kaspar-social-robot

کیا واقعی ایک روبوٹ میں اتنی خوبیاں ہو سکتی ہیں؟

EjazNews

سائنس اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں آئے دن نت نئی جدت دیکھنے میں آتی رہتی ہے جو ہماری روز مرہ زندگی کے کئی چھوٹے بڑے مسائل کے حل کے طور پر کارگر ثابت ہوتی ہے جس کا سہرا سائنسدانوں کے سر جاتا ہے۔ برطانیہ کے سائنسدان بھی اس دوڑ میں ہرگز پیچھے نہیں۔ انہوں نے ایک عام بچے کے سائز کا انسان نما روبوٹ تیار کیا تھا جوآٹزم کے شکار بچوں کے لئے انتہائی مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ روبوٹ صرف انسان نما نظری نہیں آتا بلکہ یہ باتیں کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے بال بھی سنوارتا ہے اور ڈرم بجا کے بچوں کو محظوظ بھی کرتا ہے۔

Kaspar کے نام سے جانا جانے والا یہ روبوٹ سادہ مگر حقیقی انسان سے خاصی مشابہت رکھتا ہے ۔یہ آ ٹزم سے متاثرہ بچوں کو بنیادی طریقہ ابلاغ اور جذبات ظاہر کرنے کے ساتھ ساتھ سماجی رویوں کے اظہار میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس روبوٹ کے جسم کے کچھ حصوں جیسے رخساروں، دھڑ، بازوو¿ں، ہتھیلیوں اور پیروں کی جلد میں اس قسم کے سینسر نصب کئے گئے ہیں جو چھونے کی صورت میں فوری ردعمل کا اظہار کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر جب روبوٹ کو گدگدی کی جائے تو وہ ہنستے ہوئے دوستانہ رویے کا اظہار کرتا ہے۔ جبکہ اگر کوئی بچہ کھیل کے دوران سختی سے کام لے یا چٹکی نو چے Kaspar اس کی مناسبت سے ہی ردعمل کا اظہار کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ اس کے اس سخت رویئے سے اسے تکلیف بھی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  کیا آپ جانتے ہیں دانت نکلنے پر بچے کاٹتے کیوں ہیں؟

Kaspar کی ایجاد University of Hertfordshire میں کی گئی جو کہ اب تک برطانیہ اور دیگر ممالک میں کم و بیش 170 آٹزم کا شکار بچوں کے سلسلے میں طویل المیعادمطالعےمیں کارگر ثابت ہوا ہے۔ اس روبوٹ کو بنانے والی ٹیم کی خواہش ہے کہ وہ اس کے نمونے کو لیبارٹری تک محدود رکھنے کے بجائے ہر سکول، گھر اور خصوصا ًہسپتال اورکلینکوں تک اس کی رسائی ممکن بنائیں جہاں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

University of Heriordshireکے Artificial Intelligence کے شعبے سے تعلق رکھنے والے پروفیسر Dautenhahn Kerstin کا کہنا ہے کہ Kaspar ایک دہائی کے دوران اب تک کئی آٹزم سے متاثرہ بچوں کے لئے بہتری کا وسیلہ بن چکا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس اصلی نمونے کومزید بہتری کی جانب لے کر آ ئیں اور تجارتی نقطہ نظر سے قابل عمل بنائیں تا کہ یہ دنیا کے ہر کونے میں بچوں میں آٹزم کے خاتمے میں اہم کردار ادا کر سکے۔

یہ بھی پڑھیں:  زندگی بھر جسم کا ایک بھی بال نہ ترشوانے والے

Society National Autistic کے مطابق فی الحال7000,000 افراد برطانیہ میں آٹزم کا شکار ہیں لیکن آٹزم تقریباً 2.8ملین افراد کی روزمرہ زندگی کا حصہ ہے۔

آٹزم سے متاثرہ بچے معاشرے میں لوگوں سے ملنے جلنے کے دوران مشکلات کا سامنا کرتے ہیں اس صورت میں Kaspar آٹزم سے متاثرہ بچوں اور باقی افراد کے درمیان Mediator کے طور پر ذمہ داری سرانجام دیتاہے۔ تا ہم ماہر نفسیات کا ماننا ہے کہ روبوٹ ان بچوں کو در پیش دیگر سماجی اور ابلاغی مسائل کے حل میں بھی انتہائی موثر ذریعہ ثابت ہوسکتا ہے۔

Prof. Dautenhahn کہتے ہیں کہKaspar میں وہ صلاحیتیں پائی جاتی ہیں جو دنیا بھر میں بچوں کے لئے مددگار ثابت ہوسکتی ہیں اور آٹزم سے متاثرہ افراد کی شرح میں حیرت انگیز حد تک کمی کا سبب بن سکتی ہیں۔