Haseena_Moin1

وہ جس کی تحریر سرحدوں سے بالا تھی!ہم میں نہ رہیں

EjazNews

حسینہ معین اتر پردیشن کے شہر کان پور میں پیدا ہوئیں۔ ابتدائی تعلیم گھر میں حاصل کی اور تقسیم ہند کے بعد ان کا گھرانہ پہلے راولپنڈی اور پھر لاہور منتقل ہوا۔ان کے لکھنے لکھانے کا سلسلہ زمانہ طالب علمی میں ہوا، وال پیپر میگزین کے لیے لکھا کرتی تھی۔

جب وہ کالج میں پڑھ رہی تھیں تو ریڈیو سے آغا ناصر نے کالج سے کچھ ڈرامے مانگے۔ ان کی اردو کی استاد نے حسینہ سے کہا کہ تم ڈرامہ لکھ کرانہیں بھیج دو۔ حسینہ نے اپنی استاد سے کہا کہ مجھے تو ڈرامہ لکھنا آتا ہی نہیں۔اس پر استاد نے کہا کہ تم لکھ سکتی ہو بس جو ذہن میں آتا ہے صفحے پہ اتارتی جاؤ۔ یوں حسینہ نے پٹڑیاں کے نام سے ریڈیو کے لیے ایک ڈرامہ تیار کر لیا جسے نہ صرف بے حد پذیرائی ملی بلکہ ریڈیو کی طرف سے ایوارڈ بھی ملا۔ اس کے بعد آغا ناصر نے باقاعدہ ایک خط حسینہ کو بھیجا کہ تم سٹوڈیو نائن کے لیے لکھا کرو۔ اُن دنوں سٹوڈیو نائن کے لیے لکھنا کسی بھی نئے لکھنے والے کے لیے کسی اعزاز سے کم نہ تھا اور حسینہ آغا ناصر کے اس خط کو کسی اعزاز سے کم نہ گردانتی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں:  میری کچھ مجبوری ہے جس کی وجہ سے میں نام نہیں لے سکتی
Haseena_Moin
واحد ڈرامہ رائٹر ہیں جن کا لکھا ہوا ڈرامہ انڈیا کے قومی چینل دور درشن پر چلا۔

تاریخ میں ماسٹر کرنے والی حسینہ معین کو 1969 میں ٹی وی کے لئے لکھنے کی پیشکش ہوئی اور یہ پیشکش جی ایم کراچی کی طرف سے ہوئی انہوں نے حسینہ معین سے کہا کہ ریڈیو ڈرامہ بھول بھلیاں کو ٹی وی کے لئے بنا دیں انہوں نے لکھا ڈرامہ ہٹ ہو ااس کے بعد 1971میں عید کے لئے کامیڈی پلے لکھا جس کو ملک گیر شہرت حاصل ہوئی اس کےبعد حسینہ معین نے مڑ کر نہیں دیکھا۔

بھارتی فلمساز راج کپور کی فرمائش پر فلم حنا کے مکالمے بھی لکھے۔راج کپور تین سال تک حسینہ معین کو مناتے رہے آخر کار انہوں نے حامی بھر ہی لی تھی فلم کی ریلیز کے عین موقع پر بابری مسجد کی شہادت کا واقعہ رونما ہوگیا جس کے بعد حسینہ نے راج کپور کے بیٹے رندھیر کپور کو ایک خط لکھا اور کہا کہ میرے ملک نے مجھے بہت عزت دی ہے لہٰذا میں ایسا کچھ نہیں کرنا چاہتی جو اس وقت مسلمانوں کے زخموں پر نمک کا کام کرے آپ میرا نام نکال دیں۔حسینہ معین اپنے دور کی واحد ڈرامہ رائٹر ہیں جن کا لکھا ہوا ڈرامہ انڈیا کے قومی چینل دور درشن پر چلا۔

یہ بھی پڑھیں:  ماہرہ خان پہلی جنرل خاتون کے روپ میں

زمانہ طالب علمی سے لکھنے والی حسینہ معین جو عورتوں کو سکرین پر جہاں نازک چنچل شوخ دکھاتیں وہیں یہ بھی دکھاتیں کہ عورتیں بہت ہی مضبوط اعصاب کی مالک ہوتی ہیں اور کسی بھی مشکل سے تنہا ہی نمٹ لیتی ہیں۔

حسینہ آج کل کے ڈراموں میں دکھائے جانے والے عورت کے کردار سے بالکل بھی مطمئن نہیں تھیں وہ اکثر کہا کرتی تھیں کہ اب ڈرامہ نہیں لکھا جا رہا بلکہ ٹھیکے پہ کام ہو رہا ہے۔

حسینہ خود تو چلی گئیں ہیں لیکن انکے تحریر کردہ سبق آموز ڈرامے ہمیشہ ان کے پرستاروں کے دِلوں میں انکی یاد کو زندہ رکھیں گے۔