islam_namazi

شب برأت:ہے کوئی مغفرت کا طالب کہ اسے بخش دیا جائے

EjazNews

ام المومنین سیّدہ عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ میں نے سوائے شعبان کے مہینے کے(رمضان کے علاوہ) کسی اور مہینے میں رسول اللہﷺ کو کثرت سے روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا۔آپؐ کو یہ بہت محبوب تھا کہ شعبان کے روزے رکھتے رکھتے رمضان سے ملا دیں۔(سنن بیہقی)

جمہور علماء،محدثین اور مفسرین نے شعبان کی فضیلت و اہمیت اور اس مبارک مہینے کی پندرہویں شب یعنی ’’شب برأت‘‘ کی قدر ومنزلت کے حوالے سے متعدد روایات بیان کی ہیں۔’’شب برأت‘‘ کے کئی نام ہیں،جن میں سے چند یہ ہیں۔

(1)لیلۃ الرحمۃ:اللہ تعالیٰ کی رحمت خاصہ کے نزول کی رات۔
(2)لیلۃ المبارکۃ:برکتوں والی رات۔
(3)لیلۃ البرأ ۃ:جہنم سے نجات اور بری ہونے والی رات۔
(4)لیلۃ الصّک:دستاویز والی رات۔

عام طور پر اس رات کو ’’شب برأت‘‘کہا جاتا ہے۔ ’’شب‘‘ فارسی زبان کا لفظ ہے،جس کے معنیٰ رات کے ہیں اور برأت عربی زبان کا لفظ ہے ۔جس کے معنیٰ بری ہونے اور نجات پانے کے ہیں۔اس لیے اسے شب برأت کہا جاتا ہے ۔ چونکہ اس مقدس رات رحمت خداوندی کے طفیل لاتعداد بندگان خدا جہنم سے نجات پاتے ہیں۔ اس لیے اسے ’’شب برأت‘‘ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔

حضرت عثمان بن ابی العاصؓ سے روایت ہے کہ رسالت مآبﷺ نے ارشاد فرمایا:جب شعبان کی پندرہویں شب ہوتی ہے تو اللہ عزو جل کی جانب سے (ایک پکارنے والا) پکارتا ہے۔ کیا کوئی مغفرت کا طلب گار ہے کہ میں اس کی مغفرت کر دوں؟ کیا کوئی مانگنے والا ہے کہ میں اسے عطا کر دوں؟اس وقت پروردگار عالم سے جو مانگتا ہے،اسے ملتا ہے ،سوائے بدکار عورت اور مشرک کے۔ ‘‘(بیہقی/شعب الایمان 83/3)

یہ بھی پڑھیں:  خدا کی رحمت اور عدل: ایک حقیقت کے دو نام

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا:’’جب شعبان کی پندرہویں شب ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ سوائے مشرک اور کینہ ور کے سب کی مغفرت فرما دیتا ہے۔ (مجمع الزوائد 65/8)

حضرت ابوثعلبہ خشنیؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا’’جب شعبان کی پندرہویں شب (شب برأت) ہوتی ہے تو رب ذوالجلا ل اپنی مخلوق پر نظر ڈال کر اہل ایمان کی مغفرت فرما دیتا ہے، کافروں کو مہلت دیتا ہے، اور کینہ وروں کو ان کے کینے کی وجہ سے چھوڑ دیتا ہے تاوقت یہ کہ وہ توبہ کر کے ،کینہ وری چھوڑ دیں‘‘۔(بیہقی /شعب الایمان 3/381)

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:’’اس رات میں ہر حکمت والا معاملہ ہماری پیشی سے حکم ہو کر طے کیا جاتا ہے۔(سورۂ دخان) یعنی اس رات پورے سال کا حال قلم بند ہوتا ہے،رزق،بیماری،تندرستی، فراخی،راحت ، تکلیف ، حتیٰ کہ ہر وہ شخص جو اس سال پیدا ہونے والا یا مرنے والا ہو،اس کا مقررہ وقت بھی اسی شب لکھ دیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  جہاد کی حقیقت

شیر خدا سیدنا علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:جب شعبان کی پندرہویں شب آئے تو رات کو نماز پڑھو اور اگلے دن روزہ رکھو، کیوںکہ غروب شمس سے صبح صادق کے طلوع ہونے تک اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے اور ارشاد فرماتا ہے:’’ہے کوئی مجھ سے بخشش کا طلب گار کہ میں اسے بخش دوں؟ ہے کوئی رزق طلب کرنے والا کہ میں اسے رزق دے دوں،؟ ہے کوئی مصیبت زدہ کہ میں اسے مصیبت سے نجات دوں؟ ہے کوئی ایسا،ہے کوئی ویسا؟(بیہقی /شعب الایمان )

امّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اس مقدس شب یہ دعا فرماتے تھے:

امام بیہقی نقل کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا:عائشہ ؓتم جانتی ہو کہ یہ کیسی رات ہے ؟یعنی نصف شعبان کی رات، میں نے کہا، یا رسول اللہ ﷺ اس میں کیا ہوتا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا:اولادِ آدم میں سے اس سال میں جو بچہ پیدا ہونے والا ہو ،اس کا نام لکھ دیا جاتا ہے اور سال بھر میں جتنے انسان مرنے والے ہوتے ہیں ،ان کا نام لکھ دیا جاتا ہے ،اور اس میں بندوں کے اعمال اٹھائے جاتے ہیں، اور اس رات بندوں کے رزق نازل کئے جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  میت کے مال میں حقوق مرتبہ

حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:بے شک، اس رات اللہ تعالیٰ مغفرت فرما دیتا ہے، اپنی تمام مخلوق کی،مگر مشرک اور کینہ رکھنے والے کی بخشش نہیں فرماتا ۔(مشکوۃ)

مشہور تابعی حضرت عطاء بن یسارؒ فرماتے ہیں کہ جب شعبان کی پندرہویں شب ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک فہرست ملک الموت کو دی جاتی ہے اور حکم دیا جاتا ہے کہ جن جن لوگوں کے نام اس فہرست میں درج ہیں ان کی روحوں کو قبض کرنا۔حال یہ ہوتا ہے کہ کوئی بندہ تو باغ میں درخت لگا رہا ہوتا ہے کوئی شادی کر رہا ہوتا ہے، کوئی تعمیر میں مصروف ہوتا ہے، حالانکہ اس کا نام مردوں کی فہرست میں لکھا جا چکا ہوتا ہے ۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ ؓفرماتی ہیں کہ حضور اکرم ﷺ شعبان میں روزے رکھنے کو بہت زیادہ محبوب رکھتے تھے، ایک مرتبہ میں نے آپ ﷺ سے اس کی وجہ پوچھی تو آپ ﷺ نے جواب میں فرمایا کہ ! اے عائشہ جن لوگوں نے اس سال مرنا ہے ہوتا ہے، ملک الموت ان کے نام اس مہینےلکھ لیتا ہے ،اس لیے مجھے یہ اچھا معلوم ہوتا ہے کہ میرا نام بھی اس فہرست میں جس وقت لکھا جائے ،اس وقت میں روزے کی حالت میں ہوں ۔