Mental anguish

یہ ضروری نہیں کہ گھریلو تشدد صرف جسمانی صورت ہی میں کیا جائے

EjazNews

آپ اتفاق کریں یا نہ کریں، ’’ جہالت‘‘ انسان کی سب سے بڑی دشمن ہے اور جہالت محض علم سے دوری یا تعلیم کے فقدان کا نام نہیں، یہ دراصل ایک داخلی کیفیت ہے، جو انسان کے ذہن کو متاثر کرتی ہے۔ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص بھی اپنے رویے اور کردار سے جہالت کا مظاہرہ کرسکتا ہے، اسی طرح ایک ناخونداہ فرد جسے ہم اور آپ’’جاہل‘‘ کہیں گے، اپنے اعلیٰ ترین اخلاقی اور تہذیبی رویے سے ہمیں متاثر کرسکتا ہے۔ جاہلانہ رویے یا کردار کی مختلف شکلیں ہیں، جن کا ہم اپنے معاشرے میں ہر جگہ اور ہر موقعہ پر مشاہدہ کرسکتے ہیں۔ دیکھا جائے تو ہم ایک ایسے معاشرے کا حصّہ ہیں، جہاں تہذیبی رویے دم توڑ چکے ہیں۔

زندگی کے کسی نہ کسی حصے میں ہمارا اور آپ کا کبھی نہ کبھی جاہلانہ رویوں سے واسطہ ضرور پڑا ہوگا، لیکن سچّی بات یہ ہے کہ اس رویے سے سب سے زیادہ خواتین متاثر ہوتی ہیں۔ حالانکہ عورت ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کے رُوپ میں اللہ تعالیٰ کی خُوبصورت ترین تخلیق ہے، لیکن بیش تر کی زندگی بھی پُرتشدد رویوں کا سامنا کرتے ہی گزرتی ہے، جو جہالت کی پست ترین شکل ہے۔ مہذب ترین کہلائے جانے والے اور پسماندہ، دونوں ہی معاشروں میں یہ مسئلہ موجود ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ دنیا بھر کی خواتین اپنی زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر تشدد کا سامنا کرتی ہیں، لیکن حیرت انگیز امر یہ ہے کہ مہذب ممالک بھی اس معاملے میں کسی سے پیچھے نہیں۔ عالمی اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ خواتین پر تشدد کے حوالے سے روس سرفہرست ہے۔ اس مُلک میں اگر مرد، خواتین پر تشدد کرتےہیں، تو خواتین بھی ان کے مقابلے ہی پر ہیں۔ یہاں اپنے ساتھی مَردوں پر تشدد کرنے، حتیٰ کہ قتل کرنے کے واقعات تک رونما ہوتے ہیں۔ رہا سوال ہمارے اپنے معاشرے کا، تو یہاں خواتین کو ہمیشہ سے مَردوں کے مقابلے میں کم تر حیثیت ہی کا حامل سمجھا جاتا ہے۔ خود خواتین بھی نفسیاتی طور پر مَردوں کی بالادستی کی قائل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  اپنی زندگی کوتم خود بنا ئو گےلہٰذا دوسروں کو موقع نہ دو کہ وہ اسے تمہارے لئے بنائیں

ایک ماں اپنے کمائو پوت کے سامنے زبان نہیں کھول سکتی یا یوں کہیے کہ اس کی مرضی کے مطابق چلنے پر مجبور ہوتی ہے۔ یہی حال بہنوں کا ہے، بھائی اگر عُمر میں چھوٹا بھی ہے، تو بھی بھائی ہونے کے ناتے بہنوں پرحکم چلا سکتا ہے۔ ان کے آنے جانے، ملنے ملانے پر نگاہ رکھ سکتا ہے۔ شادی شدہ خواتین تسلیم کرتی ہیں کہ غلطی کی صورت میں ان کے شوہر ان کو ڈانٹنے، ڈپٹنے کے علاوہ ہاتھ بھی اٹھا سکتے ہیں، ہلکی پھلکی مار پیٹ کرسکتے ہیں اور صرف برصغیر ہی میں نہیں، تمام مسلم معاشروں میں یہ سوچ عام ہے۔

شرح خواندگی میں اضافے، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کی ترقّی سے خواتین میں یہ شعور پیدا ہوا ہے کہ وہ بھی معاشرے کا ایک باعزت حصّہ ہیں، مَردوں کی بالا دستی، ایک حقیقت سہی، لیکن معاشرے کی ترقّی میں خواتین کا کردار بھی کسی طور کم نہیں۔ خواتین ہر شعبۂ زندگی میں اپنا مقام بنا رہی ہیں، اپنی حیثیت منوا رہی ہیں اور یہ ہر عورت کا حق ہے کہ اس کی عزّت کی جائے، اس کی رائے کا احترام ہو، اس کی معمولی غلطیوں کو نظرانداز کیا جائے، اسے محکوم یا حقیر نہ سمجھا جائے، اس کے انکار کو بھی انکار سمجھا جائے، اسے کسی خوف یا جبر کے بغیر زندگی گزارنے کا موقع دیا جائے، ازدواجی تعلقات میں، بچیوں کی شادی کے معاملات میں اس کی رائے بھی تسلیم کی جائے، لیکن بدقسمتی سے ہمارا معاشرہ ابھی تک شعور کی اس منزل تک نہیں پہنچا، جہاں خواتین کو یہ تمام حقوق دیئے جاسکیں۔ اس کی بنیادی وجہ معاشرتی رسم و رواج، قبائلی اور جاگیردارانہ نظام ہے۔ کسی حد تک شہری معاشرہ تبدیل ہوا ہے، لیکن دیہی علاقوں سے شہروں کی جانب آبادی کی بڑے پیمانے پر نقل مکانی سے شہری معاشرت متاثر ہوئی ہے۔ شہری علاقوں میں جا بہ جا کچی آبادیاں قائم ہیں، جن کا ماحول شہری زندگی سے مطابقت نہیں رکھتا۔

یہ بھی پڑھیں:  انمول رشتوں کی حفاظت کیجئے

ہم میں سے بیش تر اس مغالطے کا شکار ہیں کہ خواتین کے ساتھ مارپیٹ، بدسلوکی یا زیادتی ہی تشدد ہے، جب کہ جدید تعریف کی رُو سے، جو اقوامِ متحدہ کی متعین کردہ ہے، ’’ کسی بھی بنیادی حق کو زبردستی سلب کرنا تشدد کے زمرے میں آتا ہے۔‘‘ اس تعریف کی روشنی میں دیکھا جائے، تو پاکستانی عورت تو پیدائش سے دمِ آخر تک کسی نہ کسی صورت اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہی رہتی ہے اور درجہ بہ درجہ تشدد بھی سہتی ہے، جس کی ایک صورت گھریلو تشدد ہے۔ کہا جاتا ہے کہ گھر عورت کی پناہ گاہ، اس کی جنت ہے، لیکن اس جنت میں اس کے ساتھ جو کچھ گزرتی ہے، عمومی طور پر مَردوں کو شاید اس کا اندازہ نہیں۔

گھریلو تشدد کی ایک عام شکل زبردستی کی شادی ہے۔ دیہی یا قبائلی طرز معاشرت میں لوگ اپنی بیٹی یا بہن کی شادی طے کرتے وقت اس کی مرضی معلوم کرنے کا تکلف نہیں کرتے، بلکہ اس پر اپنی مرضی تھوپتے ہیں۔ یہ امر صریحاً اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔ حضور اکرمﷺ کا ارشاد ہے’’کنواری لڑکی کی شادی نہ کرو، جب تک اس سے اجازت نہ لی جائے اور بیوہ کی شادی نہ کرو، جب تک اس سے مشورہ نہ کرلو۔‘‘

ایک دوسری حدیث میں ارشادِمبارک ہے ’’بیوہ اپنے ولی کی نسبت اپنا فیصلہ خود کرنے کا حق رکھتی ہے، جب کہ کنواری سے اجازت لی جائے۔‘‘

اسی طرح حضور اکرمﷺ نے نکاح کے لیے والدین یا ولی کی رضامندی کو بھی ضروری قرار دیا ہے۔ گویا وہ شادی، بہترین شادی میں شمار ہوگی، جو والدین یا ولی کی رضامندی اور لڑکی کی مرضی کے مطابق کی جائے۔

گھریلو تشدد کی ایک دوسری شکل، مناسب جہیز نہ دینے کے طعنے ہیں، جس سے متعدد شادی شدہ خواتین ذہنی اور نفسیاتی طور پر متاثر ہوتی ہیں۔ پاکستان میں یہ معاشرتی برائی موجود ہے،اللہ کا شکر ہےاس میں ایسی شدت نہیں، جو پڑوسی مُلک بھارت میں پائی جاتی ہے۔ جہاں ہزاروں شادی شدہ خواتین، جہیز نہ لانے کی پاداش میں سسرالیوں کے تشدد کا نشانہ بنتی ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق سالانہ سینکڑوں خواتین کو اس ’’جرم‘‘ میں قتل تک کر دیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  خاندان کو تعمیر ایک عورت ہی کرتی ہے

یہ ضروری نہیں کہ گھریلو تشدد صرف جسمانی صورت ہی میں کیا جائے، اکثر صورتوں میں یہ نفسیاتی، جذباتی اور مالی طور پر بھی ہوسکتا ہے۔ مثلاً بات، بات پر طلاق دینے اور گھر سے باہر نکالنے کی دھمکی دینا، گھر سے باہر جانے پر پابندی عائد کرنا، ظالمانہ، حاکمانہ رویہ رکھنا، یہ سب تشدد ہی کی مختلف شکلیں ہیں۔ پاکستان کے کچھ علاقوں میں خواتین کو کھڑکی یا دروازے سے جھانکنے یا کھڑے ہونے تک کی اجازت نہیں دی جاتی اور عورتوں کا گھر سے باہر نکلنا معیوب سمجھا جاتا ہے۔

حالیہ برسوں میں جہاں گھریلو تشدد کے واقعات تیزی سے بڑھے ہیں، وہیں ملازمت پیشہ خواتین کے جنسی استحصال اور کام کی جگہوں پر ہراسانی کے واقعات بھی ایک بڑا مسئلہ بن گئے ہیں، سان فرانسسکو میں واقع چند بڑی کمپنیز میں کیے جانے والے ایک سروے کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ نوے فیصد خواتین کو کام کے دوران ہراساں کیا جاتا ہے۔ ان میں سے 65فیصد ایسی تھیں، جنھیں اپنے باسز کے نامناسب رویوں کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستان میں بھی ایسے واقعات کی کمی نہیں۔ 2010 ء میں منظور کیے جانے والے قانون کے تحت تمام سرکاری اور نجی اداروں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ ازخود ایسے قواعد اور ضوابط مرتب کریں، جن کے ذریعے وہ اپنے ہاں جنسی ہراسانی کے مسائل سے نمٹ سکیں۔ اس کے تحت ہر انتظامیہ اس اَمر کی ذمہ دار ہے کہ ادارے کا ماحول مَردوں اور عورتوں، دونوں کے لیے قابل احترام بنائے۔

پاکستان کے دیہی اور قبائلی علاقوں میں خواتین کو حقیر اور کم تر سمجھنے کا تعلق قدامت پرستی، مذہب کی پابندی اور رسم و رواج سے جوڑا جاتاہے، لیکن اس کاگہرا تعلق غربت اور جہالت سے بھی ہے۔