india_muslims

بھارت میں مسلمانوں اور نچلی ذات دلت کو سب سے زیادہ خطرات کا سامنا ہے:امریکی رپورٹ

EjazNews

امریکا نے انسانی حقوق سے متعلق اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ بھارت میں مذہبی گروپوں کی جانب سے مذہب اور ذات پات کی بنیاد پر جاری سماجی تشدد انتہائی تشویشناک ہے۔

امریکی وزیرخارجہ نے انسانی حقوق سے متعلق سالانہ رپورٹ جاری کرتے ہوئے بتایا کہ بھارت میں مسلمانوں اور نچلی ذات دلت سے تعلق رکھنے والے گروپوں کو سب سے زیادہ خطرات کا سامنا ہے۔ امریکی رپورٹ میں بھارتی وزارت داخلہ کی 2016 سے لیکر 2017 تک کی رپورٹ کے اعدادوشمار کا بھی تذکرہ کیا گیا جس کے مطابق مذکورہ ایک سال کے عرصے میں فرقہ وارانہ فسادات اور مذہبی بنیادوں پر تشدد میں 86 افراد ہلاک اور 2 ہزار 231 افراد زخمی ہوئے۔ این ایچ آر سی کی رپورٹ کے مطابق سال 2018 سے لیکر 2019 کے درمیان بھارت میں تفرقہ بازی کے 672 کیسز سامنے آئے جبکہ اقلیتوں کو نشانہ بنائے جانے کے 79 کیسز سامنے آئے۔

یہ بھی پڑھیں:  برطانیہ کی نیوی میں کام کرنے والی پہلی پاکستانی نژاد خاتون کون ہیں؟

امریکا کی سالانہ رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر اور شمال مشرقی بھارت میں مائو باغیوں کیخلاف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کی گئیں۔ دوسری جانب رپورٹ میں اعتراف کیا گیا کہ پاکستان میں شدت پسندوں اور دہشتگرد گروپوں کیخلاف پاکستانی فوج، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے سرگرم ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں دہشتگردوں اور غیر ریاستی عناصر کی جانب سے انسانی حقوق کی پامالیوں کے باعث انسانی حقوق کے مسائل پیدا ہوئے تاہم یہ گزشتہ برسوں کے مقابلے میں کم رہے جبکہ دہشتگرانہ سرگرمیوں یں متواتر کمی آرہی ہے حالانکہ دہشتگرد تنظیموں اور دیگر غیر ریاستی عناصر کی جانب سے تشدد، انسانی حقوق کی پامالیوں اور مذہبی عدم برداشت سے امن وامان کے مسائل رہے۔

امریکی رپورٹ کہا گیا ہے کہ چینی حکومت کی جانب سے ایغور مسلمانوں کیخلاف کارروائیاں بھی جاری ہیں جو انسانیت کیخلاف ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ شام میں صدر بشارالاسد کی جانب سے شہریوں کا قتل عام جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  آزاد کشمیر کے نئے وزیراعظم کے بارے میں آپ کتنا جانتے ہیں؟

امریکی رپورٹ میں یمن جنگ کا بھی ذکر کیا گیا اور بتایا گیا کہ وہاں لاکھوں افراد کو انسانی امداد کی ضرورت ہے۔

رپورٹ میں روسی حکومت پر تنقید کی گئی کہ وہ سیاسی مخالفین کو نشانہ بنارہی ہے اور پرامن مظاہرین کیخلاف کارروائیاں کررہی ہے۔

رپورٹ میں نکولس مادورو پر کرپشن کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا گیا کہ اس کی وجہ سے وینزویلا کے عوام کو درپیش انسانی بحران سنگین ہورہا ہے۔

سالانہ رپورٹ میں میانمار کی افواج سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ تمام گرفتار سیاسی قیادت کو فوری طور پر رہا کریں۔