joe biden_united_state

میانمار میں لوگوں کی بڑی تعداد کو بغیر کسی وجہ کے مارا گیا ہے: جو بائیڈن

EjazNews

میانمار میں ایک دن میں بچوں سمیت 100 افراد کی ہلاکت کے بعد امریکی صدر جو بائیڈن نے بھی عالمی سطح پر اس کی مذمت کی ہے۔

میانمار میں فوج اور پولیس نے جمہوریت کی بحالی کے لیے ہفتوں سے جاری مظاہروں کے خلاف پرتشدد کریک ڈاون شروع کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق میانمار میں کم سے کم 107 افراد کو ہلاک کیا گیا تھا جب میانمار کی فوج کے سالانہ آرمڈ فورسز ڈے کے دن طاقت کا مظاہرہ کیا گیا تھا۔

تاہم اتوار کو جو بائیڈن نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ سراسر اشتعال انگیزی ہے اور مجھے موصول ہونے والی رپورٹ کے مطابق لوگوں کی بڑی تعداد کو بغیر کسی وجہ کے مارا گیا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوسیپ بوریل کا کہنا تھا کہ جنتا نے اپنی فوج کے جشن کا دن خوف اور شرم سے بھر دیا تھا۔

عالمی سطح پر مذمت کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب امریکہ، برطانیہ، جاپان اور دیگر نو ممالک کے دفاعی سربراہان نے میانمار کی فوج کی کارروائی کے خلاف بیانات دئیے۔

یہ بھی پڑھیں:  اشرف غنی مفاہمت نہیں چاہتے ،مگر چاہتے ہیں کہ ہم ہتھیار ڈال دیں:طالبان ترجمان سہیل شاہین

ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ پیشہ ور فوج بین الاقوامی معیارات پر عمل کرتی ہے اور جن لوگوں کی خدمت کرتی ہیں ان کی حفاظت کی ذمہ دار ہوتی ہے، انہیں نقصان پہنچانے کی نہیں۔

میانمار کے ثقافتی دارالحکومت منڈالے میں ایک رات میں ہلاک ہونے والے ایک شخص آئی کو کے اہل خانہ ان کی ہلاکت پر سوگ منا رہے تھے۔

پیر کو برطانیہ کی وزارت خارجہ نے حالیہ تشدد میں اضافے کے پیش نظر میانمار میں موجود اپنے شہریوں کو فوری طور پر ملک چھوڑنے کی ہدایت کی۔