cabenat

بھارت سے تعلقات کشمیر سے مشروط ہیں

EjazNews

کابینہ کا اجلاس وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت ہوا۔ اجلاس میں بھارت سے کپاس اور چینی منگوانے کا معاملہ زیر بحث آیا ہے۔

اقتصادی رابطہ کمیٹی(ای سی سی) نے گزشتہ روز بھارت سے کپاس اور چینی منگوانے کی تجویز پیش کی تھی۔ ای سی سی نے قیمت کم ہونے پر بھارت سے درآمد کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔

کابینہ نے بھارت سے کپاس منگوانے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں موجود وسائل سے ہی ضروریات پوری کی جائیں۔

گزشتہ روز اقتصادی رابطہ کمیٹی نے بھارت سے چینی، کپاس اور سوتی دھاگہ منگوانے کی اجازت دی تھی۔ اجلاس میں 30 جون 2021 تک بھارت سے درآمد کی منظوری دی گئی۔
کمیٹی نے نجی شعبے کو بھارت سے چینی درآمد کرنے کی بھی اجازت دی تھی۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کو کمی پورا کرنے کے لیے کپاس درآمد کرنی پڑے گی۔ بھارت سے کپاس اور دھاگے کی درآمد سستی پڑے گی۔

یہ بھی پڑھیں:  کورونا کے پیش نظر صوبہ سندھ میں نئی پابندیوں نافذ کر دی گئیں

پاکستان میں کپاس کی سالانہ کھپت ایک کروڑ 20 لاکھ سے ڈیڑھ کروڑ گانٹھیں ہیں۔ اس سال کپاس کی پیداوار میں تاریخی کمی کا تخمینہ ہے۔ خیال رہےکہ پاکستان نے اگست 2019 میں بھارت کے ساتھ دوطرفہ تجارت کو معطل کر دیا تھا۔

وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ میں کہا کہ ‘آج کابینہ نے واضح طور پر بھارت سے تجارت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ‘وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے 5 اگست 2019 کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات واپس لیے جانے تک اس سے تعلقات بحال نہیں ہوں گے۔