Bilawal_bhutoo_zardari_karchi

کسی کی ڈیکٹیشن سے اتحاد نہیں چل سکتا:بلاول بھٹوزرداری

EjazNews

بلاول بھٹو زرداری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ 21سینٹر پاکستان پیپلز پارٹی کے ہیں ہمارا حق چیئرمین سینٹ کا الیکشن لڑنے کا اور اپوزیشن لیڈر کلیم کرنے کا اور لڑنے کا ہے۔کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے تھا کہ لیڈر آف دی اپوزیشن گیلانی صاحب نہیں بنتے۔ جس طرح ہم نے پی ڈی ایم کو جتوایا یہاں بھی جتواتے ۔ میری جماعت کے کچھ لوگوں کو محسوس ہوا پیپلز پارٹی کو دیوار کے ساتھ لگایا جارہا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے پاس سینٹ میں میجورٹی تھی اور میں کیسے اپنے ارکان کو یہ کہہ سکتا ہوں کہ آپ یوسف رضا گیلانی کو اپوزیشن لیڈر نہیں بنائے مگر آپ تارڈ صاحب کو لیڈر آف دی اپوزیشن کا ووٹ دیں۔ ن لیگ کا امیدوار بہت متنازع تھا۔ن لیگ اور ان کی اتحادیوں کی تعداد 27تھی۔ ہم اپنے اتحادیوں کو ملاتے ہیں تو 27ہمارے بھی ہوتے ہیں۔سینٹ کے قانون کے مطابق سنگل لارجسٹ پارٹی کو اپوزیشن لیڈر بنایا جاتا ہے ۔جب دلاور خان اور ان کا گروپ اپوزیشن بینچوں پر بیٹھے تو کسی کو اعتراض نہیں کرنا چاہیے ۔ پنجاب میں بلا مقابلہ الیکشن ہوا تو ہم نے بھی اعتراض نہیں کیا۔

ان کا کہنا تھا پی ڈی ایم کی بنیاد میں نے رکھی اور سب کو مل کر ساتھ کام کرنا چاہیے۔ میں پی ڈی ایم کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتا ہوں ۔ کسی کی ڈیکٹیشن سے اتحاد نہیں چل سکتا۔ میں اپنے ن لیگ کے دوستوں سے درخواست کروں گا کہ ذرا سا پانی پی لیں۔ ذرا لمبا سانس لے لیں۔ جیسا خان صاحب کا ریکیشن ہوتا گیلانی صاحب کے جیتنے پر ویسا ہی ری ایکشن ن لیگ کا ہے گیلانی صاحب کے جیتنے پر۔

یہ بھی پڑھیں:  عثمان بزدار کی کابینہ میں بھی تبدیلی ، اہم ترین وزیر کو عہدے سے ہٹا دیا گیا

ان کا کہنا تھا اس حکومت میں وہ اہلیت نہیں تھی کہ وہ اس ملک کی معاشی حوالے سے آئی ایم ایف کے پاس نمائندگی کرتی اور مذاکرات کرتی، ان کے غلط فیصلوں کی وجہ سے ناکام اورنالائق فیصلوں کی وجہ سے آج ہر پاکستانی بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ہر پاکستانی کے جیب پر ڈاکا ہوا ہے، مہنگائی اور غربت کا جس طریقے سے عام آدمی آج مقابلہ کر رہا ہے وہ پاکستان تاریخ میں ایسے بدترین معاشی حالات کبھی نہیں رہے۔ یہ افسوس ناک اور تاریخی ناکامی ہے کہ پاکستان کی معاشی نمو منفی ہو، پاکستان کی شرح نمو بنگلہ دیش اور جنگ زدہ افغانستان سے بھی پیچھے ہو۔ پاکستان کا افراط زر بنگلہ دیش اور جنگ زدہ افغانستان سے زیادہ ہوتو یہ بوجھ پاکستان کا عام آدمی کیوں اٹھائے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا حکومت سٹیٹ بینک کے حوالے سے آرڈیننس فوراً واپس لے، یہ ادارہ صرف پاکستانیوں کو جواب دہ ہے نہ کہ آئی ایم ایف کو، یہ پیپلزپارٹی کے نظریات کے خلاف ہے۔ حکومت کو فوراً اس آرڈیننس کو واپس لے کر ختم کرنا چاہیے، ہم ہر فورم پر اس غیر قانونی آرڈیننس کو چینلج کریں گے کیونکہ یہ پاکستان کی معاشی خود مختاری پرایک سنگین حملہ ہے، جس کا ہر پاکستانی پر اثر پڑے گا۔

یہ بھی پڑھیں:  وزیراعظم کی علماء کرام کے وفد سے ملاقات

ان کا کہنا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ جس طریقے سے اس حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ اپنی معاشی پالیسی اور معاشی معاہدے کیے ہیں ہیں وہ عوام کے فائدے میں نہیں ہیں اور غلط طریقے سے معاہدے کیے۔
چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کو چھیننے کی تازہ سازش کا ہم مقابلہ کریں گے، اس حکومت نے مسلسل غلط پالیسیوں کی وجہ سے عوام کو نقصان پہنچایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں جب پیٹرول سستے داموں مل رہا تھا تو پاکستان میں پیٹرول کا بحران تھا، جس کا فائدہ کچھ کارٹیلز اور حکومت نے لیا، جن لوگوں نے یہ فیصلہ لیا تھا وہ صرف ایک معاون خصوصی یا انفرادی نہیں تھا بلکہ یہ کابینہ کا اجتماعی فیصلہ تھا۔

معاون خصوصی برائے پیٹرولیم کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ وزیراعظم عمران خان کا تھا اورکل انہوں نے یہ کوشش کی کہ ایک معاون خصوصی کو قربانی کا بکرا بنا کر اپنے آپ کو اس گناہ اور تاریخی ظلم بچانے کی کوشش کی لیکن وہ نہیں بچا سکتے۔

یہ بھی پڑھیں:  پاکستان سمیت دنیا بھر سے 60 ہزار افرد حج کرسکیں گے سعودی عرب نے اجازت دیدی

ان کا کہنا تھا کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ جیسے ندیم بابر کو نکالاگیا ہے ایسے ہی ہر ایک وزیر اور وزیراعظم سمیت جو اس کابینہ میں بیٹھتا ہے، جنہوں نے کابینہ میں بیٹھ کریہ فیصلہ کیا تھا ان سب کو ہٹانا چاہیے اور سب کو مستعفی ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ یہ ایک تاریخی اسکینڈل تھا اور ہم نہیں مانیں گے کہ یہ ایک معاون خصوصی کی بس کی بات تھی، جب ہم پاکستان کے عوام کو پیٹرول کی قیمت کم کرکے فائدہ پہنچا سکتے تھے اس وقت بحران پیدا کرکے چند شخصیات کو فائدہ پہنچایا۔ پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمان کے اندر اورپارلیمان کے باہر ٹف ٹائم دیتی رہے گی جیسے ہم حکومت کے شروع دن سے لے کر آج تک کرتے آئے ہیں۔