Shahbaz_Sharif_leader

عدالت کا نیب کونوٹس جاری،13اپریل تک جواب طلب

EjazNews

17 اگست کو نیب نے احتساب عدالت میں شہباز شریف، ان کے دو بیٹوں اور کنبے کے دیگر افراد کے خلاف منی لانڈرنگ کا 8 ارب روپے کا ریفرنس دائر کیا تھا۔

بعد ازاں 20اگست کو لاہور کی احتساب عدالت نے شہباز شریف اور ان کے اہل خانہ کے خلاف منی لانڈرنگ ریفرنس سماعت کے لیے منظور کیا تھا۔

ریفرنس میں بنیادی طور پر شہباز شریف پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ اپنے خاندان کے اراکین اور بے نامی دار کے نام پر رکھے ہوئے اثاثوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں جن کے پاس اس طرح کے اثاثوں کے حصول کے لیے کوئی وسائل نہیں تھے۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے شہباز شریف کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔درخواست ضمانت میں جواز پیش کیا گیا کہ شہباز شریف کو اپوزیشن لیڈر کے فرائض کی ادائیگی میں مشکلات کا سامنا ہے۔

درخواست میں نشاندہی کی گئی کہ منی لانڈرنگ کا ریفرنس دائر ہو چکا ہے اور اس پر ٹرائل ہو رہا ہے لیکن اس کی کارروائی جلد مکمل ہونے کا کوئی امکان نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  کورونا کی چوتھی لہرجولائی میں آسکتی ہے، وفاقی وزیر نے خبردار کر دیا

درخواست میں بتایا گیا کہ کہ شہباز شریف کئی ماہ سے جیل میں ہیں اور تمام ریکارڈ نیب کے پاس ہے۔اس ضمن میں درخواست میں مزید نشاندہی کی گئی کہ نیب نے شہباز شریف سے کوئی ریکوری نہیں کرنی اور وہ تواتر کے ساتھ ریفرنس کے ٹرائل میں پیش ہو رہے ہیں۔

درخواست میں شہباز شریف کی ناساز طبیعت کا بھی تذکرہ کیا گیا۔اس میں کہا گیا کہ اپوزیشن لیڈر کمر کے درد کے علاوہ دیگر بیماریوں کا شکار ہیں۔

درخواست میں استدعا کی گئی کہ ریفرنس میں لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں اور شہباز شریف کو منی لانڈرنگ ریفرنس میں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا جائے۔

عدالت نے منی لانڈرنگ ریفرنس میں شہباز شریف کی جانب سے ضمانت پر رہائی کے لیے درخواست ضمانت پر نیب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 13 اپریل تک جواب طلب کرلیا۔