pakistani_team

کوچ اور کپتان کو یہ کہنے کی ضرورت کیوں پڑتی ہے کہ یہ پاکستان کی ٹیم ہے

EjazNews

قومی ٹیم کی دورہ جنوبی افریقہ کے لیے روانگی سے قبل آن لائن پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مصباح الحق نے کہا کہ اچھی خبر یہ ہے کہ حسن علی سمیت سب کھلاڑیوں کے ٹیسٹ کلیئر ہیں ،لہٰذا جنوبی افریقہ کی اہم سیریز کے لیے سب دستیاب ہیں اور سفر کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس وبا کے دنوں میں کھلاڑیوں کے لیے بائیو سکیور ببل میں رہتے ہوئے کھیلنا بہت مشکل ہے اور ایک اچھی چیز ہے کہ اپنی سماجی اور اخلاقی ذمہ داری سمجھتے ہوئے کھیلنے کے لیے تیار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، انگلینڈ اور جنوبی افریقہ سمیت باہر ممالک کی سیریز آسان نہیں ہوتیں لیکن ہم نے جو پچھلی چند سیریز کھیلی ہیں اس کے بعد ٹیم اس کارکردگی کا تسلسل برقرار رکھتے ہوئے جیتنے کے لیے پراعتماد ہے۔

مصباح الحق نے کہا کہ بابر اعظم کی بحیثیت کپتان کارکردگی ہر گزرتے دن کے ساتھ بہتر ہو رہی ہے اور وہ اپنی کارکردگی سے دوسروں کے لیے مثال بن رہے ہیں، وہ خراب کارکردگی کا بھی کوئی عذر پیش نہیں کرتے اور اسی چیز کا دیگر کھلاڑیوں سے بھی مطالبہ کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  اگر پاکستان نیوزی لینڈ میں یکطرفہ طور پر دورہ منسوخ کر دیتا تو کیا ہوتا؟
pakistani_team1
پاکستانی ٹیم روانہ ہوتے ہوئے

ان کا کہنا تھا کہ ٹی20 ورلڈ کپ سے قبل ہمارے لیے بہت اہم سیریز آرہی ہیں، کوشش یہی ہے کہ بہترین کھلاڑیوں کو مواقع دیں اور ایک زبردست سکواڈ تیار کر سکیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے تو یہ سمجھنا ضروری ہے کہ شرجیل کے ٹیم میں انتخاب پر یہ تاثر آرہا ہے کہ ہماری رضامندی کے بغیر شرجیل خان ٹیم میں آگیا، شاید کپتان یا کوچ کی اس میں رضامندی نہیں ہے، یہ تاثر بالکل غلط ہے اور شرجیل کے ٹیم میں انتخاب سے پہلے باقاعدہ گفتگو ہوئی ہے، ان کے انتخاب پر ہم سب میں اتفاق تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے فٹنس پر سمجھوتہ نہیں کیا بلکہ شرجیل کو فٹنس کے اس مقام اور ٹیم کے معیار تک لے کر جانا ہے اور جلد آپ کو ان کی فٹنس بہتری کی جانب جاتی ہوئی نظر آئے گی۔

قومی ٹیم کے کوچ نے کہا کہ ہم کبھی بھی کسی کھلاڑی کو خیرباد کہنے کے حوالے سے حتمی فیصلہ نہیں کرتے، کوشش ہوتی ہے کہ آؤٹ آف فارم کی جگہ اِن فارم کھلاڑیوں کو مواقع دیے جائیں تاکہ یہ دیکھ سکیں کہ یہ نوجوان کس طرح کی کارکردگی دکھاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  دوسرا ٹی ٹونٹی:پاکستان کی دوسری جیت

ان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان کو کسی کھلاڑی کی ضرورت ہے تو سینئر اور جونیئر سے قطع نظر اس کی فارم کو دیکھتے ہوئے منتخب کرتے ہیں تو ایسا ہرگز نہیں ہے کہ کسی کھلاڑی کے کیریئر کے آگے فل اسٹاپ لگ گیا ہے اور ہم نے اسے آگے منتخب نہیں کرنا، ہم جائزہ لیتے رہیں گے اور جس کی پرفارمنس ہو گی وہ ٹیم میں ضرور آئے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنے سلیکشن کے معیار میں کہیں بھی یہ نہیں کہا کہ اس معیار سے کمتر کھلاڑی کو ہم منتخب نہیں کریں، بے شک ہم نے جرمانے رکھے ہیں، ہم کوشش کرتے ہیں کہ کس حد تک اس پر سمجھوتہ نہ کریں لیکن اگر اس کردار کے لیے اس کھلاڑی کی ضرورت ہے کہ تو اس کے لیے اہداف مقرر کر کے ٹیم میں منتخب کرتے ہیں تاکہ ٹیم کا نقصان نہ ہو۔

یہ بھی پڑھیں:  دورہ نیوزی لینڈ:6پاکستانی کھلاڑیوں کا کرونا ٹیسٹ مثبت

جب مصباح سے یہ سوال پوچھا گیا کہ کوچ اور کپتان کو یہ کہنے کی ضرورت کیوں پڑتی ہے کہ یہ پاکستان کی ٹیم ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ سب سے پہلے یہ بات میڈیا میں ہی آتی ہے کہ یہ چیف سلیکٹر کی ٹیم، یہ کپتان کی ٹیم ہے، یہ کوچ کی ٹیم آگئی، یہ ایک یقینی بات ہے کہ یہ پاکستان کی ٹیم ہے لیکن اس کے باوجود لوگوں کو سمجھانی پڑتی ہے، لوگوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ ٹیم کسی ایک فرد کا اختیار نہیں ہے اور سب لوگ مل کر فیصلہ لیتے ہیں۔

شرجیل کے ماضی میں اسپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونے کے باوجود ٹیم میں منتخب کیے جانے کے سوال پر ہیڈ کوچ نے کہا کہ آپ کا قانون جو کہتا ہے اس کے مطابق ایسے لوگ بعد میں کھیل سکتے ہیں، یا تو ہم قانون بنا دیں کہ یہ نہیں کھیل سکتے لیکن جب قانون انہیں نہیں روکتا تو ہمیں بھی اس کا اختیار نہیں ہے کہ ہم انہیں روکیں۔