imran_khan_saudi

کیا برف پگھل رہی ہے

EjazNews

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا تھا کہ سعودی عرب تیل پیدا کرنے والے بڑے ملک کی حیثیت سے ماحولیاتی بحران کے خلاف جنگ کو آگے بڑھانے میں اپنی ذمہ داری سے پوری طرح آگاہ ہے۔ جس طرح مملکت نے تیل اور گیس کے دور میں انرجی مارکیٹ کو سہارا دیا اسی طرح دنیا کو سر سبز بنانے میں عالمی رہنما بننے جا رہا ہے۔

شہزادہ محمد بن سلمان کا کہنا تھا کہ ہم عالمی سطح پر تیل پیدا کرنے والے اہم مقام کے حامل ہیں۔ ساتھ ہی ہم ماحول کو بہتر بنانے اور صاف آب و ہوا کے وسائل فراہم کرنے کے حوالے سے بھی اپنی ذمہ داریوں سے پوری طرح واقف ہیں، ماحول کو سرسبز بنانے میں بھی اپنا اہم کردار ادا کریں گے۔

ولی عہد نے مزید کہا تھا اگرچہ سعودی عرب اور خطے کو ماحول کے حوالے سے کافی چیلنجز کا سامنا ہے جیسے صحرا، جو خطے کے لیے معاشی طور پر خطرہ بھی ہے، ایک اندازے کے مطابق سالانہ 13 بلین ڈالرصرف کیے جاتے ہیں جبکہ مختلف گیسز سے ماحول کی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے جس سے لوگوں کی اوسط عمر میں بھی سال یا ڈیرھ برس کی کمی ہوتی ہے۔

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے وزیر اعظم پاکستان عمران خان کو ٹیلیفون کیا اور وزیر اعظم کی خیریت دریافت کی۔

یہ بھی پڑھیں:  یہ نہ بھولیں آپ کی سزا ختم نہیں ہوئی آپ ضمانت پر ہیں:معاون خصوصی

وزیر اعظم آفس کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق ٹیلی فونک گفتگو کے دوران وزیر اعظم عمران خان نے ولی عہد کی جانب سے حال ہی میں اعلان کیے گئے گرین سعودی اقدام اور گرین مڈل ایسٹ اقدام کی تعریف کی۔

عمران خان نے پاکستان کے 10 بلین ٹری سونامی پراجیکٹ پر روشنی ڈالی اور کہا کہ یہ ایکو سسٹم کو بحال کرنے اور ماحولیاتی تبدیلی پر قابو پانے میں مددگار ثابت ہوگا۔

وزیراعظم عمران خان نے ایک خط کے ذریعے سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے گرین انیشیٹیو کو قابل ستائش قرار دیا تھا جس کے تحت مملکت اور مشرق وسطیٰ میں ماحول کو سرسبز بنانے کا آغاز کیا گیا ہے۔

عمران خان نے اس اقدام کو نہایت مثبت اور خوش آئند قرار دیتے ہوئے پاکستان کی جانب سے شراکت داری کی خواہش ظاہر کی تھی۔

وزیراعظم عمران خان نے لکھا ہے کہ دونوں ملک تمام کثیرالملکی فورمز پر موسمیاتی تبدیلی کے مسئلے پر تعاون کر رہے ہیں، بامعنی اور مربوط دوطرفہ رابطے مشترکہ ویژن پر آگے بڑھنے اور پارٹنرشپ کے تحت فوائد کا حصول ممکن بنا سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  کشمیر دنیا کی سب جیل میں تبدیل ہو چکا ہے: ترجمان دفتر خارجہ

وزیراعظم عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کو لکھا گیا خط بھی جاری کیا اور لکھا کہ ‘برادرِعزیز عزت مآب ولی عہد محمد بن سلمان کے سبز سعودی عرب اور سبز مشرقِ وسطیٰ منصوبوں کے بارے میں جان کر میں مسرور ہوں۔

انہوں نے کہا کہ ‘ہم معاونت کی پیش کش کر چکے ہیں کیونکہ ان سے سرسبز و شفاف پاکستان اور دس ارب درختوں کے ہمارے منصوبوں کو جلا ملتی ہے۔

سعودی ولی عہد کے نام خط میں وزیراعظم نے کہا کہ ‘میں آپ کے منصوبے کے بارے میں جان کر خوش ہوں کہ سبز سعودی عرب اور سبز مشرق وسطیٰ منصوبہ دونوں کا مقصد ماحول کا تحفظ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ‘دونوں منصوبوں میں 10ارب درخت سعودی عرب اور خطے میں 50 ارب درخت کا منصوبہ شامل ہے، جس میں 30 فیصد سے زیادہ علاقہ محفوظ ہوگا، میرین اور ساحلی ماحولیات کے تحفظ اور 2030 تک سعودی عرب کی قابل تجدید 50 فیصد توانائی پیدا ہوگی، جو انتہائی قابل تعریف ہے۔
سعودی عرب کے منصوبے کی تعریف کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ منصوبے ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کا مقابلہ کرنے کے منصوبوں سے جڑے ہوئے ہیں، جس کے تحت 2014 سے 2018 تک کامیابی کے ساتھ ایک ارب درخت اگائے گئے اور 10 ارب ٹری سونامی کا منصوبہ پورے ملک میں زیرتکمیل ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  وزیراعظم آج حیدر آباد میں یونیورسٹی کاسنگ بنیاد رکھیں گے

وزیراعظم نے کہا کہ ہم اپنے منصوبے کو 2023 تک 15 فیصد زمینی اور 10 فیصد میرین پر مشتمل علاقے کو محفوظ بنانے کے لیے وسعت دیں گے، ان منصوبوں سے نہ صرف ماحولیات کا تحفظ ہوگا بلکہ اس سے سیاحت اور نوجوانوں کے ساتھ ساتھ مقامی برادریوں کو روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے وژن کی طرح ہم نے ہدف بنایا ہوا ہے کہ اپنی 60 فیصد توانائی 2030 تک ملک میں شفاف توانائی ہو جو شمسی، ونڈ اور پن بجلی کی پیدا کرنے کی صلاحیت شامل ہے۔

عمران خان نے سعودی عرب کو سبز منصوبے میں پاکستان کےمکمل تعاون کی پیش کش کی اورکہا کہ ہمیں ماحولیات کے حوالے اپنے اقدامات اور وژن سے ایک دوسرے کو آگاہ کرکے خوشی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے دنیا کے پاس سبز راستے کے سوا کوئی حل نہیں ہے اور سعودی عرب کے اس منصوبے کو تہہ دل سے سراہتا ہوں۔