maryam_nawaz_nab

امن و امان قائم رکھنا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے:جسٹس سرفراز ڈوگر

EjazNews

پنجاب کی لاہور ہائی کورٹ نے نیب کی اس استدعا کو مسترد کرتے ہوئے درخواست نمٹا دی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ عدالت مریم نواز کو نیب پیشی کے دوران کارکن ساتھ لانے سے روکے۔

نیب نے ایک روز قبل لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کرتے ہوئے درخواست دائر کی تھی جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ مریم نواز کا پیشی کے موقع پر اپنے ساتھ کارکنوں کو لانا غیر قانونی ہے۔ہائی کورٹ نے یہ درخواست جمعرات 25 مارچ کو سماعت کے لیے مقرر کی تھی۔

جسٹس سردار سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سماعت شروع کی تو نیب کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ نیب نے 26 مارچ کو مریم نواز کو دو مختلف مقدمات میں طلب کر رکھا ہے۔ جس کے جواب میں مریم نواز نے پی ڈی ایم کے کارکنوں کے ہمراہ پیش ہونے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے دھمکی دی ہے کہ وہ اکیلے پیش نہیں ہوں گی۔ اصل میں ان کا یہ اعلان تحقیقات میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  اسلامو فوبیا :پاکستان کا او آئی سے مطالبہ

جس پر بینچ کے سربراہ جسٹس سرفراز ڈوگر نے ریمارکس دئیے کہ امن و امان قائم رکھنا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے نیب کے وکیل سے سوال کیے آپ یہ معاملہ عدالت کیوں لے کر آئے ہیں؟ ریاست کہاں ہے؟ عدالت کو اس سیاسی کام میں کیوں لایا جا رہا ہے؟۔

نیب نے وکیل سید فیصل رضا بخاری نے موقف اختیار کیا کہ نیب تو صرف یہ چاہتا ہے کہ عدالت مریم نواز کو آئین کے آرٹیکل پانچ پر عمل کرنے کا پابند بنائے۔ آئین کی عملداری کے لیے یہ درخواست دائر کی گئی ہے۔

بنچ نے ریمارکس دئیے کہ کیا ریاست کو نہیں پتا کہ آئین کی عملداری کیسے کروانی ہے؟ ہمیں اس بات کا جواب دیں کہ عدالت کو اس معاملے میں کیوں لایا جا رہا ہے۔ ریاست اپنی ذمہ داری پوری کرے ہماری طرف سے آپ رینجرز بلا لیں آپ کے پاس ڈپٹی کمشنر کی اتھارٹی ہے آپ وہاں جائیں۔

یہ بھی پڑھیں:  دنیا کے کسی ائیر پورٹ پر پاکستانی مسافر پھنسے ہوئے نہیں ہیں: معاون خصوصی

نیب کے وکیل نے جواب دیا کہ نیب کے پاس ڈپٹی کمشنر کی اتھارٹی نہیں ہے نیب وفاق کے زیر انتظام ہے۔ جس پر جسٹس سردار سرفراز ڈوگر نے ریمارکس دئیے آپ جو چاہتے ہیں وہ کریں عدالت مریم کو نہیں روکے گی، نیب اس معاملے سے خود نمٹے۔

عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد نیب کے دلائل کو مسترد کرتے ہوئے درخواست نمٹا دی۔