nawroaz

نوروز کا عالمی دن کس کے کہنے پر اقوام متحدہ کے کیلنڈر میں شامل ہوا؟

EjazNews

نوروز فارسی زبان کا لفظ ہے، جس کی لغوی معنی نیا دن ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس تہوار کو قدیم فارسی کیلنڈر کے آغاز کے موقع پر منایا جاتا ہے۔

2021 میں نوروز کا تہوار پاکستان سمیت دنیا بھر میں 20 مارچ کو منایا گیا مگر 21 مارچ کو اقوام متحدہ کے بینر تلے عالمی یوم نوروز منایا گیا۔

دنیا بھر میں نوروز کا دن ہر سال 40 لاکھ آتش پرست عقائد کے حامل افراد مناتے ہیں تاہم مجموعی طور پر اس تہوار کو 30 کروڑ افراد کسی نہ کسی طرح مناتے ہیں۔

یہ دن نہ صرف پارسی کیلنڈر کے آغاز کے موقع پر منایا جاتا ہے بلکہ اسے دنیا میں موسم بہار کے آغاز پر بھی منایا جاتا ہے۔

دنیا کے کئی ممالک میں مارچ کے مہینے میں موسم بہار کا آغاز ہوجاتا ہے اور اسی وجہ سے زرتشتیت عقائد نہ رکھنے والے لوگ بھی ہر سال مارچ میں نوروز کے تہوار کو موسم بہار کے جشن کے طور مناتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  دنیا کا مہنگاترین برگر بنانے والے ان پیسوں کا کیا کرنا چاہتے ہیں؟

نوروز تہوار کو منانے والے 30 کروڑ افراد میں سے محض زرتشتیت عقائد کے پیروکار مذکورہ دن کو مذہبی طور پر مناتے ہیں جبکہ دیگر لوگ اس دن کو نئے سال اور موسم بہار سمیت خوشی کے تہوار کے طور مناتے ہیں۔

بعض مورخین کے مطابق نوروز کا تہوار 3 ہزار سال سے منایا جا رہا ہے، کیونکہ زرتشتیت مذہب کا شمار دنیا کے قدیم ترین مذاہب میں ہوتا اور اس مذہب کے پیروکار تین ہزار سال قبل بھی پائے جاتے تھے۔

اس وقت دنیا بھر میں زرتشتیت عقائد کے پیروکاروں کی آبادی بہت کم رہ گئی ہے ۔

نوروزکو مذہبی طور پر منانے والے افراد کی آبادی میں نمایاں کمی کے بعد اقوام متحدہ نے ایران، افغانستان، پاکستان اور ترکمانستان جیسے ممالک کی درخواست پر ایک دہائی قبل 21 مارچ کو عالمی یوم نوروز منانے کی منظوری دی تھی۔

عالمی یوم نوروز کا مقصد قدیم ترین تہذیب کو زندہ رکھنا ہے اور اقوام متحدہ کی جانب سے 21 مارچ کو نوروز ڈے قرار دئیے جانے کے بعد اب ہر سال دنیا بھر میں اس دن کو منایا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  ایپل نے بطور جرمانہ ایک طالبہ کو لاکھوں ڈالر کیوں ادا کیے؟

ہر سال کی طرح اس سال بھی پاکستان میں جہاں پارسی کمیونٹی نے نوروز کو 20 مارچ کو مذہبی انداز میں منایا، وہیں 21 مارچ کو اسے عالمی یوم نوروز کے طور پر منانے کے انتظامات کیے گئے۔

نو روز کیلئے سجی ہوئی میز پر انڈے ایک نئے جنم اور تخلیق کی علامت ہیں۔ میز پر موجود سکوں کی طرح گولڈ فش بھی دولت کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ اس بات کی امید ہوتی ہے کہ نیا سال اپنے ساتھ خوشحالی، صحت اور مسرتیں لے کر آئے گا۔ چونکہ روایت کے مطابق اس میز کو 13 دن سجے رہنا ہوتا ہے جس میں سب کو دعوت عام ہوتی ہے۔