گڈی_گڑیا

جدید عہد نے بچوں کا روایتی کھیل چھین لیا

EjazNews

نانی جان نے میرا غرارہ کاٹا اور کپڑے کی اس کٹائی میں میری گڑیا کا لہنگا بھی تیار کر دیا۔ دادی جان نے مجھے بروکیڈ کی فراک بھیجی تو اسی پارسل میں سے میری گڑیا کا فراک بھی نکل آیا۔ ان دو کپڑوں سے میری گڑیا کا جہیز بن گیا۔ چم چم کرتے اس لباس کو پہننے کا موقع بھی آ گیا۔ میں نے اپنی گڑیا کی شادی اپنی سہیلی کے گڈے سے لے کر دی۔ میری سہیلی بڑی خوش تھی ہم نے امی اور خالہ جان سے پوچھ پوچھ کر ہر وہ رسم کی جو بڑوں کی شادیوں میں ہوا کرتی ہیں۔ مثال کے طور پردو روز پہلے ڈھولک رکھ لی، گانوں کی خوب مشق کی۔ ایک ہفتے بعدامی کا ابٹن اوربچوں کی مہندی گھول کر گڑیا کی مایوں مہندی کی رسم نبھا دی، بہت سے محلے اورسکول کے بچوں بچیوں کو بارات پر مدعو کیا۔ کپڑے کی بنی گڑیوں کو بھی بلاوا دیا۔ نکاح کیا ہوتا ہے ہم نہیں جانتے تھے ،سیدھا سیدھا کھانا کھا کے اپنی گڑیا کو سہیلی کی گود میں دے دیا اور وہ خوشی خوشی میری گڑیا بیاہ لے گئی۔

یہ بھی پڑھیں:  خودکشیوں کا بڑھتا ہوا رجحان ، لمحہ فکریہ ہے

اب میری بیٹی ہنس ہنس کے بے حال ہوئی جاتی ہے کہ آپ کس دور میں رہتی آئی ہیں۔ ہماری باربی ڈول کا کیا مقابلہ آپ کی کپڑے کی گڑیا سے مگر باربی ڈول کو بہت حسین اور ہر لحاظ سے بہتر ہونے کے باوجود کوئی بیاہ کرنہیں لے جاتا۔ گڑیوں کے بیاہ شادیاں تو قصہ پارینہ ہو گئے ممکن ہے کہ پاکستان کے دیہی علاقوں میں اب بھی گڈے گڈی کا بیاہ رچایاجاتا ہو مگر شہر بہت ترقی کر گئے ہیں۔ یہ ثقافتی اور رسمی کھیل اب ماضی کا حصہ ہے۔ اب والدین موبائل اور بیڑی والے کھلونے بچوں کو دلاتے ہیں کیونکہ شہروں میں یہی تودستیاب ہیں یا پھر بولنے والی گڑیاں اور سب سے بڑھ کر فروزن اور باربی ڈول، اور فروزن کی Elsa اور Ana کا تو کیا کہنا، بچوں میںیہ فلم کیا مقبول ہوئی ان کے استعمال کی گئی چیز یں مارکیٹ میں آ گئیں۔

پچھلے وقتوں میں ایسا نہیں تھا کہ روایتی کھیل کھیلتے ہوئے بچے پڑھائی پر دھیان نہ دیتے ہوں اور رات گئے تک جاگ کر کھیل کود کرتے یاٹی وی دیکھتے رہتے ہوں۔ تمام تر تفریحات کے باوجود وقت کی مناسب حد تک تقسیم ہوتی رہتی تھی۔ گڈے گڑیاں کی شادی کے پس منظر میں بھی آنے والی نسلوں کی تربیت کا رمز چھپا ہوا تھا۔ ذہنی نشوونما اور کنبے سے محبت کی روایت بڑھانے اور دستکاری کے فنون میں مہارت لانے کے لئے والدین خود بھی بچیوں کو ایسے مشاغل میں حصہ لینے پر مائل کرتے تھے۔ گڑیا کولباس اپنے ہاتھوں سے سی کر پہنانا، اس لباس پر گوٹا کناری یا ستاروں کی بیل کا ٹانکنا آگے چل کر اپنے لباس کی تیاری کی راہ ہموار کرتا تھا۔ اس طرح گڈے گڑیوں کی شادی میں کھانا بنانے کی تحریک ملتی تھی گو کہ اس وقت مائیں ہی بچوں کے پسندیدہ کھانے قورمہ، بریانی، کھیر یا زردہ کی شکل میں بارات اور ولیمے کے مینو ترتیب دیا کرتی تھیں اور بہت سی بچیاں ان کھانوں کی تراکیب ماوں سے پوچھا کرتی تھیں۔ یہی تربیت کا ایک پہلو تھاجواب مفقود ہورہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  ذہنی اور جسمانی معذوریوں کو مجبوری نہ بننے دیں

گڑیوں کی جدید صنعت
اب ہاتھوں سے گڑیاں شاید ہی کہیں بنائی جاتی ہوں کیونکہ اب برانڈڈ گڑیوں کا دور ہے۔ باربی ڈول،Elsa اور Ana اسی دور کی پیداوار ہیں۔ ان گڑیوں کے لباس بھی فیکٹریوں میں تیار ہوتے ہیں۔ اسی طرح ان کے گھر، فرنیچر کراکری اور دیگر استعمال کی اشیاءمثلاً کا سمیٹکس تک بنائی جاتی ہیں۔

چین ایسی ریاست ہے جہاں سیل سے چلنے والی گڑیاں بنائی گئیں اور سیاحوں کی مدد سے دنیا بھر میں پھیلی اور پسند کی گئیں پاکستان میں اب صرف آرائشی مقاصد کے لئے گڑیاں خریدی جاتی ہیں اور جو لوگ اسے بت پرستی سے تعبیر کرتے ہیں وہ اس فن کی ترقی وتر ویج کے سراسر خلاف ہیں۔

پاکستان میںپتلی تماشے کے لئے بھی مخصوص انداز کی گڑیاں بنائی جاتی ہیں۔ پاکستان کی دیہی ثقافت کی یہ نشانیاں کہیں دم نہ توڑ جائیں تولے آئیں ایک گڑیا اپنی گڑیا کے لئے۔۔۔۔۔۔۔۔