asma

ریاست مدینہ میں بیوی کے حقوق

EjazNews

حضور نبی کریمﷺ ایک سفر سے تشریف لارہے ہیں۔ آپؐ کے ساتھ ازواجِ مطہراتؓ بھی اونٹوں پر سوار تھیں۔ دوپہر کی ساعتیں اپنے اختتام پر تھیں اور ابھی طویل سفر باقی تھا۔ دن بھر سخت ترین کرنوں سے تپتی دھوپ بکھیرنے کے بعد سورج غروب ہورہاہے۔ اونٹوں کی رفتار تیز کر دی گئی ہے۔ حضور اکرمﷺ کو جب اونٹوں کی تیز رفتاری کا علم ہوا، تو آپؐ نے حدی خوانوں سے فرمایا ’’اونٹوں کو آرام سے چلائو، ان پر آئینے و آبگینے ہیں۔‘‘ اپنی ازواجِ مطہراتؓ کے بارے میں اللہ کے رسولؐ کے یہ زریں القاب کرئہ ارض کی تمام بیویوں کے ماتھے کا خوبصورت جھومر بن کر جہاں حدیث کی کتابوں میں محفوظ ہوگئے، وہیں رہتی دنیا تک کے لیے تمام شوہروں کو بیویوں کی عفت و عصمت اور نزاکت و حفاظت کا لافانی پیغام بھی دے گئے۔
میاں، بیوی کے رشتے کو دنیا کا سب سے حسین ترین رشتہ بھی قرار دیا۔ بلاشبہ، انسانی رشتوں میں جو رشتہ سب سے پہلے وجود میں آیا، وہ شوہر اور بیوی ہی کا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق کی، تو ان کی رفاقت کے لیے اماں حوا کو پیدا کیا۔
قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ ’’اللہ نے تمہیں ایک انسان (حضرت آدمؑ) سے پیدا کیا اور ان سے ان کی بیوی کو بنایا، پھر ان دونوں سے کثرت سے مرد و عورت پیدا کرکے روئے زمین پر پھیلا دیئے۔‘‘ (سورۃالنساء)۔
سورۃ البقرہ میں اللہ نے شوہر اور بیوی کے تعلق کو نہایت خوب صورت الفاظ میں یوں بیان کیا ہے۔ ’’عورتیں تمہارا لباس ہیں اور تم عورتوں کا لباس ہو۔‘‘
سورۃ البقرہ میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ ’’خوش حال آدمی اپنی استطاعت کے مطابق ،اور غریب آدمی اپنی توفیق کے مطابق معروف طریقے سے نفقہ دے۔‘‘
سورۃ النساء میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ’’تم اپنی بیویوں کے ساتھ اچھے طریقے سے زندگی بسر کرو۔ اگر وہ تمہیں ناپسند ہوں، تو عجب نہیں کہ تم کسی چیز کو نا پسند کرو اور اللہ اس میں بہت کچھ بھلائی پیدا کردے۔‘‘
رسول اللہﷺ نے فرمایا ’’تم میں سے بہترین وہ ہیں، جو اپنی بیویوں کے ساتھ اچھا برتائو کرتے ہیں۔ ان کے رہن سہن، کھانے پینے، صحت و آرام اور دیگر ضروریاتِ زندگی کا خیال رکھتے ہیں۔ ان کے ساتھ عفوودرگزر، پیار و محبت اور عزّت کے ساتھ پیش آتے ہیں۔‘‘
ایک مرتبہ آپﷺ نے حضرت عائشہ ؓ سے فرمایا۔ ’’اے عویش! (آپ ﷺحضرت عائشہؓ کو پیار سے عویش بھی کہا کرتے تھے) جب تم ناراض ہوتی ہو اور جب خوش ہوتی ہو، تو میں پہچان لیتا ہوں۔‘‘ حضرت عائشہؓ بڑی حیران ہوئیں اور فرمایا۔ ’’یارسول اللہﷺ آپ کیسے پہچانتے ہیں؟‘‘ آپ ﷺنے فرمایا۔ ’’جب تم خوش ہوتی ہو، تو لاورب محمدﷺ (یعنی محمد ﷺ کے رب کی قسم) کہہ کر قسم کھاتی ہو اور جب ناراض ہوتی ہو، تو لاورب ابراہیمؑ (یعنی ابراہیم ؑ کے رب کی قسم) کہہ کر قسم کھاتی ہو۔‘‘ حضرت عائشہؓ نے مسکراتے ہوئے عرض کیا۔ ’’یارسول اللہﷺ! بے شک آپﷺ نے صحیح پہچانا۔‘‘
حضرت حکیم بن معاویہؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے حضور اکرمؐ سے دریافت کیا کہ بیوی کا خاوند پر کیا حق ہے؟ آپؐ نے فرمایا ’’جیسا خود کھائے، ویسا اسے کھلائے۔ جیسا خود پہنے، ویسا اسے پہنائے۔ نہ اسے برابھلا کہے اور نہ اس سے جدا ہو۔‘‘
حجۃ الوداع کے موقعے پر حضورﷺنے عورتوں کے بارے میں نصیحتیں فرماتے ہوئے یہ بھی فرمایا کہ’’ تم پر تمہاری بیویوں کا حق ہے کہ تم انہیں اچھا کھلائو اور اچھا پہنائو۔‘‘
ایک حدیث مبارکہ میں آپؐ نے فرمایا ’’جو شخص اپنی بیوی کے نفقہ میں فراخی کرتا ہے، یعنی اس کے اخراجات فراخ دلی اور خوشی سے اٹھاتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے روزغنی کردے گا اور بہشت میں وہ حضرت ابراہیم ؑ کی رفاقت میں ہوگا۔‘‘
حضرت سعد بن ابی وقاصؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا ’’تم اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے جو کچھ بھی خرچ کرو گے، اس کا تمہیں ثواب دیا جائے گا، یہاں تک کہ جو لقمہ تم اپنی بیوی کے منہ میں دو گے، اس کا بھی تمہیں ثواب ملے گا۔‘‘
حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ’’ایک دینار وہ ہے، جسے تم اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہو، ایک دینار وہ ہے، جسے تم غلام پر خرچ کرتے ہو، ایک دینا روہ ہے، جسے تم مسکین پر خرچ کرتے ہو اور ان سب میں سے زیادہ اجر اس دینار پر ملے گا، جسے تم اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتے ہو۔ (صحیح مسلم)۔
ایک روز ،حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لائے۔ دیکھا کہ باہر چند حبشی نیزہ بازی کا کھیل دکھا رہے ہیں۔ آپﷺ نے امّ المومنین سیّدنا عائشہ صدیقہؓ سے پوچھا۔ ’’عائشہؓ! کیا کھیل دیکھو گی؟‘‘ حضرت عائشہؓ ابھی کم عمر ہی تو تھیں، بڑی چاہت سے فرمایا۔ ’’جی ہاں، یارسول اللہﷺ! ضرور دیکھوں گی۔‘‘ اور پھر سرکارِ دوعالم، شہنشاہِ دوجہاں، اللہ کے محبوب نبیﷺ، امام الانبیاء اپنی اہلیہ محترمہ کے شوق کی تکمیل کے لیے چادر کا پردہ کرکے حجرے کے دروازے پر کھڑے ہوگئے اور حضرت عائشہؓ آپ ﷺکے کاندھے مبارک پر اپنی ٹھوڑی رکھ کر دیر تک یہ کھیل دیکھتی رہیں۔ یہاں تک کہ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم تھک گئے۔ آپ ﷺنے دریافت کیا۔ ’’عائشہؓ! اور دیکھو گی یا بس…؟‘‘ حضرت عائشہؓ نے فرمایا۔ ’’یارسول اللہﷺ ابھی اور دیکھوں گی۔‘‘ جب تک حضرت عائشہؓ کھیل دیکھتی رہیں، آپؐ اسی حالت میں کھڑے رہے۔
ایک مرتبہ حضرت عائشہؓ نے فرمایا۔ ’’یارسول اللہؐ! آیئے دوڑنے کا مقابلہ کرتے ہیں۔‘‘ آپؐ نے تبسّم فرماتے ہوئے آمادگی کا اظہار کردیا۔ حضرت عائشہؓ کم عمر بھی تھیں اور دبلی پتلی بھی، لہٰذا وہ حضورؐ سے آگے نکل گئیں۔ کچھ عرصے بعد حضرت عائشہؓ نے پھر دوڑ کے مقابلے کی فرمائش کی۔ حضورؐ پھر تیار ہوگئے، لیکن اس مرتبہ حضورؐ جیت گئے اور فرمایا۔ ’’یہ تمہاری ا ُس جیت کا جواب ہے۔‘‘
آپؐ نے فرمایا ’’کامل ایمان والے مومن وہ ہیں کہ جو اپنے اخلاق میں سب سے اچھے ہوں اور تم میں سب سے اچھے وہ لوگ ہیں، جو اپنی بیویوں کے حق میں سب سے اچھے ہوں۔‘‘(ترمذی)۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا۔ ’’تم میں سے سب سے اچھا وہ ہے، جو اپنے گھر والوں کے لیے سب سے اچھا ہو، اور مَیں اپنے گھر والوں کے لیے تم میں سب سے زیادہ اچھا ہوں۔‘‘ (ترمذی)۔
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ’’ آپؐ ہم میں اس طرح ہنستے بولتے، باتیں کرتے کہ معلوم ہی نہ ہوتا تھا کہ کوئی اولوالعزم نبیﷺ ہیں۔‘‘ آپؐ نہایت خندہ پیشانی کے ساتھ مسکراتے ہوئے گھر میں داخل ہوتے، گھریلو ضروریات کے بارے میں گفتگو کرتے، خیریت دریافت کرتے، ازواج مطہرات ؓ کی ضروریات کے بارے میں آگاہی حاصل کرتے۔ کسی بھی اہلیہ سے سخت لہجے میں گفتگو نہیں کرتے۔ اگر کوئی بات ناگوار بھی گزرتی، تو اسے اس وقت نظرانداز فرما کر کسی اور موقعےپر نہایت پیار و محبت سے اس کی اصلاح فرماتے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر اپنی ازواجِ مطہراتؓ کی دل کھول کر تعریف کرتے اور ان کی خوب ہمّت افزائی فرماتے۔ اپنی تمام ازواجِ مطہرات ؓ سے محبت کرتے۔ حضرت خدیجہؓ سے محبت کا یہ عالم تھا کہ زندگی بھر انہیں یاد کرتے رہے، تاحیات ان کی سہیلیوں کو تحفے تحائف بھیجتے رہے۔اکثر حضرت سودہؓ مذاق فرمایا کرتیں، تو آپؐ خوش ہوتے۔ بے شک، ازواج ِمطہراتؓ کے ساتھ حضور اکرمؐ کا حسنِ سلوک، دنیا کے تمام شوہروں کے لیے تقلید کا بہترین نمونہ ہے۔تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ آپؐ نے کبھی کسی اہلیہ پر ہاتھ اٹھایا، نہ انہیں گھر سے نکالا، نہ ان کی تذلیل کی، نہ لعن طعن کیا، نہ ان پر طنز کے تیر چلائے، نہ انہیں کبھی میکے واپس جانے کی دھمکی دی اور نہ ہی کبھی انہیں طلاق کی دھمکی دی۔ اگر کبھی آپ ؐ کو کسی بات سے بہت زیادہ تکلیف ہوتی، توخاموش ہوجایا کرتے اورمزاج شناس ازواجِ مطہراتؓ سمجھ جایا کرتیں کہ حضورؐ کو ہماری یہ بات پسند نہیں آئی۔
ازواجِ مطہراتؓ کی عزت و احترام اور ان کے احساسات کا خیال رکھنے کا یہ عالم تھا کہ اگر ایک زوجہ کے بارے میں کوئی بات ہوتی، تو دوسری سے فرما دیتے کہ ان کو نہ بتانا، ورنہ انہیں دکھ ہوگا۔ ہم مسلمان اس نبیؐ کے امّتی ہیں کہ جنہوں نے بیویوں کو عزت و احترام کے اعلیٰ مقام پر فائز کرتے ہوئے انہیں آئینہ اور درخشاں آبگینے قرار دیا۔
عورت صنفِ نازک ہے۔ اللہ نے اسے بے انتہا خوبیوں سے نوازا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی اس میں ضد کی حِس بھی رکھی ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ’’ اللہ نے عورت کو ٹیڑھی پسلی سے پیدا کیا ہے، اگر اسے زبردستی سیدھا کرنے کی کوشش کرو گے، تو توڑ ڈالو گے۔‘‘ (صحیح مسلم)۔
موطا امام مالک میں ایک روایت تحریر ہے کہ ایک صحابیہ حبیبہ بنتِ سہل، حضورؐ کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ وہ اپنے شوہر حضرت ثابت بن قیس سے علیٰحدگی چاہتی تھیں۔ رسول اللہؐ نے حضرت ثابت بن قیس کا وہ مال، جو حضرت حبیبہ کے پاس تھا، حضرت ثابت کو واپس دلوادیا اور حضرت حبیبہ کو خلع حاصل ہوگیا۔ یہ اسلام کا پہلا خلع تھا۔ پھر حضرت ثابت نے جمیلہ بنتِ ابی سے نکاح کیااور انہوں نے بھی بذریعہ خلع علیحدگی اختیار کرلی۔(فتح الباری)
اللہ تعالیٰ نے مرد کو عورت سے زیادہ طاقت و قوت عطا فرمائی تو عورت کو پھول کی طرح نازک، ریشم کی طرح نرم، رنگوں کی طرح خوش نما، حساس دل کے ساتھ لطیف و حسین جذبات سے لب ریز، دکھ سکھ کی ساتھی، شریک سفر اور پیار و محبت کا خزینہ بنایا۔ بیوی کو شوہر کے گھر کی ملکہ، اس کی عزت کا نگہبان بنایا تو شوہر کو اس کا محافظ و سرپرست مقرر کیا۔
شریعت نے عورت کو اس بات کی اجازت دی ہے کہ وہ اپنی جائز ضروریات کو پورا کرنے کے لیے شوہر کی غیر موجودگی میں ضرورت کے مطابق اس کے مال میں سے لے سکتی ہیں۔
لیکن اگر ہم اپنے گردوپیش کا جائزہ لیں، تو اندازہ ہوتاہے کہ ہزاروں کی تعداد میں ایسی خواتین موجود ہیں، جو سخت گیر شوہر اور ظالم سسرال والوں کے عذاب کو خاموشی سے برداشت کرنے پر صرف اس لیے مجبور ہیں کہ انہیں شرعی اور ملکی قوانین کی رو سےاپنے حقوق کا علم ہی نہیں ہے اور اگر ہے بھی، تو معاشرے اور خاندان والوں کے طنز و طعن کے خوف سے ہر ظلم و زیادتی سہنے پر مجبور ہیں اورپھر ہمارے پیچیدہ عدالتی نظام نے بھی ان بے کس خواتین کے پیروں میں بیڑیاں ڈال دی ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ نکاح نامے میں مسلم خاندانی قوانین کے آرڈیننس مجریہ 1969ء کے تحت وضع کیے گئے ان کے شرعی اور قانونی حقوق کی شقوں پر بھی نکاح کے وقت اکثر لکیر پھیر کر خارج کردیا جاتا ہے۔ نہ نکاح خواں اس کی اہمیت سے آگاہ کرتے ہیں اور نہ لواحقین اسے سمجھنا چاہتے ہیں۔ انہیں تو صرف بیٹی بیاہنے کی فکر ہوتی ہے۔پھر لڑکی سے نکاح نامے پر دستخط کرواتے وقت سارا منظر اس قدر جذباتی کردیا جاتا ہے کہ پڑھی لکھی لڑکیاں بھی آنکھ بند کرکے دستخط کردیتی ہیں۔اگر نکاح سے چند روز قبل فریقین نکاح نامے پر دی گئی تمام 25؍دفعات کا بغور مطالعہ کرکے اورلڑکی سے بھی پڑھوا کر ان پر باہمی رضامندی سے اتفاق کرلیں،تو نکاح کے وقت کسی ناپسندیدہ صورت حال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ نیز،کسی اچھے نکاح خواںکو بھی نکاح سے پہلے فریقین کو تمام شرائط کے بارے میں بتاناچاہیے، تاہم بدقسمتی سے عموماً ایسا نہیں ہوتا۔

میاں بیوی کی اچھی لمحوں میں لی گئی تصویو

لاہور کے پوش علاقے میں اسماء عزیز نامی خاتون نے ایک ایف آئی آر درج کروائی ہے جس کے مطابق اس کا شوہر فیصل روزانہ اپنے دوستوں کو گھر لاتا اور ان کے سامنے اسے رقص کرنے کو کہتا تھا جس سے انکار پر شوہر نے دوستوں کے ساتھ مل کر تشدد کیا اور پائپوں سے مارا۔ خاتون کے مطابق شوہر نے اس کے سر کے بال بھی مونڈ دئیے جبکہ ملازمین کے سامنے برہنہ کیا اور پنکھے کیساتھ الٹا لٹکانے کی کوشش بھی کی۔ خاتون کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز وہ گھر سے بھاگنے میں کامیاب ہوگئیں اور ننگے پائوں بھاگ کرجب تھانے پہنچیں مقدمہ درج کرنے کیلئے پولیس اہلکار رشوت مانگنے لگ پڑے۔ جس پر اس کا کہنا تھا کہ میں ننگے پائوں بھاگ کر آئی ہوں رقم کہاں سے دوں۔ خاتون کا کہنا تھا کہ اس کے ماں باپ مر چکے ہیں اس دنیا میں اس کا کوئی نہیں۔ اس لیے اس کی مدد کی جائے ۔ جس کے بعد پولیس نے مقدمہ ضرور درج کر لیا لیکن ایسی دفعات لگائیں جس سے فائدہ ملزم کو ہی پہنچے گا۔جن دو ملزمان کو خاتون نے نامزد کیا تھا انہیں گرفتار کرلیا گیا ہے۔ اسماء نے چار سال قبل پسند کی شادی کی تھی۔ اور یہ جوڑا چار سال سے میاں بیوی کے طور پر زندگی گزار رہے ہیں۔ معاملہ کچھ بھی ہو جب ہم ریاست مدینہ کی بات کرتے ہیں توپھر اس کیس کی پوری تحقیق ہونی چاہیے اور اس کیس کو اگر ٹیسٹ کیس بنا کر انجام تک پہنچایا جائے تو بہت سے غلط کام کرنے والوں کے ہاتھ رک جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:  امریکہ اور برطانیہ کا مشترکہ ہیرو میجر رابرٹ راجرز

اپنا تبصرہ بھیجیں