jahangir tareen

جہانگیر ترین کیخلاف مقدمہ درج

EjazNews

ایف آئی آر کی نقول کے مطابق پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 406، 420 اور 109 جبکہ انسداد منی لانڈرنگ ایکٹ کی دفعہ 3/4 کے تحت 2 علیحدہ مقدمات درج کیے گئے۔

ایف آئی آر کے متن کے مطابق انکوائری کے دوران جہانگیر ترین کی جانب سے سرکاری شیئر ہولڈرز کے پیسے کے غبن کی سوچی سمجھی اور دھوکہ دہی پر مبنی اسکیم سامنے آئی جس میں جہانگیر ترین کی کمپنی جے ڈی ڈبلیو نے دھوکے سے 3 ارب 14 کروڑ روپے فاروقی پلپ ملز لمیٹڈ (ایف پی ایم ایل) کو منتقل کیے جو ان کے بیٹے اور قریبی عزیزوں کی ملکیت ہے-

ایف آئی آر کے مطابق فاروقی پلپ ملز لمیٹڈ 1991 میں فاروق خاندان نے قائم کی تھی لیکن 1997 میں آزمائشی طور پر چلانے میں ناکامی پر بند کردی گئی تھی بعدازاں08-2007میں فاروق خاندان سے رشتہ داری کے بعد جہانگیر ترین نے سوچھے سمجھے منصوبے کے تحت کمپنی کا انتظام سنبھال لیا۔

ایف آئی آر کے مطابق جہانگیر ترین نے شاہد سلیم رانا کو اس دیوالیہ ہوجانے والی مل کا سی ای او تعینات کیا اور نہ صرف سال 2009 میں 39 کروڑ 50 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری کی بلکہ پاک برونائی انویسٹمنٹ کنسورشیم سے ایک ارب 40 کروڑ روپے قرض لینے کے لیے جے ڈی ڈبلیو کو ایف ایم ایل کا ضمانت کنندہ بھی بنایا۔

ایف آئی آے کا کہنا تھا کہ یہ بات معلوم ہونے کے باوجود کہ ایف پی ایم ایل عملی طور بند ہوچکی ہے اور اپنے اثاثے فروخت کررہی ہے جے ڈی ڈبلیو کی 10/2009 میں کی گئی سرمایہ کاری نہ تو واپس لی گئی نہ اسے مالی سال 12-2011 ناقابل تلافی نقصان قرار دیا گیا۔
ایف آئی آر کے مطابق درحقیقت جہانگیر ترین ایف پی ایم ایل کو سال 12-2011 کے بعد تک جے ڈی ڈبلیو کے فنڈز ٹرانسفر کرتے رہے اور سال 2014 تک اضافی ایک ارب 48 کروڑ روپے منتقل کر چکے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:  سینئر صحافی مطیع اللہ جان لاپتہ

ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ ایف پی ایم ایل میں کسی کاروباری سرگرمی کے بغیر جے ڈی ڈبلیو کے سربراہ جہانگیر ترین اس میں اپنی کمپنی کے فنڈز ٹرانسفر کرتے رہے اور 2015 میں بھی اسے ایک ارب 10 کروڑ روپے منتقل کیے بعدازاں جے ڈی ڈبلیو نے اپنے تمام ایڈوانسز اور سرمایہ کاری کو نقصان قرار دے دیا۔

ایف آئی آر میں کہا گیا کہ منتلقی واضح طور پر جعلی سرمایہ کاری تھی جو بالآخر جہانگیر ترین اور ان کے اہلِ خانہ کے ذاتی فوائد پر منتج ہوئی۔

دوسری ایف آئی آر میں کہا گیا کہ کم از کم 2 ارب 20 کروڑ روپے کی بھاری رقم نقد رقم کے طور پر دھوکہ دہی اور بے ایمانی کے ساتھ نکالی گئی۔

ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ جے ڈی ڈبلیو کے کارپوریٹ ہیڈ آفس میں ملازم کیشیئر عامر وارث نے بھاری رقوم جہانگیر ترین اور ان کے اہلِ خانہ کے ذاتی اکاؤنٹس میں جمع کروائی۔

یہ بھی پڑھیں:  پاکستان افغانستان میں جامع اور وسیع البنیاد حکومت کا خواہاں ہے : منیر اکرم

ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ نقد کی بنیاد پر رقم کے غبن اور منی لانڈرنگ کا یہ اقدام ملزم جہانگیر ترین اور ان کے خاندان کے ذاتی اور کاروبای اکاؤنٹس میں رقوم جمع کروانے کی منی ٹریل کو توڑنے کے لیے کیا گیا تھا۔

ایف آئی آر میں یہ بھی کہا تھا کہ رانا نسیم احمد کو بھی کمپنی کے اکاؤنٹس سے 60 کروڑ روپے کی بھاری رقوم دی گئیں جبکہ انہوں نے اس رقم کو تنخواہ، بونسز اور فوائد قرار دیا۔
رپورٹس کے مطابق رانا نسیم سابق کمشنر لاہور اور سیکریٹری زراعت پنجاب ہیں جو اس وقت جے ڈبلیو شوگر ملز گروپ کے سربراہ کے طور پر کام کررہے ہیں اور جہانگیر ترین کے رائٹ ہینڈ ہیں۔

مذکورہ پیش رفت پر ردِ رعمل دیتے ہوئے جہانگیر ترین نے کہا کہ ان کے اور ان کے اہلِخانہ کے خلاف عائد کردہ الزامات من گھڑت ہیں۔
مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ میں ایف آئی اے کے نوٹس کے جواب میں ٹھوس شواہد کے ساتھ تفصیلی رپورٹ جمع کرواچکا ہوں اور انہیں میرے اور میرے اہلِ خانہ کے خلاف قانونی طور پر کچھ ثابت کیے بغیر مہم چلاتے دیکھنا بدقسمتی ہے’۔
دوسری جانب ایف آئی اے نے جہانگیر ترین کے دست راست اور ان کی کمپنی جے ڈی ڈبلیو کے چیف آپریٹنگ افسر رانا نسیم اور چیف فنانشل افسر محمد رفیق کو طلب کر لیا۔

یہ بھی پڑھیں:  کرونا وائرس سے اموات میں خوفناک اضافہ

ایف آئی اے نے جہانگیر ترین کیس میں یکم اپریل 2021 کو رانا نسیم احمد خان کو طلب کرتے ہوئے ان سے جے ڈی ڈبلیو سے پانچ برسوں میں حاصل کردہ مراعات کی تفصیلات طلب کرلی۔

ساتھ ہی انہیں جے ڈی ڈبلیو شوگر مل کےساتھ ہونے والے معاہدے کی تفصیلات اور ان کی فیملی کو بیرون ملک بھیجی گئی رقوم کی تفصیلات لانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

ایف آئی اے نے رانا نسیم احمد کو تمام اثاثہ جات اور اکاؤنٹس کی تفصیلات، گزشتہ پانچ برسوں میں کی گئی سرمایہ کاری اور ایف بی آر میں ڈکلیئرڈ اثاثہ جات کی تفصیلات بھی مانگی گئی ہیں۔

علاوہ ازیں ایف آئی اے نے جے ڈی ڈبلیو شوگر مل کے چیف فنانشنل افسر محمد رفیق کو بھی جہانگیر ترین کیس میں یکم اپریل طلب کیا ہے۔
محمود رفیق سے 20 نومبر 2013 کو جے کے ایف ایس ایل اور جے ڈی ڈبلیو کے درمیان ہونے والی سیل ڈیڈکے ساتھ 29 جنوری کو 2014 فرگوسن کمپنی کی ایویلیویشن رپورٹ بھی طلب کی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ جے کے ایف ایس ایل کو جے ڈی ڈبلیو کی طرف سے دیے گئے 4.35 بلین روپے کی منی ٹریل کی تفصیلات بھی طلب کی گئی ہیں۔