طریق جوہری (Atomic) ہے۔ اُن کے اِس خیال کی بنیاد قرآن حکیم کی یہ آیت ہے :و ان من شیءالا عندنا خزآئنہ و ما ننزلہ الَّا بقدر معلوم۔ ”کوئی چیز ایسی نہیں جس کے خزانے ہمارے پاس نہ ہو ں ، اور جس چیز کو بھی ہم نازل کرتے ہیں ایک مقرر مقدار میں نازل کرتے ہیں ۔“ اقبال اشاعرہ مکتب فکر کے خیال کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں :

یہ بھی پڑھیں:  خودکشی کے رجحانات کیوں بڑھ رہے ہیں؟

I am inclined to think that in view of the idea of continous creation which the Asharite intended to establish there is an element of truth in the first proposition. I have said before that in my opinion spirit of the Quran is on the whole anti classical. I regard the Asharite thought on this point as a genuine effort to develop on the basis of an Unltimate Will or Energy a theory of creation which, with all its short comings is far more true to the spirit of the Quran, than the Aristotelian idea of fixed Universe. The duty of the future theologians of Islam is to reconstruct this purely speculative theory, and to bring it to closer contact with modern science which appears to be moving in the same direction.

علامہ اقبال اللہ تعالیٰ کو (ایغو) ایسی ہستی سے تعبیر کرتے ہیں جو حیّ و قیّوم ہے جس کی تخلیقی توانائی ہر لمحہ مصروف عمل ہے۔ کائنات میں ہر لمحہ اضافہ ہو رہا ہے ۔ کائنات کی بنیاد حکمت و دانائی پر ہے اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے (فعال لما یرید) اللہ تعالیٰ کے فعلِ تخلیق کا فہم کسی حد تک ممکن ہے کیونکہ کائنات میں ہر لمحہ اس فعل کا مظاہرہ ہو رہا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات کا مکمل فہم انسان کے لیے نا ممکن ہے۔ علامہ اقبال نے سورة الاخلاص کی تشریح ایک نئے موثر انداز میں کی ہے ۔ وہ توحید کے پیغام کی عمرانی غایت پر زور دیتے ہیں ۔ حضرت ابو بکر صدیق ؓ سے پوچھتے ہیں کہ ہمارے آزار کا کوئی علاج بتائیے وہ جواباً فرماتے ہیں :

گفت تا کے در ہوس گردی اسیر آب و تاب از سورہ اخلاص گیر
اینکہ در صد سینہ پیچد یک نفس سرّے از اسرار توحید است و بس
رنگِ او بر کن مثال او شوی در جہاں عکسِ جمالِ او شوی
آنکہ نام تو مسلماں کردہ است از دوئی سوئے یکی آوردہ است
خویشتن را ترک و افغاں خواندہ وائے بر تو آنچہ بودی ماندہ
—–
یک شود توحید را مشہود کن غائبش را از عمل موجود کن

اُس (حضرت ابوبکرؓ) نے فرمایا تو کب تک ہوس میں گرفتار رہے گا ۔ سورة الاخلاص سے چمک اور تابش اختیار کرو ۔ یہ توحید کے بھیدوں میں سے ایک بھید ہے اور بس جو کہ سینکڑوں سینوں میں ایک سانس کی طرح پیچ اور بل کھاتا ہے ۔ اُس (اللہ تعالیٰ)کا رنگ اختیار کیجیے اور اُس کی مثال ہو جائیے ۔ دنیا میں اُس کے جمال کا عکس ہو جائیے ۔ وہ جس نے تمھارا نام مسلمان رکھا ہے وہ تجھے دوئی سے وحدت کی طرف لایا ہے تو اب بھی اپنے آپ کو ترک اور پٹھان کہتا ہے ۔ تجھ پر افسوس ہے تو جو کچھ تھا وہی برقرار ہے ۔ تم ایک ہو جاو اور توحید کو عملی رنگ میں پیش کرو اس کی غائب کو اپنے عمل سے موجود کر و۔

علامہ اقبال ، تصورِخدا کی معنویت کو عالمِ انسانی میں جلوہ گر دیکھنا چاہتے ہیں ۔انسان اللہ تعالیٰ کا نائب ہے ۔ اللہ تعالیٰ حقیقی فعال ہے جبکہ انسان نائب فعال ہے ۔ اللہ تعالیٰ حقیقی خالق ہے اور انسان نائب خالق ہے ۔ خدا نے کائنات تخلیق کی اور انسان نے زمین کو اپنی تخلیقی صلاحیتوں سے آراستہ و پیراستہ کیا ۔ صحراوں ، بیابانوں اور ویرانوں کو نخلستانوں ، گلستانوں اور آبادیوں میں تبدیل کر دیا۔ اپنے علم و ہنر سے ایجاد کا ایک نیا جہاں پیدا کرکے اس جہانِ رنگوبو کو اور خوبصورت بنا دیا لیکن بنی نوع انسان کی مختلف قومیتوں میں تقسیم اور نسلی و لسانی عصبیتوں کی وجہ سے زمین میں فساد بپا ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ کی توحید میں یہ نکتہ مضمر ہے کہ انسان بھی وحدت عمرانی میں زندگی گزاریں ۔ بنی نوع انسان کی اصل ایک ہے اس لیے اُن میں گروہ بندیاں نہ ہوں رنگ و نسل اور زبان و جغرافیے کی بنیاد پر حریف قومیتیں نہیں بننی چاہییں ۔ بنی نوع انسان کی عافیت ، ترقی اور بقا تصورِ وحدت کو عملی جامہ پہنانے میں ہے ۔ علامہ اقبال نے دوسری جنگ عظیم کے بعد جمعیت اقوام (Leage of Nations) کی تشکیل پر تبصرہ کرتے ہوئے یورپ کے نظریہ قومیت کی شدید مخالفت کی تھی جو جنگ کی اصل وجہ تھی ۔ وہ فرماتے ہیں :

اس دور میں اقوام کی صحبت بھی ہوئی عام پوشیدہ نگاہوں سے رہی وحدتِ آدم
تفریقِ ملل حکمتِ افرنگ کا مقصود اسلام کا مقصود فقد ملتِ آدم
مکے نے دیا خاکِ جنیوا کو یہ پیغام جمعیتِ اقوام کہ جمعیتِ آدم

علامہ اقبال کے متبادل تصوف کا مرکز و محور تصور توحید ہے ۔ صوفیہ اسلام نے بھی توحید کے اسرار و نکات پر سب سے زیادہ توجہ مرکوز کی ہے ۔ سید الطائفہ جُنید بغدادی (215تا 298ھ) کہتے ہیں :

توحید کے بارے میں بہترین قول حضرت ابوبکر صدیق ؓ کا ہے جو فرماتے ہیں کہ لائقِ حمد ہے وہ ذات جس نے اپنے بندوں پر اپنی ذات و صفات کے علم کا اس کے سوا اور کوئی راستہ نہیں کھولا کہ وہ اس باب میں اپنے عجز فہم کا اعتراف کرلیں۔

ذوالنون مصری سے جب لوگوں نے توحید کا مطلب پوچھا تو آپ نے فرمایا:
توحید یہ ہے کہ تمھیں اس بات کا علم ہوجائے کہ جب خدا کسی شے کو موجود کرنا چاہتا ہے تو اُسے کسی طبعی سبب کی حاجت نہیں ہوتی۔ نیز یہ کہ اس کا فعل تخلیق برابر جاری ہے اور ہر شے کی علت اُس کا یہی فعل تخلیق ہے اور اس کی کوئی علت نہیں ہے نیز یہ کہ تم جس شے کا تصور کرو یا کر سکتے ہو خدا اُس سے مختلف ہے ۔

حضرت جُنید بغدادی نے اپنے رسائل میں فہم الناس کی رُو سے توحید کے چار مراتب بتائے ہیں :

عوام الناس کی توحید: عوام کی توحید یہ ہے کہ وہ اللہ کو ایک جانتے ہیں ، اس کے سوا کسی کو خدا نہیں مانتے ۔ کسی کو اُس کا شریک ، ۔۔۔۔، ہمسر ، مد مقابل یا مثیل نہیں قرار دیتے مگر خدا کے علاوہ دوسروں سے اُمیدیں بھی رکھتے ہیں اور ڈرتے بھی ہیں ۔

توحیدِ علمائ: جو لوگ دینی علوم میں رسوخ رکھتے ہیں وہ تصورِ عوام کے علاوہ یہ عقیدہ بھی رکھتے ہیںکہ اللہ کے سوا کائنات میں کوئی ہستی ایسی نہیں جو کسی دوسرے کو نفع یا نقصان پہنچا سکے اس لیے نہ وہ کسی سے ڈرتے ہیں نہ اُمید رکھتے ہیں ۔

توحیدِ عرفا ءیاطبقہ خواص: ان حضرات کی توحید یہ ہے کہ وہ مذکورہ بالا طبقوں کے عقائد کے علاوہ جو احکامِ شریعت بجا لاتے ہیں اُن کی بجا آوری کے وقت اُن کو یہ احساس ہوتا ہے کہ خدا ہمیں دیکھ رہا ہے اور ہم اُس کے سامنے حاضر ہیں ۔ خدا ہمیں حکم دے رہا ہے اور ہم اُس کی تعمیل کر رہے ہیں ۔

طبقہ افضل الخواص: توحید کی اس نوعِ اعلیٰ میں سالک اپنی شخصیت کو خدا میں محو کر دیتا ہے اور بحر وحدت میں غرق ہوجاتا ہے۔ اس حالت میں سالک کامل طور پر وحدت ذات کا تحقق حاصل کر لیتا ہے اور حقیقی معنی میں قرب و اتصال کی لذت سے بہرہ ور ہو جاتاہے ۔

جنید بغدادی نے توحید کی نوعِ اعلیٰ کا ذکر کرتے ہوئے یہ بتایا ہے کہ سالک کامل طور پر وحدت ذات کا تحقق حاصل کر لیتا ہے۔ اُن کے اِس قول میں اور حضرت ابوبکر صدیق کے قول میں جس کا جُنید بغدادی نے حوالہ دیا ہے ، تطبیق نہیں ہوسکتی ۔ علامہ اقبال اس خیال کے حامی نہیں ہیں کہ انسان اپنی شخصیت کو خدا میں محو کر دے اور بحر وحدت میں غرق ہوجائے ۔علامہ اقبال کا اس کے برعکس یہ خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ مومن کے دل میں سما سکتا ہے ۔ مومن کو اللہ تعالیٰ کا انتہائی قرب حاصل ہو جاتا ہے اور حدیث نبوی ا کی رو سے وہ اللہ تعالیٰ کا ہاتھ بن جاتا ہے ۔ اُس کا پاوں بن جاتا ہے اور اُس کی زبان بن جاتا ہے اور یہ مقامِ رضا ہے ۔
صوفیہ کے لٹریچر کا گہری نظر سے مطالعہ کیا جائے تو اُن میں سے اکثر اپنی شخصیت کو خدا کی کامل اطاعت میں فناکرنے کو بقا باللہ سے تعبیر کرتے ہیں ۔

جُنید بغدادی ”فنا“ کی تیسری منزل یہ بیان کرتے ہیں کہ یہ شعور بھی فنا ہو جائے کہ مجھے خدا کی حضوری حاصل ہے ۔ اس حالت کے بعد بندہ صرف اللہ کے لیے زندگی بسر کرتا ہے ۔ وہ اللہ کا ہو جاتا ہے اور اللہ اُس کا ہو جاتا ہے اس حالت میں اگرچہ مادی جسم باقی رہتا ہے مگر شخصیت فنا ہو جاتی ہے ۔

اس مقام پر جُنید بغدادی یہ وضاحت بھی کرتے ہیں :

اس بقا باللہ کی حالت میں بھی سالک ذاتِ باری کا ادراک نہیں کر سکتا۔ وہ خدا کے ساتھ تو ہے مگر خدا نہیں ہے اور نہ ہوسکتا ہے۔ اِس ایزدی حالت میں بھی بندہ ، بندہ ہی رہتا ہے۔ خدا ورا الورا ہے کوئی بندہ کُنہ ایزدی سے آگاہ نہیں ہوسکتا اور نہ خدا سے متحد ہو سکتا ہے ۔

جُنید بغدادی نے توحید کے مراتب بیان کرتے ہوئے یہ بھی بتایا تھا کہ ”توحید کی اِس نوع اعلیٰ میں سالک شخصیت کو خدا میں محو کر دیتا ہے اور بحر وحدت میں غرق ہو جاتا ہے اس حالت میں سالک کامل طور پر وحدت ذات کا تحقق حاصل کر لیتا ہے ۔
علامہ اقبال فنائیت کے نظریے کے مخالف تھے ۔ وہ کسی بھی مرحلے پر انسانی شخصیت سے دست بردار ہونے کے لیے تیار نہیں۔ وہ ذات احدیت میں تعمق کے بجائے انسانی خودی کا کھوج لگانے کے قائل تھے کیونکہ مَن عَرَفَ نَفسَہ فَقَد عَرَفَ رَبَّہ۔ ” جس نے اپنے نفس کو پہچان لیا اُسے خدا کی معرفت حاصل ہوگئی ۔“ اقبالیات کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اقبال ذات انسان اور اس کے اردگرد کے ماحول یعنی فطرت (Nature) کی طرف زیادہ متوجہ تھے ۔ وہ صوفیانہ شہود (Mystic Experience) کا اصل ہد ف حضرت انسان کو قرار دیتے تھے ۔ اقبال صوفیانہ مراقبے کی اہمیت کے بھی قائل تھے کیونکہ انسان اس سے اپنی ذات میں جھانک کر اپنی توانائیوں ، صلاحیتوں اور قوتِ تسخیر کا اندازہ لگاتا ہے۔ اس باطنی شہود کو اقبال علم کا ایک سرچشمہ قرار دیتے تھے اور اس کے مطالعہ کے لیے ایک علمی منہاج کی ضرورت پر زور دیتے تھے تاکہ جدید نفسیات اور حیاتیات کے علمی حقائق کی روشنی میں اس صوفیانہ تجربے کو منظم علمی شکل میں مدون کیا جا سکے ۔ وہ کہا کرتے تھے کہ ابن خلدون نے شعورِ انسانی کی ان سطحوں کی طرف اشارے کیے ہیں جو ابھی تک لا معلوم ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ باطنی شہود انسانی علم کا صرف ایک سرچشمہ ہے جبکہ قرآن حکیم کے مطابق عالمِ انفس اور عالمِ آفاق دونوں میں اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں:  کیا بھارت ہندو ریاست بن جائے گا؟جہاں کسی اورکو برداشت نہیں کیا جائے گا

ہم عنقریب اُن کو اپنی نشانیاں آفاق میں اور خود اُن کی ذات میں دکھائیں گے ۔

اور یقین کرنے والوں کے لیے زمین میں نشانیاں ہیں اور خود تمھارے اندر پھر کیا تم کو سوجھتا نہیں۔

اقبال کے نزدیک باطنی شہود کے ساتھ فطرت (Nature) اور تاریخ بھی علم کے دو بنیادی سر چشمے ہیں ۔ انسانی خودی کی صلاحیتوں اور توانائیوں کی دریافت اور ان کی تعمیر و ترقی کے لیے ناگزیر ہے کہ باطنی شہود کے ساتھ ساتھ فطرت کے اسرار و رموز میں بھی غور و فکر کیا جائے ۔ انسان نہ صرف اپنے باطن میں غور و فکر کرے بلکہ اپنے اردگرد ہونے والے طبیعی مظاہر یعنی موسموں کے تغیر و تبدل اور سایوں کے گھٹنے بڑھنے ، پہاڑوں ، سمندروں ، زلزلوں اور حوادث کائنات کے اسباب و نتائج پر غور و فکر کرکے اپنے علم اور اپنی قوت کے وسائل میں اضافہ کرے ۔ نائب خدا کا یہ مقصدِ حیات بھی ہے اور وظیفہ حیات بھی۔ یہ خدا کا قرب حاصل کرنے کا وسیلہ بھی ہے ۔ علامہ اقبال سائنسی علوم کو اوّلیت دیتے ہیں ۔ وہ فرماتے ہیں :

Knowledge must begin with the concrete. It is the intellectual capture of and power over the concrete that makes it possible for the intellect of man to pass beyond the concrete as the Quran says:
O company of djinn and men, if you can over pass the bounds of the heaven and the earth, then over pass them. But by power alone shall ye over pass them.(55.33)

علامہ اقبال انسانی خودی کے استحکام اور اس کی قوتِ تصرف میں اضافے کے لیے فطری علوم کو نہایت اہمیت دیتے تھے ۔ وہ ان علوم کو اسلامی ثقافت کی میراث قرار دیتے تھے ۔ اہلِ یورپ کی سائنسی علوم میں ترقی کو اسلامی ثقافت کی توسیع سے تعبیر کرتے تھے لیکن وہ یہ جانتے تھے کہ سائنس کی طاقت اگر اخلاقی و مذہبی اُصولوں کی پابند نہ ہو تو وہ انسان کو خون خوار درندہ سے کئی گنا زیادہ خطرناک بنا سکتی ہے۔ انسان سائنس کی اندھی طاقت سے انسانی کلچر اور تہذیب کے اعلیٰ اور قابلِ قدر نشانات کو مٹا سکتا ہے ۔ اس لیے اقبال سائنسی ترقی کے ساتھ ساتھ روحانی بالیدگی کی ناگزیریت کے قائل تھے ۔ وہ مذہب اور اخلاقیات کے اعلیٰ اُصولوں کی پاسداری کے مبلغ تھے کیونکہ مذہب اور اخلاقی اقدار احترامِ آدمیت کا درس دیتے ہیں ۔ علاوہ ازیں وہ تاریخ کو بھی علم کا اہم سرچشمہ قرار دیتے تھے ۔ انسان تاریخ سے بہت کچھ سیکھ سکتا ہے ۔ تاریخ سچ کو ظاہر کرتی ہے ۔ تاریخ کے ذریعے ہم ظلم و جنگ کے عبرتناک نتائج اور محبت و آشتی کے ثمرات سے آگاہ ہوتے ہیں ۔ تاریخ کی روشنی میںسماجی علوم کے اُصولوں کو منضبط کیا جا سکتا ہے ۔ سائنسی علوم فساد اور جنگ کا باعث ہوسکتے ہیں اگر بنی نوع انسان سماجی علوم یعنی سیاسیات، معاشیات اور ادبیات سے انسانی رویّے کو صحیح خطوط پر منظم نہ کریں ۔ ان علوم کو انسان کے ماضی کے تجربوں کی روشنی میں نظر ثانی کرکے مرتب کرتے رہنا چاہیے تاکہ بنی نوع انسان کے عمرانی مسائل حل ہوتے رہیں ۔

فکرِ اقبال کی روشنی میں باطنی شہود ، مطالعہ فطرت اور مطالعہ تاریخ کے ذریعے انسانی معاشروں کی اجتماعی خودی کو محفوظ اور مضبوط تر بنایا جا سکتا ہے اور نت نئے مقاصد کی تخلیق کرکے آگے بڑھا جا سکتا ہے۔ اگر انسان اپنے آپ کو گرجاوں ، مندروں ، خانقاہوں اور مسجدوں تک محدود رکھے تو اُس کا وژن محدود رہے گا اور وہ کسی اعلیٰ و ارفع تمدن کی بنیاد نہیں رکھ سکے گا ۔ اس کے برعکس اگر وہ تاریخِ انسانی کا بے لاگ مطالعہ اور انسانی تہذیب کے آثار کا مطالعہ کرے گا ، انسانی معاشرے کے ارتقا اور فطرت کے قوانین پر علمی تحقیقات کرے گا تو وہ ایک فعال حیثیت سے اس کائنات میں اپنے وجود کو برقرار رکھ سکے گا ۔ اِس طرح کی زندگی جامد نہیں ہوگی ۔ انسان کی ترقی اور ارتقا کے نئے نئے امکانات پیدا ہوتے رہیں گے ۔ آرزو و جستجو اور مقاصد کی تولید انسانی خودی کی فطرت ہے بلکہ ہر چھوٹی بڑی خودی کی فطرت ہے اور اسی سے خودیاں مضبوط تر ہوتی ہیں۔ علامہ اقبال فرماتے ہیں :

زندگی در جستجو پوشیدہ است اصل او در آرزو پوشیدہ است
آرزو را در دل خود زندہ دار تا نگردر مشت خاک تو مزار
آرزو جانِ جہاں رنگ و بوست فطرت ہر شے امین آرزوست
از تمنا رقصِ دِل در سینہ ہا سینہ ہا از تاب او آئینہ ہا
طاقتِ پرواز بخشد خاک را خضر باشد موسیٰ ادراک را
——
آرزو ہنگامہ آرائے خودی موج بیتابے ز دریائے خودی
آرزو صیدِ مقاصد را کمند دفترِ افعال را شیرازہ بند
——
زندگی سرمایہ دار از آرزوست عقل از زائیدگانِ بطنِ اوست

زندگی جستجو میں پوشیدہ ہے ۔ زندگی کی اصل آرزو میں چھپی ہوئی ہے ۔ اِس لیے تو اپنے دل میں آرزو کو زندہ رکھ تاکہ تیرا بدن قبر نہ بن جائے۔ آرزو جہان رنگ و بو کی جان ہے ۔ ہر چیز کی فطرت میں آرزو امانت کے طور پر موجود ہے ۔ تمناوں کی وجہ سے دل سینوں کے اندر رقصاں ہیں۔ اسی کی چمک سے سینے آئینے کی طرح مجلٰی ہیں ۔ آرزو ہی اس خاکی فطرت انسان کو پرواز کرنے کی طاقت عطا کرتی ہے ۔ آرزوہی موسیٰ علیہ السلام کے ادراک کو خضر کی رہنمائی بخشتی ہے۔

آرزو ہی خودی کے لیے ہنگامہ آرائی کرتی ہے کیونکہ آرزو خودی کی ایک بے قرار موج ہے ۔ آرزو ہی مقاصد کے شکار کرنے میں کمند کا کام دیتی ہے ۔ آرزو ہی سے انسان کے کردار و عمل میں نظم و ضبط پیدا ہوتا ہے ۔ آرزو ہی زندگی کا سازو سامان ہے اور عقل زندگی کے پیٹ سے پیدا ہوتی ہے ۔

اقبال آرزو کو خودی کی فطرت قرار دیتے ہیں ۔ اسی آرزو سے ہی علومِ انسانی پھوٹتے ہیں اور آئین و قوانین بنتے ہیں ۔ خوب سے خوب تر کی تلاش ہوتی ہے ۔ زندگی کا تسلسل اور علوم و فنون کی ترقی آرزو اور جستجو کے رہین منت ہیں لیکن علوم و فنون فی نفسہ مقصود نہیں ، اصل مقصود صالح اور فائدہ بحش زندگی گزارنا ہے اس لیے علم اور فن زندگی کے لیے ہیں اور انسان کا حتمی نصب العین اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنا ہے۔

اقبال کے دور میں حیاتیات اور نفسیات کے علوم نے بہت ترقی کر لی تھی اور سائنسی علوم کی وجہ سے انسان نے بے پناہ قوت اور تصرف حاصل کر لیا تھا ۔ اس لیے اقبال کے افکار ان جدید علوم کے آئینہ دار تھے ۔ جبکہ اُن سے پہلے صوفیہ باطنی شہود کی طرف متوجہ تھے ۔ وہ سائنسی علوم سے بے نیاز تھے ۔ دنیا سے اُن کو دل چسپی نہیں تھی۔ صوفیہ ریاکاری ، مال و دولت کی محبت ، غیر اللہ سے محبت اورغیر اللہ کے خوف کو دِل سے نکالنے کی تلقین کرتے تھے ۔ اس لیے اُنھوں نے خواہشات کی نفی کو اعلیٰ درجے کی نیکی قرار دیا ۔اُن کے دور میں سائنس اور اُس کی برکات کے دروازے نہیں کھُلے تھے اِس لیے وہ طاقت اور نعمتِ خداوندی کے اس خزانے سے بے خبر تھے ۔ اس خزانے کو پانے کے لیے آرزومندی کے ساتھ ساتھ ، جہد و عمل بھی ضروری تھا ۔ عمل کے مفکر اقبال آرزو اور خواہشات کو فنا کرنے کے بجائے ان کو تعمیری مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی تلقین کرتے ہیں ۔

اقبال صوفیہ کی طرح مادہ پرستانہ اور مسرفانہ طرزِ زندگی کو ناپسند کرتے تھے ۔ وہ علم و فن کا مدعا مادی آسائشوں کا حصول نہیں سمجھتے تھے بلکہ علم و فن کا نصب العین شخصیت کو مضبوط بنانا اور بنی نوع انسان کی خدمت کرکے اللہ کو راضی کرنا ہے۔ علامہ اقبال فرماتے ہیں :

علم از سامانِ حفظِ زندگی است علم از اسبابِ تقویمِ خودی است
علم و فن از پیش خیزانِ حیات علم و فن از خانہ زادانِ حیات
اے ز رازِ زندگی بیگانہ خیز از شرابِ مقصدے مستانہ خیز
مقصدے مثل سحر تابندہ ما سویٰ را آتش سوزندہ
——
باطلِ دیرینہ را غارت گرے فتنہ در جیبے سراپا محشرے
ما ز تخلیقِ مقاصد زندہ ایم از شعاعِ آرزو تابندہ ایم

اصل میں علم زندگی کی حفاظت کا سامان ہے ۔ علم خودی کے استحکام کے اسباب میں سے ایک ہے ۔ علم اور فن زندگی کے خادم ہیں۔ تو زندگی کے راز سے بیگانہ ہے ۔ اُٹھ اور مقصد کی شراب پی کر مستانہ وار اُٹھ۔ تیرا مقصد مانند سحر تابندہ ہے اور غیر اللہ کو جِلا دینے والا ہے ۔ یہ مقصد دیرینہ باطل کو فنا کر دینے والا ہے ۔ اس کے گریبان میں حشر کے ہنگامے موجود ہیں ۔ ہم مقاصد کے وجود سے ہی زندہ ہیں ۔ آرزو کی شعاع ہمیں روشن رکھتی ہے ۔

انسانی زندگی کو متحرک اور خلاق رکھنے کے لیے مقاصد کی تخلیق ضروری ہے ۔ اہداف و مقاصد کی وجہ سے انسان نے ارتقا کی منازل طے کی ہیں ۔ وہ خوب سے خوب تر کی تلاش میں آگے بڑھتا رہا۔ انسانی معاشروں کی زندگی بامعنی اسی طرح ہوسکتی ہے کہ اُن کے سامنے تخیل کی بلند پروازی میں اعلیٰ مقاصد و اہداف ہمیشہ اُن کے سامنے رہیں جس معاشرے کا کوئی مقصد حیات نہ ہو ۔ آگے بڑھنے یا کچھ حاصل کرنے کی کوئی آرزو نہ ہو تو وہ معاشرہ دراصل مردہ معاشرہ ہوتا ہے ۔بر تر اور متحرک معاشرے اسے اپنا آلہ کار بنا لیتے ہیں ۔ کیونکہ افراد اور معاشروں میں مسابقت کی آرزو کا ہونا فطری امر ہے ۔
(پہلا حصہ)