4 people killed

4نوجوانوں کی ہلاکت :ورثاء کا لاشوں سمیت اسلام آبا د کا رخ

EjazNews

جنوبی وزیرستان کے قریبی ضلع بنوں کے علاقے جانی خیل سے تقریباً 10 ہزار افراد نے اتوار کی صبح چار نوجوانوں کی لاشوں کے ساتھ اسلام آباد کی جانب مارچ شروع کیا، جن کا مطالبہ ہے کہ ریاست دشمن عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے۔

پولیس نے بنوں کی مرکزی شاہراہ کو بلاک کرکے مظاہرین کو کئی گھنٹوں تک مارچ کرنے سے روکے رکھا تاہم بعد میں انہیں جانے کی اجازت دی گئی۔
ضلع کرک میں پولیس نے پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما قبائلی ضلعے سے رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ کو حراست میں لے کر بنوں جا کر احتجاج میں شامل ہونے اور مارچ کی سربراہی کرنے سے روک لیا۔

صوبائی حکومت کے وزیر سماجی بہبود ہشام انعام اللہ خان مروت قبیلے کے مشیران کے ہمراہ جرگے کے لیے بنوں پہنچ گئے۔

انہوں نے مظاہرین کے قائدین کو بتایا کہ پوری قوم متاثرین کے غم میں برابر کی شریک ہے، مسئلے کے حل کے لیے جرگے کی صورت میں آیا ہوں۔

یہ بھی پڑھیں:  کورونا کی چوتھی لہر سے متعلق وزیراعظم کے معاون خصوصی اور وفاقی وزیر اسد عمر کی اہم پریس کانفرنس

انہوں نے کہا کہ مروت اور بنوں کے قبیلے ایک دوسرے کے بھائی اور پڑوسی ہیں اور اس غم میں برابر کے شریک ہے، آپ کے جو جائز مطالبات ہیں، ان کو وزیر اعلیٰ محمود خان اور وزیراعظم عمران خان تک پہنچاؤں گا۔

ہشام انعام اللہ خان نے کہا کہ شہیدوں کی تدفین کی استدعا کرتا ہوں، صوبائی حکومت کے تمام وزرا کو آپ کے ساتھ جرگے میں بٹھاؤں گا۔

صوبائی وزیر ہشام انعام اللہ خان نے جرگے کی مقامی روایت ننواتے کے تحت تین دنبے بھی ذبح کیے، جس کو دھرنا منتظمین نے قبول کیا۔

مذاکرات کے حوالے سے تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہوئی تاہم مارچ کے قائدین نے جانی خیل قبیلے سے مشاورت کے لیے وقت مانگ لیا۔

وزیراعلیٰ کے پی کے محمود خان بھی بنوں پہنچ گئے ہیں اور تنازع کا حل نکالنے کے لیے جانی خیل قبیلے سے ملاقات کا امکان ہے۔

یاد رہے :نوجوانوں کی شناخت احمداللہ، محمد رحیم، رضام اللہ اور عاطف اللہ کےنام سے ہوئی تھی۔ جن کی عمریں 13 سال سے 17 سال کے درمیان تھی اور وہ تین ہفتے قبل لاپتا ہوگئے تھے جبکہ گزشتہ اتوار کو ایک کھیت میں ان کی لاشیں ملی تھیں جس کے بعدسے احتجاج کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  آخر میاں شہبازشریف کی ضمانت منظور ہو ہی گئی

قبل ازیں مظاہرین نے چاروں لاشوں کو مقامی تھانے کے سامنے رکھ کر احتجاج کیا تھا اور متاثرہ خاندانوں کو شہدا پیکیج دینے، ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لانے، خطے میں امن اوراستحکام بحال کرنے کے لیے اقدامات کے مطالبات کیے۔